حضورﷺ کے شمائل و فضائل

حضورﷺ کے شمائل و فضائل

حضور پاک ﷺ کے شمائل و فضائل اور آپﷺ کے حلیہ مبارک کی تفصیل  میں  بہت  سے صحابہ کرام نے  روایات بیان کی ہیں  ظاہر سی بات ہے صحابہ کرام آپﷺ کے جانثار تھے ، آپ ﷺ پر مر مٹنے اور آپﷺ سے بہت محبت کرنے والے تھے ۔

آپ ﷺ کے حُلیہ پر بات کرتے ہوئے پہلے چند چیزیں جو احادیث مُبارکہ سے ثابت ہیں اِن کا ذکر کرتے ہیں

حضرت ام معبد رضہ فرماتی ہیں

أَجْمَلُ النَّاسِ مِنْ بَعِيدٍ، وَأَحْلَاهُ وَأَحْسَنُهُ مِنْ قَرِيبٍ

 آپﷺ کے اوصاف کی کیا ہی بات ہے  ، خواہ آپﷺ کو قریب سے دیکھا جائے  یا دور سے دیکھا جائے آپﷺ انتہائی حسین و جمیل تھے۔

         (شفا شریف1/50)

 اسی طرح ابن ابی ہالہ رضہ کی حدیث ہے

يَتَلَأْلَأُ وَجْهُهُ تَلَأْلُؤَ الْقَمَرِ، ليلة البد

 حضورﷺ کا چہرہ انور چودھویں کے چاند کی طرح چمکتا تھا ۔

 ایک دفعہ حضرت علی نے آپﷺ کی تعریف میں  فرمایا

 جو شخص پہلی بار آپﷺ کو دیکھتا تو اس پر خوف طاری ہو جاتا یعنی آپﷺ کا رعب اس پر آ جاتا اور جب وہ آپﷺ سے ملتا جلتا رہتا تو آپﷺ کا گرویدہ ہو جاتا ، آپﷺ کا دیوانہ ہو جاتا ، کوئی شخص آپﷺ کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکتا تھا اور بے ساختہ یہ پکار اُٹھتا کہ :

لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مِثْلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

میں نے حضورﷺ جیسا حسین و جمیل نہ کوئی آ پ سے پہلے دیکھا نہ ہی بعد میں دیکھا۔

( مسند احمد746، 946، 1053، جامع ترمذی 3637، 3638)

بہت سے صحابہ سے مروی ہے وہ کہا کرتے تھے کہ ہماری  آنکھوں نے کسی کو آنحضرت ﷺ سے زیادہ حسین دیکھا ہی نہیں اور جب کوئی آپﷺ کی جانب دیکھے تو ایسا لگتا تھا کہ سورج کی شعائیں آپﷺ کے چہرہ انور پر چمک رہی ہیں۔ اورجب آپﷺ مسکراتے تو سامنے کے در و دیوار جگمگانے لگتے ظاہری بات ہے حضورﷺ کے وجود سے دنیا سے کفر کے اندھیرے مٹ گئے تو آپﷺ کی موجودگی اور آپ کے چہرہ انور سے کیوں نہ نور کی روشنی نکلے آپﷺ کے چہرہ انور اور آپﷺ کے شمائل کے بارے میں احادیث میں جو آیا ہے اس کے مطابق آپﷺ کا رنگ اجلا تھا آپﷺ کی آنکھیں سیاہ ، گہری اور قدرے سرخی مائل تھیں ، ان کا رنگ ایسا سفید تھا جو سرخی مائل ہو  ، آپﷺ کے آنکھوں کے بال یعنی پلکیں لمبی تھی، اور آپ کی دونوں بھویں جدا اور لمبائی میں ان پر باریک بال تھے ، آپﷺ کے سامنے کے دانتوں کے درمیان تھوڑا سا وقفہ تھا اور آپ ﷺ کاچہرہ مبارک کچھ حد تک گول تھا ، مکمل گول نہیں تھا اور آپ کی پیشانی کشادہ تھی ، آپﷺ کی داڑھی مبارک بھاری تھی جو سینے کو ڈھانپ لیتی تھی اور آپﷺ کا سینہ اور آپ کا پیٹ برابر تھا ، آپﷺ کا سینہ کشادہ تھا ، آپﷺ کے ہاتھوں اور پاوں کی انگلیاں خوبصورت اور لمبی اور پرگوشت تھی، آپﷺ کے جسم مبارک پر کم بال تھے اور سینہ سے ناف تک بالوں کی ہلکی سی دھاری چلتی تھی  آپﷺ کا قد درمیانہ تھا، نہ بہت لمبا اور نہ بہت چھوٹا ۔ لیکن آپ ﷺ کا یہ معجزہ ہے کہ حدیث میں یہ آیا ہے کہ جب لمبے قد والا بھی آپ ﷺ کے ساتھ چلتا تو آپﷺ چلتے ہوئے اس سے اونچا محسوس ہوتے  اور آپﷺ جب بات کرتے تو ایسا لگتا جیسے آپﷺ کے چہرے سے نور کی کرنیں چمک رہی ہوں۔

آپﷺ کا جسم انورپھرتیلا تھااور اس پر بے انتہا گوشت نہیں تھا ، متناسب جسم متناسب گوشت کے ساتھ اور انتہائی پھرتیلا

۔      (شفا شریف1/149)

حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں

مَا رَأَيْتُ مِنْ ذِي لِمَّةٍ أَحْسَنَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

 میں نے کسی شخص کو سرخ لکیروں والی چادر میں آپﷺ جیسا خو بصورت نہیں دیکھا اور جب کوئی آپﷺ کی طرف دیکھے تو محسوس ہوتا تھا کہ سورج کی کرنیں  آپﷺ کے چہرۂِ انور پر تیر رہی ہوں اور آپﷺ کےمسکرانے اور آپ کے خوش ہوجانے سے سامنے والے در و دیوار چمکنے لگ جاتے تھے ۔

( مسند احمد18558، 18613، 18666، صحیح البخاری5901، صحیح مسلم2337، سنن ابی داؤد4183، سنن النسائی5060، 5062، 5233)

آپ ہی سے مروی ہے، فرمایا

رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ مُتَرَجِّلًا لَمْ أَرَ قَبْلَهُ، وَلَا بَعْدَهُ أَحَدًا هُوَ أَجْمَلُ مِنْهُ

میں نے رحمتِ کونین ﷺ کی زیارت کی درآنحالیکہ آپ ﷺ سرخ پوشاک زیبِ تن کیے ہوئے تھے اور زلفوں میں مانگ نکالے ہوئے تھے، میں نے آپ ﷺ سے زیادہ خوبصورت نہ تو آپ ﷺ سے پہلے دیکھا اورنہ آپ ﷺ کے بعد۔

( سنن النسائی5314، السنن الکبریٰ للنسائی9561، مسند ابن الجعد2111)

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہا

رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةٍ إِضْحِيَانٍ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهِ وَإِلَى الْقَمَرِ، قَالَ: فَلَهُوَ كَانَ أَحْسَنَ فِي عَيْنِي مِنَ الْقَمَرِ

 ایک چاندنی رات میں، میں نے حضورنبی اکرم ﷺ کی زیارت کی اور اُس وقت آپ ﷺ سرخ پوشاک زیبِ تن کئے ہوئے تھے، میں نے آپ ﷺ کی طرف اور چاند کی طرف دیکھنا شروع کیا، پس آپ ﷺ میری نظروں میں چاند سے کئی گنا بڑھ کر حسین تھے۔

( سنن الدارمی58، مسند ابی یعلیٰ7477، جامع ترمذی2811، السنن الکبریٰ للنسائی9562، المعجم الکبیر للطبرانی1842، المستدرک للحاکم7383، شعب الایمان للبیہقی1352)    امام حاکم نے اس کو صحیح کہا ور ذہبی نے موافقت کی۔

حضرت ابو عبیدہ بن محمد بن عمار بن یاسر  بیان فرماتے ہیں، میں نے حضرت ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہما سے عرض کیا

صِفِي لَنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا بُنَيَّ لَوْ رَأَيْتَهُ، رَأَيْتَ الشَّمْسَ طَالِعَةً

ہمارے سامنے حضور نبی اکرم ﷺ کے اوصاف مبارکہ بیان کریں، تو اُنہوں نے فرمایا: اے میرے بیٹے! اگر تم اُنہیں دیکھتے تو ایسے دیکھتے جیسے طلوع ہوتے سورج کو دیکھ رہے ہو۔

( سنن الدارمی، 61، الآحاد والمثانی3335، المعجم الکبیر للطبرانی1354، شعب الایمان للبیہقی1354)

حضرت موسیٰ بن عقبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت کعب بن زہیر رضی اللہ عنہ نے اپنے مشہور قصیدے ’’بانت سعاد‘‘ میں حضور نبی اکرم ﷺ کی مسجد نبوی میں مدح کی اور جب وہ اپنے اس شعر پر پہنچے

بیشک (یہ) رسولِ مکرم ﷺ وہ نور ہیں جس سے روشنی حاصل کی جاتی ہے اور آپ ﷺ (کفر و ظلمت کے علمبرداروں کے خلاف) اللہ تعالیٰ کی تیزدھار تلواروں میں سے ایک عظیم تیغِ آبدار ہیں۔

إِنَّ الرَّسُوْلَ لَنُوْرٌ يُسْتَضَاء بِه

وَصَارِمٌ مِنْ سُيُوْفِ اللهِ مَسْلُوْلُ

رحمتِ کونینﷺ نے اپنے دستِ اقدس سے لوگوں کی طرف اشارہ کیا کہ وہ انہیں (یعنی کعب بن زہیر کو غور سے) سنیں۔

جب کعب بن زہیر نے رحمتِ کونین کے دستِ اقدس پر بیعت کی اور اسلام قبول کیا تو آپ نے یہ اشعار سنائے۔

نُبِّئْتُ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ أَوْعَدَنِي

وَالْعَفْوُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللهِ مَأْمُوْلُ

إِنَّ الرَّسُوْلَ لَنُوْرٌ يُسْتَضَاءُ بِه

مُهَنَّدٌ مِنْ سُيُوْفِ اللهِ مَسْلُوْلُ

مجھے خبر دی گئی کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے وعید سنائی ہے حالانکہ رسول اللہ ﷺ کے ہاں عفو و درگزر کی (زیادہ) اُمید کی جاتی ہے۔‘‘ ’’بیشک (یہ) رسولِ مکرم ﷺ وہ نور ہیں جس سے روشنی حاصل کی جاتی ہے اور آپ ﷺ (کفر و ظلمت کے علمبرداروں کے خلاف) اللہ تعالیٰ کی تیز دھار تلواروں میں سے ایک عظیم تیغِ آبدار ہیں۔‘‘ پس حضور نبی اکرم ﷺ نے (خوش ہو کر) اُنہیں اپنی چادر پہنائی جسے (بعد میں) حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اُن کی اولاد سے مال دے کر خرید لیا اور یہی وہ چادر ہے جسے خلفاء عیدوں پر پہنا کرتے تھے۔

(معجم الصحابہ لابن قانع 929، المعجم الکبیر للطبرانی403، المستدرک للحاکم6477، السنن الکبریٰ للبیہقی21142، سیرۃ ابن ہشام2/ 512، الاصابۃ لابن حجر5/ 444)

حضرت خریم بن اوس بن حارثہ بن لام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضور نبی اکرم ﷺ کے خدمتِ اقدس میں موجود تھے، حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہما نے آپ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کی خدمت میں مدح و نعت پیش کرنا چاہتا ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا: لائیے مجھے سنائیں، اللہ تعالیٰ آپ کے منہ کو سلامت رکھے۔ تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے یہ پڑھا

وَأَنْتَ لَمَّا وُلِدْتَ أَشْرَقَتِ

الْأَرْضُ وَضَائَتْ بِنُوْرِکَ الْأُفُقُ

فَنَحْنُ فِي الضِّيَاء وَفِي

النُّوْرِ وَسُبُلُ الرَّشَادِ نَخْتَرِقُ

اور (یا رسول اللہ!) آپ وہ ذات ہیں کہ جب آپ کی ولادت ہوئی تو ساری زمین چمک اٹھی اور آپ کے نور سے اُفقِ عالم روشن ہو گیا۔ پس ہم ہیں اور ہدایت کے راستے ہیں اور (یا رسول اللہ!) ہم آپ کی عطا کردہ روشنی اور آپ ہی کے نور میں (ہدایت کی) اِن راہوں پر گامزن ہیں۔

(المعجم الکبیر للطبرانی6147، المستدرک للحاکم5417، استیعاب لابن عبد البر2/ 447، تاریخ دمشق3/ 410،  مجمع الزوائد 13831، صفوۃ الصفوۃ لابن الجوزی1/ 23، السیرۃ النبویۃ لابن کثیر1/ 195، الخصائص الکبریٰ للسیوطی1/ 67، السیرۃ الحلبیہ1/ 83، سیر اعلام النبلاء2/ 103)

حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں

 لَمَّا نَظَرْتُ إِلٰی أَنْوَارِه ﷺ وَضَعْتُ کَفِّي عَلٰی عَيْنِي خَوْفًا مِنْ ذَهَابِ بَصَرِي

 میں نے جب حضور ﷺ کے اَنوار کو دیکھا تو اپنی ہتھیلی اپنی آنکھوں پر رکھ لی، اِس خوف سے کہ (رُوئے منوّر کی تابانیوں سے) کہیں میری بینائی نہ چلی جائے۔

(جواهر البحار لنبہانی، 2 /450)

حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے رحمتِ کونین ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں یہ اشعار عرض کیے

وَأَحْسَنُ مِنْکَ لَمْ تَرَ قَطُّ عَيْنٌ

وَأَجْمَلُ مِنْکَ لَمْ تَلِدِ النِّسَاءُ

خُلِقْتَ مُبَرَّأً مِّنْ کُلِّ عَيْبٍ

کَأَنَّکَ قَدْ خُلِقْتَ کَمَا تَشَاء

(یا رسول اللہ!) آپ سے حسین تر کسی آنکھ نے کبھی دیکھا ہی نہیں اور نہ کبھی کسی ماں نے آپ سے بڑھ کر کوئی حسین جنم ہی دیا ہے۔ آپ ہر عیب سے پاک پیدا کیے گئے ہیں، گویا کہ آپ کو آپ کی خواہش کے مطابق پیدا کیا گیا۔      (دیوان حسان بن ثابت)

امام قرطبی نے فرمایا

لَمْ يَظْهَرْ لَنَا تَمَامُ حُسْنِه ﷺ، لِأَنَّه لَوْ ظَهَرَ لَنَا تَمَامُ حُسْنِه لَمَا أَطَاقَتْ أَعْيُنُنَا رُؤْيَتَه ﷺ

 حضور ﷺ کا حسن و جمال مکمل طور پر ہم پر ظاہر نہیں ہوا اور اگر آپ ﷺ کا تمام حسن و جمال ہم پر ظاہر ہو جاتا تو ہماری آنکھیں حضور ﷺ کے جلوؤں کا نظارہ کرنے کی طاقت نہ رکھتیں (صرف انسانی بصارت کی طاقت کے مطابق آپ کا حسن ظاہر ہوا مکمل ظاہر نہ ہوا)۔ 

        ( شرح الزرقانی5/ 241)

امام ابن حجر ہیتمی بیان کرتے ہیں

وَمَا أَحْسَنَ قَوْلَ بَعْضِهِمْ: لَمْ يَظْهَرْ لَنَا تَمَامُ حُسْنِه ﷺ

بعض ائمہ کا یہ کہنا کہ حضور ﷺ کا تمام حسن و جمال ہم (یعنی مخلوق) پر ظاہر نہیں ہوا نہایت ہی احسن قول ہے۔

(جواهر البحار لنبہانی، 2 /101)

شیخ ابو محمد عبد الجلیل القصری فرماتے ہیں

حضرت یوسف اور دیگر حسینانِ عالم کا حسن و جمال حضور ﷺ کے حسن و جمال کا ایک جز ہے کیونکہ آپ ﷺ اپنے اسم مبارک کے مصداق پیدا کئے گئے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب حضرت محمد مصطفی ﷺ کے حسن کو ہیبت اور وقار کے پردوں سے نہ ڈھانپا ہوتا اور کفار و مشرکین کو آپ ﷺ کے دیدار سے اندھا نہ کیا گیا ہوتا تو کوئی شخص آپ ﷺ کی طرف اِن دنیاوی اور کمزور آنکھوں سے نہ دیکھ سکتا۔

( مطالع المسرات بشرح دلائل الخیرات)

مولانا اشرف علی تھانوی کہتے ہیں

 میں کہتا ہوں کہ عام لوگوں کا آپ ﷺ پر اُس طور پر عاشق نہ ہونا جیسا حضرت یوسف پر عاشق ہوا کرتے تھے بسبب غیرتِ الٰہی کے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے جمال کو جیسا کہ تھا (وہ پورا) غیروں پر ظاہر نہ کیا، جیسا خود حضرت یوسف کا جمال بھی جس درجہ کا تھا وہ بجز حضرت یعقوب یا زلیخا کے اوروں پر ظاہر نہیں کیا۔

( نشر الطیب)

قاضی عیاض نے اپنی کتاب میں کہا ہے کہ آپﷺ کی خوبیاں اور آپﷺ کے حلیہ مبارک کی تفصیل پر بہت سی احادیث آئی ہیں ، کچھ میں یہ بھی کہا  گیا ہے کہ آپﷺ کے جسم مبارک سے نکلنے والا پسینا بھی بے انتہا خوشبو والا ہوتا تھا اسی لیئے صحابہ کرام گلیوں سے گزرتے ہوے آپﷺ کی خوشبو سے پہچان لیتے تھے کہ آپ یہاں سے تشریف لے گئے ہیں اور یہ خوشبو کوئی لگائی ہوئی خوشبو نہیں بلکہ آپﷺ کے جسم اطہر سے  قدرتی  اُبھرنے  والی بہت ہی اعلیٰ درجے کی خوشبو ہو تی تھی۔ اسی طرح آپﷺ نے اگر کسی صحابی سے ہاتھ ملا لیا تو آپ ﷺ کے ہاتھ چھونے کی وجہ سے ان کے ہاتھوں سے سارا دن خوشبوآتی رہتی۔ آپﷺ کا حلیہ مبارک بے انتہا خوبصورت اور آپﷺ کا جسمِ اطہر پاکیزہ اور خوشبو دار تھا۔ آپﷺ کی موجودگی میں سارا ماحول نور سے چمک اٹھتا۔ 

(شفا شریف1/149، 150 تا 152)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *