رحمتِ کونین ﷺ کی شجاعت اور آپﷺ کی سخاوت

صلی الله علیه وسلم

قاضی عیاض مالکی علیہ الرحمہ  فرماتے ہیں کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضہ نے فرمایا کہ حضورﷺ سے جس چیز کا سوال کیا گیا تو آپﷺ نے کبھی اس کا نفی میں جواب نہیں دیا ۔

( صحیح البخاری 6034، صحیح مسلم 2311، شفا شریف1/ 231)

مطلب یہ کہ جب بھی آپﷺ سے کسی نے کچھ مانگا تو آپﷺ نے کبھی اس کا انکارنہیں کیا ۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کا سخاوت میں جواب ہی نہیں تھا اور جب رمضان مبارک آتا تو آپﷺ کی سخاوت  کی  کوئی انتہا نہ رہ جاتی۔  اور جب حضرت جبرائیل علیہ  آپﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے تو آپﷺ کو بے انتہا سخی دیکھتے ۔

حضرت انس رضہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے آپﷺ سے سوال کیا (یعنی کہ آپﷺ سے مانگا) اس وقت حضور ﷺ کے پاس اتنی بکریاں تھی جن سے دو پہاڑوں کے درمیان جگہ بھری ہوئی تھی آپﷺ نے وہ ساری بکریاں اسے عطافرمادیں اورجب وہ اپنے قبیلے میں پہنچا تو اپنے قبیلے والوں سے کہنے لگا بھائیو! مسلمان ہوجاؤ کیوں کہ حضور ﷺ اتنی سخاوت کرتے ہیں کہ   اپنے  مال کا ختم ہونے کا دل میں خیال  لاتے ہی نہیں۔

( مسند احمد 13730، 14029، صحیح مسلم 2312، شفا شریف1/ 232)

  اسی طرح کہ  بہت سے  واقعات جب    آپﷺ نے سو سو اونٹ بھی لوگوں کو عطا کردیے ۔ آپﷺ نے صفوان بن سلیم کو سو اونٹ عطا فرمائے۔ اور پھر اسی طرح ایک اور مرتبہ     دوبارہ اس کو سو اونٹ پیش کئے۔  اور اسی طرح تیسری بار بھی دیے۔

(مسند احمد 15304،  صحیح مسلم 2313، جامع ترمذی 666، شفا شریف1/ 252)

 اور آپﷺ کی سخاوت کا یہ عالم آپ ﷺ کے اعلان نبوت سے بھی پہلے کا تھاورقہ بن نوفل کہا کرتے تھے۔ آپﷺ مجبور لوگوں کی مدد فرماتے جن لوگوں کا خاندان بڑا ہوتا ان کی مدد کرتے ہیں اور محتاجوں کے لیے مال کماتےہیں یعنی کہ جو آپﷺکماتے اس کا بیشتر حصہ محتاجوں کو، غریبوں کو اور مجبوروں کو عطا فرما دیتے۔ 

( صحیح البخاری 3، 4953، صحیح مسلم160، شفا شریف1/ 232)

یہ الفاظ سیدہ خدیجہ کےہیں۔

اسی طرح ایک دفعہ آپﷺ نے حضرت عباس رضہ کو اتنا سوناعطا فرمایا کہ وہ اس کو اٹھا بھی نہیں سکتے تھے۔ 

   (شفا شریف1/ 233)

اور اسی طرح ایک مرتبہ حضور ﷺ کی خدمت میں نوے ہزار درہم پیش کیے گئے ۔  آپﷺ نے انہیں ایک چٹائی پر رکھوا دیا اور اور بانٹنے لگے ،         جو بھی ضرورت مند آتا آپﷺ اس کودیتے   جاتے کسی بھی مانگنے والے کو آپﷺ نے خالی ہاتھ نہ لوٹایا ۔ جب آپﷺ تمام نوے ہزار درہم تقسیم فرما چکے تو اس کے بعد بھی ایک اور سائل آگیا تو آپﷺنے فرمایا تم ہمارے نام پر اپنی ضرورت کی چیزیں خرید لو ۔ جب کسی طرف سے ہمارے پاس مال یا پیسہ آئے گا تو تمہارے قرضے کی ادائیگی ہم کر دیں گے ۔ اس موقع پر حضرت عمر فاروق رضہ نے گزارش کی کہ یارسول اللہ ﷺ جس کام کی استطاعت نہیں وہ اللہ تعالی ٰ نے ضروری قرار نہیں دیا۔ نبی کریم ﷺ کو یہ بات پسند نہ آئی۔ اتنے میں ایک انصاری صحابی نے کہا         یا رسول اللہ ﷺ آپ خرچ کرتے جائیں کیونکہ مالک عرش آپﷺ کو مال کی کمی کا اندیشہ کبھی لاحق نہیں ہونے دے گا۔ یہ سن کر آپﷺ مسکرائے آپﷺ کے چہرہ انور پر خوشی اور     اطمینان کے آثار نظر آنے لگے ۔ اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے یہی حکم ملا ہے۔

(شمائل المحمدیہ للترمذی35 مکارم الاخلاق لابن ابی الدنیا 390، مکارم الاخلاق للخرائطی 565)

اسی طرح معوذبن عفرا رضہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے پلیٹ میں تازہ کھجوریں اور چھوٹی چھوٹی ککڑیاں (سبزی) بارگاہ رسالتﷺ میں پیش کیں۔  آپﷺ نے مجھے ایک ہتھیلی بھرسونا عنایت فرما دیا۔

( مسند احمد 27020، 27023، شمائلِ محمدیہ204، 357، مکارم الاخلاق لابن ابی الدنیا 357، شفا شریف1/ 234)

 اسی طرح حضرت انس رضہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے کبھی بھی اگلے دن کے لئے جمع کر کے نہ رکھا ۔ حضور ﷺ نے ہمیشہ مانگنے والوں کو، مسکینوں کو، مجبوروں کو عطافرمایا۔ اگر کسی کا قرض ادا کرنا   ہوتا   اس کے ساتھ بھی آپﷺ نے بے انتہا مہربانی فرمائی کہ جتنا دینا ہوتا ہمیشہ اس سے زیادہ ہی عطا فرماتے۔ سبحان اللہ۔

( جامع ترمذی2362، شفا شریف1/ 234)

حضرت انس بن مالک سے مروی ہے کہا

رحمتِ کونینﷺلوگوں سے بڑھ کر حسین، سب سے بڑھ کر سخی اور سب سے زیادہ بہادر تھے۔ ایک رات اہلِ مدینہ کو خطرہ محسوس ہوا اور لوگ خطرناک آواز کی طرف دوڑ پڑے تو اُنہیں آپﷺ راستے میں واپس آتے ہوئے ملے جو تمام لوگوں سے پہلے آواز کی جگہ جا پہنچے تھے اور آپﷺ فرما رہے تھے : ڈرو مت، ڈرو مت۔ (اُس وقت) آپﷺحضرت ابو طلحہ کے گھوڑے پر بغیر زین کے سوار تھے اور تلوار آپﷺ کے گلے میں (لٹک رہی) تھی۔ پھر آپﷺ نے فرمایا : میں نے اِسے (گھوڑے کو) دریا پایا، یا فرمایا : یہ (گھوڑا تیزرفتاری میں تو) دریا (جیسا) ہے۔

أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب الأدب، باب حسن الخلق والسخاء وما یکرہ من البخل، 5 / 2244، الرقم : 5686، ومسلم في الصحیح، کتاب الفضائل، باب في شجاعۃ النبي صلى الله عليه وآله وسلم وتقدمہ للحرب، 4 / 1802، الرقم : 2307، والترمذي في السنن کتاب الجہاد، باب ما جاء في الخروج عند الفزع، 4 / 199، الرقم : 1687، وأبو داود في السنن، کتاب الأدب ، باب ما روي في الرخصۃ في ذلک، 4 / 297، الرقم : 4988، وابن ماجہ في السنن، کتاب الجہاد، باب الخروج في النفیر، 2 / 962، الرقم : 2772، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 147، الرقم : 12516

حضرت ابو اسحاق بیان کرتے ہیں کہ حضرت براء (بن عازب) رضی اللہ عنہ سے کسی شخص نے دریافت کیا : اے ابو عمارہ! کیا غزوئہ حنین میں آپ لوگوں نے پیٹھ دکھائی تھی؟ اُنہوں نے فرمایا : میں نے سنا ہے لیکن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دن بھی پیٹھ نہیں دکھائی تھی، حضرت ابو سفیان بن حارث نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خچر کی لگام تھام رکھی تھی، جب مشرکین نے آپ کو گھیرے میں لے لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری سے نیچے تشریف لے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے :

”میں نبی بر حق ہوں اس میں کوئی جھوٹ نہیں
میں عبد المطلب (جیسے سردار) کا بیٹا ہوں”

اُس روز حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ مضبوط کوئی نہیں دیکھا گیا۔

أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب الجہاد والسیر، باب من قال خذہا وأنا ابن فلان، 3 / 1107، الرقم : 2877، ومسلم في الصحیح، کتاب الجہاد والسیر، باب في غزوۃ حنین، 3 / 1400۔1401، الرقم : 1776، والترمذي في السنن، کتاب الجہاد، باب ما جاء في الثبات عند القتال، 4 / 199، الرقم : 1688، وقال : ھذا حدیث حسن صحیح، والنسائي في السنن الکبری، 5 / 188، 191، الرقم : 8629، 8638، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 280۔281، 289، 304۔

حضرت براء رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ایک اور روایت میں اِن الفاظ کا اضافہ ہی : ”خدا کی قسم! جب جنگ تیز ہوتی تو ہم خود کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پناہ میں بچاتے تھے اور ہم میں سب سے بہادر شخص وہ ہوتا تھا جو جنگ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے برابر رہتا۔

أخرجہ مسلم في الصحیح، کتاب الجہاد والسیر، باب في غزوۃ حنین، 3 / 1401، الرقم : 1776، وابن أبي شیبۃ في المصنف، 6 / 426، الرقم : 32615۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب معرکہ کار زار گرم ہوتا اور لوگوں سے لوگ ٹکراتے، تو ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آڑ میں آ جاتے، پس لڑائی کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر لوگوں (مخالفین) کے قریب ہم میں سے کوئی نہیں ہوتا تھا۔

أخرجہ أحمد بن حنبل في المسند ، 1 / 156، الرقم : 1346، والحاکم في المستدرک، 2 / 155، الرقم : 2633، والبزار في المسند، 2 / 299، الرقم : 722، وابن الجعد في المسند، 1 / 372، الرقم : 2561، والحارث في المسند، 2 / 874، الرقم : 938، وابن أبي الدنیا في مکارم الأخلاق / 55، الرقم : 154۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جنگِ بدر والے دن ہم نے اپنے آپ کو دیکھا کہ ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پناہ لیے ہوئے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم سے زیادہ دشمن کے قریب (ہو کر لڑ رہے) ہیں۔ اُس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے بڑھ کر بہادر و مضبوط تھے.

أخرجہ أحمد بن حنبل في المسند ، 1 / 86، الرقم : 654، وابن أبي شیبۃ في المصنف، 6 / 426، الرقم : 32614، والھیثمي في مجمع الزوائد، 9 / 12، وابن عساکر في تاریخ مدینۃ دمشق، 4 / 14۔

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جب بھی کسی شے کا سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (جواب میں) نہیں نہ فرمایا۔

أخرجہ البخاري في الصحیح،کتاب الأدب، باب حسن الخلق والسخاء وما یکرہ من البخل، 5 / 2244، الرقم : 5687، ومسلم في الصحیح،کتاب الفضائل، باب ما سئل رسول اﷲ صلى الله عليه وآله وسلم شیئاً قط فقال لا، 4 / 1805، الرقم : 2311، والدارمي في السنن، 1 / 47، الرقم : 70، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 307، الرقم : 14333

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کل کے لئے کوئی چیز ذخیرہ نہ کرتے تھے۔”

أخرجہ ابن حبان في الصحیح، 14 / 270، الرقم : 6356، والبیھقي في شعب الإیمان، 2 / 175، الرقم : 1478، والمقدسي في الأحادیث المختارۃ، 4 / 424، الرقم : 1601، والھیثمي في موارد الظمآن، 1 / 633، الرقم : 2550، وابن عساکر في تاریخ مدینۃ دمشق، 4 / 120۔

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ حنین سے واپس آ رہے تھے کہ چند اعرابی آ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے چمٹ گئے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مال طلب کر رہے تھے۔ وہ آپ کو مجبور کرتے ہوئے کیکر کے درخت تک لے گئے، اُنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چادر مبارک بھی اُچک لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میری چادر دے دو، اگر میرے پاس اِن درختوں کے برابر بھی مویشی ہوتے، تو میں تمہارے درمیان تقسیم کر دیتا اور تم مجھے ہر گز بخیل، جھوٹا یا بزدل نہ پاؤگے۔

أخرجہ البخاري في الصحیح،کتاب فرض الخمس، باب ما کان النبي صلى الله عليه وآله وسلم یعطي المؤلفۃ قلوبھم وغیرھم من الخمس ونحوہ، 3 / 1147، الرقم : 2979، وأیضًا في کتاب الجہاد ، باب الشجاعۃ في الحرب والجبن، 1 / 1038، الرقم : 2666، ومالک في الموطأ، کتاب الجھاد، باب ما جاء في الغلول، 2 / 457، الرقم : 977، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 84، الرقم : 16821

حضرت ابراہیم بن محمد جو کہ حضرت علی ابن اَبی طالب رضی اللہ عنہ کی اولاد سے ہیں بیان فرماتے ہیں کہ حضرت علی ص، جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان مبارک بیان کرتے تو فرماتے : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ سخی ہاتھ والے اور سب سے زیادہ فراخ سینے والے (کھلے دل کے مالک) اور لوگوں میں سب سے سچے لہجے والے بھی تھے، سب سے زیادہ نرم طبیعت اور سب سے زیادہ باعزت معاشرت والے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اچانک دیکھنے والا مرعوب ہو جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ میل جول رکھنے والا آپ سے محبت کرنے لگتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اُوصاف بیان کرنے والا کہہ اُٹھتا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسا حسین نہ آپ سے پہلے دیکھا (سنا) اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد دیکھا (سنا)۔

 أخرجہ الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب ما جاء في صفۃ النبي صلى الله عليه وآله وسلم ، 5 / 599، الرقم : 3638، وأیضًا في الشمائل المحمدیۃ / 32، الرقم : 7، وابن أبي شیبۃ في المصنف، 6 / 328، الرقم : 31805، والبیھقي في شعب الإیمان، 2 / 149، الرقم : 1415، وابن سعد في الطبقات الکبری، 1 / 411، والنمیری في أخبار المدینۃ، 1 / 319، الرقم : 968، وابن عبد البر في الاستذکار، 8 / 331۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دو پہاڑوں کے درمیان (چرنے والی) بکریاں مانگیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُسے وہ بکریاں عطا کر دیں، پھر وہ اپنی قوم کے پاس گیا اور کہنے لگا : اے میری قوم! اسلام لے آؤ، کیونکہ خدا کی قسم! بے شک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنا دیتے ہیں کہ فقر و فاقہ سے نہیں ڈرتے، حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی صرف دنیا کی وجہ سے بھی مسلمان ہوتا تو اسلام لانے کے بعد اسلام اُسے دنیا اور اس کی ہر ایک شے سے زیادہ محبوب ہو جاتا۔

أخرجہ مسلم في الصحیح، کتاب الفضائل، باب ما سئل رسول اﷲ صلى الله عليه وآله وسلم شیئًا قطّ فقال : لا وکثرۃ عطائہ، 4 / 1806، الرقم : (58)2312، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 175، 259، 284، الرقم : 12813، 13756، 14061، وابن حبان في الصحیح، 14 / 287، الرقم : 6373، وابن خزیمۃ في الصحیح، 4 / 70، الرقم : 2372، وأبو یعلی في المسند، 6 / 56، الرقم : 3302، والبیھقي في السنن الکبری، 7 / 19، الرقم : 12967، وأیضًا في شعب الإیمان، 2 / 246، الرقم : 1641

ضرت صفوان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ خدا کی قسم! حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے عطا فرمایا، جو بھی عطا فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری نظر میں تمام لوگوں سے زیادہ نا پسندیدہ تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے مسلسل عطا فرماتے رہے، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری نظر میں تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہوگئے۔

أخرجہ مسلم في الصحیح، کتاب الفضائل، باب ما سئل رسول اﷲ صلى الله عليه وآله وسلم شیئا قط فقال : لا وکثرۃ عطائہ، 4 / 1806، الرقم : 2313، والترمذي في السنن، کتاب الزکاۃ، باب ما جاء في إعطاء المؤلفۃ قلوبہم، 3 / 53، الرقم : 666، وأحمد بن حنبل في المسند، 6 / 465، الرقم : 27679، وابن حبان في الصحیح، 11 / 159، الرقم : 4828، والطبراني في المعجم الکبیر، 8 / 51، الرقم : 7340۔

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابو سفیان بن حرب، صفوان بن امیہ، عیینہ بن حصن اور اقرع بن حابس ہر ایک کو سو سو اونٹ دیے اور عباس بن مرداس کو اس سے کچھ کم اونٹ دیے تو عباس بن مرداس نے یہ اشعار پڑھے

آپ میری لوٹ مار اور (میرے گھوڑے)
عبید کی لوٹ مار کو عیینہ اور اقرع کے درمیان

مقرر کرتے ہیں حالانکہ بدر اور حابس، عباس بن مرداس
سے کسی معرکہ میں بڑھ نہیں سکتے۔ میں ان

دونوں سے کسی طرح کم نہیں ہوں اور آج
جس کو آپ پست فرما دیں گے وہ کبھی بلند نہیں ہو گا۔

حضرت رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بھی سو اونٹ پورے عطا کر دیئے۔

أخرجہ مسلم في الصحیح، کتاب الزکاۃ ، باب إعطاء المؤلفۃ قلوبہم علي الإسلام وتصبر من قوي إیمانہ، 2 / 737، الرقم : 1060، والحمیدي في المسند، 1 / 200، الرقم : 412، والبیھقي في السنن الکبری، 7 / 17، الرقم : 12959، وأبو نعیم في المسند المستخرج، 3 / 125، الرقم : 2367۔

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ اُسے کچھ عطا فرمائیں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اِس وقت میرے پاس کوئی شے نہیں، لیکن تم میرے نام قرض لکھوا کر خریداری کر لو، جب کوئی چیز آئے گی میں تمہارے اس قرض کو ادا کر دوں گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اﷲ! میں نے اِسے دے دیا ہے۔ اور اﷲ تعالیٰ نے آپ کو اُس چیز کا مکلف نہیں بنایا جس پر آپ قدرت نہیں رکھتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اس بات کو ناپسند فرمایا۔ پھر ایک انصاری صحابی نے عرض کیا : یا رسول اﷲ! خرچ کیجئے اور عرش والے کی طرف سے کسی کمی کا خوف نہ کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تبسم فرمایا اور انصاری صحابی کی اِس بات کی وجہ سے خوشی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رخِ زیبا سے جھلک اُٹھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے یہی حکم دیا گیا ہے۔

أخرجہ المقدسي في الأحادیث المختارۃ، 1 / 181، الرقم : 88، وابن أبي الدنیا في مکارم الأخلاق / 118، الرقم : 390

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر میرے پاس اُحد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو تو مجھے یہ بات پسند نہیں کہ اُس پر تین راتیں گزر جائیں اور کچھ بھی اُس میں سے میرے پاس رہے مگر یہ کہ جو میں قرض ادا کرنے کے لیے رکھ چھوڑوں۔

أخرجہ البخاري في الصحیح،کتاب الرقاق، باب قول النبي صلى الله عليه وآله وسلم : ما یسرني أنّ عندي مثل أحد ھذا ذھبًا، 5 / 2368، الرقم : 6080، ومسلم في الصحیح، کتاب الزکاۃ، باب تغلیظ عقوبۃ من لا یؤدي الزکاۃ، 2 / 687، الرقم : 991، وابن ماجہ في السنن، کتاب الزہد، باب في المکثرین، 2 / 1383، الرقم : 4132، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 316، الرقم : 8180، وابن حبان في الصحیح، 8 / 9، الرقم : 3214۔

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ انصار کے کچھ افراد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُنہیں (مال) عطا فرمایا۔ پھر سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر عطا فرما دیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مال ختم ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میرے پاس جو مال ہوتا ہے میں تم سے بچا کر اُسے جمع نہیں کرتا اور جو سوال کرنے سے بچنے کی کوشش کرے تو اللہ تعالیٰ اُسے بچائے گا اور جو مستغنی رہے اللہ تعالیٰ بھی اُسے غنی کر دے گا۔ جو صبر سے کام لے گا تو اللہ تعالیٰ بھی اُسے صبر دے گا اور کسی کو صبر سے بہتر اور وسیع عطیہ نہیں دیا گیا۔

 أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب الزکاۃ، باب الاستعفاف عن المسألۃ، 2 / 534، الرقم : 1400، ومسلم في الصحیح، کتاب الزکاۃ، باب فضل التعفف والصبر، 2 / 729، الرقم : 1053، والترمذي في السنن، کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء في الصبر، 4 / 373، الرقم : 2024، ومالک في الموطأ، کتاب الصدقۃ، باب، ما جاء في التعغف عن المسألۃ، 2 / 997، الرقم : 1812، والدارمي في السنن، 1 / 474، الرقم : 1646۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *