دنیا آج جن فتنوں، اخلاقی زوال، اور روحانی بحرانوں کی گرفت میں ہے، وہ محض اتفاق نہیں۔ ان سب کی جھلکیاں چودہ صدیاں قبل ہمارے پیارے نبی ﷺ نے واضح انداز میں بیان فرما دی تھیں۔ آپ ﷺ کی زبانِ اقدس سے نکلی ہر بات نہ صرف سچ ثابت ہوئی، بلکہ آج کی دنیا میں وہ نشانیاں ہو بہو ہمارے سامنے آ رہی ہیں۔ جب جدید سائنسی ترقی بھی خاموش ہو جائے، جب عالمی معاشی نظام انصاف کا خون کر دے، جب انسانیت بے بسی سے اپنی اقدار کو مرتے دیکھےتب مومن کی نگاہ صرف ایک حقیقت پر جَم جاتی ہے یہ سب کچھ نبی آخر الزمان ﷺ نے پہلے ہی فرما دیا تھا۔
یہ مضمون انہی حیران کن، مگر سچی پیش گوئیوں پر مشتمل ہے، جو ایمان والوں کے دلوں کو تازہ کر دیتی ہیں اور ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ہم ایک سچے نبی ﷺ کی امت ہیں۔
ایک ناقابلِ فراموش خطبہ
حضرت حذیفہ حضرت عمرو بن اخطبؓ اور حضرت ابو زید انصاری روایت کرتے ہیں کہ
رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ فجر سے لے کر غروبِ آفتاب تک مسلسل خطبہ دیا، جس میں آپ ﷺ نے اُن تمام بڑے بڑے واقعات کا ذکر فرمایا جو اُس وقت سے قیامت تک کے درمیان پیش آئیں گے۔
حضرت حذیفہؓ فرماتے ہیں کہ کبھی کبھار میں اُن باتوں کو بھول جاتا تھا، یہاں تک کہ وہ واقعات میری آنکھوں کے سامنے رونما ہونے لگتے۔
حضرت ابووائل حذیفہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پوچھا: فتنہ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کس کو یاد ہے؟ حذیفہ رضی اللہ عنہ بولے کہ مجھے زیادہ یاد ہے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا پھر بیان کرو (ماشاء اللہ) تم تو بہت جری ہو۔
(مسند احمد 23412، صحیح بخاری 525، 3586، صحیح مسلم 144)
حضرت ابو زید عمرو بن اخطب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ، وَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّى حَضَرَتِ الظُّهْرُ، فَنَزَلَ فَصَلَّى، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَخَطَبَنَا حَتَّى حَضَرَتِ الْعَصْرُ، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَخَطَبَنَا حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ، فَأَخْبَرَنَا بِمَا كَانَ وَبِمَا هُوَ كَائِنٌ فَأَعْلَمُنَا أَحْفَظُنَا
(ایک دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی ،پھر منبر پر جلوہ افروز ہو کر ہمیں وعظ فرمانے لگےیہاں تک کہ ظہر کا وقت ہوگیا تو منبر سے اتر کر آپ نے (ظہر کی ) نماز پڑھائی، پھر ( نماز کے بعد دوبارہ) آپ منبر پر جلوہ افروز ہو ئے اوروعظ فرمانے لگے یہاں تک کہ عصر کا وقت ہوگیاتو منبر سے اتر کر آپ نے (عصرکی ) نماز پڑھائی، (نماز سے فارغ ہو کر) پھر منبر پر جلوہ افروز ہوئے اوروعظ فرمانے لگےیہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا(گویا وعظ کا یہ سلسلہ فجر کی نماز کے بعد سے شروع ہو کر غروبِ آفتا ب پر ختم ہوا )، (دنیا میں اب تک )جو کچھ ہوچکا اور (قیامت تک ) جوکچھ ہونے والا ہے ان سب باتوں کے بارے میں ہمیں(اس وعظ میں ) آپ نے آگاہ فرمایا۔(یہ روایت بیان کرنے کے بعد حضرت ابو زید عمرو بن اخطب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں):(آج) ہمارے درمیان ان تمام باتوں کو سب سے زیادہ جاننے والا شخص وہ ہےجو یاد داشت میں دوسروں سے بڑھ کر ہے
( مسند احمد 22887، صحیح مسلم 2892)
متن پر مبنی انتخابی رویہ کا ظہور
حضرت مقدام بن معدی کربؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
أَلَا إِنِّي أُوتِيتُ الْكِتَابَ، وَمِثْلَهُ مَعَهُ أَلَا يُوشِكُ رَجُلٌ شَبْعَانُ عَلَى أَرِيكَتِهِ يَقُولُ عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْقُرْآنِ فَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَلَالٍ فَأَحِلُّوهُ، وَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوهُ، أَلَا لَا يَحِلُّ لَكُمْ لَحْمُ الْحِمَارِ الْأَهْلِيِّ، وَلَا كُلُّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ، وَلَا لُقَطَةُ مُعَاهِدٍ، إِلَّا أَنْ يَسْتَغْنِيَ عَنْهَا صَاحِبُهَا، وَمَنْ نَزَلَ بِقَوْمٍ فَعَلَيْهِمْ أَنْ يَقْرُوهُ فَإِنْ لَمْ يَقْرُوهُ فَلَهُ أَنْ يُعْقِبَهُمْ بِمِثْلِ قِرَاهُ
”سنو، مجھے کتاب (قرآن) دی گئی ہے اور اس کے ساتھ اسی کے مثل ایک اور چیز بھی (یعنی سنت)، قریب ہے کہ ایک آسودہ آدمی اپنے تخت پر ٹیک لگائے ہوئے کہے: اس قرآن کو لازم پکڑو، جو کچھ تم اس میں حلال پاؤ اسی کو حلال سمجھو، اور جو اس میں حرام پاؤ، اسی کو حرام سمجھو، سنو! تمہارے لیے پالتو گدھے کا گوشت حلال نہیں، اور نہ کسی نوکیلے دانت والے درندے کا، اور نہ تمہارے لیے کسی ذمی کی پڑی ہوئی چیز حلال ہے سوائے اس کے کہ اس کا مالک اس سے دستبردار ہو جائے، اور اگر کوئی کسی قوم میں قیام کرے تو ان پر اس کی ضیافت لازم ہے، اور اگر وہ اس کی ضیافت نہ کریں تو اسے حق ہے کہ وہ ان سے مہمانی کے بقدر لے لے.
(مسند احمد 17174، سنن ابی داؤد 4604)
یہی طرزِ فکر آج بھی موجود ہے، جب بعض حلقے سنت کو رد کر کے قرآن کی اپنی مرضی کی تشریحات کو فروغ دیتے ہیں، تاکہ وہ اس کی قطعی رہنمائی سے بچ سکیں۔
ایک ہولناک آگ
حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَخْرُجَ نَارٌ مِنْ أَرْضِ الحِجَازِ تُضِيءُ أَعْنَاقَ الإِبِلِ بِبُصْرَى
قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک حجاز (موجودہ سعودی عرب) سے ایک آگ نہ نکلے جو بُصریٰ (شام) میں اونٹوں کی گردنوں کو روشن کردے۔
(صحیح البخاری 7118, صحیح مسلم2902)
محدثین جیسے کہ امام ابن حجر، ابن کثیر اور امام نوویؒ اس بات پر متفق ہیں کہ یہ عظیم آتش فشاں 5 جمادی الآخر 654 ہجری کو مدینہ میں پھوٹا اور پورا مہینہ جاری رہا۔
معروف مورخ ابو شامہؒ نے اس آگ کا عینی مشاہدہ کیا اور اس کی تفصیلات کو قلمبند کیا، جیسے کہ اس کی روشنی صدہا میل دور سے دیکھی گئی، مدنی لوگ رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں پناہ لینے لگے اور اجتماعی توبہ کی۔ مؤرخین کے مطابق یہ دراصل آتش فشاں تھا، اور اس کے لاوے کے آثار آج بھی مدینہ کے قریب موجود ہیں۔
قیامت سے پہلے خوشحالی اور عیش پرستی
حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكْثُرَ الْمَالُ وَيَفِيضَ، حَتَّى يَخْرُجَ الرَّجُلُ بِزَكَاةِ مَالِهِ فَلَا يَجِدُ أَحَدًا يَقْبَلُهَا مِنْهُ، وَحَتَّى تَعُودَ أَرْضُ الْعَرَبِ مُرُوجًا وَأَنْهَارًا
قیامت اُس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک دولت اس قدر نہ بڑھ جائے کہ ایک شخص زکوٰۃ لے کر نکلے اور کوئی اسے قبول کرنے والا نہ ملے۔ اور عرب کی زمینیں دوبارہ سرسبز میدانوں اور نہروں میں تبدیل نہ ہو جائیں۔
(صحیح مسلم 157)
پہلے اس کی جزوی علامات ظاہر ہوئیں، مگر آج کی دنیا میں ترقی یافتہ ممالک کی آسودہ زندگی انسانی تاریخ کی ۹۹.۹ فیصد زندگیوں سے بہتر ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے عرب کی بنجر زمینیں آج سبزہ زار اور کھیتوں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ ایک اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ۱۴ سو سال قبل عرب میں سبزہ زار اور نہروں کے موجود ہونے کی طرف اشارہ کیا، جبکہ آج اربوں سال پرانے جمے ہوئے کیچڑ سے ہپوپوٹیمس، بھینسوں کی ہڈیاں اور سیپ کے خول دریافت ہوئے ہیں، جو ظاہر کرتے ہیں کہ عرب کی سرزمین کبھی سرسبز اور آبی تھی۔
(“NASA Sees Fields of Green Spring Up in Saudi Arabia,” NASA؛ Arthur Clark and Michael Grimsdale, “Lakes of the Rub’ al-Khali,” Saudi Aramco World 40, no. 3)
مادی مسابقت اور فخر
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّاءِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ
اور جب تم دیکھو کہ ننگے پاؤں، برہنہ، بکریاں چرانے والے بلند و بالا عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہے ہوں، تو یہ قیامت کی علامات میں سے ہے۔
(صحیح مسلم8، سنن ابن ماجہ 63 ، جامع ترمذی 2610، سنن ابی داؤد 4695، سنن النسائی 4990 ، مسند احمد184، 367، السنن الکبریٰ للبیہقی 20871)
کیا یہ عجیب بات نہیں کہ خلیجی ریگستان، جو سو سال قبل تک انتہائی غربت کا شکار تھے، آج دنیا کی بلند ترین عمارتوں میں سے دو کی تعمیر کر چکے ہیں؟
ایک اور حدیث میں ہے، رحمتِ کونینﷺ فرمایا
لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ
قیامت اُس وقت تک نہیں آئے گی جب تک لوگ اپنی مساجد پر فخر نہ کرنے لگیں۔
( مسند احمد 12379، 12473، 12537، 13404، 14020، سنن ابن ماجہ 739، سنن ابی داؤد 449، سنن النسائی 689، بلوغ المرام261)
حضرت سیدنا عبداللہ بن عباسؓ نے فرمایا
لَتُزَخْرِفُنَّهَا كَمَا زَخْرَفَتِ اليَهُودُ وَالنَّصَارَى
تم اپنی مساجد کو ایسے سجاؤ گے جیسے یہود و نصاریٰ نے اپنے عبادت خانوں کو سجایا۔
( صحیح البخاری1/ 96، سنن ابی داود 448، السنن الکبریٰ للبیہقی 4298)
اسی مادی مسابقت میں دوسروں پر ظلم کا رجحان بھی شامل ہوگا۔
حضرت مسور بن مخرمہؓ کی حدیث میں آتا ہے کہ
فَوَاللَّهِ لاَ الفَقْرَ أَخْشَى عَلَيْكُمْ، وَلَكِنْ أَخَشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُبْسَطَ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا كَمَا بُسِطَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَتَنَافَسُوهَا كَمَا تَنَافَسُوهَا وَتُهْلِكَكُمْ كَمَا أَهْلَكَتْهُمْ
اللہ کی قسم! مجھے تم پر فقر کا اندیشہ نہیں، لیکن مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ تم پر دنیا کشادہ ہو جائے گی، جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر ہوئی، پھر تم بھی اس میں ایک دوسرے سے مقابلہ کرو گے، جیسے وہ کرتے تھے، اور وہ دنیا تمہیں ہلاک کر دے گی جیسے اُنہیں ہلاک کر چکی ہے۔
(صحیح البخاری3158, 4015, 6425، صحیح مسلم 2961، مسند احمد 8074، 10958،، 17234، 18916، جامع ترمذی 2462)
سود سے بچاؤ کا ناممکن ہونا
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَبْقَى أَحَدٌ إِلَّا أَكَلَ الرِّبَا، فَإِنْ لَمْ يَأْكُلْهُ أَصَابَهُ مِنْ بُخَارِهِ
لوگوں پر ایک وقت ایسا آئے گا کہ وہ سب سود کھائیں گے۔صحابہؓ نے عرض کیا: کیا سب لوگ سود کھائیں گے؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
جو سود نہ بھی کھائے گا، اسے بھی اس کی گرد پہنچے گی۔
(سنن ابی داود 3331, سنن النسائی 4455، المستدرکللحاکم: 2162 ، السنن الکبریٰ 10473)
آج کا مالی نظام سود کے جال سے لبریز ہے۔ جائیداد کی خرید و فروخت، گاڑیوں کی قسطیں، کریڈٹ اسکور، بینکنگ سسٹم، حکومتی قرضے سب کچھ سود سے آلودہ ہیں ۔ ہمارے کرنٹ اکاؤنٹس کی جمع شدہ رقم بینکوں کے ذریعے سود پر دی جاتی ہے، اور کریڈٹ کارڈ کی مراعات سود ادا کرنے والوں کی ادائیگی سے ممکن بنتی ہیں۔
قتل و غارت گری کا عام ہو جانا
جب لالچ لوگوں کو دوسروں کے مال کو ہڑپنے پر آمادہ کر دیتی ہے، تو پھر ان کی جان لینا بھی ان کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
اتَّقُوا الظُّلْمَ، فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَاتَّقُوا الشُّحَّ، فَإِنَّ الشُّحَّ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، حَمَلَهُمْ عَلَى أَنْ سَفَكُوا دِمَاءَهُمْ وَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمَهُمْ
ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن تاریکیوں کا باعث بنے گا، اور لالچ سے بچو، کیونکہ لالچ ہی وہ چیز ہے جس نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا؛ اس نے انہیں ایک دوسرے کا خون بہانے اور حرمتیں پامال کرنے پر آمادہ کیا۔
(صحیح مسلم 2578، مسند احمد 5662، 6206، السنن الکبریٰ للبیہقی 11501، 20450)
گزشتہ صدی میں جنگی بربریت، نسل کشی، پولیس کے مظالم، اور اندھا دھند تشدد کی جو مثالیں ملتی ہیں، وہ انسانی تاریخ میں بے مثال ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا، حَتَّى يَأْتِيَ عَلَى» النَّاسِ يَوْمٌ لَا يَدْرِي الْقَاتِلُ فِيمَ قَتَلَ، وَلَا الْمَقْتُولُ فِيمَ قُتِلَ ” فَقِيلَ: كَيْفَ يَكُونُ ذَلِكَ؟ قَالَ: «الْهَرْجُ، الْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، دنیا ختم نہ ہوگی یہاں تک کہ ایک دن ایسا آئے گا کہ قاتل کو معلوم نہ ہوگا کہ وہ کیوں قتل کر رہا ہے، اور مقتول کو خبر نہ ہوگی کہ وہ کیوں قتل ہوا۔
صحابہؓ نے پوچھا: یہ کیسے ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: فتنہ (انتشار) سے۔
(صحیح مسلم 2908)
ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللهﷺ نے فرمایا
إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ أَيَّامًا يُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ، وَيَنْزِلُ فِيهَا الْجَهْلُ، وَيَكْثُرُ فِيهَا الْهَرْجُ» وَالْهَرْجُ الْقَتْلُ
زمانہ باہم قریب ہو جائے گا ( وقت بہت تیزی سے گزرتا ہوا محسوس ہو گا ) ، علم اٹھا لیا جائے گا ، فتنے نمودار ہوں گے ، ( دلوں میں ) بخل اور حرص ڈال دیا جائے گا اور ہرج کثرت سے ہو گا ۔‘‘ صحابہ نے پوچھا : ہرج کیا ہے ؟
آپ ﷺ نے فرمایا : قتل و غارت گری ۔
صحیح مسلم 2672، صحیح البخاری: 85, 1036، 6037، 7061، 7062، 7064، 7066، 7121
حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
وشِكُ الْأُمَمُ أَنْ تَدَاعَى عَلَيْكُمْ كَمَا تَدَاعَى الْأَكَلَةُ إِلَى قَصْعَتِهَا»، فَقَالَ قَائِلٌ: وَمِنْ قِلَّةٍ نَحْنُ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: «بَلْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ، وَلَكِنَّكُمْ غُثَاءٌ كَغُثَاءِ السَّيْلِ، وَلَيَنْزَعَنَّ اللَّهُ مِنْ صُدُورِ عَدُوِّكُمُ الْمَهَابَةَ مِنْكُمْ، وَلَيَقْذِفَنَّ اللَّهُ فِي قُلُوبِكُمُ الْوَهْنَ، فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْوَهْنُ؟ قَالَ: «حُبُّ الدُّنْيَا، وَكَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ
قریب ہے کہ قومیں تمہیں ایک دوسرے کو کھانے کے لیے بلاوے دیں جیسے لوگ دسترخوان پر کھانے کو بلاتے ہیں۔
صحابہؓ نے پوچھا: کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے؟
آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم تعداد میں بہت زیادہ ہو گے، مگر تمہاری حیثیت جھاگ جیسی ہو گی، اللہ تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہارا خوف نکال دے گا، اور تمہارے دلوں میں ‘وَہن‘ ڈال دے گا۔
عرض کیا: یارسول اللہ ﷺ! وَہن کیا ہے؟
فرمایا: دنیا کی محبت اور موت سے نفرت۔
(سنن ابی داؤد 4297)
ایک اور حدیث میں فرمایا
لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ فَيَقُولُ: يَا لَيْتَنِي مَكَانَهُ
قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک آدمی اپنے بھائی کی قبر کے پاس سے گزر کر کہے: کاش! میں اس کی جگہ ہوتا۔
(مؤطا امام مالک 824، مسند احمد 10866، صحیح البخاری7115، 7121 ، صحیح مسلم: 157)
ابن بطالؒ کہتے ہیں کہ
وتمنى الموت عند ظهور الفتن إنما هو خوف ذهاب الدين
یہ تمنّا خودکشی کی خواہش سے نہیں ہوگی بلکہ اپنے دین کے ضائع ہو جانے کے خوف سے ہوگی۔ (مفہوماً)
(شرح صحیح البخاری لابن بطال10 /58)
رسول اللہ ﷺ نے کبھی قیامت کا دن یا وقت متعین نہیں فرمایا۔ بلکہ آپ ﷺ بار بار قرآن کی یہ آیت تلاوت فرمایا کرتے تھے
کہہ دو (اے محمد ﷺ): زمین و آسمانوں میں کوئی غیب کو نہیں جانتا سوائے اللہ کے، اور وہ نہیں جانتے کہ وہ کب دوبارہ زندہ کیے جائیں گے۔
ان احادیثِ مبارکہ میں بیان کردہ نشانیاں صرف علم حاصل کرنے کے لیے نہیں، بلکہ خود احتسابی، بیداری اور رجوع الی اللہ کے لیے ہیں۔ جب نبی کریم ﷺ نے امت کے زوال، فتنوں، اور قیامت کی جھلکیوں کو بیان فرمایا، تو مقصد صرف خوف دلانا نہ تھا بلکہ خبردار کرنا، جگانا، اور راہِ حق کی طرف بلانا تھا۔
آج اگر ہم واقعی ایمان رکھتے ہیں کہ یہ سب کچھ ہمارے نبی ﷺ کی زبان سے نکلا، اور آج آنکھوں کے سامنے سچ ثابت ہو رہا ہے، تو ہمیں خود سے ایک سوال ضرور کرنا چاہیے: کیا ہم ان نشانیوں سے سبق لے کر اپنی اصلاح کر رہے ہیں؟
دنیا فانی ہے، مگر نبی ﷺ کی سچائی ابدی ہے۔ ان کی پیش گوئیاں صرف ماضی کا معجزہ نہیں، بلکہ آج کا زندہ ثبوت ہیں۔ وہ نبی جو وقت کی قید سے آزاد ہو کر آنے والے حالات کو بیان کرےایسا نبی یقیناً اللہ کا سچا رسول ہوتا ہے




