نبی کریم ﷺکی سچی پیش گوئیاں: ناقابلِ تردید تاریخی حقائق

اندھیری رات ہو اور اچانک آسمان پر ایک ستارہ چمک اٹھے… انسان فوراً چونک جاتا ہے، اس روشنی کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھتا ہے، جیسے کسی پیغام کا منتظر ہو۔ یہی حال دلوں کا ہوتا ہے جب تاریخِ نبوی ﷺ کی وہ روشن جھلکیاں سامنے آتی ہیں، جن میں آپ ﷺ نے ایسی ایسی  باتیں ارشاد فرمائیں، جو وقت نے آئینے کی طرح سچ ثابت کر دکھائیں۔ 

جب نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ رومی پھر غالب آ جائیں گے، تو لوگ ہنس پڑے۔ جب آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسلام ہر گھر میں داخل ہوگا، تو کفار نے تمسخر اڑایا۔ مگر ہر لمحہ، ہر صدی، ہر واقعہ ان لوگوں کے لیے طمانچہ ثابت ہوا جنہوں نے سچائی سے آنکھیں چرائیں۔ یہ محض اتفاق نہیں تھا، یہ وحی کی روشنی تھی۔ یہ الفاظ صرف ایک انسان کے نہیں تھے، یہ آسمان سے نازل ہونے والے راز تھے جو زمین پر چمکتے رہے… اور آج بھی چمک رہے ہیں۔ 

تاریخِ انسانی میں بے شمار افراد نے عظمت کے دعوے کیے، مگر صرف سچے انبیاء ہی وہ ہستیاں ہیں جو غیب کی خبریں کامل یقین اور سچائی کے ساتھ بیان کرتے ہیں، اور وقت ان کی صداقت کو بار بار ثابت کرتا ہے۔ 

 نبی کریم حضرت محمد ﷺ کی حیاتِ طیبہ نہ صرف ہدایت و رحمت کا سرچشمہ ہے بلکہ ایسی پیش گوئیوں سے بھری ہوئی ہے جو حرف بہ حرف پوری ہوئیں۔ یہ محض اتفاقات نہیں بلکہ خدائی نشانیاں تھیں، جنہیں صحابہ کرامؓ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور معتبر کتب میں محفوظ کیا۔ یہ مضمون ایسے ایمان افروز لمحات پر روشنی ڈالتا ہے, جب نبی کریم ﷺ کے الفاظ مستقبل کا چراغ بنے اور آپ کی صداقت کی گواہی زمانہ دیتا رہا۔ 

قاضی عیاضؒ کی گواہی 

امام قاضی عیاض المالکیؒ (م 544ھ / 1149ء) اپنی شہرۂ آفاق کتاب ’’الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ‘‘ میں لکھتے ہیں 

یہ احادیث (پیش گوئیوں سے متعلق) ایک نہ ختم ہونے والا دریا اور بے پایاں سمندر ہیں۔ یہ آپ ﷺ کے معجزات میں سے ہیں جن کا ثبوت قطعی ہے، کیونکہ ان کی روایت تواتر کے ساتھ ہوئی ہے، راویوں کی کثرت اور معنوں کی ہم آہنگی کے باعث، جو اس امر کی گواہی دیتی ہے کہ آپ ﷺ کو غیب کے کچھ امور کا علم عطا فرمایا گیا تھا۔ 

(الشفا بتعریف حقوق المصطفی حاشیہ الشمنی, جلد 1, ص336) 

رومیوں کی شکست اور فتح کی پیش گوئی 

اللہ جل وعلا کا فرمان ہے

الم (1) غُلِبَتِ الرُّومُ (2) فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ (3) فِي بِضْعِ سِنِينَ لِلَّهِ الْأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ (4) 

الف، لام، میم (حقیقی معنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں 

اہلِ روم (فارس سے) مغلوب ہوگئےنزدیک کے ملک میں، اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب ہو جائیں گے چند ہی سال میں (یعنی دس سال سے کم عرصہ میں) رومی مغلوب ہوگئے ہیں۔ قریب ترین زمین میں، لیکن وہ اپنی شکست کے بعد چند سالوں میں غالب آ جائیں گے۔ 

(سورۃ الروم1، 4) 

تاریخی پس منظر اور تکمیل 

سن 613ء تا 619ء کے دوران رومی سلطنت ساسانی ایرانیوں کے ہاتھوں پے در پے شکستوں سے دوچار ہوئی۔ مشہور مؤرخ ایڈورڈ گبن لکھتے ہیں 

جب یہ پیش گوئی کی گئی، اس وقت اس کے پورا ہونے کا کوئی بظاہر امکان نہ تھا کیونکہ ہرقل کے ابتدائی بارہ سال رومی سلطنت کے زوال کی خبر دے رہے تھے۔ 

ابولہب کی ہلاکت کی پیش گوئی 

جب نبی اکرم ﷺ نے اعلانیہ دعوتِ اسلام دی تو آپ کے چچا ابو لہب نے مخالفت کی۔ اس پر سورۃ المسد/ اللھب) نازل ہوئی۔ 

تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ (1) مَا أَغْنَى عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ (2) سَيَصْلَى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ (3)  

ابو لہب کے ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ تباہ ہو جائے۔ نہ اس کا مال اسے فائدہ دے گا، نہ اس کی کمائی۔ وہ جلد ہی بھڑکتی آگ میں داخل ہوگا۔ 

(سورۃ المسد 1 تا 3) 

پیش گوئی کی تکمیل 

یہ سورۃ نو سال قبل نازل ہوئی تھی اور اگر ابو لہب چاہتا تو اسلام قبول کرنے کا ڈرامہ کر کے اس کی تکذیب کر سکتا تھا، لیکن وہ ایسا نہ کر سکا، جس سے قرآن کے دعوے کی سچائی مزید نمایاں ہو گئی۔ 

(Edward Gibbon, The History of the Decline and Fall of the Roman Empire, vol. 4, chap. XLVI, p. 479, London: Electric Book Co., 2001) 

تاہم سن 622ء میں ہرقل نے جوابی حملہ شروع کیا اور چند ہی برسوں میں تمام علاقے واپس حاصل کر لیے بالکل ویسے ہی جیسے قرآن نے تین سے نو سال کے اندر کامیابی کی خبر دی تھی۔ 

مسلمانوں کی فتح کے ساتھ خوشی 

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے 

وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ 

اور اسی دن مؤمن اللہ کی مدد پر خوش ہوں گے۔ 

(سورۃ الروم 4 ) 

مشہور مفسر ابو حیان اندلسیؒ لکھتے ہیں کہ یہ خوشی بدر کی جنگ میں مسلمانوں کی فتح پر بھی تھی، جو اسی سال (624ء) ہوئی جب ہرقل نے ایرانیوں پر فیصلہ کن کامیابی حاصل کی 

(أبو حيان الأندلسي، البحر المحيط في التفسير، ج 8، ص 375، دار الفكر، بيروت، 1992ء) 

اسلام کی عالمی اشاعت 

حیران کن پیش گوئی 

جب مسلمان مکہ میں انتہائی کمزور اور مظلوم تھے، تب نبی کریم ﷺ نے فرمایا 

لَيَبْلُغَنَّ هَذَا الْأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ، وَلَا يَتْرُكُ اللهُ بَيْتَ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللهُ هَذَا الدِّينَ 

یہ دین ہر اُس جگہ پہنچے گا جہاں دن اور رات جاتے ہیں۔ اللہ کسی کچے یا پکے گھر کو نہیں چھوڑے گا مگر یہ دین اس میں داخل ہو کر رہے گا۔ 

مسند احمد 16957, شرح مشکل الآثار6155، مسند الشامیین للطبرانی 951, الایمان لابن منذی1085،  السنن الکبری للبیہقی18619, المستدرک للحاکم8326) 

اوردوسرےمقام پر فرمایا 

إِنَّ اللهَ زَوَى لِي الْأَرْضَ، فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا، وَإِنَّ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مُلْكُهَا مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا 

اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین سمیٹ دی، پس میں نے اس کے مشرق و مغرب کو دیکھ لیا، اور میری امت کی حکومت وہاں تک پہنچے گی جہاں تک مجھے دکھایا گیا۔ 

( صحیح مسلم 2889 ، مسند احمد 22394،سنن ابی داؤد 4252، المستدرک للحاکم 8390، مسند الشھاب 1113) 

حیرت انگیز تکمیل 

آج دینِ اسلام دنیا کے تمام براعظموں میں اپنی موجودگی رکھتا ہے، یہاں تک کہ الاسکا کی برف پوش سرزمین اور بحرالکاہل کے دور افتادہ جزائر بھی اس کے نور سے منور ہو چکے ہیں۔ معروف تحقیقی ادارے پیو ریسرچ سینٹر کی ایک مفصل رپورٹ کے مطابق اسلام سن 2070ء تک دنیا کا سب سے بڑا مذہب بننے جا رہا ہے۔ 

(Pew Research Center, The Future of World Religions: Population Growth Projections, 2010–2050, April 2, 2015) 

امّ حرامؓ کی قبر اور بحری جہاد 

امِّ حرام بنت مِلحان سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا 

أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ البَحْرَ قَدْ أَوْجَبُوا»، قَالَتْ أُمُّ حَرَامٍ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا فِيهِمْ؟ قَالَ: «أَنْتِ فِيهِمْ»، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ مَدِينَةَ قَيْصَرَ مَغْفُورٌ لَهُمْ»، فَقُلْتُ: أَنَا فِيهِمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «لاَ» 

 میری امت کا پہلا لشکر جو سمندر کے راستے جہاد کرے گا، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی ہے۔ امِّ حرامؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں ان میں شامل ہوں گی؟ آپ ﷺ نے فرمایاتم ان میں شامل ہو گی۔ 

بعد ازاں رسول اللہ ﷺ نے فرمایامیری امت کا پہلا لشکر جو قیصر کے شہر (قسطنطنیہ) کی طرف جہاد کے لیے روانہ ہو گا، اس کے تمام افراد بخش دیے جائیں گے۔ 

امِّ حرامؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں ان میں شامل ہوں گی؟ 
آپ ﷺ نے فرمایا نہیں۔  

(صحیح بخاری2924) 

تاریخ میں پیشگوئی کی تکمیل 

حضرت معاویہ بن ابی سفیان  کے دور خلافت میں پہلا اسلامی بحری بیڑا روانہ ہوا۔ حضرت امّ حرام اپنے شوہر حضرت عبادہ بن صامت  کے ساتھ اس لشکر میں شامل تھیں۔ جب لشکر قُبرس کے جزیرے میں دشمن کے علاقے میں داخل ہوا تو وہ اپنی سواری سے گر کر شہید ہو گئیں۔ یوں نبی کریم ﷺ کی پیشگوئی من و عن پوری ہوئی۔ 

قبر کی شہادت

حضرت امّ حرام کی قبر قُبرس کے جزیرے پر معروف ہے۔ 

قال القاضي قال أكثر أهل السير والأخبار إن ذلك كان في خلافة عثمان بن عفان رضي الله عنه وإن فيها ركبت أم حرام وزوجها إلى قبرس فصرعت عن دابتها هناك فتوفيت ودفنت هناك 

(حاشیہ صحیح مسلم تحت الحدیث 1912) 

امام ابن حجر کی تشریح

وَفِيهِ ضُرُوبٌ مِنْ أَخْبَارِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا سَيَقَعُ فَوَقَعَ كَمَا قَالَ وَذَلِكَ مَعْدُودٌ مِنْ عَلَامَاتِ نُبُوَّتِهِ مِنْهَا إِعْلَامُهُ بِبَقَاءِ أُمَّتِهِ بَعْدَهُ وَأَنَّ فِيهِمْ أَصْحَابَ قُوَّةٍ وَشَوْكَةٍ وَنِكَايَةً فِي الْعَدُوِّ وَأَنَّهُمْ يَتَمَكَّنُونَ مِنَ الْبِلَادِ حَتَّى يَغْزُوا الْبَحْرَ وَأَنَّ أُمَّ حَرَامٍ تَعِيشُ إِلَى ذَلِكَ الزَّمَانِ وَأَنَّهَا تَكُونُ مَعَ مَنْ يَغْزُو الْبَحْرَ وَأَنَّهَا لَا تُدْرِكُ زَمَانَ الْغَزْوَةِ الثَّانِيَةِ 

مشہور شارح حدیث امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ (وفات: 852ھ) لکھتے ہیں

اس حدیث میں نبی کریم ﷺ کی کئی پیشگوئیاں موجود ہیں جو سب پوری ہوئیں۔ ان میں سے یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ کی امت آپ کے بعد باقی رہے گی، طاقتور ہو گی، دشمنوں کا مقابلہ کرے گی، سمندر میں جہاد کرے گی، اور امّ حرام رضی اللہ عنہا اس لشکر میں شامل ہوں گی لیکن قسطنطنیہ کے لشکر میں شامل نہیں ہوں گی۔ 

(فتح الباری لابن حجر11/  77) 

ثقِیف کے جھوٹے نبی اور قاتل کے بارے میں پیشگوئی 

حضرت عبداللہ بن زبیر کی شہادت کے بعد، ظالم حجاج بن یوسف نے ان کی لاش کو بیت اللہ کے قریب سولی پر لٹکا دیا، پھر اُسے ہٹوا کر یہودیوں کے قبرستان میں پھینکوا دیا۔ بعد ازاں وہ حضرت اسماء بنت ابی بکر، جو رسول اللہ ﷺ کی سالی بھی تھیں، کے پاس آیا اور کہا: کیا تم نے اللہ کے دشمن کے ساتھ میرے سلوک کو دیکھا؟ انہوں نے جواب دیا، تو نے اُس کی دنیا خراب کی اور اپنی آخرت برباد کر لی۔ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خبر دی تھی کہ

أَنَّ فِي ثَقِيفٍ كَذَّابًا وَمُبِيرًا» فَأَمَّا الْكَذَّابُ فَرَأَيْنَاهُ، وَأَمَّا الْمُبِيرُ فَلَا إِخَالُكَ إِلَّا إِيَّاهُ 

 ثقِیف قبیلے سے ایک جھوٹا اور ایک قاتل نکلے گا۔ جھوٹے کو ہم دیکھ چکے، اور مجھے یقین ہے کہ تو وہ قاتل ہے۔ 

یہ سن کر حجاج شرمندہ ہو کر چلا گیا۔ 

(صحیح مسلم 2545) 

خلافت اور حکمرانی کے ادوار کی نبوی پیشگوئی 

حضرت حذیفہ بن یمان سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا

تَكُونُ النُّبُوَّةُ فِيكُمْ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ تَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ  أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ، فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ تَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا عَاضًّا، فَيَكُونُ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا جَبْرِيَّةً، فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ تَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ نُبُوَّةٍ 

تم میں نبوت اس وقت تک رہے گی جب تک اللہ چاہے گا، پھر وہ اسے اٹھا لے گا۔ اس کے بعد خلافت علی منہاج النبوۃ (نبوی طریقے پر خلافت) ہو گی، جب تک اللہ چاہے گا، پھر وہ اسے بھی اٹھا لے گا۔ پھر کاٹ کھانے والی بادشاہت ہو گی، جب تک اللہ چاہے گا، پھر وہ اسے بھی ختم کر دے گا۔ اس کے بعد جبری بادشاہت ہو گی، جب تک اللہ چاہے گا، پھر وہ اسے بھی اٹھا لے گا۔ پھر دوبارہ خلافت علی منہاج النبوۃ قائم ہو گی۔ 

(مسند احمد18406) 

تاریخی تطبیق 

اس حدیث میں امت مسلمہ کی پانچ حکومتی ادوار کی ترتیب بیان کی گئی ہے 

نبوت: نبی اکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ 

خلافت راشدہ: خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان، علی رضی اللہ عنہم 

کاٹ کھانے والی بادشاہت: بنو امیہ اور بنو عباس کی حکومتیںز 

جبری بادشاہت: بعد کے ظالمانہ اور آمرانہ ادوار 

دوبارہ خلافت علی منہاج النبوۃ: آئندہ آنے والا دورِ عدل 

اس ترتیب میں جو نبوی بصیرت موجود ہے وہ واضح دلیل ہے کہ رسول اللہ ﷺ سچے نبی اور وحی کے امین تھے۔ 

اس بےیقینی کے دور میں جب تاریخ مسخ کی جا رہی ہے اور حقیقت پر پردے ڈالے جا رہے ہیں، رسول اللہ ﷺ کی پیشگوئیاں ایمان کی ایسی روشن دلیلیں ہیں جو ہر دور میں چمکتی رہیں گی۔ یہ صرف ماضی کی روایات نہیں بلکہ زندہ ثبوت ہیں اس بات کے کہ آسمان کی خبریں زمین پر پوری ہوئیں، اور نبوت کے فیضان نے دنیا کو بدل دیا۔ 

 حضرت امّ حرام کے قبرس میں آنسو بہاتے قدم، اور حضرت اسماء کا جبر کے سامنے ڈٹا ہوا حوصلہ اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول تھے، معجزات کے حامل، اور حق کے ابدی علمبردار تھے۔  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *