مغفرت، رحمت اور نجات: رمضان کی آخری دس راتیں

مغفرت، رحمت اور نجات: رمضان کی آخری دس راتیں

تصور کیجیے! ایک ایسی رات جب اللہ کی رحمت جوش میں آتی ہے، فرشتے زمین پر اترتے ہیں، دعاؤں کی قبولیت کے دروازے کھل جاتے ہیں، اور جہنم سے نجات کی بشارتیں دی جاتی ہیں۔ یہ کوئی عام رات نہیں، بلکہ رمضان المبارک کی آخری دس راتوں میں سے کوئی ایک رات ہو سکتی ہے

یہ وہ مبارک راتیں ہیں جن میں ہمارے مقدر بدل سکتے ہیں، ہمارے گناہ معاف ہو سکتے ہیں، اور ہمیں وہ سعادت نصیب ہو سکتی ہے جو ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے۔ لیکن سوال یہ ہے: کیا ہم اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہیں؟

ہم میں سے ہر کوئی اپنی زندگی میں کئی غلطیاں اور گناہ کر چکا ہے، ہم سب کی زندگیاں دنیاوی مصروفیات میں الجھی ہوئی ہیں، لیکن یہ آخری عشرہ اللہ کی طرف لوٹنے کا موقع ہے۔ یہ وہ لمحات ہیں جب اللہ کی رحمت ہمیں پکار رہی ہے، جب وہ معاف کرنے کے لیے تیار ہے، جب ہماری دعائیں رد نہیں کی جاتیں۔ کیا ہم ان راتوں کو صرف سونے، خریداری، یا فضول کاموں میں ضائع کر دیں گے؟ یا پھر ان لمحوں کو عبادت، دعا اور توبہ میں گزار کر اپنی آخرت سنواریں گے؟

یہ آخری عشرہ زندگی بدلنے کا موقع ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب اللہ ہمیں بلا رہا ہے، جب جنت کے دروازے کھلے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں۔ یہ وہ گھڑیاں ہیں جن میں ایک سجدہ ہمیں اللہ کے قریب کر سکتا ہے، ایک آنسو ہمارے تمام گناہوں کو دھو سکتا ہے، اور ایک دعا ہماری تقدیر کو سنوار سکتی ہے۔

رمضان کی آخری دس راتوں میں عبادت کی اہمیت

رسول اللہ ﷺ رمضان کی آخری دس راتوں میں عبادت میں خصوصی محنت کرتے تھے۔

 جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو نبی کریم ﷺ راتوں کو جاگتے، اپنے گھر والوں کو بھی بیدار کرتے اور عبادت میں خوب محنت فرماتے۔

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا

كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ العَشْرُ شَدَّ مِئْزَرَهُ، وَأَحْيَا لَيْلَهُ، وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ

 جب (رمضان کا) آخری عشرہ آتا تو نبی کریم ﷺ اپنا تہبند مضبوط باندھتے (یعنی اپنی کمر پوری طرح کس لیتے) اور ان راتوں میں آپ خود بھی جاگتے اور اپنے گھر والوں کو بھی جگایا کرتے تھے۔

(صحیح البخاری2024)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آخری عشرے کی عبادات کا خصوصی اہتمام کرنا سنتِ رسول ﷺ ہے۔ یہ راتیں صرف عام ثواب حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ گناہوں کی مغفرت اور جنت کی راہ ہموار کرنے کا بہترین موقع بھی ہیں۔

آخری عشرے کی اہم عبادات اور روحانی فوائد

لیلۃ القدر کی تلاش

رمضان کی آخری دس راتوں میں ایک رات، لیلۃ القدر، پوشیدہ ہے۔ اس رات میں عبادت کرنا ہزار مہینوں کی عبادت کے برابر ہے۔ نبی کریم ﷺ لیلۃ القدر کو تلاش کرتے کثرت سے قیام فرماتے۔

رحمتِ کونینﷺ نے فرمایا

مَنْ قَامَ لَيْلَةَ القَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ

 جو کوئی شب قدر میں ایمان کے ساتھ اور حصول ثواب کی نیت سے عبادت میں کھڑا ہو اس کے تمام اگلے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جس نے رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رکھے اس کے اگلے تمام گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔

(صحیح البخاری 1901)

یہ رات 21، 23، 25، 27 یا 29 رمضان کی رات ہو سکتی ہے، اس لیے ہمیں آخری عشرے کی ہر رات کو عبادت میں گزارنا چاہیے تاکہ اس عظیم رات کو حاصل کر سکیں۔ (عرف میں یہی مشہور ہے)

تہجد اور قیام اللیل

نبی کریم ﷺ کا معمول تھا کہ رمضان کے آخری عشرے میں تہجد اور قیام اللیل کا خاص اہتمام فرماتے تھے۔ تہجد کا قیام عام دنوں میں بھی عظیم عمل ہے، لیکن رمضان کی آخری راتوں میں اس کی فضیلت اور بڑھ جاتی ہے۔

رحمتِ کونینﷺ نے فرمایا

عَلَيْكُمْ بِقِيَامِ اللَّيْلِ فَإِنَّهُ دَأَبُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ، وَإِنَّ قِيَامَ اللَّيْلِ قُرْبَةٌ إِلَى اللَّهِ، وَمَنْهَاةٌ عَنْ الإِثْمِ، وَتَكْفِيرٌ لِلسَّيِّئَاتِ، وَمَطْرَدَةٌ لِلدَّاءِ عَنِ الجَسَدِ

قیام اللیل یعنی تہجد کا اہتمام کیا کرو، کیونکہ تم سے پہلے کے صالحین کا یہی طریقہ ہے، اور رات کا قیام یعنی تہجد اللہ سے قریب و نزدیک ہونے کا، گناہوں سے دور ہونے کا اور برائیوں کے مٹنے اور بیماریوں کو جسم سے دور بھگانے کا ایک ذریعہ ہے۔

(جامعترمذی 3549)

قرآن کی تلاوت اور تدبر

رمضان قرآن کا مہینہ ہے، اور آخری عشرے میں قرآن کو سمجھ کر پڑھنے سے ایمان میں مزید تازگی آتی ہے۔

 اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ

رمضان کا مہینہ (وہ ہے) جس میں قرآن اتارا گیا ہے جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور (جس میں) رہنمائی کرنے والی اور (حق و باطل میں) امتیاز کرنے والی واضح نشانیاں ہیں،

(سورۃ البقرہ185)

دعا اور استغفار

نبی کریم ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ایک بہترین دعا سکھائی جو ان راتوں میں کثرت سے مانگی جائے

اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي

اے اللہ! تو عفو و درگزر کرنے والا مہربان ہے، اور عفو و درگزر کرنے کو تو پسند کرتا ہے، اس لیے تو ہمیں معاف و درگزر کر دے“۔

(جامعترمذی3513)

ذکر و اذکار اور درود شریف کی کثرت

اللہ تعالیٰ کا ذکر دل کو سکون بخشتا ہے اور گناہوں کی معافی کا ذریعہ بنتا ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا

مَنْ صَلَّى عَلَيَّ وَاحِدَةً صَلَّى الله عَلَيْهِ عَشْرًا

جس نے مجھ پر ایک بار درود بھیجا اللہ تعالی اس پر دس بار رحمت نازل فرمائے گا۔

(صحیح مسلم 408)

اعتکاف کی برکتیں

رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے تاکہ پوری توجہ عبادت پر مرکوز رہے اور دنیاوی مصروفیات سے بالکل کٹ کر اللہ سے تعلق مضبوط ہو جائے۔

انَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ العَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ

نبی کریم ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔

(صحیح البخاری 2025)

بزرگانِ دین اور آخری عشرے کی عبادت

حضرت حسن بصری فرماتے ہیں

جو شخص رمضان کی آخری دس راتوں کو عبادت میں گزارے، وہ دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کر لیتا ہے۔

حضرت امام شافعی کا فرمان ہے

لیلۃ القدر کو پانے کے لیے آخری عشرے میں عبادت کا خوب اہتمام کرو، کیونکہ یہ رات جسے مل جائے، وہ دنیا و آخرت میں سرخرو ہو جائے گا۔

آخری عشرے میں کن کاموں سے بچنا چاہیے؟

عبادات میں سستی اور غفلت

بہت سے لوگ رمضان کے ابتدائی دنوں میں عبادت کا اہتمام کرتے ہیں، لیکن آخری عشرے میں سست ہو جاتے ہیں۔ یہ بہت بڑی محرومی ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ آخری عشرے میں عبادت کو مزید بڑھا دیا کرتے تھے۔

بازاروں اور خریداری میں وقت ضائع کرنا

رمضان کی آخری راتوں میں لوگ عید کی خریداری میں مصروف ہو جاتے ہیں اور قیمتی لمحات ضائع کر دیتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ عید کی تیاری پہلے کر لیں تاکہ آخری عشرے کی عبادات متاثر نہ ہوں۔

گناہ اور فضول گفتگو

ان مبارک راتوں میں ہمیں لغویات، غیبت، چغلی اور دیگر گناہوں سے مکمل پرہیز کرنا چاہیے، کیونکہ یہ نیکیوں کو ضائع کر دیتے ہیں۔

سوشل میڈیا اور غیر ضروری مشاغل

رمضان کی راتوں کو سوشل میڈیا، موبائل گیمز اور دیگر غیر ضروری سرگرمیوں میں ضائع کرنا بہت بڑی بدقسمتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس وقت کو عبادت، ذکر اور دعا میں گزاریں۔

رمضان کی یہ آخری راتیں ہمیں ایک اہم سوال پر سوچنے پر مجبور کرتی ہیں: کیا ہم ان مبارک گھڑیوں کو غفلت میں گزار کر پچھتائیں گے یا انہیں اپنا مقدر بدلنے کے لیے استعمال کریں گے؟ اگر ہمیں یقین ہو جائے کہ یہ ہمارا آخری رمضان ہے، تو کیا ہم اسے اسی طرح گزاریں گے جیسے عام دن گزارتے ہیں؟ اگر یہ ہماری زندگی کی آخری لیلۃ القدر ہو، تو کیا ہم سجدے میں جا کر اللہ سے معافی نہیں مانگیں گے؟ اگر یہ وہ آخری عشرہ ہو جس میں ہماری مغفرت لکھی جا سکتی ہے، تو کیا ہم دعا اور توبہ میں اپنا سب کچھ نہیں لگا دیں گے؟

یہ وقت فیصلہ کرنے کا ہے! اللہ کی بخشش ہمارے قریب ہے، بس ہمیں اپنے ہاتھ اٹھانے ہیں، دل سے پکارنا ہے، اور اللہ سے التجا کرنی ہے کہ وہ ہمیں معاف کر دے، ہمیں جنت کا مستحق بنا دے، اور ہماری زندگیوں کو بدل دے۔

یہ آخری لمحے ہیں… جو خوش نصیب ان سے فائدہ اٹھائے گا، وہ ہمیشہ کے لیے کامیاب ہو جائے گا۔ اور جو ان قیمتی لمحات کو ضائع کرے گا، وہ سب سے بڑی محرومی میں مبتلا ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *