دجال کی نشانیاں اور مرزا قادیانی کا فتنہ – کیا آپ اس حیران کن مشابہت سے واقف ہیں

دجال کی نشانیاں اور مرزا قادیانی کا فتنہ – کیا آپ اس حیران کن مشابہت سے واقف ہیں

اسلامی تاریخ میں دجال کا ذکر ایک ایسے فتنے کے طور پر کیا گیا ہے جو قیامت کے قریب ظاہر ہوگا اور انسانوں کو گمراہ کرنے کی پوری کوشش کرے گا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فتنے سے بچنے کے لیے ہمیں خاص طور پر خبردار فرمایا ہے، کیونکہ یہ فتنہ اتنا شدید ہوگا کہ کمزور ایمان والے لوگ اس کے جال میں آسانی سے پھنس جائیں گے۔

لیکن ذرا رکیں، کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ تاریخ میں ہمیں ایسے جھوٹے مدعیانِ نبوت بھی ملتے ہیں جو لوگوں کو فریب دے کر اصل حقیقت سے دور کر دیتے ہیں؟ ایسے ہی لوگوں میں ایک بدنام زمانہ بنام مرزا غلام احمد قادیانی کا بھی ہے۔ اس شخص نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا، دین میں تحریف کی اور سادہ لوح مسلمانوں کو بہکانے کی پوری کوشش کی۔

اب اگر ہم دجال کی نشانیوں کو باریک بینی سے دیکھیں اور مرزا قادیانی کی زندگی اور نظریات سے ان کا موازنہ کریں تو حیران کن حد تک مماثلت نظر آتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے وہی تمام گمراہی، وہی فریب اور وہی چالاکیاں یہاں بھی دہرائی جا رہی ہوں۔ کیا یہ محض اتفاق ہے؟ یا پھر ایک بڑا دھوکہ جو امتِ مسلمہ کو تقسیم کرنے کے لیے رچا گیا؟ آئیے ان پہلوؤں پر تفصیل سے غور کرتے ہیں۔

دجال اور مرزا قادیانی – ایک خطرناک فتنہ

رسول اللہ ﷺنے دجال کو دنیا کا سب سے بڑا فتنہ قرار دیا ہے. ایک ایسا فتنہ جو امت مسلمہ کے لیے ناقابلِ تصور نقصان کا باعث بنے گا۔

 آپ ﷺنے فرمایا

رحمرِ کونینﷺ نے فرمایا

مَا بَيْنَ خَلْقِ آدَمَ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ خَلْقٌ أَكْبَرُ مِنَ الدَّجَّالِ

حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر قیامت تک کوئی مخلوق (فتنہ و فساد میں) ایسی نہیں جو دجال سے بڑی ہو۔

(صحیح مسلم2946)

حضرت عبد الرحمٰن بن عوف کی سے مروی حدیث میں ہے، رحمتِ کونینﷺ نے فرمایا

ثُمَّ فِتْنَةٌ لاَ يَبْقَى بَيْتٌ مِنَ العَرَبِ إِلَّا دَخَلَتْهُ

پھر فتنہ اتنا تباہ کن عام ہو گا کہ عرب ( مسلمانوں) کا کوئی گھر باقی نہ رہے گا جو اس کی لپیٹ میں نہ آ گیا ہو گا۔

( صحیح البخاری 3176)

سوچنے کی بات یہ ہے کہ دجال کا فتنہ صرف مستقبل کی بات نہیں، بلکہ تاریخ میں کئی چھوٹے چھوٹے فتنے اسی کی تیاری کا حصہ رہے ہیں۔ ان ہی فتنوں میں سے ایک “قادیانیت” کا فتنہ ہے، جسے مرزا غلام احمد قادیانی نے کھڑا کیا۔

یہ محض ایک عام گمراہی نہیں، بلکہ ایک ایسی سازش ہے جو دشمنانِ اسلام کی پشت پناہی سے پروان چڑھی۔ اس فتنے نے نہ صرف مسلمانوں کے عقائد کو بگاڑنے کی کوشش کی بلکہ امتِ مسلمہ کے اتحاد پر بھی کاری ضرب لگائی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ کچھ لوگ آج بھی مرزا قادیانی کے جھوٹے دعوؤں پر یقین کرتے ہیں اور اس کے پیروکار بن کر دینِ اسلام کو نقصان پہنچانے میں لگے ہوئے ہیں۔

جھوٹے مدعیانِ نبوت – حدیثِ نبوی کی پیشگوئی

رسول اللہ ﷺنے ہمیں پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ قیامت سے پہلے جھوٹے نبی آئیں گے، جو لوگوں کو گمراہ کریں گے اور دین میں بگاڑ پیدا کریں گے۔

 آپ ﷺنے فرمایا

لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُبْعَثَ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثِينَ، كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللهِ

قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک کہ تیس جھوٹے دجال دنیا میں نہ آ جائیں، جن میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔

(صحیح البخاری 3608، 7121،  صحیح مسلم2923)

یہ سوچ کر ہی روح کانپ اٹھتی ہے کہ ایسے فتنے ہمارے درمیان ظاہر ہوں گے، جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر جھوٹ بولیں گے اور معصوم لوگوں کو اپنی چالاکیوں سے گمراہ کریں گے۔ علمائے کرام نے وضاحت کی ہے کہ یہاں “دجال” سے مراد وہ جھوٹے مدعیانِ نبوت ہیں جو کسی نہ کسی حد تک حاصل کر لیں گے۔

یہاں وہ جھوٹے نبی مراد ہیں جن کا ایک گروہ ہوگا، جو عوام میں شہرت پائیں گے اور جن کے پیروکار انہیں نجات دہندہ سمجھ کر ان کی باتوں کو سچ مان لیں گے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں

وَلَيْسَ الْمُرَادُ بِالْحَدِيثِ مَنِ ادَّعَى النُّبُوَّةَ مُطْلَقًا فَإِنَّهُمْ لَا يُحْصَوْنَ كَثْرَةً لِكَوْنِ غَالِبِهِمْ يَنْشَأُ لَهُمْ ذَلِكَ عَنْ جُنُونٍ أَوْ سَوْدَاءَ وَإِنَّمَا الْمُرَادُ مَنْ قَامَتْ لَهُ شَوْكَةٌ وَبَدَتْ لَهُ شُبْهَةٌ

حدیث میں ان لوگوں سے مراد ہر وہ شخص نہیں ہے جو مطلقاً نبوت کا دعویٰ کرے، کیونکہ ایسے دعویٰ کرنے والوں کی کثرت ہے اور ان کا شمار ممکن نہیں۔ ان میں سے اکثر کا یہ دعویٰ جنون یا سودا (دماغی خلل) کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ بلکہ حدیث میں مراد وہ شخص ہے جسے قوت و اقتدار حاصل ہو جائے اور اس کے پاس کوئی شبہ یا دلیل نما چیز بھی ہو۔

(فتح الباری 6/ 617)

اب ذرا غور کریں! کیا مرزا غلام احمد قادیانی انہی جھوٹے مدعیانِ نبوت میں شامل نہیں؟ اس کے جھوٹے دعوے، اس کی بنائی گئی جماعت، اور اس کے پیروکار جو آج بھی اسلام کے نام پر گمراہی پھیلا رہے ہیں

دجال اور مرزا قادیانی کا خدائی دعویٰ – ایک ناقابلِ معافی گستاخی

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ انسان کس حد تک گمراہ ہو سکتا ہے؟ دجال کی سب سے خوفناک نشانی یہی ہے کہ وہ خدائی کا دعویٰ کرے گا! یعنی وہ لوگوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کرے گا کہ وہی خدا ہے، وہی سب کچھ کرنے والا ہے۔

رسول اللہ ﷺنے ہمیں اس فتنے سے خبردار کرتے ہوئے فرمایا

دجال کہے گا: میں تمہارا رب ہوں۔

حضرت ابی امامہ سے مروی ہے کہا

رحمتِ کونینﷺ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا، تو آپ کے اکثر خطبوں میں آپ ہمیں دجال کا ذکر فرماتے اور ہمیں اس سے ڈراتے تھے، اور بے شک وہ (دجال) ابتدا کرے گا اور کہے گا:

 أَنَا نَبِيٌّ. وَلَا نَبِيَّ بَعْدِي. ثُمَّ يُثَنِّي فَيَقُولُ: «أَنَا رَبُّكُمْ. وَلَنْ تَرَوْا رَبَّكُمْ حَتَّى تَمُوتُوا. وَإِنَّهُ أَعْوَرُ، وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ

میں نبی ہوں، اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ پھر وہ (دجال) دوسری بات کہے گا اور کہے گا: میں تمہارا رب ہوں۔ تم اپنے رب کو اس وقت تک نہیں دیکھ سکتے جب تک تم مر نہ جاؤ۔ اور بے شک وہ (دجال) کانا ہوگا، جبکہ تمہارا رب کانا نہیں ہے۔

(السنۃ لعبد اللہ بن احمد الشیبانی1008، الفتن لنعیم بن حماد1516، فوائف تمام الدمشقی267، البعث والنشور للبیہقی169،  السنۃ لابن ابی عاصم429، الآحاد والمثانی لابن ابی عاصم 1249، مسند الرویانی1239، الفتن لحنبل بن اسحاق الشیبانی37)

دوسری حدیث میں ہے

يَأْتِي النَّاسَ، فَيَقُولُ: «أَنَا رَبُّكُمْ، وَهُوَ أَعْوَرُ، وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ

(دجال) لوگوں کے پاس آئے گا اور کہے گا: “میں تمہارا رب ہوں”، حالانکہ وہ کانا (ایک آنکھ سے معذور) ہوگا، اور بے شک تمہارا رب کانا نہیں ہے۔

( التوحید لابن خزیمہ1/ 102)

یہ الفاظ ہی ہمارے ایمان کو جھنجھوڑ دینے کے لیے کافی ہیں، لیکن افسوس! تاریخ میں ہمیں ایسے ہی دعوے کرنے والے اور بھی ملتے ہیں اور ان میں سب سے پہلا دعوی کرنے والا بد نام زماں مرزا غلام احمد قادیانی کا ہے۔ جی ہاں! وہی مرزا قادیانی جس نے اپنے خوابوں اور کشف کے نام پر ایسی ایسی باتیں کہیں کہ ایک عام مسلمان سن کر کانپ جائے! ذرا اس کے الفاظ ملاحظہ کریں

میں نے خواب میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور میں نے یقین کر لیا کہ میں وہی ہوں۔

(آئینہ کمالاتِ اسلام، ص 564، روحانی خزائن، ج 5، ص 564)

میں نے اپنے کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں۔

(کتاب البریہ، ص 85، روحانی خزائن، ج 13، ص 103)

تو جس بات کا ارادہ کرتا ہے، وہ تیرے حکم سے فی الفور ہو جاتی ہے۔

(حقیقت الوحی، ص 108، روحانی خزائن، ج 22، ص 108)

ذرا سوچیں! کیا کوئی صاحبِ ایمان شخص ایسی گستاخی کا تصور بھی کر سکتا ہے؟ کیا کوئی مسلمان یہ مان سکتا ہے کہ ایک عام انسان (چاہے وہ کوئی بھی ہو) نعوذ باللہ، خدا ہونے کا دعویٰ کرے؟ یہی دجال کی چالاکی ہے – لوگوں کو فریب دینا، انہیں گمراہ کرنا اور ان کے عقیدے کو متزلزل کر دینا! مرزا قادیانی نے بھی یہی کیا۔

دجال اور مرزا قادیانی کا نبوت کا جھوٹا دعویٰ

دجال نبوت اور رسالت کا دعویٰ کرے گا، جبکہ مرزا قادیانی نے بھی یہی دعویٰ کیا

خدا تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے، اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے۔

(حقیقت الوحی، ص 387، روحانی خزائن، ج 22، ص 503)

سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔

(دافع البلاء، ص 11، روحانی خزائن، ج 18، ص 231)

دجال مکہ اور مدینہ میں داخل نہ ہو سکے گا

رسول اللہ ﷺنے فرمایا

دجال مکہ اور مدینہ میں داخل نہیں ہو سکے گا۔

رحمتِ کونینﷺ نے فرمایا

لَيْسَ مِنْ بَلَدٍ إِلَّا سَيَطَؤُهُ الدَّجَّالُ، إِلَّا مَكَّةَ، وَالمَدِينَةَ، لَيْسَ لَهُ مِنْ نِقَابِهَا نَقْبٌ، إِلَّا عَلَيْهِ المَلاَئِكَةُ صَافِّينَ يَحْرُسُونَهَا، ثُمَّ تَرْجُفُ المَدِينَةُ بِأَهْلِهَا ثَلاَثَ رَجَفَاتٍ، فَيُخْرِجُ اللَّهُ كُلَّ كَافِرٍ وَمُنَافِقٍ

 کوئی ایسا شہر نہیں ملے گا جسے دجال پامال نہ کرے گا، سوائے مکہ اور مدینہ کے، ان کے ہر راستے پر صف بستہ فرشتے کھڑے ہوں گے جو ان کی حفاظت کریں گے پھر مدینہ کی زمین تین مرتبہ کانپے گی جس سے ایک ایک کافر اور منافق کو اللہ تعالیٰ اس میں سے باہر کر دے گا۔

(صحیح البخاری 1881)

مرزا قادیانی نے اپنی زندگی میں کبھی بھی مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ کا سفر نہیں کیا، حالانکہ وہ مالی استطاعت رکھتا تھا۔ یہ ایک اور حیرت انگیز مشابہت ہے جو دجال اور مرزا قادیانی کے درمیان پائی جاتی ہے۔

دجال کی جنت و دوزخ اور قادیانی فریب

دجال کے ساتھ جنت اور دوزخ ہوگی، مگر اس کی جنت حقیقت میں دوزخ ہوگی اور اس کی دوزخ حقیقت میں جنت ہوگی۔

حضرت ابو ہریرہ کی مروی حدیث میں ہے، رحمتِ کونینﷺ نے فرمایا

أَلَا أُخْبِرُكُمْ عَنِ الدَّجَّالِ حَدِيثًا مَا حَدَّثَهُ نَبِيٌّ قَوْمَهُ إِنَّهُ أَعْوَرُ، وَإِنَّهُ يَجِيءُ مَعَهُ مِثْلُ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، فَالَّتِي يَقُولُ إِنَّهَا الْجَنَّةُ هِيَ النَّارُ، وَإِنِّي أَنْذَرْتُكُمْ بِهِ كَمَا أَنْذَرَ بِهِ نُوحٌ قَوْمَهُ

کیا میں تمھیں دجال کے متعلق ایسی بات نہ بتاؤں جو کسی نبی نے اپنی امت کو نہیں بتائی۔ وہ یقینی طور پر کانا ہو گا۔ اس کے ساتھ جنت اور جہنم کے مانند (وہ جگہیں سامنے) آئیں گی۔ جس کے بارے میں وہ کہے گا کہ جنت ہے وہ (اصل میں) جہنم ہو گی۔ میں نے اسی طرح تمھیں اس سے خبردار کر دیا ہے جس طرح حضرت نوح علیہ السلام نے اس کے بارے میں اپنی قوم کو خبردار کیا تھا۔

(صحیح مسلم2936)

مرزا قادیانی کے ماننے والے بھی دنیاوی فوائد کے عوض لوگوں کو اپنے جال میں پھنساتے ہیں۔ مسلمانوں کو ملازمت، ویزے، دولت اور دیگر فریبوں کا لالچ دے کر انہیں قادیانیت کی طرف مائل کیا جاتا ہے، مگر حقیقت میں وہ اپنے ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

مرزا قادیانی نے بھی کئی جھوٹے دعوے کیے، جن میں سے ایک یہ تھا کہ قادیان طاعون سے محفوظ رہے گا، جبکہ قادیان میں خود اس کے پیروکار اس بیماری کا شکار ہوئے۔

( دافع البلاء، ص 14، روحانی خزائن، ج 18، ص 230)

میرے عزیز بھائیو اور بہنو! ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں حق اور باطل کی جنگ پہلے سے کہیں زیادہ شدت اختیار کر چکی ہے۔ دجال کا فتنہ صرف مستقبل کی بات نہیں، بلکہ اس کے اثرات ہمیں ہر دور میں نظر آتے ہیں۔ اور جب ہم مرزا قادیانی کے جھوٹے دعووں کو دجال کی خصوصیات کے ساتھ دیکھتے ہیں تو حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے—یہ سب ایک ہی شیطانی چال کا حصہ ہے، جو اسلام کو اندر سے کھوکھلا کرنے کے لیے رچی گئی تھی۔

مرزا قادیانی نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا، خود کو خدا تک کہلوایا، لوگوں کو فریب میں مبتلا کیا، اور مسلمانوں کے عقائد میں بگاڑ پیدا کرنے کی کوشش کی۔ لیکن جو بات سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے، وہ یہ کہ آج بھی کچھ لوگ اس کے جھوٹے نظریات کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں! کیا ہم خاموش تماشائی بنے رہیں گے؟ کیا ہم اپنے دین اور ایمان کی حفاظت کے لیے کھڑے نہیں ہوں گے؟

یاد رکھیں! دجال کا سب سے بڑا ہتھیار فریب ہے، اور جو شخص ایمان پر مضبوطی سے قائم نہ ہو، وہ اس کے دھوکے میں آسانی سے آ سکتا ہے۔ ہمیں قرآن و حدیث کی روشنی میں اس فتنے کو پہچاننا ہوگا، اپنے بچوں کو اس سے آگاہ کرنا ہوگا، اور اپنے عقیدے کی حفاظت کرنی ہوگی۔ کیونکہ اگر ہم آج خاموش رہے، تو آنے والی نسلیں ہم سے سوال کریں گی۔

جب اسلام پر حملہ ہو رہا تھا، تو تم کہاں تھے؟آئیے! سچ اور جھوٹ کے درمیان لکیر کو واضح کریں، اپنے ایمان کو مضبوط کریں، اور اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں ہر فتنے سے محفوظ رکھے۔ اللہ ہمیں دجالی چالوں اور قادیانیت کے فریب سے بچائے، اور ہمارا خاتمہ ایمان پر کرے، اسلام پر کرے، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت پر کرے۔

آمین یا رب العالمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *