اللہ جل وعلا نے آپﷺکی ذاتِ والا کو رحمۃ للعالمین بناکر بھیجا آپﷺ کی شخصیت نہ صرف اللہ کے بندوں کو اللہ سے ملانے اور بزم جہاں میں شمع ہدایت بن کر آئی بلکہ آپ تمام بشری کمالات و محاسن کا مجموعہ اور سراپا حسن و جمال بن کر تشریف لائے۔ پیکر دلربا بن کے آئے، روح ارض و سما بن کے آئے، سب رسول خدا بن کے آئے، وہ حبیب خدا بن کے آئے۔ آپ کو رب کائنات نے چونکہ انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے بھیجا اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو نہایت احسن تقویم کا شاہکار بناکر بھیجا۔یہ فطرت انسانی ہے کہ وہ جب بھی کسی ہستی یا شخصیت سے متاثر ہوکر اس کا گرویدہ، مطیع یا شیدا ہوتا ہے تو اس کی بنیادی طور پر تین بڑی وجوہات ہوا کرتی ہیں۔ یہ تین صورتیں یا تین جہتیں ہوسکتی ہیں۔
اول: یا تو وہ کسی کی عظمت و رفعت اور فضیلت و کمالات کی وجہ سے اس سے متاثر ہوکر اس کا گرویدہ ہوجاتا ہے اس سے محبت کرنے لگتا ہے اور اس کا تابع و مطیع ہوجاتا ہے۔
اس جہت سے اگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات بابرکات کو پیش نظر رکھا جائے تو آپ نبوت و رسالت کے سب سے اعلیٰ و ارفع مقام پر فائز دکھائی دیتے ہیں۔ نبوت و رسالت کے تمام تر درجات، کمالات، معجزات اور فضائل جو مختلف انبیاء کرام کو اللہ تعالیٰ نے عطا کیے وہ سب آپ میں بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں بلکہ جو سب پیغمبروں اور رسولوں کو جدا جدا ملا وہ میرے آقا مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یکجا ملا۔ علامہ اقبال نے کیا خوب فرمایا:
حسن یوسف، دم عیسیٰ، یدِ بیضا داری
آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری
اور دوسری خوبی جس کی وجہ سے انسان کسی سے متاثر ہوتا ہے وہ اس کے اخلاق و کردار اور خصائص کی اعلیٰ خوبیاں ہیں اگر کسی کے ہم پر بہت زیادہ احسانات ہوں یا کوئی بے حد مہربان و غمگسار اور شفیق ہو تو بھی آپ اس کے احسانات کی وجہ سے دل سے اس کی عزت و قدر کرتے ہیں اور نتیجتاً اس سے عقیدت و محبت کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے اگر آپﷺ کی سیرت مبارکہ کا مطالعہ کریں تو یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ کائنات میں سب سے اعلیٰ اخلاق پر فائز ذات بھی مصطفی کریمﷺ کی ہے جن کے اخلاق کے عظیم ہونے کی گواہی خود اللہ تعالیٰ نے دے دی۔
وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ
اور بے شک آپ عظیم الشان خلق پر قائم ہیں (یعنی آدابِ قرآنی سے مزّین اور اَخلاقِ اِلٰہیہ سے متّصف ہیں)۔
(القلم، 68: 4)
اور احسانات اور رحمتوں کا عالم یہ ہے کہ سارے جہانوں کے لیے ان کا وجود سراپا رحمت ہے جیسا کہ سورۃ انبیاء میں ارشاد ربانی ہے:
وَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ.
اور بالمومنین روف الرحیم تو ہیں ہی اس سے بڑھ کر یہ کہ اللہ تعالیٰ نے خود مومنوں کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کو اپنا سب سے بڑ ااحسان قرار دے دیا۔
(الانبیاء، 12: 107)
لَقَدْ مَنَّ اللهُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْھِمْ رَسُوْلاً.
تحقیق اللہ نے مومنوں پر بڑا احسان کیا کہ ان میں سے ہی اپنا رسول مبعوث فرمایا
(آل عمران، 3: 164)
ایسی صورت کہ جس کی وجہ سے انسان بے ساختہ کسی سے والہانہ محبت و عشق کرنے لگ جاتا ہے اور بے خود و دیوانہ ہوکر کسی پر دل و جان سے فدا ہوجاتا ہے اس کے حسین و جمال پیکر دلربا کو دیکھ کر بندہ بے ساختہ اس پر فریفتہ ہوجاتا ہے اور اگر اس پہلو یا اس زاویہ نگاہ کے مطابق سراپا مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نگاہ ڈالی جائے تو یہاں پر حسن وجمال کی تمام تر رعنائیاں اور خوبصورتی کے تمام تر معیار حسن مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نثار نظر آتے ہیں۔
حضرت حسان بن ثابتؓ حضور علیہ السلام کے حسن سراپا کے بارے میں اپنے نعتیہ کلام میں کچھ یوں بیان فرماتے ہیں:
واحسن منک لم ترقط عینی
واجمل منک لم تلد النساء
خلقت مبرا من کل عیب
کانک قد خلقت کما تشآء
سردست ہمارا منشاء اس بات کا کھوج لگانا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شمائل مبارکہ کے باب میں جو احادیث کا عظیم ذخیرہ موجود ہے قرآن اس کی تائید میں کیا صادر کرتا ہے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ ذکر مصطفی اور سیرت مطہرہ اور شمائل و فضائل کے باب میں قرآن سے بڑھ کر زیادہ مستند اور معتبر ذریعہ کوئی نہیں چنانچہ قرآن نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سراپا مبارک اور حسن مجسم کا بیان ایسے دلآویز انداز سے کیا ہے کہ عاشقان جمال مصطفیٰ ﷺ اسے سن کر وجد میں آجاتے ہیں اور ان کے دل میں عشق و محبت کے ایسے چراغ روشن ہوجاتے ہیں جنہیں حوادث زمانہ کی کوئی آندھی بجھا نہیں سکتی۔
قرآن اور سراپا مصطفیٰ کریمﷺ کا بیان:
قرآن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجود مسعود کو سراپا نور قرار دیتا ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
قَدْ جَآئَکُمْ مِّنَ اللهِ نُوْرٌ وَّکِتٰبٌ مُّبِیْنٌ.
بےشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور (یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آگیا ہے اور ایک روشن کتاب (یعنی قرآن مجید)۔
(المائدة، 5: 15)
تمام مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہاں نور سے مراد ذات مصطفیٰ کریمﷺ ہے۔
حسن سراپا مصطفیٰ کریمﷺ کو سراج منیر قرار دینا۔
یـٰٓاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّـآ اَرْسَلْنٰـکَ شَاهِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا. وَّ دَاعِیًا اِلَی اللهِ بِاِذْنِہٖ وَسِرَاجًا مُّنِیْرًا.
اے نبِیّ (مکرّم!) بے شک ہم نے آپ کو (حق اور خَلق کا) مشاہدہ کرنے والا اور (حُسنِ آخرت کی) خوشخبری دینے والا اور (عذابِ آخرت کا) ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اور اس کے اِذن سے اللہ کی طرف دعوت دینے والا اور منوّر کرنے والا آفتاب (بنا کر بھیجا ہے)۔
(الاحزاب، 33: 45۔46)
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسن سراپا کو سراج منیر قرار دیا جانا ایک قرآنی استعارہ ہے۔ سراج لغت میں آفتاب یا چراغ کو کہتے ہیں اور منیر اسے کہتے ہیں جو دوسروں کو روشن کردے۔ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وجود نہ صرف خود روشن و منور ہے بلکہ چاروں طرف روشنی بھی بانٹ رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی زندگی کی قسم کھائی ہے کہ قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے اپنے حبیب ﷺ کی پوری زندگی کی قسم کھائی ہے۔ (آپﷺ کی شان میں قرآنی قسمیں کے عنوان سے الگ تحریر ہماری ویب سائیٹ پر موجود ہے)
اللہ جل وعلا کا فرمان ہے:
لَعَمْرُکَ اِنَّهُمْ لَفِیْ سَکْرَتِهِمْ یَعْمَهُوْنَ.
(اے حبیبِ مکرّم!) آپ کی عمرِ مبارک کی قَسم، بے شک یہ لوگ (بھی قومِ لوط کی طرح) اپنی بدمستی میں سرگرداں پھر رہے ہیں۔
(الحجر، 15: 72)
جس اللہ نے کسی نبی پیغمبر کی پوری زندگی کی قسم یوں نہیں کھائی یہ منفرد مقام و مرتبہ صرف حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات ستودہ صفات کو حاصل ہے کہ آپ کی پوری زندگی کی قسم کھائی جارہی ہے۔
چہرہ انور اور گیسوئے عنبریں کی قسم:
قرآن مجید کے صفحات حضور ﷺ کے جسد اطہر کے اعضاء مبارک یعنی چہرہ انور گیسوئے مبارک اور چشمان مقدس کے ذکر تک سے معمور ہیں۔
وَالضُّحٰی. وَالَّیْلِ اِذَا سَجٰی. مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلٰی.
قَسم ہے چاشت کے وقت کی (جب آفتاب بلند ہو کر اپنا نور پھیلاتا ہے)۔ اور قَسم ہے رات کی جب وہ چھا جائے۔ آپ کے رب نے (جب سے آپ کو منتخب فرمایا ہے) آپ کو نہیں چھوڑا اور نہ ہی (جب سے آپ کو محبوب بنایا ہے) ناراض ہوا ہے۔
(الضحیٰ، 93: 1 تا3)
یہاں تشبیہ کے پیرائے میں چاشت کی طرح چمکتے ہوئے چہرہ زیبا کا ذکر والضحیٰ کہہ کر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شانوں کو سیاہ رات کی طرح چھائی ہوئی زلفوں کا ذکر واللیل کہہ کر کہا گیا ہے۔
حضور ﷺ کی چشمان مقدس کا بیان:
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے آقا دو جہاں کی مبارک آنکھوں کا بھی ذکر کیا ہے:
مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰی.
اُن کی آنکھ نہ کسی اور طرف مائل ہوئی اور نہ حد سے بڑھی (جس کو تکنا تھا اسی پر جمی رہی)۔
(النجم، 53: 17)
قرآن و سنت آیات الہٰیہ کے باب میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کمال بصارت کا ذکر ان الفاظ میں کرتا ہے:
لَقَدْ رَاٰی مِنْ اٰ یٰتِ رَبِّهِ الْکُبْرٰی.
بےشک انہوں نے (معراج کی شب) اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں۔
(النجم، 53: 18)
حضور ﷺ کی پشت مبارک کا بیان:
قرآن مجید نے حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت مبارک کا بھی ذکر کیا ہے:
اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ
کیا ہم نے آپ کی خاطر آپ کا سینہ (انوارِ علم و حکمت اور معرفت کے لیے) کشادہ نہیں فرما دیا۔
(الانشراح، 92: 1)
منصب نبوت اور عظیم پیغمبرانہ مشن کی ذمہ داریوں کا بوجھ جو آپ کی پشت مبارک پر تھا جسے رب العزت نے کمال لطف و شفقت سے ہلکا کردیا تھا۔
گفتار مصطفی ﷺ کا ذکر:
قرآن مجید حضور ﷺ کی بول چال، گفتگو اور ذہن مبارک کا ذکر بھی کرتا ہے:
اِنَّہٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ.
بے شک یہ (قرآن) بزرگی و عظمت والے رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا (منزّل من اللہ) فرمان ہے، (جسے وہ رسالتاً اور نیابتاً بیان فرماتے ہیں)۔
(الحاقہ، 69: 40)
یہ کتنی عظیم بات ہے کہ خدا نے اپنے کلام کو رسول کریم ﷺکے کلام سے تعبیر فرمایا پھر قرآن نے ذہن انسانی سے اس خلیجان کو رفع کرنے کے لیے انسان ہونے کے ناطے اس رسول ﷺ کے کلام کو انسانی کلام پر محمول نہ کرلیا جائے۔ واشگاف انداز میں اعلان کردیا کہ میرا رسول خواہش نفس سے ایک لفظ بھی زبان پر نہیں لاتا بلکہ جوکہتا ہے اللہ کی طرف سے وحی ہوتا ہے۔
وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰی. اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی.
اور وہ (اپنی) خواہش سے کلام نہیں کرتے۔ اُن کا ارشاد سَراسَر وحی ہوتا ہے جو انہیں کی جاتی ہے۔
(النجم، 35: 3-4)
بس حضور ﷺ کے لب سے جو کلام ہوتا ہے وہ وحی الہٰی ہے، بس اتنا فرق ضرور ہے کہ اگر وہ وحی جبرائیل امین علیہ السلام کے توسط سے قلب مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اترے تو اسے قرآن کہا جاتا ہے اور وہ وحی جلی اور وحی متلو کہلاتی ہے جبکہ دوسری وحی خفی اور غیر متلو کہلاتی ہے اور اسے حدیث کا درجہ حاصل ہے۔
فعلِ مصطفی ﷺ فعلِ خدا ہے:
جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہر بات از روئے قرآن اور وحی الہٰی ہوتی ہے اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فعل کو بھی فعل خداوندی قرار دیا جاتا ہے۔ جیسے ارشاد ہوتا ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللهَط یَدُ اللهِ فَوْقَ اَیْدِیْھِمْ.
(اے حبیب!) بے شک جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں، ان کے ہاتھوں پر (آپ کے ہاتھ کی صورت میں) اللہ کا ہاتھ ہے۔
(الفتح، 48: 10)
اس آیت میں بیعت رضوان کے واقعہ کی طرف اشارہ ہے حالانکہ صحابہؓ نے حضور ﷺ کے دس اقدس پر بیعت کی تھی۔
قلبِ مصطفی ﷺ اور قرآن:
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کمال بصارت کے ذکر کے بعد قرآن آپ کے قلب انور کا ذکر بھی کرتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰی.
(اُن کے) دل نے اُس کے خلاف نہیں جانا جو (اُن کی) آنکھوں نے دیکھا۔
(النجم، 53: 11)
حضور ﷺ کے دست اقدس کا بیان:
قرآن مجید میں اللہ نے اپنے حبیب ﷺ کے ہاتھوں کا ذکر اس شان سے کیا ہے کہ دست مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنا دست اقدس قرار دے دیا۔
یَدُ اللهِ فَوْقَ اَیْدِیْھِمْ.
’’ان کے ہاتھوں پر (آپ کے ہاتھ کی صورت میں) اللہ کا ہاتھ ہے‘‘۔
(الفتح، 48: 10)
حضور ﷺ کے سینہ اقدس کا بیان:
اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینہ اقدس کا ذکر کرتے ہوئے آپ کو شرح صدر کی دولت عنایت فرمادی۔
اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ.
کیا ہم نے آپ کی خاطر آپ کا سینہ (انوارِ علم و حکمت اور معرفت کے لیے) کشادہ نہیں فرما دیا۔
(الانشراح، 94: 1)
فرمایا حضرت موسیٰؑ نے اللہ تعالیٰ سے شرح صدر کی دعا کی جسے قرآن نے بیان کیا۔ رب شرح لی صدری۔ اور مقام مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ ہے کہ خود اللہ تعالیٰ اپنے حبیب کے شرح صدری کا اعلان فرمادیتے ہیں اور فرمایا لک تمہارے لیے کھولا تاکہ تو راضی ہوجائے اور کتنا کشادہ کیا انشرح صدر مقصد اور وسعت کا تعین نہیں فرمایا پس مفہوم کچھ یوں ہوگیا اے محبوب ہم نے آپ کا سینہ اس قدر کھول دیا کہ ارض و سماء کی ساری وسعتیں اس میں سماگئی ہیں۔ میں نے تمام اسرار و رموزکے خزانے آپ کے سینے میں سمودیئے ہیں۔
آپﷺ کی ہر ادا باری تعالیٰ کی خصوصی توجہ کا مرکز ہے نگاہِ مصطفیﷺ اور حضورﷺ کے تکنے کا ذکر:
اللہ تعالیٰ نے چہرہ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر اتنی شان کے ساتھ کیا کہ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ مبارک کو تکتے رہنا اور اپنی نگاہوں میں رکھنا اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔ جیسا کہ قبلہ کی تبدیلی کے واقع سے معلوم ہوتا ہے۔
قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْهِکَ فِی السَّمَآءِج فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضٰهَا.
(اے حبیب) بے شک ہم نے آپ کے چہرہ کا آسمان کی طرف بار بار اٹھتا دیکھ لیا۔ پس بے شک ہم آپ کو اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جس کو آپ پسند کرتے ہیں۔
(البقرة، 2: 144)
دوسرے مقام پر قرآن نے واضح کردیا ہے کہ آپ کا ہر عمل اور ہر ادا رب العزت کی توجہ کا مرکز ہے۔
حضورﷺ کے قیام و رکوع اور نشست و برخاست کا ذکر:
الَّذِیْ یَرٰکَ حِیْنَ تَقُوْمُ. وَتَقَلُّبَکَ فِی السّٰجِدِیْنَ.
جو آپ کو (رات کی تنہائیوں میں بھی) دیکھتا ہے جب آپ (نمازِ تہجد کے لیے) قیام کرتے ہیں اور سجدہ گزاروں میں (بھی) آپ کا پلٹنا دیکھتا (رہتا) ہے۔
(الشعراء، 26: 218۔129)
یعنی اے محبوب ﷺ! ہم لمحہ لمحہ آپ کو تکتے رہتے ہیں آپ کو اپنی نگاہوں میں رکھتے ہیں آپ کی زندگی کا کوئی لمحہ ایسا نہیں جو ہماری خصوصی نوازشات سے سرفراز نہ ہو یہاں تک کہ جب تو اٹھتا بیٹھتا ہے تو ہم تیری نشست و برخاست کو بھی دیکھتے ہیں۔
حضور ﷺ کی آواز کا ذکر:
اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کی بارگاہ کے آداب بجا لانے کی تعلیم فرمائی تو حکم دیا خبردار تمہاری آوازیں میرے نبی کی آواز سے اونچی نہ ہونے پائیں۔
یٰـٓاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ.
’’اے ایمان والو! تم اپنی آوازوں کو نبئ مکرّم ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز سے بلند مت کیا کرو‘‘۔
(الحجرات، 49: 2)
آنحضور ﷺ کو مخاطب کرنے کا ذکر:
اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو مخاطب کرنے کا ادب بھی سکھایا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عام انسان سمجھ کر انہیں بلند آواز سے نہ پکاریں۔
وَلَا تَجْهَرُوْا لَہٗ بِالْقَوْلِ کَجَهْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ.
اور اُن کے ساتھ اِس طرح بلند آواز سے بات (بھی) نہ کیا کرو جیسے تم ایک دوسرے سے بلند آواز کے ساتھ کرتے ہو۔
(الحجرات، 49: 2)
الغرض ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن مختلف انداز میں کبھی تمثیل و تشبیہ سے کبھی رمزو اشارہ سے کبھی کنایہ مجاز سے اور کبھی صراحت وضاحت سے حضور ﷺ کے حسن سراپا اور نور مجسم کا ذکر کرتا ہے تاکہ آپ کے حسن و جمال کے تذکرے سے اہل ایمان کے دلوں میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے عشق و محبت کا داعیہ پیدا ہو تاکہ محبوب کی تقلید و اتباع سے مشام جاں لذت و حلاوت کی چاشنی محسوس کرتے ہیں۔ بے شک یہ عظمت بلا شرکت غیرے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حصے میں آئی ہے کہ آپ جیسا حسین وجمیل، سراپا نور اللہ نے نہ پیدا کیا ہے نہ کرے گا۔
نبیوں میں نبی ایسے کہ ختم الانبیاء ٹھہرے
حسینوں میں حسین ایسے کہ محبوب خدا ٹھہرے
حضور پاک ﷺ کے شمائل و فضائل اور آپﷺ کے حلیہ مبارک کی تفصیل میں بہت سے صحابہ کرام نے روایات بیان کی ہیں ظاہر سی بات ہے صحابہ کرام آپﷺ کے جانثار تھے ، آپ ﷺ پر مر مٹنے اور آپﷺ سے بہت محبت کرنے والے تھے ۔آپ ﷺ کے حُلیہ پر بات کرتے ہوئے پہلے چند چیزیں جو احادیث مُبارکہ سے ثابت ہیں اِن کا ذکر کرتے ہیں
حضرت ام معبد رضہ فرماتی ہیں:
أَجْمَلُ النَّاسِ مِنْ بَعِيدٍ، وَأَحْلَاهُ وَأَحْسَنُهُ مِنْ قَرِيبٍ
آپﷺ کے اوصاف کی کیا ہی بات ہے ، خواہ آپﷺ کو قریب سے دیکھا جائے یا دور سے دیکھا جائے آپﷺ انتہائی حسین و جمیل تھے۔
(شفا شریف1/50)
اسی طرح ابن ابی ہالہ رضہ کی حدیث ہے:
يَتَلَأْلَأُ وَجْهُهُ تَلَأْلُؤَ الْقَمَرِ، ليلة البد
حضورﷺ کا چہرہ انور چودھویں کے چاند کی طرح چمکتا تھا ۔
ایک دفعہ حضرت علی نے آپﷺ کی تعریف میں فرمایا:
جو شخص پہلی بار آپﷺ کو دیکھتا تو اس پر خوف طاری ہو جاتا یعنی آپﷺ کا رعب اس پر آ جاتا اور جب وہ آپﷺ سے ملتا جلتا رہتا تو آپﷺ کا گرویدہ ہو جاتا ، آپﷺ کا دیوانہ ہو جاتا ، کوئی شخص آپﷺ کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکتا تھا اور بے ساختہ یہ پکار اُٹھتا کہ :
لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مِثْلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
میں نے حضورﷺ جیسا حسین و جمیل نہ کوئی آ پ سے پہلے دیکھا نہ ہی بعد میں دیکھا۔
( مسند احمد746، 946، 1053، جامع ترمذی 3637، 3638)
بہت سے صحابہ سے مروی ہے وہ کہا کرتے تھے کہ ہماری آنکھوں نے کسی کو آنحضرت ﷺ سے زیادہ حسین دیکھا ہی نہیں اور جب کوئی آپﷺ کی جانب دیکھے تو ایسا لگتا تھا کہ سورج کی شعائیں آپﷺ کے چہرہ انور پر چمک رہی ہیں۔ اورجب آپﷺ مسکراتے تو سامنے کے در و دیوار جگمگانے لگتے ظاہری بات ہے حضورﷺ کے وجود سے دنیا سے کفر کے اندھیرے مٹ گئے تو آپﷺ کی موجودگی اور آپ کے چہرہ انور سے کیوں نہ نور کی روشنی نکلے آپﷺ کے چہرہ انور اور آپﷺ کے شمائل کے بارے میں احادیث میں جو آیا ہے اس کے مطابق آپﷺ کا رنگ اجلا تھا آپﷺ کی آنکھیں سیاہ ، گہری اور قدرے سرخی مائل تھیں ، ان کا رنگ ایسا سفید تھا جو سرخی مائل ہو ، آپﷺ کے آنکھوں کے بال یعنی پلکیں لمبی تھی، اور آپ کی دونوں بھویں جدا اور لمبائی میں ان پر باریک بال تھے ، آپﷺ کے سامنے کے دانتوں کے درمیان تھوڑا سا وقفہ تھا اور آپ ﷺ کاچہرہ مبارک کچھ حد تک گول تھا ، مکمل گول نہیں تھا اور آپ کی پیشانی کشادہ تھی ، آپﷺ کی داڑھی مبارک بھاری تھی جو سینے کو ڈھانپ لیتی تھی اور آپﷺ کا سینہ اور آپ کا پیٹ برابر تھا ، آپﷺ کا سینہ کشادہ تھا ، آپﷺ کے ہاتھوں اور پاوں کی انگلیاں خوبصورت اور لمبی اور پرگوشت تھی، آپﷺ کے جسم مبارک پر کم بال تھے اور سینہ سے ناف تک بالوں کی ہلکی سی دھاری چلتی تھی آپﷺ کا قد درمیانہ تھا، نہ بہت لمبا اور نہ بہت چھوٹا ۔ لیکن آپ ﷺ کا یہ معجزہ ہے کہ حدیث میں یہ آیا ہے کہ جب لمبے قد والا بھی آپ ﷺ کے ساتھ چلتا تو آپﷺ چلتے ہوئے اس سے اونچا محسوس ہوتے اور آپﷺ جب بات کرتے تو ایسا لگتا جیسے آپﷺ کے چہرے سے نور کی کرنیں چمک رہی ہوں۔
آپﷺ کا جسم انورپھرتیلا تھااور اس پر بے انتہا گوشت نہیں تھا ، متناسب جسم متناسب گوشت کے ساتھ اور انتہائی پھرتیلا ۔
(شفا شریف1/149)
حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں:
مَا رَأَيْتُ مِنْ ذِي لِمَّةٍ أَحْسَنَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
میں نے کسی شخص کو سرخ لکیروں والی چادر میں آپﷺ جیسا خو بصورت نہیں دیکھا اور جب کوئی آپﷺ کی طرف دیکھے تو محسوس ہوتا تھا کہ سورج کی کرنیں آپﷺ کے چہرۂِ انور پر تیر رہی ہوں اور آپﷺ کےمسکرانے اور آپ کے خوش ہوجانے سے سامنے والے در و دیوار چمکنے لگ جاتے تھے ۔
( مسند احمد18558، 18613، 18666، صحیح البخاری5901، صحیح مسلم2337، سنن ابی داؤد4183، سنن النسائی5060، 5062، 5233)
آپ ہی سے مروی ہے، فرمایا:
رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ مُتَرَجِّلًا لَمْ أَرَ قَبْلَهُ، وَلَا بَعْدَهُ أَحَدًا هُوَ أَجْمَلُ مِنْهُ
میں نے رحمتِ کونین ﷺ کی زیارت کی درآنحالیکہ آپ ﷺ سرخ پوشاک زیبِ تن کیے ہوئے تھے اور زلفوں میں مانگ نکالے ہوئے تھے، میں نے آپ ﷺ سے زیادہ خوبصورت نہ تو آپ ﷺ سے پہلے دیکھا اورنہ آپ ﷺ کے بعد۔
( سنن النسائی5314، السنن الکبریٰ للنسائی9561، مسند ابن الجعد2111)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہا:
رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةٍ إِضْحِيَانٍ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهِ وَإِلَى الْقَمَرِ، قَالَ: فَلَهُوَ كَانَ أَحْسَنَ فِي عَيْنِي مِنَ الْقَمَرِ
ایک چاندنی رات میں، میں نے حضورنبی اکرم ﷺ کی زیارت کی اور اُس وقت آپ ﷺ سرخ پوشاک زیبِ تن کئے ہوئے تھے، میں نے آپ ﷺ کی طرف اور چاند کی طرف دیکھنا شروع کیا، پس آپ ﷺ میری نظروں میں چاند سے کئی گنا بڑھ کر حسین تھے۔
( سنن الدارمی58، مسند ابی یعلیٰ7477، جامع ترمذی2811، السنن الکبریٰ للنسائی9562، المعجم الکبیر للطبرانی1842، المستدرک للحاکم7383، شعب الایمان للبیہقی1352) امام حاکم نے اس کو صحیح کہا ور ذہبی نے موافقت کی۔
حضرت ابو عبیدہ بن محمد بن عمار بن یاسر بیان فرماتے ہیں، میں نے حضرت ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہما سے عرض کیا:
صِفِي لَنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا بُنَيَّ لَوْ رَأَيْتَهُ، رَأَيْتَ الشَّمْسَ طَالِعَةً
ہمارے سامنے حضور نبی اکرم ﷺ کے اوصاف مبارکہ بیان کریں، تو اُنہوں نے فرمایا: اے میرے بیٹے! اگر تم اُنہیں دیکھتے تو ایسے دیکھتے جیسے طلوع ہوتے سورج کو دیکھ رہے ہو۔
( سنن الدارمی، 61، الآحاد والمثانی3335، المعجم الکبیر للطبرانی1354، شعب الایمان للبیہقی1354)
حضرت موسیٰ بن عقبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت کعب بن زہیر رضی اللہ عنہ نے اپنے مشہور قصیدے ’’بانت سعاد‘‘ میں حضور نبی اکرم ﷺ کی مسجد نبوی میں مدح کی اور جب وہ اپنے اس شعر پر پہنچے:
بیشک (یہ) رسولِ مکرم ﷺ وہ نور ہیں جس سے روشنی حاصل کی جاتی ہے اور آپ ﷺ (کفر و ظلمت کے علمبرداروں کے خلاف) اللہ تعالیٰ کی تیزدھار تلواروں میں سے ایک عظیم تیغِ آبدار ہیں۔
إِنَّ الرَّسُوْلَ لَنُوْرٌ يُسْتَضَاء بِه
وَصَارِمٌ مِنْ سُيُوْفِ اللهِ مَسْلُوْلُ
رحمتِ کونینﷺ نے اپنے دستِ اقدس سے لوگوں کی طرف اشارہ کیا کہ وہ انہیں (یعنی کعب بن زہیر کو غور سے) سنیں۔
جب کعب بن زہیر نے رحمتِ کونین کے دستِ اقدس پر بیعت کی اور اسلام قبول کیا تو آپ نے یہ اشعار سنائے۔
نُبِّئْتُ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ أَوْعَدَنِي
وَالْعَفْوُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللهِ مَأْمُوْلُ
إِنَّ الرَّسُوْلَ لَنُوْرٌ يُسْتَضَاءُ بِه
مُهَنَّدٌ مِنْ سُيُوْفِ اللهِ مَسْلُوْلُ
مجھے خبر دی گئی کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے وعید سنائی ہے حالانکہ رسول اللہ ﷺ کے ہاں عفو و درگزر کی (زیادہ) اُمید کی جاتی ہے۔‘‘ ’’بیشک (یہ) رسولِ مکرم ﷺ وہ نور ہیں جس سے روشنی حاصل کی جاتی ہے اور آپ ﷺ (کفر و ظلمت کے علمبرداروں کے خلاف) اللہ تعالیٰ کی تیز دھار تلواروں میں سے ایک عظیم تیغِ آبدار ہیں۔‘‘ پس حضور نبی اکرم ﷺ نے (خوش ہو کر) اُنہیں اپنی چادر پہنائی جسے (بعد میں) حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اُن کی اولاد سے مال دے کر خرید لیا اور یہی وہ چادر ہے جسے خلفاء عیدوں پر پہنا کرتے تھے۔
(معجم الصحابہ لابن قانع 929، المعجم الکبیر للطبرانی403، المستدرک للحاکم6477، السنن الکبریٰ للبیہقی21142، سیرۃ ابن ہشام2/ 512، الاصابۃ لابن حجر5/ 444)
حضرت خریم بن اوس بن حارثہ بن لام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضور نبی اکرم ﷺ کے خدمتِ اقدس میں موجود تھے، حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہما نے آپ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کی خدمت میں مدح و نعت پیش کرنا چاہتا ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا: لائیے مجھے سنائیں، اللہ تعالیٰ آپ کے منہ کو سلامت رکھے۔ تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے یہ پڑھا:
وَأَنْتَ لَمَّا وُلِدْتَ أَشْرَقَتِ
الْأَرْضُ وَضَائَتْ بِنُوْرِکَ الْأُفُقُ
فَنَحْنُ فِي الضِّيَاء وَفِي
النُّوْرِ وَسُبُلُ الرَّشَادِ نَخْتَرِقُ
اور (یا رسول اللہ!) آپ وہ ذات ہیں کہ جب آپ کی ولادت ہوئی تو ساری زمین چمک اٹھی اور آپ کے نور سے اُفقِ عالم روشن ہو گیا۔ پس ہم ہیں اور ہدایت کے راستے ہیں اور (یا رسول اللہ!) ہم آپ کی عطا کردہ روشنی اور آپ ہی کے نور میں (ہدایت کی) اِن راہوں پر گامزن ہیں۔
(المعجم الکبیر للطبرانی6147، المستدرک للحاکم5417، استیعاب لابن عبد البر2/ 447، تاریخ دمشق3/ 410، مجمع الزوائد 13831، صفوۃ الصفوۃ لابن الجوزی1/ 23، السیرۃ النبویۃ لابن کثیر1/ 195، الخصائص الکبریٰ للسیوطی1/ 67، السیرۃ الحلبیہ1/ 83، سیر اعلام النبلاء2/ 103)
حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
لَمَّا نَظَرْتُ إِلٰی أَنْوَارِه ﷺ وَضَعْتُ کَفِّي عَلٰی عَيْنِي خَوْفًا مِنْ ذَهَابِ بَصَرِي
میں نے جب حضور ﷺ کے اَنوار کو دیکھا تو اپنی ہتھیلی اپنی آنکھوں پر رکھ لی، اِس خوف سے کہ (رُوئے منوّر کی تابانیوں سے) کہیں میری بینائی نہ چلی جائے۔
(جواهر البحار لنبہانی، 2 /450)
حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے رحمتِ کونین ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں یہ اشعار عرض کیے:
وَأَحْسَنُ مِنْکَ لَمْ تَرَ قَطُّ عَيْنٌ
وَأَجْمَلُ مِنْکَ لَمْ تَلِدِ النِّسَاءُ
خُلِقْتَ مُبَرَّأً مِّنْ کُلِّ عَيْبٍ
کَأَنَّکَ قَدْ خُلِقْتَ کَمَا تَشَاء
(یا رسول اللہ!) آپ سے حسین تر کسی آنکھ نے کبھی دیکھا ہی نہیں اور نہ کبھی کسی ماں نے آپ سے بڑھ کر کوئی حسین جنم ہی دیا ہے۔ آپ ہر عیب سے پاک پیدا کیے گئے ہیں، گویا کہ آپ کو آپ کی خواہش کے مطابق پیدا کیا گیا۔
(دیوان حسان بن ثابت)
امام قرطبی نے فرمایا:
لَمْ يَظْهَرْ لَنَا تَمَامُ حُسْنِه ﷺ، لِأَنَّه لَوْ ظَهَرَ لَنَا تَمَامُ حُسْنِه لَمَا أَطَاقَتْ أَعْيُنُنَا رُؤْيَتَه ﷺ
حضور ﷺ کا حسن و جمال مکمل طور پر ہم پر ظاہر نہیں ہوا اور اگر آپ ﷺ کا تمام حسن و جمال ہم پر ظاہر ہو جاتا تو ہماری آنکھیں حضور ﷺ کے جلوؤں کا نظارہ کرنے کی طاقت نہ رکھتیں (صرف انسانی بصارت کی طاقت کے مطابق آپ کا حسن ظاہر ہوا مکمل ظاہر نہ ہوا)۔
( شرح الزرقانی5/ 241)
امام ابن حجر ہیتمی بیان کرتے ہیں:
وَمَا أَحْسَنَ قَوْلَ بَعْضِهِمْ: لَمْ يَظْهَرْ لَنَا تَمَامُ حُسْنِه ﷺ
بعض ائمہ کا یہ کہنا کہ حضور ﷺ کا تمام حسن و جمال ہم (یعنی مخلوق) پر ظاہر نہیں ہوا نہایت ہی احسن قول ہے۔
(جواهر البحار لنبہانی، 2 /101)
شیخ ابو محمد عبد الجلیل القصری فرماتے ہیں:
حضرت یوسف اور دیگر حسینانِ عالم کا حسن و جمال حضور ﷺ کے حسن و جمال کا ایک جز ہے کیونکہ آپ ﷺ اپنے اسم مبارک کے مصداق پیدا کئے گئے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب حضرت محمد مصطفی ﷺ کے حسن کو ہیبت اور وقار کے پردوں سے نہ ڈھانپا ہوتا اور کفار و مشرکین کو آپ ﷺ کے دیدار سے اندھا نہ کیا گیا ہوتا تو کوئی شخص آپ ﷺ کی طرف اِن دنیاوی اور کمزور آنکھوں سے نہ دیکھ سکتا۔
( مطالع المسرات بشرح دلائل الخیرات)
مولانا اشرف علی تھانوی کہتے ہیں:
میں کہتا ہوں کہ عام لوگوں کا آپ ﷺ پر اُس طور پر عاشق نہ ہونا جیسا حضرت یوسف پر عاشق ہوا کرتے تھے بسبب غیرتِ الٰہی کے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے جمال کو جیسا کہ تھا (وہ پورا) غیروں پر ظاہر نہ کیا، جیسا خود حضرت یوسف کا جمال بھی جس درجہ کا تھا وہ بجز حضرت یعقوب یا زلیخا کے اوروں پر ظاہر نہیں کیا۔
( نشر الطیب)
قاضی عیاض نے اپنی کتاب میں کہا ہے کہ آپﷺ کی خوبیاں اور آپﷺ کے حلیہ مبارک کی تفصیل پر بہت سی احادیث آئی ہیں ، کچھ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپﷺ کے جسم مبارک سے نکلنے والا پسینا بھی بے انتہا خوشبو والا ہوتا تھا اسی لیئے صحابہ کرام گلیوں سے گزرتے ہوے آپﷺ کی خوشبو سے پہچان لیتے تھے کہ آپ یہاں سے تشریف لے گئے ہیں اور یہ خوشبو کوئی لگائی ہوئی خوشبو نہیں بلکہ آپﷺ کے جسم اطہر سے قدرتی اُبھرنے والی بہت ہی اعلیٰ درجے کی خوشبو ہو تی تھی۔ اسی طرح آپﷺ نے اگر کسی صحابی سے ہاتھ ملا لیا تو آپ ﷺ کے ہاتھ چھونے کی وجہ سے ان کے ہاتھوں سے سارا دن خوشبوآتی رہتی۔ آپﷺ کا حلیہ مبارک بے انتہا خوبصورت اور آپﷺ کا جسمِ اطہر پاکیزہ اور خوشبو دار تھا۔ آپﷺ کی موجودگی میں سارا ماحول نور سے چمک اٹھتا۔
(شفا شریف1/149، 150 تا 152)
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں مختلف جگہوں پر آپ ﷺ کا نام اور آپﷺ کی قسم اُٹھائی ،اللہ تعالیٰ نے سورۃ ہجر میں فرمایا :
لعَمْرُكَ إِنَّهُمْ لَفِي سَكْرَتِهِمْ يَعْمَهُونَ
ترجمہ: اے حبیب! آپﷺ کی جان کی قسم! بیشک وہ کافر یقینااپنے نشہ میں بھٹک رہے ہیں ۔
(سورۃ الحجر ، آیت 72)
اس آیت کی وضاحت (تفسیر) یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محمد عربیﷺ کی زندگی کی مدت کی قسم اٹھائی ہے اور اسی طرح یہ بھی کہا گیا ہے کہ جہاں حضور ﷺ کی زندگی کی قسم اٹھائی ہے وہاں آپﷺ کے موجود ہونے کی قسم بھی اٹھائی ہے اور اسی طرح حضرت عبداللہ بن عباس رضہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی بھی چھوٹی یا بڑی چیز ایسی پیدا نہیں فرمائی جو اس کے نزدیک حضرت محمدﷺ سے زیادہ عزت والی ہو اور میں نے نہیں سنا کہ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کے سوا کسی دوسرے کی زندگی کی قسم کھائی ہو ۔
اسی طرح ابو الجوزا رحمتہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی کی زندگی کی قسم نہیں کھائی کیونکہ اللہ تعالیٰ کے قریب آپﷺ ساری مخلوق سے بُلند تر اور بزرگ تر ہیں ۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا :
يس وَالْقُرْآنِ الْحَكِيمِ إِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ
ترجمہ: حکمت والے قرآن کی قسم بےشک تم سیدھی راہ پربھیجے گئے ہو
(سورۃ یٰس، آیت 1-4)
لفظ ‘یٰس ‘ کے بارے میں مفسرین نے مختلف رائے دی ہیں ابو محمد مکی رحمتہ نے بیان کیا ہے کہ اس لفظ سے مراد حضورﷺ ہیں اور آپﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک میرے دس نام ہیں جن میں سے دو ‘طٰحہ’ اور ‘یٰس ‘ ہیں ۔ اسی طرح ابو عبدالرحمٰن سلمٰی رحمتہ جن کی وفات 73 ھ میں ہوئی ، انہوں نے حضرت امام جعفر صادق رضہ سے حکایت کی ہے کہ لفظ ‘یٰس’ کا مطلب ہے کہ نبی اکرمﷺ کو ‘یاسید’ کہہ کر پکارا گیا ۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضہ نے فرمایا ہے کہ اس لفظ کے زریعے سے محمد ﷺ سے یہ کہا گیا ہے کہ اے ‘انسان کامل’ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ قسم ہے اور اللہ تعالیٰ کے اسماء حسُنہ میں سے ایک ہے ۔ اسی طرح کچھ اور بزرگوں سے یہ روایت ہے کہ اس سے ‘یا محمد’ مراد ہے اور بعض نے اس کامطلب انسان کامل یا سب سے اعلیٰ اور مکمل انسان بتایا ہے۔
حضرت امام محمدبن حنفیہ رضہ سے روایت ہے کہ ‘یٰس’ کا معنی ‘یامحمد’ ہے اسی طرح کعب احباررضہ سے روایت ہے کہ لفظ ‘یٰس’ قسم ہے اس کے زریعے اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی پیدائش سے بھی ہزاروں سال پہلے قسم کھائی تھی کہ محمدﷺ بے شک تم مُرسلین میں سے ہو اور اس کے بعد فرمایا کہ حکمت والے قران کی قسم تم ضرور انبیاءاور مُرسلین کے گروہ میں سے ہو ۔ اس ساری بات چیت سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ لفظ ‘یٰس’ کہہ کر اللہ تعالیٰ آپﷺ کی تعظیم و تکریم فرما رہاہے یا آپﷺ کو ‘سید’ پکار رہا ہے ، آپﷺ کو انسان کامل کہہ رہا ہے اور یہ گواہی دے رہا ہے کہ آپ ﷺ اللہ کے انبیاءو مُرسلین میں سے ہیں ۔ نقا ش رحمتہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کے علاوہ کسی نبی کی رسالت پر اپنی کتاب میں قسم نہیں کھائی اور اسی وجہ سے حضورﷺ کی بے حد تعظیم و تکریم ثابت ہوتی ہے ۔ اسی طرح حضورﷺ کی حدیث مبارکہ ہے کہ آپ ﷺ نے خود فرمایا ہے کہ میں حضرت آدم علیہ کی ساری اولاد کا سردار ہوں اور میں یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہتا۔
قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللهُ وَیَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَ اللهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ
(اے حبیب!) آپ فرما دیں: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو تب اللہ تمہیں (اپنا) محبوب بنا لے گا اور تمہارے لیے تمہارے گناہ معاف فرما دے گا، اور اللہ نہایت بخشنے والا مہربان ہے۔
(آل عمران، 3: 31)
حضور رحمتِ کونینﷺ کی محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ ایک مومن کے دل میں آپ ﷺ کی محبت کا معیار اور پیمانہ کیا ہونا چاہیے؟ اس امر کو امام الانبیاءﷺ نے خود اپنے فرمان کی روشنی میں واضح فرمادیا ہے۔
سیدنا حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ (وفات ۹۳ھ) سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺنے فرمایا:
لاَ یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتَّی اَکُونَ اَحَبَّ اِلَیْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِینَ.
تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا، جب تک میں اسے اس کے والدین، اولاد اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہو جاؤں۔
(صحیح البخاری15)
یعنی والدین، اولاد، میاں بیوی، بھائیوں، بہنوں، عزیز و اقارب، دوست احباب، خونی رشتوں، خاندانوں، مناصب اور دنیا کی کسی بھی شے کی محبت جو انسان کے دل کو مرغوب اور محبوب ہوتی ہے، جس کی طلب، رغبت اور محبت کی طرف انسان کا میلان اور جھکاؤ ہوتا ہے، ان سارے میلانات اور رجحانات سے بڑھ کر حضورﷺ سے محبت کرنا ایمان ہے۔ گویا جب تک کسی مسلمان کے دل میں کائنات اور عالمِ خلق کی ساری محبتوں سے بڑھ کر رحمتِ کونینﷺ کی محبت نہ ہو تو وہ مومن نہیں ہوسکتا۔
سیدنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (وفات ۵۷ھ) کی روایت میں ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا:
وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لاَ يُؤْمِنُ اَحَدُكُمْ حَتَّى اَكُونَ اَحَبَّ اِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم میں سے کوئی ایک شخص بھی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کے ہاں میں اس کے ماں باپ اور اولاد سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔
(صحیح البخاری14)
سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے جب یہ فرمان سنا تو اآپﷺ کی بار گاہ میں عرض کرنے لگے:
یَا رَسُوْلَ اللهِ لَاَنْتَ اَحَبُّ اِلَيَّ مِنْ کُلِّ شَيئٍ اِلاَّ مِنْ نَفْسِي.
یا رسول اللہ! آپ مجھے اپنی جان کے سوا ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں۔
(صحیح البخاری6257)
یعنی یقیناً کائنات کی ہر شے سے بڑھ کر آپ ﷺ مجھے محبوب ہیں اور آپ ﷺ کی محبت ساری محبتوں کے مجموعے سے بھی بڑھ گئی ہے مگر میری محبت جو مجھے اپنی جان سے ہے، وہ مجھے آپ ﷺ کی محبت سے زیادہ لگتی ہے اور اپنی جان کے ساتھ میری محبت ابھی تک زیادہ اور مضبوط ہے۔
رحمتِ عالمﷺنے حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ کی بات سُن کر ارشاد فرمایا:
لاَ وَالَّذِي نَفْسِي بِیَدِهِ، حَتَّی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْکَ مِنْ نَفْسِکَ.
نہیں،قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! جب تک میں تمہیں اپنی جان سے بھی محبوب تر نہ ہو جائوں (تم اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے)۔
سیدنا عمر نے عرض کیا
فَاِنَّهُ الآنَ وَ اللهِ لَاَنْتَ اَحَبُّ اِلَيَّ مِنْ نَفْسِي.
یارسول اللہ! اب آپ کی محبت میرے اندر میری جان، میرے نفس اور میری زندگی کی محبت سے بھی بڑھ گئی ہے۔
یہ سن کر ارحمتِ کونینﷺ نے فرمایا:
الآنَ یَا عُمَرُ.
اے عمر! اب تمہارا ایمان کامل ہوا ہے۔
گویا ایمان اور دین کی تکمیل اس وقت ہوتی ہے جب ساری محبتیں رسول اللہﷺ کی محبت کے مقابلے میں مغلوب ہوجائیں اور نبی کریمﷺ کی محبت ہر ایک محبت پر غالب آجائے۔
(مسند احمد 18047، 18961، 22503،صحیح البخاری 6632، المستدرک للحاکم 5922، الشفاء2/ 44)
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہﷺسے ایک صحابی نے سوال کیا: اے اللہ کے رسول قیامت کب قائم ہوگی؟
رحمتِ کونینﷺنے فرمایا:
تم نے قیامت کے لیے تیاری کیا کی ہے؟ انہوں نے انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسولﷺسے محبت کے علاوہ کچھ بھی نہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :
اَنْتَ مَعَ مَنْ اَحْبَبْتَ
پھر تمہارا حشر بھی انہیں کے ساتھ ہو گا جن سے تم محبت کرتے ہو۔
انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہمیں کبھی اتنی خوشی کسی بات سے بھی نہیں ہوئی جتنی آپﷺ کی یہ حدیث سن کر ہوئی کہ:
پھر تمہارا حشر بھی انہیں کے ساتھ ہو گا جن سے تم محبت کرتے ہو۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں بھی رسول اللہﷺسے اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے محبت رکھتا ہوں اور ان سے اپنی اس محبت کی وجہ سے امید رکھتا ہوں کہ میرا حشر انہیں کے ساتھ ہو گا، اگرچہ میں ان جیسے عمل نہ کر سکا۔
( مسند احمد 12823، 13047، 13092، 13167، 13387، صحیح البخاری 3688، الادب المفرد 352 ، جامع ترمذی 2385)
رحمتِ کونینﷺنے ایمان کی مٹھاس پانے والے لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
اَنْ يَكُونَ اللهُ وَرَسُولُهُ اَحَبَّ اِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا
اللہ اور اس کا رسولﷺ سب سے زیادہ محبوب ہوں۔
( صحیح البخاری16)
رحمتِ کونینﷺنے حضرت معاذ بن جبل کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: اے معاذ! حضرت معاذ نے جواباً عرض کیا: ” لَبَّيْكَ “یا رسول اللہ میں حاضر ہوں۔۔
رحمت کونینﷺؤنے فرمایا: اے معاذ میں تم سے محبت کرتا ہوں۔
حضرت معاذ نے کہا: اللہ جل وعلا کی قسم ! اے اللہ کے رسول میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں۔
( الادب المفرد 690)
حضورﷺ کے آداب و اخلاق کی جتنی بھی خوبیاں بیان کی جائیں وہ کم ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے قران پاک میں آپﷺ کے اعلیٰ اخلاق کا ذکر کیا۔اوراسی طرح بہت ساری احادیث ہیں جن میں حضور ﷺ کے اخلاق کا ذکر ہے۔حضرت امام حسن رضہ کو یہ بہت شوق تھا کہ وہ حضور ﷺ کے فضائل اور آپﷺ کی خصوصیات حضرت ابن ہالہ رضہ سے سنیں کیونکہ وہ حضور ﷺ کے فضائل کوبہت زیادہ بیان فرمایا کرتے تھیں۔
حضرت اما م حسن رضہ نے حضرت ھند ابن ابی ہالہ رضہ سے یہ روایت فرمائی کہ حضورﷺ کا جسمِ اطہر بھرا ہوا تھا ، اور آپﷺ کا چہرہ انور ایسے چمکتا تھا جیسے چودہویں رات کا چاند ہوتا ہے ۔ آپﷺ درمیانے قد والوں سے بلند محسوس ہوتے تھے ۔ اور جو لمبے قد والے لوگ تھے ان کے سامنے آپﷺ کاقد تھوڑا کم محسوس ہوتا تھا ۔ اور آپ ﷺکا سراقدس بڑا تھا اور بالوں میں ہلکہ سا شکم تھا، یعنی کچھ گھنگریالے تھے لیکن کنگی کرنے سے سیدھے ہو جاتے آپﷺ کے بال کانوں کی لو سے آگے نہیں بڑھتے تھے اور آپﷺ کا رنگ چمکدار تھا ۔ آپ کی پیشانی کشادہ تھی ۔ آپﷺ کی بھنویں باریک اور لمبی تھی اور ایک دوسرے سے جڑی ہوئی نہ تھی۔ لیکن ان کے درمیان ایک رگ تھی جوکہ غصے کے وقت ابھر آتی تھی اور اسی طرح آپ ﷺ کی ناک نورانی اور بلند تھی اور جس نے غور سے نہ دیکھا ہوتا تو وہ اس کو باریک اور لمبی سمجھتا ۔ اور اسی طرح آپﷺ کی جو داڑھی مبارکہ تھی وہ بھاری تھی ، آپﷺ کی آنکھیں مبارک گہری سیاہ تھی اور ان میں ہلکی سی سرخی تھی اور آپﷺ کے رخساریعنی گال صاف شفاف اور آپﷺ کا منہ مبارک متناسب تھا اور آپﷺ کا چہرہ انور بہت خوبصورت تھا اور آپﷺکے دانت مبارک سفید ، چمکتے ہوئے اور خوبصورت تھے اور سامنے ان میں کچھ وقفہ بھی تھا۔ آپﷺ کے سینہ پر بالوں کی باریک سی دھاری تھی اور آپ ﷺ کی گردن خوبصورت جیسے کہ چاندی کی بنی ہو ۔ اور آپﷺ کا جسم اطہر مضبوط تھا اور آپﷺ کا سینہ مبارک اور پیٹ سامنے سے برابر تھا اور آپﷺکے دونوں کندھوں کے درمیان کافی فاصلہ تھا یعنی آپﷺ کےکندھے کافی چوڑے تھے ، اور آپﷺ کے بال مبارک گھنے تھے ۔
آپﷺ کے باقی جسم پر بال کم تھے مگر آپ ﷺ کے بازوؤں اور کندھوں پر کچھ بال تھے۔ آپﷺ کا سینہ چوڑا اور بلند تھا ۔ آپﷺ کی کلائی بڑی اور ہاتھ کشادہ تھے ۔ ہاتھ اور پیروں کی انگلیاں لمبی اور پُر گوشت تھیں۔ اور آپ ﷺ کے پاوں درمیان سے ابھرے ہوئے تھے جو زمین سے اٹھے ہوئے رہتے تھے ، آپﷺ کے پاؤں صاف اور نرم تھے ۔ ان کے اوپر پانی نہیں ٹھہرتا تھا ۔ آپﷺزمین سے اٹھتے تو پوری قوت کے ساتھ اور چلتے وقت آگے کی جانب تھوڑا سا جھکاو ٔرکھتے تھے ۔آپﷺ جب چلتے تو تیز چلتےتھے مگر لگتا یوں تھا کہ بہت آرام سے چل رہے ہوں اور ایسے محسوس ہوتا کہ جیسے آگے کی طرف جھکے ہوئے ہوں ۔
آپﷺ کے اس حلیہ مبارک کے ساتھ ساتھ آپﷺ کی عادات کا ہم یہاں ذکر کرتے چلیں کہ جب آپﷺ کسی کی طرف توجہ فرماتے تو پوری طرح سے اس پر توجہ کرتے اور آپﷺ نگاہیں نیچی رکھتے اور آپﷺ کی نظر آسمان کی جانب سے زیادہ زمین کی طرف رہتی ، اور آپ ﷺ کا کسی کی طرف دیکھنا یا ملاحظہ فرمانا ایک جھلک کی مانند ہوتا اور آپ ﷺ صحابہ کرام کے پیچھے چلتے اور جو بھی ملتا پہلے اسے خود سلام فرماتے ۔ بے شک حضور ﷺ اپنی خوبصورتی اور اپنے اخلاق میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور عنایت کا مکمل نمونہ تھے ۔
حضرت امام حسن رضہ نے حضرت ابن ابی ہالہ رضہ سے پوچھا کہ حضورﷺ کے بات چیت کی خوبیاں بتا ئیں تو حضرت ابن ابی ہالہ رضہ نے کہاکہ حضورﷺ عموماً غمگین اور متفکر نظر آتے ۔ آپﷺ کو آرام اور راحت سے کوئی واسطہ نہیں تھا اس لئے ضرورت کے بغیر آپﷺ کسی سے بات چیت نہ فرماتے اور زیادہ تر خاموش ہی رہتے ۔ آپ ﷺ جب بات شروع کرتے تو اس کے شروع اور ختم کرتے وقت بات کی وضاحت زیادہ فرماتے اور آپﷺ جب بات کرتے تو جامع کلمات کے ساتھ ، یہاں جامع کلمات کا مطلب یہ ہے کہ بات میں الفاظ کم ہوتے مگر ان کے معنی بہت زیادہ ہوتے ،آپ ﷺ جامع کلمات کے ساتھ تفصیل سے کلام فرماتے لیکن گفتگو میں ضرورت سے زیادہ ایک لفظ بھی نہ ہوتا اور کمال یہ کہ آپﷺ کی گفتگو کے بعد اس میں کسی قسم کے لفظ کی کوئی ضرورت نہ رہ جاتی۔ سبحان اللہ۔
حضور ﷺ اپنی طبیعت میں سخت نہیں تھے بلکہ آپﷺ طبیعت کے نرم تھےاور کسی کو بھی آپﷺکم تر نہیں سمجھتے تھے اور جو بھی نعمت ہوتی اس کی قدر کرتے چاہے وہ تھوڑی سی ہی کیوں نہ ہوتی۔ اور آپﷺ کسی بھی چیز کی برائی کرنے سے ہمیشہ بچتے ۔ کھانے پینے کی چیزوں کی بہت زیادہ تعریف نہ کرتے کیونکہ یہ لالچ کی نشانی ہے لیکن ان کی برائی بھی نہ کرتے اور اگر کوئی اللہ تعالیٰ کے حقوق سے متصادم ہوتا یا اللہ تعالیٰ کے حقوق کو پورا نہ کرتا تو آپﷺ کا غصہ اس وقت تک دور نہ ہوتا جب تک کہ آپﷺ اس سے انتقام نہ لے لیتے لیکن اپنی ذات کے لئے آپﷺ کبھی غصے میں نہیں آئے۔
( شفا شریف1/ 304 تا 308)
آپﷺ کی زندگی سے واضح ہے کہ کفار نے آپﷺ پر بہت سی مشکلات ڈالیں ۔کہیں آپﷺ کے راستے میں کانٹے بچھائے اورکہیں آپﷺ پر غلاظتیں پھینکیں ، لیکن رحمت کائنات ﷺ نے کبھی ان پر غصہ نہ فرمایا اور ان چیزوں کا انتقام نہ لیا۔اگر حقوق اللہ کا معاملہ ہوتا تو آپﷺ بالکل بھی معاف نہ کرتے ۔آپ ﷺ کا غصہ اس وقت تک ختم نہ ہوتا جب تک کہ اس بُرائی کو ختم نہ کردیا جائے یا اس کا انتقام نہ لے لیاجائے۔
آپﷺ جب اشارہ فرماتے تو پوری ہتھیلی سے فرماتے اور جب آپ ﷺ کسی چیز پر حیرت زدہ ہوتے تو اپنی ہتھیلی کو اوپر نیچے کرتے اور جب آپﷺ بات کرتے تو دائیں انگوٹھے کو بائیں ہتھیلی پر کبھی مارتے اور جب آپﷺ ناراض ہوتے تو اپنے چہرہ انور کو پھیر لیتے ۔ آپﷺ کا ہنسنا صرف مسکرانے کی حد تک تھا ۔ جب آپﷺ بات فرماتے تو ایسا لگتا جیسے اللہ تعالی ٰ کی رحمتوں کا نزول ہو رہا ہو ۔ حضرت امام حسن رضہ فرماتے ہیں کہ جب میں نے سرور کائنات محمد ﷺ کا حلیہ مبارک کچھ عرصہ اپنے پاس رکھنے کے بعد اپنے بھائی حضرت اما م حسین رضہ سے بیان کیا تو پتہ چلا کہ وہ تو پہلے سے ہی سب جانتے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے والد محترم حضرت علی المرتضیٰ رضہ سے حضور ﷺ کے گھر میں تشریف لانے اور لے جانے ، آپﷺ کے لباس ، آپﷺ کے بیٹھنے او ر آپﷺ کی شکل و صورت کے بارے میں بات چیت کی تھی اور ہر تفصیل ان سے جان لی تھی ۔
حضرت امام حسین رضہ سے یہ روایت ہے کہ آپ نے اپنے والد محترم حضرت علی المرتضیٰ رضہ سے پوچھا کہ حضور ﷺ اپنے گھر میں کس طرح تشریف لایا کرتے تھے تو انہوں نے بتایا کہ حضور ﷺ کا اپنے گھر میں میں تشریف لانا آپﷺ کی مرضی پر منحصر ہوتا جتنا وقت وہاں رکنا چاہتے اس کے تین حصے کر لیتے ایک حصہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے دوسرا حصہ اپنے اہل و عیال کے لئے اور تیسرا حصہ اپنی ذات کے لئے۔اور یہ تیسرا حصہ جو اپنی ذات کے لئے رکھا تھا اس کو بھی اپنے اور لوگوں کے درمیان تقسیم کیا ہوتا تھا اور عام لوگوں پر خاص کو ترجیح دیتے لیکن روکتے نہ تھے اور امت کے حق میں آپﷺ کی یہ عادت تھی کہ آپﷺ فضیلت و علم والوں کو ترجیح دیتے تھے اور دین میں فضیلت کے لحاظ سے جس کی جو ضرورت ہوتی وہ تقسیم فرماتے یعنی ان لوگوں کی ضروریات ان کی عقل کے مطابق ان کو عطا فرماتے او ر ان میں سے کچھ کی یہ حاجت ہوتی کہ انہیں ایک چیز سمجھائی جائے ، کچھ کی دو اور کچھ کی ایسی حاجت ہوتی کہ بہت کچھ آپﷺ سے سننا اور سمجھنا چاہتے ۔ آپﷺ ان کے ساتھ گفتگو میں مشغول ہو جاتے لیکن آپ ﷺ کا ان کے ساتھ گفتگو میں مشغول ہونا ان سب کی تسکین اور ان کے دل رکھنے کے لئے ہوتا اور آپﷺ لوگوں کے حالات پوچھتے اور جسے ضرورت ہوتی آپ ﷺ اُس کو مشورہ بھی عطا فرمادیتے۔
آپﷺ یہ کہتے کہ حاضرین کو چاہیے کہ ہماری یہ باتیں ان لوگوں تک بھی پہنچا دیں جو یہاں موجود نہیں ۔ اور آپﷺ یہ فرماتے کہ جو لوگ اپنی ضروریات ہماری بارگاہ میں پہنچانے سے مجبور ہوں تو دوسروں کو چاہیے ایسے لوگوں کے مسائل اور ان کے سوالات ہم تک پہنچائیں کیونکہ جو بھی کسی ضرورت مند کی حاجت بادشاہ یا اعلیٰ حکام تک پہنچاتا ہے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اسے ثابت قدم رکھے گا ۔
( شفا شریف1/ 309)
یہ آپﷺ کے بارگاہ رسالت کے آداب تھے کہ آپﷺ کے سامنے ضروری باتوں کے سوا اور کسی بات کا ذکر نہ ہوتا اور نہ آپﷺ کسی غیر ضروری بات کو پسند فرماتے ۔سبحان اللہ ۔
حضرت سفیان بن وکیعرضہ سے روایت ہے کہ لوگ حضور ﷺ کی بارگاہ میں خالی ہاتھ حاضر ہوتے اور علم کی دولت سے مالا مال ہوجاتے کہ فقیہ بن جاتے یعنی علم کے مطابق دوسروں کو اُن کے مسائل کے بارے میں فیصلے اور مشورے دینے کے قابل ہوجاتے۔ سبحان اللہ ۔ اور حضرت امام حسین رضہ فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ اپنے گھر سے باہر آپ ﷺ کی حالت کیا ہوتی تھی تو آپ رضہ نے فرمایا کہ حضور ﷺ بغیر ضرورت کے بات چیت نہ فرماتے تھے۔ آپﷺ لوگوں کو آپس میں ملانے کی کوشش کرتے اور ان کو متفرق یعنی الگ نہ ہونے دیتے اورہر قوم کے سردار کی عزت کرتے اور اگر کسی کو والی یا گورنر بنانا ہوتا تو اس قوم کے سردار کو ہی واپس ان پر گورنر بناتے ، عام لوگوں سے الگ رہتے لیکن اِس طرح نہیں کہ بالکل تعلق ختم کردیں ۔ آپﷺ اچھے کاموں پر حوصلہ افزائی فرماتے اور برے کاموں کو ناپسند فرماتے ۔ آپﷺ کے معاملات میں اعتدال تھا یعنی آپ ﷺ نے ہمیشہ میانہ روی (درمیان کاراستہ)کی تعلیم دی اور اپنے عمل سے بھی یہی ثابت کیا کہ آپﷺنے ہمیشہ اپنے اعمال میں درمیانہ راستہ چُنا۔ آپﷺ نے اپنی ایک بات کو اپنے عمل سے اور اپنے عمل سے اپنی بات کو کبھی نفی نہیں کیا یعنی آپﷺ نے جو کہا اُس کے مطابق کام کیا ۔ آپ ﷺ غفلت او ر سستی کو اپنے قریب بھی نہیں بھٹکنے دیتے تھے تاکہ آپ ﷺ کو دیکھ کر دوسرے لوگ بھی غافل اور سست نہ بن جائیں ۔ آپﷺ ہر کام میں میانہ روی یعنی درمیانی راستہ اختیار کرتے کسی کے حق میں نہ کمی فرماتے اور نہ ہی غیر مستحق کو زیادہ کرنے دیتے یعنی ہر کسی کو اس کے حق کے مطابق لے کر چلتے اور آپﷺ کا طریقہ یہ تھا کہ جو حضرات آپﷺ کا جس قدر قُرب حاصل کرلیتے وہ اسی قدر دوسروں سےبہتر اور افضل شمار ہوتے ۔ لوگوں کے ساتھ جو حسن سلوک کرتے انہیں آپ ﷺ کی بارگاہ میں عظیم شمار کیا جاتا ۔
پھر انہوں نے آپ ﷺ کی مجلس کے بارے میں پوچھا تو فرمایا کہ حضورﷺ اٹھتے بیٹھتے ذکر الہیٰ میں مشغول رہتے تھے اور آپﷺ اپنے بیٹھنے کے لیے کوئی جگہ معیّن نہیں فرماتے تھے یعنی ایسا نہیں تھا کہ کوئی خاص جگہ آپﷺ کے لئے محفوظ کر کے رکھی جائے ، اور دوسرے کو بھی کوئی خاص جگہ معیّن کرنے سے منع فرماتے تھے ۔ یعنی جیسے آج کل انسان یہ چاہتاہے کہ اس کے لیے کوئی خاص نشست ہو جس پر کسی دوسرے کو بیٹھنے کی اجازت نہ ہو لیکن حضورﷺ نے اپنے عمل اور اپنی تلقین اور اپنی تربیت سے صحابہ کرام رضہ کو یہ بتایا کوئی خاص جگہ اپنے لئے معیّن نہ کرو ۔ آپﷺ جب کسی قوم کی مجلس میں تشریف لے جاتے تو جا کر اس مجلس کے آخر میں بیٹھ جاتے اور دوسروں کو بھی ایسا کرنے کی تلقین فرماتے مقصد یہ کہ جب کسی مجلس میں پہنچیں تو جہاں جگہ ملے وہاں بیٹھ جائیں۔ آپﷺکا یہ طریقہ تھا کہ جو کوئی آپﷺ کے ساتھ بیٹھے ان کو آپﷺ اعلیٰ اور اونچے مرتبے سے نوازتے تھے جس کے باعث جو بھی آپﷺ کے قریب ہوتا وہ یہ سمجھتا کہ حضورﷺکی خصوصی نظرکرم صرف اسی پر ہے ۔ یہ آپﷺ کا طریقہ تھا کہ ہر شخص اپنی جگہ پر خوش ہے کہ آپﷺ نے اس کو کتنی زیادہ توجہ عطا فرمائی ہے اور یہ آپﷺ کی اپنی مجلس کے تمام لوگوں پر خصوصی مہربانی تھی ۔ جو شخص حضور ﷺ کی بارگاہِ رسالت میں کسی ضرورت کے تحت حاضر ہوتا تو جب تک وہ فارغ ہو کر چلا نہ جاتا آپﷺ اس کے پاس ہی تشریف رکھتے ۔ اور جس نے بھی آپﷺ کی خدمت میں کسی بھی طرح کی کوئی حاجت پیش کی آپﷺ نے اس کی حاجت ضرور پوری فرمائی ۔ اور اگر کسی وجہ سے پوری کرنے کے قابل نہ ہوتی تو سمجھا کر اسے مطمئن فرما دیتے
آپﷺ کے حُسن سلوک کا دائرہ لوگوں کے درمیان بہت وسیع تھا اور آپﷺ سب لوگوں کے لئے ایک مہربان باپ کی طرح تھے ۔ آپ ﷺ کے نزدیک حقوق کے لحاظ سے سب برابر تھے مگر تقویٰ کے لحاظ سے ایک کو دوسرے پر فضیلت حاصل تھی ۔
اسی طرح ایک دوسری روایت میں یہ ہے کہ آپﷺ کے نزدیک لوگوں کے حقوق برابر تھے اور آپﷺ کی مجلس حیاء ، صبر اور امانت کی مجلس ہو ا کرتی تھی اس میں نہ تو کوئی آوازبلند کرتا اور نہ ہی کسی کی برائی کی جاتی اور نہ ہی کسی کا منہ دیکھ کر گفتگو کی جاتی ۔ اور یہ بھی روایات میں ہے کہ صحابہ کرام آپﷺ کی مجلس میں تقویٰ کے لحاظ سے ایک دوسرے سے محبت کرتے اور ایک دوسرے کے ساتھ اچھائی سے پیش آتے ۔ بڑوں کی عزت کرتے اور چھوٹوں کے ساتھ شفقت سے پیش آتے ۔ غریبوں کی حاجت روائی کرتے اور مسافروں کی حالت پر ترس کھایا کرتے ۔ آپﷺ کی مجلس ، بات چیت اور لوگوں کے ساتھ ملنا جُلنا سب رحمت ہی رحمت تھا۔
( شفا شریف1/ 310، 312)
حضرت امام حسن رضہ نے آپ ﷺ کے ساتھیوں کے ساتھ آپﷺ کی سیرت کے بارے میں سوال کیا تو اس پر حضرت اما م حسن رضہ کو بتایا گیا کہ رسول اللہ ﷺ طبیعت کے خوش مزاج اور انتہائی نرمی کا برتاو کرنے والے اور دوسروں کے ساتھ اچھی طرح پیش آنے والے تھے۔ آپﷺ سخت مزاج اور بدتمیز بالکل بھی نہ تھے ۔ آپﷺ بازاروں میں نہ تو آواز بلند کرتے اور نہ ہی اپنی زبان مبارکہ سے کوئی گندی بات کرتے۔ نہ ہی کسی پر کوئی عیب لگاتے اور نہ ہی کبھی کسی سےایسا مذاق کرتے جو کہ آدب کے مقام سے اس کو غافل کردے ، اور نہ ہی کسی کے ساتھ ایسا مذاق کرتے کہ کسی کو پسند نہ آئے ۔ آپﷺ کبھی مایوس نہ ہوئے۔ تین چیزیں آپﷺ کی سیرت مبارکہ میں غائب تھیں یعنی آپﷺ کی زندگی میں نہیں تھیں، ان میں سے ایک “ریاکاری” یعنی کہ دکھاوا۔ آپﷺ کی زندگی میں تھا ہی نہیں۔
دوسرا “بے کار گفتگو” یعنی آپﷺ نے کبھی کوئی بے کار یا بے معنی گفتگو نہیں فرمائی۔اور تیسرا “غیر مفید کام” یعنی آپﷺ نے کبھی کوئی ایسا کام نہیں کیا جس سے دین و دنیا کا کوئی فائدہ مقصود نہ ہو۔ حضورﷺ لوگوں کو تین باتوں سے بچنے کی تلقین فرماتے ایک یہ کہ لوگوں کی کسی برائی کے بارے میں سنیں تو اس کو بیان کرنے سے منع فرماتے تھے ۔ دوسرا کسی کی پردہ داری کرنے سے یعنی اگر کسی کی چھپی ہوئی کوئی بُری بات پتا ہو تو اُسے دوسروں کو نہ بتایا جائے۔ آپ ﷺ ایسی بات چیت کرنے سے منع فرماتے تھے جس میں ثواب کی امید نہ ہو ۔
آپﷺ جب اپنی زبان سے کچھ ارشاد فرماتے تو صحابہ کرام رضہ اپنے سر وں کو اس طرح سے جھکالیاکرتے تھے جیسے کہ ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں ۔ اور جب آپﷺ خاموش ہوتے تو صحابہ کرام رضہ آپس میں بھی گفتگو کر لیا کرتے ۔ لیکن وہ آپس میں کسی بات پر جھگڑتے نہیں تھے ۔ اور جو شخص حضورﷺکی بارگاہ میں عرض گزار ہوتا تو آپﷺ اُس کی درخواست پوری توجہ سے سنتے۔ اور اس دوران آپﷺ خاموش رہتے یہاں تک کہ درخواست گزار اپنی بات ختم کرلے۔ اسی طرح جب کوئی بات چیت شروع ہوتی تو اس کی ابتداء آپﷺ خود کرتے۔ آپﷺ اگر مسکراتے تو مجلس میں بیٹھے صحابہ کرام بھی کھل اُٹھتے۔
حدیث شریف سے یہ واضح ہے کہ حضورﷺ کا ہنسنا محض مسکرانے تک محدود تھا اور اسی طرح اگر آپﷺکسی بات پر تعجب کا اظہار فرماتے تو صحابہ کرام بھی تعجب کرتے۔ آپﷺ کے پاس اگر کوئی اجنبی شخص آجاتا جو صحابہ کرام میں سے نہ ہوتا اور جس کو لوگ نہیں جانتے تھے اورجو آپﷺ کو نہیں جانتا اورآپﷺ سے سختی سے بات کر تا یا بدتمیزی سے بات کر تا تو آپﷺ اس پر صبر فرماتے ۔ اس پر بہت سارے واقعات ہیں جن میں کہ کبھی بدو یا کوئی دور سے آئے لوگ جو آپﷺ کو جانتے نہ تھے، انہوں نے آپﷺ کے ساتھ بدتمیزی سے کلام کیا تو آپﷺ نے صبر فرمایا ۔
آپﷺ نے عام حکم دیا ہوا تھا کہ جب کسی ضرورت مند کو دیکھو تو اس کی ضرورت پوری کرنے کی کوشش کرو۔ آپﷺ غیر ضروری تعریف کو قبول نہ فرماتے اور نہ ہی کسی کی بات چیت کو کاٹتے۔اور اگر کوئی تجاوز کرتا یعنی بات چیت میں زیادتی کرتا یا تعریف میں زیادتی کی کوشش کرتا تو اسے روک دیتے اور وہاں سے اٹھ کھڑے ہوتے ۔
ایک اور روایت میں حضرت امام حسنؓ نے دریافت کیا کہ حضور ﷺ کے خاموش رہنے کی کیا کیفیت ہوتی تھی؟ تو جواب ملا کہ آپ ﷺ کی خاموشی کی چار وجوہات ہوتی تھیں: حلم، احتیاط، اندازہ اور تفکر۔
آپﷺ کا اندازہ اس وجہ سے تھا کہ سب پر نظر رہے اور ہر ایک کی بات پوری توجہ سے سن سکیں۔ آپﷺ کا تفکر یعنی آپﷺ کی فکر یا آپﷺ کی سوچ فنا ہونے والی چیزوں اور باقی رہنے والی چیزوں کی حقیقت کو جاننے کی وجہ سے تھی ۔ حضورﷺ کا حلم یہ تھا کہ آپﷺ کا طریقہ کار صبر کے ساتھ تھا، حتّیٰ کہ آپ ﷺ کی برُائی بھی کر دی جاتی یا آپﷺ کی شان کو نعوذباللہ گھٹانے کی کوشش بھی کی جاتی تو آپﷺ غصہ میں نہ آتے ۔ آپ ﷺ کے اندازہ فرمانے میں بھی یہ چار خوبیاں نمایاں تھی کہ نیک باتیں اختیار کرنا تاکہ لوگ ان میں آپﷺ کی پیروی کریں ، آپﷺ کے پیچھے چلیں ، بری باتوں سے دور رہیں ، تاکہ لوگ برُائی سے بچ سکیں اور اس چیز کی کوشش کرنا جس کا اُمت کو فائدہ ہو اور ان اچھی چیزوں کا اختیار کرنا جو اُمت کے لئے دنیا اور آخرت میں مفید ہوں۔
( شفا شریف1/ 314)
ایسی چیزیں جو انسان کو کسی ردعمل پر مجبور کریں ان کے مقابلے میں باوقار رہنا اور اپنے نفس کو قابو میں رکھنے کا نام حِلم ہے ۔ مشکل اور تکلیف کے وقت خود کو مطمئن رکھنا صبر کہلائے گا اور جب کوئی تکلیف پہنچے اور تکلیف دینے والے کے ساتھ بدلہ نہ لیا جائے تو اسے عفوّودرگزر یعنی معاف کرنا کہیں گے ۔ اور یہ خوبیاں آپﷺ کی زندگی میں ہر طرف نظر آئیں گی ۔ اللہ تعالیٰ نے قران پاک میں ارشاد فرمایا:
خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ
اے محبوب! معاف کرنا اختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ پھیر لو۔
( سورۃ الاعراف ،آیت 199)
روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں اللہ تعالی ٰ سے عرض کر کہ دریافت کروں گا ،دوبارہ جب وہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ جو آپ سے تعلقات توڑے تو اسے سینے سے لگائیے اور جو محروم رکھے اسے عطا فرمائیےاور جو ظلم کرے اسے معاف کردیجیے۔
( مکارم الاخلاق لابن ابی الدنیا25، جامع البیان للطبری13/ 330، شفا شریف1/ 220)
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے یہ حکم بھی دیا:
وَاصْبِرْ عَلى ما أَصابَكَ إِنَّ ذلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُو
اور جو مشکلات آپ پر پڑیں ان پر صبر کریں اور بے شک یہ ہمت کے کام ہیں۔
( سورۃ لقمان ،آیت 17)
سورۃ الاحقاف میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ
تو تم صبر کرو جیسا ہمت والے رسولوں نے کیا۔
(سورۃ الاحقاف ، آیت 35)
سورۃ النور میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَلْيَعْفُوْا وَلْيَصْفَحُوْ
اور چاہیے کہ معاف کردیں اور چاہیے کہ درگزر کردیں۔
(سورۃ النور، آیت، 22)
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے سورۃ الشوُری ٰمیں فرمایا:
وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ
اور بےشک جس نے صبر کیا اور بخش دیا تو یہ ضرور ہمّت کے کام ہیں
(سورۃ الشوریٰ ، آیت 43)
ان آیات کی روشنی میں جب ہم حضور ﷺ کا حِلم و صبر دیکھتے ہیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ آپﷺ جیسا کوئی حلیم ہوگا ہی نہیں ۔ آپ ﷺ نے کبھی اپنے انتقام کے لیے کوئی کام نہ کیا ۔آپﷺ کی مخالفت میں جس قدر آپﷺ کو تکالیف دی گئیں اس قدر آپ ﷺ نے صبر و برداشت کا ملاحظہ فرمایا ۔ کفار نے آپﷺ کو تکلیف پہنچانے میں کوئی کمی نہ چھوڑی مگر آپﷺ نے صبر کا دامن نہ چھوڑا۔ اور خندہ پیشانی سے سب کچھ برداشت کیا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضہ نے فرمایاکہ حضورﷺ کو جب بھی دو کاموں میں سے ایک کام اختیار کرنےکا حکم ملاتو آپﷺ نے ان میں سے آسان کو پسند فرمایا۔ اگر اس کے اختیار کرنے میں کوئی شرعی رکاوٹ نہ ہوتی ۔ اور اگر شرعی رکاوٹ ہوتی تودوسروں کی نسبت آپﷺ اس سے زیادہ دور رہتے تھے ۔
اسی طرح حضور ﷺ نے کبھی بھی اپنی ذات کے لیے انتقام نہیں لیا۔ لیکن اگر کسی کی طرف سے اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے حدود کو توڑا گیا تو اس پر ضرور آپﷺ نے ردعمل کیا۔ غزوہ احد کے وقت جب حضور ﷺ کے دندان مبارک شہید ہوئے اورآپﷺ کا چہرہ انورزخمی ہوا تو صحابہ کرام کو اس واقعہ سے بہت ہی صدمہ پہنچا۔ بارگاہِ رسالت میں انہوں نے گزارش کی کہ کفار کی تباہی اور بربادی کی دعا فرمادیں تو آپﷺ نے فرمایا:
إِنَّ اللهَ تَعَالَى لَمْ يَبْعَثْنِي طَعَّانًا وَلَا لَعَّانًا، وَلَكِنْ بَعَثَنِي دَاعِيَةَ وَرَحْمَةٍ، اللهُمَّ اهْدِ قَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
مجھے اس لیے بھیجا گیا ہے کہ میں مخلوق خدا کو حق کی دعوت دوں ، میں ان پر عذاب لانے کے لئے تو نہیں بھیجا گیا۔
( شعب الایمان1375، شفا شریف1/ 221)
آپﷺ نے اللہ کے حضور دعا کی کہ اے اللہ میری قوم کو ہدایت عطا فرما۔ یہ لوگ مجھے پہچانتے نہیں ہیں ۔
اسی سلسلے میں حضرت عمر رضہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اس موقع پر حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کی کہ یا رسول اللہ ﷺ آپ پر میرے ماں باپ قربان ۔ ایسے موقع پر حضرت نوح علیہ نے اپنی قوم کے لیےجو کہا تھا وہ قرآن پاک میں سورۃ نوح میں آیا ہے۔
رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْكَافِـرِيْنَ دَيَّارًا
اے رب زمین پر کافروں میں سے کوئی بسنے والا نہ چھوڑ۔
(سور ۃ نوح، آیت 26)
غزوہ احد کے موقع پر جب حضور ﷺ کو بہت تکلیف پہنچائی گئی اور آپﷺ کو زخمی کیا گیا لیکن صحابہ کرام رضہ کی درخواست پر کفار کے لئے نہ صرف بددعا نہیں کی بلکہ ان کے لیے زبان مبارکہ سے معافی کا اعلان فرمایا اور حضور ﷺ نے کافروں کی طرف اپنی اِس رحمت کی وجہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یوں پیش کی کہ یا اللہ یہ ابھی جانتے نہیں ۔
فَاِنَّھُمْ لَایَعْلَمُوْنِ
یا اللہ یہ ابھی جانتے نہیں ہیں۔
یعنی ان کے لئے ایک بہانہ بھی پیش کردیاکہ اللہ تعالیٰ حضورﷺ کی اس قوم پر عذاب نازل نہ فرمائے بلکہ انہیں ہدایت سے مالا مال فرما دے ۔ اسی طرح جب ایک شخص نے حضورﷺ پر اعتراض کیا جس وقت آپﷺ مال غنیمت تقسیم فرما رہےتھے اور کہا کہ آپ عدل کیجئے کہ آپﷺ کی تقسیم اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق نہیں تو آپ ﷺ نے اس کا جواب اتنے پیارے انداز میں دیا کہ اس کی جہالت بھی واضح ہوگئی اور نصیحت بھی فرما دی چنانچہ آپﷺ نے فرمایا کہ افسوس اگر میں بھی انصاف نہیں کرتا تو اور کون انصاف کرے گا۔ اور اگر میں انصاف نہیں کرتا تو میں بہت نقصان میں ہوں ۔ بعض صحابہ کرام نے چاہا کہ اس شخص کو قتل کردیں لیکن حضورﷺ نے اپنے جانثاروں کو ایسا کرنے سے منع کیا یہ آپﷺ کے حِلم اور بردباری کا اعلیٰ نمونہ ہے ۔
اسی طرح ایک غزوہ میں آپﷺ درخت کے نیچے آرام فرما رہے تھے اتنے میں اچانک غورث بن حارث حضورﷺ کو قتل کرنے کی غر ض سے آپﷺ کے پاس آ پہنچا ،صحابہ کرام اِدھر اُدھر آرام کر رہے تھے جب حضور ﷺ بیدار ہوئے تو آپﷺ نے دیکھا کہ ایک آدمی ہاتھ میں ننگی تلوار لیے کھڑا ہے تو اس نے کہا کہ بتاو ٔاب تمہیں میرے وار سے کون بچائے گاتو حضور ﷺنے بڑے تحمل سے جواب دیا۔ “اللہ”۔ اتنا سنتے ہی اس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی ۔ نبی اکرم ﷺ نے تلوار اٹھائی اور فرمایا کہ اب بتاو تمہیں اس سے کون بچائے گا تو وہ بولا آپﷺ بہتر قابو پانے والے ہیں ۔ حضور ﷺ نے اس کا قصور معاف کر دیا اور اسے جانے کی اجازت دے دی ۔ وہ جب اپنی قوم میں واپس لوٹا تو اس نے کہا کہ میں بہترین انسان کے پاس سے آرہا ہوں اور اس نے پھر یہ سارا واقعہ اپنی قوم کو سنایا۔
( مسند احمد14335، 14929، 15190، صحیح البخاری2910، 4134، 4139،صحیح مسلم843، السنن الکبریٰ للنسائی8719، المستدرک للحاکم4322، شفا شریف1/ 223)
آپﷺ کے درگزر کے واقعات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ایک یہودی عورت نے بکری کے گوشت میں زہر ملا کر آپﷺ کو کھلا دیا تھا اور یہ بھی صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ اس عورت نے اپنے جرم کا اقرار بھی کر لیا تھا مگر آپﷺ نے اسے معاف فرما دیا۔
لَمَّا فُتِحَتْ خَيْبَرُ أُهْدِيَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةٌ فِيهَا سُمٌّ
( مسند احمد9827، صحیح البخاری5/ 141، 5777، سنن الدارمی70، شفا شریف1/ 224)
لبید بن عاصم یہودی نے آپﷺ پر جادو کیا تھا، آپﷺ نےاس کا قصور بھی معاف فرما دیا تھا ۔ جبکہ وحی کے زریعے آپﷺ کو اس واقعہ کا علم بھی ہو چکا تھا ۔ لیکن نہ آپﷺ نے اُس سے اِس کا مواخذہ کیا اور نہ یہ کہ کسی قسم کے غصے یا انتقام لینے کا ارادہ کیا۔
(مسند احمد 19267، 24237، صحیح البخاری 3268، 5763، 5766، 6391، صحیح مسلم 2189، شفا شریف1/ 224)
اسی طرح آپﷺ نے عبداللہ بن اُبی اور اس کے ساتھیوں کی منافقانہ سرگرمیوں پر بھی کوئی مواخذہ نہیں فرمایا ۔ حالانکہ وہ اپنی باتوں سے اور اپنےکاموں سے حضور ﷺ کی مخالفت پر بے انتہا زور لگاتے تھے ۔ بلکہ ایک صحابی نے بعض منافقوں کے قتل کی اجازت طلب کی تو آپﷺ نے انہیں ایسا کرنے سے یوں کہہ کر منع فرمایا کہ لوگ طعنہ دے کر کہیں گے کہ محمدﷺ اپنے ساتھیوں کو قتل کروا دیتے ہیں۔
( مسند احمد 14820، 15224، وأخرجه الطيالسي (1708) ، وعبد الرزاق (18041) ، والحميدي (1239) ، والبخاري (4905) و (4907) ، ومسلم (2584) (63) ، والترمذي (3315) ، والنسائي في “عمل اليوم والليلة” (977) ، وفي “الكبرى” (11599) ، وأبو يعلى (1824) و (1957) ، وأبو عوانة في البر والصلة كما في “الإتحاف” 3/296، والطحاوي في “شرح المشكل” (3208) و (3209) و (3210) ، وابن حبان (5990) و (6582) ، والبيهقي في “الدلائل” 4/53-54)
اسی طرح حضرت انس رضہ سے روایت ہے کہ میں حضورﷺ کے ہمراہ تھا اور آپﷺ نے موٹے کناروں والی چادر اوڑھی ہوئی تھی ایک اعرابی نے آپﷺ کی چادر کو زور سے کھینچا جس کے باعث آپﷺکی گردن مبارک پر نشان پڑگیا۔ اس کے بعد اعرابی کہنے لگا اے محمدﷺ میرے ان دونوں اُونٹوں کو مال سے لاد دو اور یہ تم اپنے باپ کے مال سے تو نہیں دو گے ۔ رسول اللہﷺخاموش ہی رہے اور صرف یہی فرمایا کہ واقعی مال تو صرف اللہ کا ہے اور میں اس کا بندہ ہوں ۔ اور پھر آپﷺ نے فرمایا: اے اعرابی اب تم سے اس زیادتی کا بدلہ لیا جائے گا ۔ اس نے کہا کہ ایسا ہرگز نہیں ہوگا کیونکہ آپﷺ برائی کے ساتھ بدلہ نہیں دیا کرتے تو آپﷺ مسکرادیے اور حکم دیا کہ اس کے ایک اُونٹ پر جو اور دوسرے اُونٹ پر کھجوریں لاد دو۔
( مسند احمد 12549، 13339، صحیح البخاری 3149، 5809، 6088، صحیح مسلم 1057، شفا شریف1/ 225)
آپﷺ کے حِلم و صبر کی تفصیل میں حضرت عائشہ رضہ فرماتی ہیں کہ حضورﷺ نے کسی ایسی زیادتی کا بدلہ کبھی لیا ہی نہیں جس کا تعلق آپﷺ کی اپنی ذات سے ہو۔ ہاں اگر اللہ تعالیٰ کے معاملات کا تعلق ہو تو وہ ایک الگ بات ہے ۔ آپﷺنے کبھی کسی کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا ماسوائے میدان جہاد کے ، اپنے کسی خادم یا ازواج مطہرات میں سے کبھی کسی کو نہیں پیٹا ۔
( مسند احمد 24034، 25715، 25923، 25956، 26405، صحیح مسلم 2328، سنن الدارمی 2264، السنن الکبریٰ للنسائی 9118، 9120، مسند ابی یعلیٰ 4375، شفا شریف1/ 226)
اسی طرح ایک دفعہ آپﷺ کی بارگاہ میں ایک ایسا شخص پیش کیا گیا جو آپ ﷺکو قتل کرنا چاہتا تھا۔ نعوذباللہ۔
آپﷺ نے اس سے فرمایا:
لَمْ تُرَعْ، لَمْ تُرَعْ، لَوْ أَرَدْتَ ذَاكَ لَمْ تُسَلَّطْ عَلَيَّ
ڈرو مت اگر تم اپنے ارادے پر قائم بھی رہتے تب بھی میرے قتل پر قادر نہیں ہوسکتے یعنی مجھے قتل نہیں کر سکتے تھے۔
( مسند ابن الجعد 527، مسند احمد 15868، السنن الکبریٰ للنسائی 10836، المعجم الکبیر 2183، معجم الصحابہ لابن قانع1/ 153، مجمع الزوائد13868، شریف1/ 226)
اسی طرح ایک اور واقعہ میں ، اسلام لانے سے پہلے زید بن سعنہ آپﷺ سے قرض مانگنے آیا اور سخت کلامی سے پیش آتے ہوئے آپﷺ سے کہنے لگا ، اے عبدالمطلب کی اولاد تم قرض کے پیسے واپس نہیں کرتے۔
حضرت عمر رضہ نے اس کے ساتھ ڈانٹ ڈپٹ کی لیکن رسول اللہ ﷺ مسکرا رہے تھے۔ آپﷺ نے حضرت عمر رضہ سے فرمایا اے عمر یہ شخص اور میں تو کسی اور ہی بات کے ضرورت مند تھے ۔ تم مجھ سے اچھی طرح ادا کرنے اور اس سے اچھے برتاو کا تقاضہ کرتے ۔ سبحان اللہ یہاں حضورﷺ حضرت عمر رضہ کو کہہ رہے ہیں کہ بجائے اس کو ڈانٹنے ڈپٹنے کے تم مجھے یہ تلقین کرتے کہ میں اچھی طرح سے اس کا قرض ادا کردوں۔ اور اس کو یہ سمجھاتے کہ مانگنے کا طریقہ اچھا ہوناچاہیے ۔نہ کہ قرض واپس مانگنے کےلئے بدتمیزی کی جائے۔
آپﷺ نے زید بن سعنہ سے فرمایا کہ ابھی تو وعدہ میں تین دن باقی ہیں ۔ اور حضرت عمررضہ کو حکم دیا کہ اس کا قرض ادا کرو اور بیس صاع (اس زمانے میں تولنے کےلئے ، جیسا کہ آج کل کلو گرام وغیرہ )اسے زیادہ دو کیونکہ تم نے اسے ڈرایا دھمکایا ہے۔ نبی ﷺکی اس بردباری کو دیکھ کر زید بن سعنہ مسلمان ہوگئے۔
زید بن سعنہ رضہ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے حضور ﷺ کی تمام نشانیاں دیکھ لی تھی لیکن صرف دو باتیں باقی رہ گئیں ۔ ایک یہ کہ اس نبی کے علم پر جہالت غالب نہیں آسکتی ۔ اور دوسری یہ کہ ان کے ساتھ جتنا جاہلانہ سلوک ہوگا اتنا ہی ان کے حِلم میں اضافہ ہوگا ۔ پس میں نے یہ نازیبا اور برا سلوک کر کے آپﷺ کو ان دونوں باتوں میں آزمایا تھا جن میں آپﷺ پورا اترے۔ ظاہری بات ہے کہ آپﷺ کی یہ بردباری اور حلم اس کے ایمان لانے کی وجہ بن گئی۔ حضور ﷺ کے حلم و صبر، برُدباری اور معاف کرنے کے اتنے واقعات ہیں جنہیں بیان نہیں کیا جا سکتا ۔
( المعرفۃ والتاریخ1/ 301 ، صحیح ابن حبان 288، المعجم الکبیر 5147، المستدرک للحاکم 6547، دلائل النبوۃ لابی نعیم 48 ، السنن الکبری للبیہقی 11114، 11284، دلائل النبوۃ للبیہقی، مقدمہ، ص33: 6/ 278، الانوار فی شمائل النبی المختار 226، شفا شریف1/226، 227)
زمانہ جہالت میں قریش نے آپﷺ کو تکلیف پہنچانے میں کو ئی کسر نہ چھوڑی تھی لیکن آپﷺ نے ان حوصلہ شکن تکالیف کے مقابلے میں پورے صبر و تحمل سے کام لیا ۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مقابلے میں آپﷺ کو فتح اور کامیابی سے نواز دیا۔ جبکہ کفار اپنی مضبوطی اور اقتدار کے ختم ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔لیکن جب آپﷺ مکہ کو فتح کر چکے تھے اس وقت آپﷺ نے صرف معاف کرنے سے کام لیا۔
فتح مکہ کے موقع پر آپﷺ نے قریش مکہ سے پوچھا کہ بتاؤ تمہارے ساتھ آج میں کیا سلوک کرنے والا ہوں تو ان سب نے گردنیں جھکالیں اور انہوں نے آپﷺ سے کہا کہ ہمیں آپﷺ سے بھلائی کی امید ہے۔ کیونکہ آپﷺ ایک شریف انسان ہیں اور ایک شریف بھائی کے بیٹے ہیں ۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا میں تم سے وہی کہتا ہوں جو ایسے موقع پر میرے بھائی حضرت یوسف علیہ نے اپنے بھائیوں سے کہاتھا۔جیسا کہ قرآن پاک میں سورۃ یوسف میں ارشاد ہے:
لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ اللهُ لَكُمْ وَهُو أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ
آج تم پر کچھ ملامت نہیں اللہ تمہیں معاف کرے اور وہ سب مہربانو ں سے بڑھ کر مہربان ہے۔
(سورۃیوسف، آیۃ 92)
اور آپﷺنے اِن کو فرمایا:
اِذْهَبُوا فَأَنْتُمُ الطُّلَقَاءُ
جاوتم سب آزاد ہو۔
( السنن الکبریٰ للنسائی 11234، 18275، 18276، دلائل البنوۃ للبیہقی5/ 58، 87، شفا شریف1/ 228)
حضرت انس رضہ فرماتے ہیں کہ تعنیم سے 80 لوگ آئے تاکہ صبح کے وقت آپﷺ کوشہید کردیں ۔ وہ سارے کے سارے پکڑے گئے ۔ اور جب ان لوگوں کو بارگاہ رسالت میں پیش کیاگیا تو آپﷺ نے ان سب کو چھوڑ دیا ۔
( صحیح مسلم 1808، سنن ابی داؤد 2688، جامع ترمذی 3264، السنن الکبریٰ للنسائی 8614، 11446، السنن الکبریٰ للبیہقی 12832، 18034، شفاشریف 1/ 228)
اسی طرح ابو سفیان جو بہت مرتبہ لشکر لے کر آپ ﷺ پر حملہ آور ہوتا رہا اور آپ ﷺ کے چچا (سید الشہداء) حضرت حمزہ رضہ اور کتنے ہی صحابہ کرام کو شہید کرا چکا تھا ، اتنی تکلیف اور مخالفت کے باوجود جب فتح مکہ کے دن آپﷺ نے اس کاقصور معاف کردیا اور بڑی نرمی اور شفقت سے گفتگو کرتے ہوئے اس سے فرمایا ۔
وَيْحَكَ يَا أَبَا سُفْيَانَ!! أَلَمْ يئن لَكَ أَنْ تَعْلَمَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ
اے ابو سفیان تو برباد ہو! (تیرے لیے تباہی ہو) کیا تجھ پر ابھی واضح نہیں ہوا کہ اللہ تعالی ٰ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے ۔
ابو سفیان عرض گزار ہوا: میرے ماں باپ آپﷺ پر قربان!
آپﷺ تو بڑے حلیم و کریم ہیں اور آپﷺ صلہ رحمی کرنے والے یعنی کہ اپنے رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرنے والے ہیں ۔ سبحان اللہ۔
( شفا شریف کا ترجمہ)
( المعجم الکبیر 7264، دلائل النبوۃ للبیہقی5/ 34، شفاشریف 1/ 229)
قاضی عیاض مالکی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضہ نے فرمایا کہ:
حضورﷺ سے جس چیز کا سوال کیا گیا تو آپﷺ نے کبھی اس کا نفی میں جواب نہیں دیا ۔
( صحیح البخاری 6034، صحیح مسلم 2311، شفا شریف1/ 231)
مطلب یہ کہ جب بھی آپﷺ سے کسی نے کچھ مانگا تو آپﷺ نے کبھی اس کا انکارنہیں کیا ۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کا سخاوت میں جواب ہی نہیں تھا اور جب رمضان مبارک آتا تو آپﷺ کی سخاوت کی کوئی انتہا نہ رہ جاتی۔ اور جب حضرت جبرائیل علیہ آپﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے تو آپﷺ کو بے انتہا سخی دیکھتے ۔
حضرت انس رضہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے آپﷺ سے سوال کیا (یعنی کہ آپﷺ سے مانگا) اس وقت حضور ﷺ کے پاس اتنی بکریاں تھی جن سے دو پہاڑوں کے درمیان جگہ بھری ہوئی تھی آپﷺ نے وہ ساری بکریاں اسے عطافرمادیں اورجب وہ اپنے قبیلے میں پہنچا تو اپنے قبیلے والوں سے کہنے لگا بھائیو! مسلمان ہوجاؤ کیوں کہ حضور ﷺ اتنی سخاوت کرتے ہیں کہ اپنے مال کا ختم ہونے کا دل میں خیال لاتے ہی نہیں۔
( مسند احمد 13730، 14029، صحیح مسلم 2312، شفا شریف1/ 232)
اسی طرح کہ بہت سے واقعات جب آپﷺ نے سو سو اونٹ بھی لوگوں کو عطا کردیے ۔ آپﷺ نے صفوان بن سلیم کو سو اونٹ عطا فرمائے۔ اور پھر اسی طرح ایک اور مرتبہ دوبارہ اس کو سو اونٹ پیش کئے۔ اور اسی طرح تیسری بار بھی دیے۔
(مسند احمد 15304، صحیح مسلم 2313، جامع ترمذی 666، شفا شریف1/ 252)
اور آپﷺ کی سخاوت کا یہ عالم آپ ﷺ کے اعلان نبوت سے بھی پہلے کا تھاورقہ بن نوفل کہا کرتے تھے۔ آپﷺ مجبور لوگوں کی مدد فرماتے جن لوگوں کا خاندان بڑا ہوتا ان کی مدد کرتے ہیں اور محتاجوں کے لیے مال کماتےہیں یعنی کہ جو آپﷺکماتے اس کا بیشتر حصہ محتاجوں کو، غریبوں کو اور مجبوروں کو عطا فرما دیتے۔
( صحیح البخاری 3، 4953، صحیح مسلم160، شفا شریف1/ 232) یہ الفاظ سیدہ خدیجہ کےہیں۔
اسی طرح ایک دفعہ آپﷺ نے حضرت عباس رضہ کو اتنا سوناعطا فرمایا کہ وہ اس کو اٹھا بھی نہیں سکتے تھے۔
(شفا شریف1/ 233)
اور اسی طرح ایک مرتبہ حضور ﷺ کی خدمت میں نوے ہزار درہم پیش کیے گئے ۔ آپﷺ نے انہیں ایک چٹائی پر رکھوا دیا اور اور بانٹنے لگے ، جو بھی ضرورت مند آتا آپﷺ اس کودیتے جاتے کسی بھی مانگنے والے کو آپﷺ نے خالی ہاتھ نہ لوٹایا ۔ جب آپﷺ تمام نوے ہزار درہم تقسیم فرما چکے تو اس کے بعد بھی ایک اور سائل آگیا تو آپﷺنے فرمایا تم ہمارے نام پر اپنی ضرورت کی چیزیں خرید لو ۔ جب کسی طرف سے ہمارے پاس مال یا پیسہ آئے گا تو تمہارے قرضے کی ادائیگی ہم کر دیں گے ۔ اس موقع پر حضرت عمر فاروق رضہ نے گزارش کی کہ یارسول اللہ ﷺ جس کام کی استطاعت نہیں وہ اللہ تعالی ٰ نے ضروری قرار نہیں دیا۔ نبی کریم ﷺ کو یہ بات پسند نہ آئی۔ اتنے میں ایک انصاری صحابی نے کہا یا رسول اللہ ﷺ آپ خرچ کرتے جائیں کیونکہ مالک عرش آپﷺ کو مال کی کمی کا اندیشہ کبھی لاحق نہیں ہونے دے گا۔ یہ سن کر آپﷺ مسکرائے آپﷺ کے چہرہ انور پر خوشی اور اطمینان کے آثار نظر آنے لگے ۔ اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے یہی حکم ملا ہے۔
(شمائل المحمدیہ للترمذی35 مکارم الاخلاق لابن ابی الدنیا 390، مکارم الاخلاق للخرائطی 565)
اسی طرح معوذبن عفرا رضہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے پلیٹ میں تازہ کھجوریں اور چھوٹی چھوٹی ککڑیاں (سبزی) بارگاہ رسالتﷺ میں پیش کیں۔ آپﷺ نے مجھے ایک ہتھیلی بھرسونا عنایت فرما دیا۔
( مسند احمد 27020، 27023، شمائلِ محمدیہ204، 357، مکارم الاخلاق لابن ابی الدنیا 357، شفا شریف1/ 234)
اسی طرح حضرت انس رضہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے کبھی بھی اگلے دن کے لئے جمع کر کے نہ رکھا ۔ حضور ﷺ نے ہمیشہ مانگنے والوں کو، مسکینوں کو، مجبوروں کو عطافرمایا۔ اگر کسی کا قرض ادا کرنا ہوتا اس کے ساتھ بھی آپﷺ نے بے انتہا مہربانی فرمائی کہ جتنا دینا ہوتا ہمیشہ اس سے زیادہ ہی عطا فرماتے۔ سبحان اللہ۔
( جامع ترمذی2362، شفا شریف1/ 234)
حضرت انس بن مالک سے مروی ہے کہا:
رحمتِ کونینﷺلوگوں سے بڑھ کر حسین، سب سے بڑھ کر سخی اور سب سے زیادہ بہادر تھے۔ ایک رات اہلِ مدینہ کو خطرہ محسوس ہوا اور لوگ خطرناک آواز کی طرف دوڑ پڑے تو اُنہیں آپﷺ راستے میں واپس آتے ہوئے ملے جو تمام لوگوں سے پہلے آواز کی جگہ جا پہنچے تھے اور آپﷺ فرما رہے تھے : ڈرو مت، ڈرو مت۔ (اُس وقت) آپﷺحضرت ابو طلحہ کے گھوڑے پر بغیر زین کے سوار تھے اور تلوار آپﷺ کے گلے میں (لٹک رہی) تھی۔ پھر آپﷺ نے فرمایا : میں نے اِسے (گھوڑے کو) دریا پایا، یا فرمایا : یہ (گھوڑا تیزرفتاری میں تو) دریا (جیسا) ہے۔
أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب الأدب، باب حسن الخلق والسخاء وما یکرہ من البخل، 5 / 2244، الرقم : 5686، ومسلم في الصحیح، کتاب الفضائل، باب في شجاعۃ النبي صلى الله عليه وآله وسلم وتقدمہ للحرب، 4 / 1802، الرقم : 2307، والترمذي في السنن کتاب الجہاد، باب ما جاء في الخروج عند الفزع، 4 / 199، الرقم : 1687، وأبو داود في السنن، کتاب الأدب ، باب ما روي في الرخصۃ في ذلک، 4 / 297، الرقم : 4988، وابن ماجہ في السنن، کتاب الجہاد، باب الخروج في النفیر، 2 / 962، الرقم : 2772، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 147، الرقم : 12516
حضرت ابو اسحاق بیان کرتے ہیں کہ حضرت براء (بن عازب) رضی اللہ عنہ سے کسی شخص نے دریافت کیا : اے ابو عمارہ! کیا غزوئہ حنین میں آپ لوگوں نے پیٹھ دکھائی تھی؟ اُنہوں نے فرمایا : میں نے سنا ہے لیکن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دن بھی پیٹھ نہیں دکھائی تھی، حضرت ابو سفیان بن حارث نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خچر کی لگام تھام رکھی تھی، جب مشرکین نے آپ کو گھیرے میں لے لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری سے نیچے تشریف لے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے :
”میں نبی بر حق ہوں اس میں کوئی جھوٹ نہیں
میں عبد المطلب (جیسے سردار) کا بیٹا ہوں”
اُس روز حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ مضبوط کوئی نہیں دیکھا گیا۔
أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب الجہاد والسیر، باب من قال خذہا وأنا ابن فلان، 3 / 1107، الرقم : 2877، ومسلم في الصحیح، کتاب الجہاد والسیر، باب في غزوۃ حنین، 3 / 1400۔1401، الرقم : 1776، والترمذي في السنن، کتاب الجہاد، باب ما جاء في الثبات عند القتال، 4 / 199، الرقم : 1688، وقال : ھذا حدیث حسن صحیح، والنسائي في السنن الکبری، 5 / 188، 191، الرقم : 8629، 8638، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 280۔281، 289، 304۔
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ایک اور روایت میں اِن الفاظ کا اضافہ ہی : ”خدا کی قسم! جب جنگ تیز ہوتی تو ہم خود کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پناہ میں بچاتے تھے اور ہم میں سب سے بہادر شخص وہ ہوتا تھا جو جنگ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے برابر رہتا۔
أخرجہ مسلم في الصحیح، کتاب الجہاد والسیر، باب في غزوۃ حنین، 3 / 1401، الرقم : 1776، وابن أبي شیبۃ في المصنف، 6 / 426، الرقم : 32615۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب معرکہ کار زار گرم ہوتا اور لوگوں سے لوگ ٹکراتے، تو ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آڑ میں آ جاتے، پس لڑائی کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر لوگوں (مخالفین) کے قریب ہم میں سے کوئی نہیں ہوتا تھا۔
أخرجہ أحمد بن حنبل في المسند ، 1 / 156، الرقم : 1346، والحاکم في المستدرک، 2 / 155، الرقم : 2633، والبزار في المسند، 2 / 299، الرقم : 722، وابن الجعد في المسند، 1 / 372، الرقم : 2561، والحارث في المسند، 2 / 874، الرقم : 938، وابن أبي الدنیا في مکارم الأخلاق / 55، الرقم : 154۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جنگِ بدر والے دن ہم نے اپنے آپ کو دیکھا کہ ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پناہ لیے ہوئے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم سے زیادہ دشمن کے قریب (ہو کر لڑ رہے) ہیں۔ اُس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے بڑھ کر بہادر و مضبوط تھے.
أخرجہ أحمد بن حنبل في المسند ، 1 / 86، الرقم : 654، وابن أبي شیبۃ في المصنف، 6 / 426، الرقم : 32614، والھیثمي في مجمع الزوائد، 9 / 12، وابن عساکر في تاریخ مدینۃ دمشق، 4 / 14۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جب بھی کسی شے کا سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (جواب میں) نہیں نہ فرمایا۔
أخرجہ البخاري في الصحیح،کتاب الأدب، باب حسن الخلق والسخاء وما یکرہ من البخل، 5 / 2244، الرقم : 5687، ومسلم في الصحیح،کتاب الفضائل، باب ما سئل رسول اﷲ صلى الله عليه وآله وسلم شیئاً قط فقال لا، 4 / 1805، الرقم : 2311، والدارمي في السنن، 1 / 47، الرقم : 70، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 307، الرقم : 14333
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کل کے لئے کوئی چیز ذخیرہ نہ کرتے تھے۔”
أخرجہ ابن حبان في الصحیح، 14 / 270، الرقم : 6356، والبیھقي في شعب الإیمان، 2 / 175، الرقم : 1478، والمقدسي في الأحادیث المختارۃ، 4 / 424، الرقم : 1601، والھیثمي في موارد الظمآن، 1 / 633، الرقم : 2550، وابن عساکر في تاریخ مدینۃ دمشق، 4 / 120۔
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ حنین سے واپس آ رہے تھے کہ چند اعرابی آ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے چمٹ گئے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مال طلب کر رہے تھے۔ وہ آپ کو مجبور کرتے ہوئے کیکر کے درخت تک لے گئے، اُنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چادر مبارک بھی اُچک لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میری چادر دے دو، اگر میرے پاس اِن درختوں کے برابر بھی مویشی ہوتے، تو میں تمہارے درمیان تقسیم کر دیتا اور تم مجھے ہر گز بخیل، جھوٹا یا بزدل نہ پاؤگے۔
أخرجہ البخاري في الصحیح،کتاب فرض الخمس، باب ما کان النبي صلى الله عليه وآله وسلم یعطي المؤلفۃ قلوبھم وغیرھم من الخمس ونحوہ، 3 / 1147، الرقم : 2979، وأیضًا في کتاب الجہاد ، باب الشجاعۃ في الحرب والجبن، 1 / 1038، الرقم : 2666، ومالک في الموطأ، کتاب الجھاد، باب ما جاء في الغلول، 2 / 457، الرقم : 977، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 84، الرقم : 16821
حضرت ابراہیم بن محمد جو کہ حضرت علی ابن اَبی طالب رضی اللہ عنہ کی اولاد سے ہیں بیان فرماتے ہیں کہ حضرت علی ص، جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان مبارک بیان کرتے تو فرماتے : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ سخی ہاتھ والے اور سب سے زیادہ فراخ سینے والے (کھلے دل کے مالک) اور لوگوں میں سب سے سچے لہجے والے بھی تھے، سب سے زیادہ نرم طبیعت اور سب سے زیادہ باعزت معاشرت والے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اچانک دیکھنے والا مرعوب ہو جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ میل جول رکھنے والا آپ سے محبت کرنے لگتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اُوصاف بیان کرنے والا کہہ اُٹھتا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسا حسین نہ آپ سے پہلے دیکھا (سنا) اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد دیکھا (سنا)۔
أخرجہ الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب ما جاء في صفۃ النبي صلى الله عليه وآله وسلم ، 5 / 599، الرقم : 3638، وأیضًا في الشمائل المحمدیۃ / 32، الرقم : 7، وابن أبي شیبۃ في المصنف، 6 / 328، الرقم : 31805، والبیھقي في شعب الإیمان، 2 / 149، الرقم : 1415، وابن سعد في الطبقات الکبری، 1 / 411، والنمیری في أخبار المدینۃ، 1 / 319، الرقم : 968، وابن عبد البر في الاستذکار، 8 / 331۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دو پہاڑوں کے درمیان (چرنے والی) بکریاں مانگیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُسے وہ بکریاں عطا کر دیں، پھر وہ اپنی قوم کے پاس گیا اور کہنے لگا : اے میری قوم! اسلام لے آؤ، کیونکہ خدا کی قسم! بے شک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنا دیتے ہیں کہ فقر و فاقہ سے نہیں ڈرتے، حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی صرف دنیا کی وجہ سے بھی مسلمان ہوتا تو اسلام لانے کے بعد اسلام اُسے دنیا اور اس کی ہر ایک شے سے زیادہ محبوب ہو جاتا۔
أخرجہ مسلم في الصحیح، کتاب الفضائل، باب ما سئل رسول اﷲ صلى الله عليه وآله وسلم شیئًا قطّ فقال : لا وکثرۃ عطائہ، 4 / 1806، الرقم : (58)2312، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 175، 259، 284، الرقم : 12813، 13756، 14061، وابن حبان في الصحیح، 14 / 287، الرقم : 6373، وابن خزیمۃ في الصحیح، 4 / 70، الرقم : 2372، وأبو یعلی في المسند، 6 / 56، الرقم : 3302، والبیھقي في السنن الکبری، 7 / 19، الرقم : 12967، وأیضًا في شعب الإیمان، 2 / 246، الرقم : 1641
ضرت صفوان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ خدا کی قسم! حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے عطا فرمایا، جو بھی عطا فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری نظر میں تمام لوگوں سے زیادہ نا پسندیدہ تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے مسلسل عطا فرماتے رہے، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری نظر میں تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہوگئے۔
أخرجہ مسلم في الصحیح، کتاب الفضائل، باب ما سئل رسول اﷲ صلى الله عليه وآله وسلم شیئا قط فقال : لا وکثرۃ عطائہ، 4 / 1806، الرقم : 2313، والترمذي في السنن، کتاب الزکاۃ، باب ما جاء في إعطاء المؤلفۃ قلوبہم، 3 / 53، الرقم : 666، وأحمد بن حنبل في المسند، 6 / 465، الرقم : 27679، وابن حبان في الصحیح، 11 / 159، الرقم : 4828، والطبراني في المعجم الکبیر، 8 / 51، الرقم : 7340۔
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابو سفیان بن حرب، صفوان بن امیہ، عیینہ بن حصن اور اقرع بن حابس ہر ایک کو سو سو اونٹ دیے اور عباس بن مرداس کو اس سے کچھ کم اونٹ دیے تو عباس بن مرداس نے یہ اشعار پڑھے :
آپ میری لوٹ مار اور (میرے گھوڑے)
عبید کی لوٹ مار کو عیینہ اور اقرع کے درمیان
مقرر کرتے ہیں حالانکہ بدر اور حابس، عباس بن مرداس
سے کسی معرکہ میں بڑھ نہیں سکتے۔ میں ان
دونوں سے کسی طرح کم نہیں ہوں اور آج
جس کو آپ پست فرما دیں گے وہ کبھی بلند نہیں ہو گا۔
حضرت رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بھی سو اونٹ پورے عطا کر دیئے۔
أخرجہ مسلم في الصحیح، کتاب الزکاۃ ، باب إعطاء المؤلفۃ قلوبہم علي الإسلام وتصبر من قوي إیمانہ، 2 / 737، الرقم : 1060، والحمیدي في المسند، 1 / 200، الرقم : 412، والبیھقي في السنن الکبری، 7 / 17، الرقم : 12959، وأبو نعیم في المسند المستخرج، 3 / 125، الرقم : 2367۔
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ اُسے کچھ عطا فرمائیں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اِس وقت میرے پاس کوئی شے نہیں، لیکن تم میرے نام قرض لکھوا کر خریداری کر لو، جب کوئی چیز آئے گی میں تمہارے اس قرض کو ادا کر دوں گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اﷲ! میں نے اِسے دے دیا ہے۔ اور اﷲ تعالیٰ نے آپ کو اُس چیز کا مکلف نہیں بنایا جس پر آپ قدرت نہیں رکھتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اس بات کو ناپسند فرمایا۔ پھر ایک انصاری صحابی نے عرض کیا : یا رسول اﷲ! خرچ کیجئے اور عرش والے کی طرف سے کسی کمی کا خوف نہ کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تبسم فرمایا اور انصاری صحابی کی اِس بات کی وجہ سے خوشی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رخِ زیبا سے جھلک اُٹھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے یہی حکم دیا گیا ہے۔
أخرجہ المقدسي في الأحادیث المختارۃ، 1 / 181، الرقم : 88، وابن أبي الدنیا في مکارم الأخلاق / 118، الرقم : 390
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر میرے پاس اُحد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو تو مجھے یہ بات پسند نہیں کہ اُس پر تین راتیں گزر جائیں اور کچھ بھی اُس میں سے میرے پاس رہے مگر یہ کہ جو میں قرض ادا کرنے کے لیے رکھ چھوڑوں۔
أخرجہ البخاري في الصحیح،کتاب الرقاق، باب قول النبي صلى الله عليه وآله وسلم : ما یسرني أنّ عندي مثل أحد ھذا ذھبًا، 5 / 2368، الرقم : 6080، ومسلم في الصحیح، کتاب الزکاۃ، باب تغلیظ عقوبۃ من لا یؤدي الزکاۃ، 2 / 687، الرقم : 991، وابن ماجہ في السنن، کتاب الزہد، باب في المکثرین، 2 / 1383، الرقم : 4132، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 316، الرقم : 8180، وابن حبان في الصحیح، 8 / 9، الرقم : 3214۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ انصار کے کچھ افراد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُنہیں (مال) عطا فرمایا۔ پھر سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر عطا فرما دیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مال ختم ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میرے پاس جو مال ہوتا ہے میں تم سے بچا کر اُسے جمع نہیں کرتا اور جو سوال کرنے سے بچنے کی کوشش کرے تو اللہ تعالیٰ اُسے بچائے گا اور جو مستغنی رہے اللہ تعالیٰ بھی اُسے غنی کر دے گا۔ جو صبر سے کام لے گا تو اللہ تعالیٰ بھی اُسے صبر دے گا اور کسی کو صبر سے بہتر اور وسیع عطیہ نہیں دیا گیا۔
أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب الزکاۃ، باب الاستعفاف عن المسألۃ، 2 / 534، الرقم : 1400، ومسلم في الصحیح، کتاب الزکاۃ، باب فضل التعفف والصبر، 2 / 729، الرقم : 1053، والترمذي في السنن، کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء في الصبر، 4 / 373، الرقم : 2024، ومالک في الموطأ، کتاب الصدقۃ، باب، ما جاء في التعغف عن المسألۃ، 2 / 997، الرقم : 1812، والدارمي في السنن، 1 / 474، الرقم : 1646۔
احادیث کی روشنی میں شفاعتِ رسول ﷺ قرآن و حدیث سے یہ امر ثابت ہے کہ روزِ قیامت اِذنِ الٰہی پانے والوں کو شفاعت کا حق دیا جائے گا اور جو لوگ اذنِ الٰہی سے منصب شفاعت پر فائز نہیں، انہیں شفاعت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ بھی ثابت ہے کہ انبیاء و اولیاء اور صالحین ان لوگوں کی شفاعت کریں گے جو اس کے حق دار ہوں گے تاہم قیامت کے روز شفاعتِ عظمیٰ کے بلند مقام پر رحمتِ کونینﷺ کو متمکن کیا جائے گا۔
حضرت ابو ہریرہ رضہ سے روایت ہے کہ قیامت کے دن سورج اتنا قریب ہو گا کہ لوگ اس کی گرمی کو برداشت نہیں کرسکیں گے۔ اور سخت پریشانی کی حالت میں ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تمہیں کوئی ایسا شخص نظر آتا ہے جو آج ہماری شفاعت کرے۔
(مسند احمد 13562، صحیح مسلم 193، شفا شریف1/ 424)
یہی مقصد لے کر وہ حضرت آدم علیہ کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے کہ اللہ تعالی ٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے بنایا اپنی روح آپ میں پھونکی ، آپ کو جنت میں رکھا ، فرشتوں سے آپ کے لئے سجدہ کروایا اور آپ کو تمام چیزوں کے نام سکھائےآپ ہماری شفاعت فرمائیں تاکہ جس مصیبت میں ہم مبتلا ہیں اس سے نجات ملے اور ہمیں آرام سے سانس لینا نصیب ہو۔
حضرت آدمؑ فرمائیں گے کہ آج میرے رب نےایسا غضب کا اظہار فرمایا ہے کہ نہ اس سے پہلے کبھی ہوا اور نہ آئندہ کبھی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے جنت میں جو حکم دیا تھااس کو ماننے میں مجھ سے ایک غلطی ہو چکی ہے لہذا آج تو خود مجھے اپنی جان کا خطرہ ہے میں خوف محسوس کر رہا ہوں اور تم شفاعت کے لئے کسی اور کےپاس جاووہ لوگ پوچھیں گے کہ آپ ہمیں کن کے پاس بھیجتے ہیں تو حضرت آدم علیہ فرمائیں گے کہ حضرت نوح علیہ کے پاس چلے جاو۔ لوگ حضرت نوح علیہ کے پاس حاضر ہوں گے ۔اور عرض کریں گے حضورآپ زمین پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سب سے پہلے رسول ہیں ۔ اللہ نے آپ کو شکر گزار بندہ قرار دیا ہے کہ آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس طرح کی مشکل میں گرفتار ہیں ، آپ ہماری شفاعت کیوں نہیں فرماتے وہ فرمائیں گے کہ آج میرےرب نے ایسے غصے کا اظہار کیا ہے جو نہ اس سے پہلے کبھی ہو ا اور نہ اس کے بعد کبھی ہو گا۔ مجھے تو خود اپنی جان کی فکر پڑی ہے ۔مجھ سے ایک غلطی سر زد ہو گئی تھی کہ علم کے بغیر میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایک سوال کر بیٹھا تھا ۔ وہ کہیں گے تم حضرت ابراہیم علیہ اسلام کے پاس چلے جاؤ۔ لوگ حضرت ابراہیم کے پاس حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے کہ اے اللہ کے نبی ، آپ اللہ کے خلیل ہیں آپ ہماری شفاعت فرمائیے آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس طرح کی مشکل میں شکار ہیں۔ تو آپ فرمائیں گے کہ آج میرے رب نے ایسے غصے کا اظہار کیا ہے جو نہ پہلے ہو ا تھا نہ آیندہ ہو گا۔ پھر حضرت ابراہیم علیہ اسلام اپنی ان تین غلطیوں کا ذکر فرمائیں گے جو آپ سے صادر ہوئی تھیں۔ اور فرمائیں گے کہ میں آپ لوگوں کی شفاعت کا اہل نہیں آپ سب حضرت موسیٰ علیہ کے پاس چلے جاو کیونکہ وہ کلیم اللہ ہیں۔
اور ایک اور روایت میں ہے کہ للہ تعالٰی نے انہیں اپنی کتاب تورات عطافرمائی اور ان سے کلام کیا ۔ لوگ حضرت موسیٰ علیہ کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے تو وہ فرمائیں گے کہ میں اس کا اہل نہیں ہوں۔ اور وہ بھی اپنی ایک غلطی کا ذکر کریں گے جو ایک مصری کومارنے کی وجہ سے ان سے سرزد ہوگئی تھی۔ اور وہ فرمائیں گے کہ مجھے تو آج خود اللہ سے اپنی جان کا خوف ہے ۔آپ حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کے پاس چلے جائیے کہ وہ روح اللہ ہیں اور اس کا کلمہ ہیں۔لوگ حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کے پاس حاضر ہوں گے تو وہ فرمائیں گے کہ شفاعت کا میں بھی اہل نہیں ہوں، تم سب نبی آخرالزماں خاتم النبیین حضرت محمدمصطفیٰ ﷺ کا دامن پکڑ لو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تمام اگلی اور پچھلی لغزشیں معاف فرما دی ہیں ، تب وہ تمام لوگ آپﷺ کی بارگاہ میں آکر عرض کریں گے تو آپﷺ فرمائیں گے کہ ہاں اس کام کے لیے تو میں ہی ہوں۔ اور پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں پھر شفاعت کرنے کے لئے چلنے لگوں گا اور اپنے رب سے اجازت طلب کروں گا تو مجھے شفاعت کرنے کی اجازت عطاکردی جائے گی اس وقت میں اپنے رب کو دیکھ کر اس کے حضور سجدہ کروں گا۔
ا ور دوسری روایت میں ہے کہ میں عرش کے نیچے پہنچ کرسجدے میں سر رکھ دوں گا اور ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ کے حضور کھڑے ہو اللہ کی ایسی تعریف بیان کروں گا جس پر آج میں قادر نہیں ۔ یعنی کہ وہ حمد وثناء اللہ تعالیٰ خاص طور پر آپ کو سکھائے گا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ آپﷺ پر وہ خاص الفاظ الہام فرمائے گا ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے ایسی خصوصیات اور اپنی ایسی تعریفیں کرنا سکھائے گا جو اس سے پہلے کسی پر ظاہر نہیں ہوئیں ۔ مقصد یہ ہے کہ حضور ﷺ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کی ایسی تعریف کریں گے جو کسی دوسرے سے ممکن نہ ہوگی اور اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ حکم فرمائے گا کہ:
يَا مُحَمَّدُ، ارْفَعْ رَأْسَكَقُلْ تُسْمَعْ، سَلْ تُعْطَهْ، اشْفَعْ تُشَفَّعْ
اے میرے محبوب اپنا سر اٹھاو جو مانگو گے وہ دیا جائے گا۔ اورشفاعت کرو کہ تمہاری شفاعت قبول فرمائی جائے گی ۔
حضورﷺ فرماتے ہیں کہ میں اپنا سر اٹھاوں گا۔ اور عرض کروں گا “يَا رَبِّ.. أُمَّتِي..يَا رَبِّ.. أُمَّتِي” کہ اے اللہ میں اپنی امت کا سوال کرتا ہوں ۔ حکم ہو گا کہ اپنے امتیوں میں سے جن کا حساب پاک ہے انہیں دائیں والے دروازوں سے جنت میں داخل کر دو اور باقی دروازوں سے داخل ہونے میں وہ دوسرے لوگوں کے ساتھ شریک ہیں اسی طرح حضرت انس رضہ کی روایت میں ہے کہ جب یہ شفاعت کا سارا معاملہ ہوگاپھر میں (آپﷺ) سجدہ ریز ہو جاوں گا ۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے محمدﷺ اپنا سر اٹھاواو رکہو کہ آپﷺ کی بات سنی جائے گی شفاعت کرو کہ آپ کی شفاعت قبول فرمائی جائے گی ۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ میں عرض کروں گا کہ ” یا ربی امتی” تو فرمایا جائے گا جس کے دل میں ایک گندم یا جو کہ دانے کے برابر بھی ایمان ہو اسے دوزخ سے جا کر نکال لو۔ پس میں جا کر ایسے تمام لوگوں کو دوزخ سے نکال لوں گاجن کے دل میں گندم یا جو کہ دانے کے برابر بھی ایمان ہو گا اس کے بعد میں دوبارہ اللہ تعالیٰ کے حضور رجوع کروں گا اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کروں گا اور اللہ تعالیٰ کی شان بیان کرنا شروع کردوں گا اور امت کی بخشش کے لیے اپنی گزارش پیش کروں گا تو حکم ہو گا کہ جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہے ، رائی کا دانہ بہت ہی چھوٹا ہوتا ہے یعنی کہ جس کے دل میں بہت ہی تھوڑا سا بھی ایمان ہے تو اسے دوزخ سے نکال دو ۔ پس میں ایسے تمام لوگوں کو نکال لوں گا اور تیسری بار پھر اللہ تعالیٰ کے حضور اس کی حمدو ثناء کروں گا اور اپنی امت کی بخشش کا سوال پیش کروں گا تو حکم ہو گا کہ جس کے دل میں ایمان کا ایک زرہ بھی ہوتو اسے بھی دوزخ سے نکال لو چنانچہ میں ایسا ہی کروں گا ۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ چوتھی مرتبہ میں اللہ کے حضور سجدہ کروں گا تو فرمایا جائے گا اے حبیب ﷺ اپنا سر اٹھایے اور جو کہنا چاہتے ہیں کہہ دیجیے کہ آپﷺ کی بات سنی جائے گی شفاعت کیجئے کہ آپﷺ کی شفاعت قبول کی جائے گی اور مانگئے کہ آپﷺ کو عطا کیا جائے گا میں اللہ تعالیٰ سے عرض کروں گا کہ اے پروردگار مجھے ان لوگوں کو جہنم سے نکال لینے کی اجازت عطا فرما دیجیے جنہوں نے ایک بار بھی زبان سے ” لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ” کہا ہو۔ تو حکم ہو گا کہ اے حبیب اس بات کا تعلق آپﷺ کے ساتھ نہیں ہے لیکن مجھے اپنی عزت ، اپنی عظمت اور بڑائی کی قسم ہے کہ میں ایسے ہر شخص کو نکال لوں گا جس نے ایما ن کے ساتھ ” لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ” کہا ہے ۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضہ سے روایت ہے کہ فخردو عالم ﷺ نے فرمایا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے یہ اختیار دیا ہے کہ چاہو تو اپنی آدھی امت کی بخشش کر الواور چاہو تو ان کی شفاعت کر لو تو میں نے شفاعت اختیار کر لی ہے ۔ کیا تمہارا خیال ہےکہ میں نیک لوگوں کی شفاعت کروں گا ، نہیں میری شفاعت تو گنہگاروں کے لیے ہے ۔اسی طرح حضرت ابوہریرہرضہ سے روایت ہے کہ وہ بارگاہ رسالت ﷺ میں عرض گزار ہوئے ، یا رسول اللہ ﷺ آپ کی شفاعت کن لوگوں کے لئے ہے رسول اللہﷺ نے فرمایا میری شفاعت ہر اس آدمی کے لئے ہو گی جس نے یہ گواہی دی ہو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور زبان کے ساتھ دل نے اس بات کی تصدیق کی ہو۔
(مسند احمد 12469، صحیح مسلم 193، سنن الدارمی 53، التوحید لابن خزیمہ2/ 706، 710، 714، شفا شریف1/ 424 تا 428)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
أُعْطِیْتُ خَمْسًا لَمْ یُعْطَھُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي، نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِیْرَةَ شَهْرٍ، وَجُعِلَتْ لِيَ الأَرْضُ مَسْجِدًا وَّطَھُوْرًا فَأَیُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَدْرَکَتْهُ الصَّلٰوۃُ فَلْیُصَلِّ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْمَغَانِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَ أُعْطِیْتُ الشَّفَاعَةَ، وَکَانَ النَّبِيُّ یُبْعَثُ إِلَی قَوْمِہِ خَآصَّۃً وَبُعِثْتُ إِلَی النَّاسِ عَآمَّۃً.
مجھے ایسی پانچ چیزیں عطا کی گئیں ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں: ایک ماہ کی مسافت تک رعب سے میری مدد فرمائی گئی، میرے لئے تمام روئے زمین مسجد اور پاک کرنے والی (جائے تیمم) بنا دی گئی۔ لہٰذا میری امت میں سے جو شخص بھی (جہاں) نماز کا وقت پائے تو وہ وہیں پڑھ لے، میرے لئے اموالِ غنیمت حلال کر دیئے گئے جو مجھ سے پہلے کسی نبی کے لئے حلال نہ تھے، مجھے شفاعت عطا کی گئی، اورپہلے نبی ایک خاص قوم کی طرف مبعوث ہوتا تھا جبکہ مجھے تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا۔
بخاري، الصحیح، کتاب التیمم، باب قول الله: فلم تجدوا ماء فتیمموا صعیدا طیبا، 1: 128، رقم: 328 مسلم، الصحیح، کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ، 1: 370، رقم: 521 نسائي، السنن، کتاب الغسل و التیمم، باب التیمم بالصعید، 1: 211، رقم: 432
امت کے حق میں حضور ﷺ کی رحمت اور راحت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ گناہگاروں کو جہنم سے لا لا کر جنت میں داخل فرمائیں گے لیکن اس سے بھی زیادہ دریائے رحمت یہاں معجزن دکھائی دیتا ہے۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺنے فرمایا:
خُیِّرْتُ بَیْنَ الشَّفَاعَۃِ وَ بَیْنَ أَنْ یَدْخُلَ نِصْفُ اُمَّتِی الْجَنَّةَ؟ فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ لِأَنَّھَا أَعَمُّ وَ أَکْفَی. أَتَرَوْنَھَا لِلْمُتَّقِیْنَ؟ لَا، وَلَکِنَّھَا لِلْمُذْنِبِیْنَ الْخَطَّائِیْنَ الْمُتَلَوِّثِیْنَ.
مجھے اختیار دیا گیا کہ چاہے میں (قیامت کے روز) شفاعت کا حق اختیار کروں یا میری آدھی امت بغیر حساب کے جنت میں داخل ہو جائے؟ پس میں نے شفاعت کو اختیار کرلیا کیونکہ وہ عام تر اور زیادہ کفایت کرنے والی ہے۔ تمہارے خیال میں وہ پرہیزگاروں کے لئے ہوگی؟ نہیں، بلکہ وہ گناہ گاروں، خطاکاروں اور گناہوں سے آلودہ لوگوں کے لیے ہے۔
(ابن ماجہ، السنن، 2: 1441، کتاب الزھد، باب ذکر الشفاعۃ، رقم: 4311 کناني، مصباح الزجاجۃ، 4: 260، رقم: 1549)
حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
أَتَانِي آتٍ مِنْ عِنْد رَبِّي فَخَیَّرَنِي بَیْنَ أَنْ یُدْخِلَ نِصْفَ أُمَّتِي الْجَنَّةَ وَ بَیْنَ الشَّفَاعَۃِ؟ فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ، وَ ھِيَ لِمَنْ مَاتَ لَا یُشْرِکُ بِاللهِ شَیْئًا.
ترمذي، الجامع الصحیح، 4: 627، کتاب صفۃ القیامۃ، باب ما جاء في الشفاعۃ، رقم: 2441 کناني، مصباح الزجاجۃ، 4: 260، رقم: 1451 آجري، الشریعۃ: 342
میرے پاس اللہ کی طرف سے پیغام لے کر آنے والا آیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے میری آدھی امت کو جنت میں داخل کرنے یا شفاعت کرنے کا اختیار دیا۔ پس میں نے شفاعت کو اختیار کر لیا اور یہ ہر اس شخص کے لئے ہے جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہوا نہیں مرے گا۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺنے فرمایا:
لِکُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَۃٌ، فَأُرِیْدُ إِنْ شَاءَ اللهُ أَنْ أَخْتَبِیئَ دَعْوَتِي شَفَاعَۃً لِأُمَّتِي یَوْمَ الْقِیَامَۃِ.
ہر نبی کو ایک مقبول دعا کا حق ہے، پس میں چاہتا ہوں اگر اللہ چاہے کہ اپنی اس دعا کو قیامت کے دن امت کی شفاعت کے لیے مؤخر کرکے رکھوں۔
(بخاری، الصحیح، کتاب التوحید، باب فی المشیئۃ والإرادۃ، 6: 2718، رقم: 7036 مسلم، الصحیح، کتاب الإیمان، باب اختباء النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعوۃ الشفاعۃ لأمتہ، 1: 188، رقم: 198 أحمد بن حنبل، المسند، 2: 381، رقم: 8946)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺنے فرمایا:
لِکُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَۃٌ دَعَاھَا لِأُمَّتِہِ. وَإِنِّی اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَۃً لِأُمَّتِي یَوْمَ الْقِیَامَۃِ.
نبی کے لیے کوئی ایک مقبول دعا تھی جسے اس نے اپنی امت کے لئے کیا، اور بے شک میں نے اپنی اس دعا کو قیامت کے دن امت کی شفاعت کے لیے مخصوص کر دیا ہے۔
( مسلم، الصحیح، کتاب الإیمان، باب اختباء النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعوۃ الشفاعۃ لأمتہ، 1: 190، رقم: 200 أحمد بن حنبل، المسند، 258، 3: 218، رقم: 13305، 13731 ابن حبان، الصحیح، 14: 76، رقم: 6196)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صﷺنے فرمایا:
أَنَا سَیِّدُ وَلَدِ آدَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَأَوَّلُ مَنْ یَنْشَقُّ عَنْهُ الْقَبْرُ، وَأَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ.
میں قیامت کے دن ساری اولادِ آدم کا سردار ہوں گا، سب سے پہلے میری قبر شق ہوگی، میں سب سے پہلے شفاعت کرنے والا ہوں اور سب سے پہلے میری ہی شفاعت قبول کی جائے گی۔
(مسلم، الصحیح، کتاب الفضائل، باب تفضیل نبینا علی جمیع الخلائق، 4: 1782، رقم: 2278 أبوداود فی السنن،کتاب السنۃ، باب فی التخییر بین الأنبیاء علیھم السلام، 4: 218، رقم: 4673 أحمد بن حنبل، المسند، 2: 540، رقم: 10985)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عرض کیا گیا:
یَا رَسُوْلَ اللهِ! مَنْ أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِکَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ؟ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی الله علیه وآله وسلم: لَقَدْ ظَنَنْتُ یَا أَبَا ھُرَیْرَةَ! أَنْ لَا یَسْأَلَنِيْ عَنْ ھَذَا الْحَدِیْثِ أَحَدٌ أَوَّلُ مِنْکَ، لِمَا رَأَیْتُ مِنْ حِرْصِکَ عَلَی الْحَدِیْثِ، أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِي یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، مَنْ قَالَ: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ خَالِصاً مِنْ قَلْبِہِ أَوْ نَفْسِہِ.
یارسول اﷲ صلی اللہ علیک وسلم! قیامت کے روز آپ کی شفاعت کا سب سے زیادہ مستحق کون ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابوہریرہ! میرا گمان یہی تھا کہ اس بارے میں سب سے پہلے تم مجھ سے پوچھو گے کیونکہ میں نے حدیث کے ساتھ تمہاری بے پناہ رغبت دیکھی ہے۔ قیامت کے روز میری شفاعت حاصل کرنے میں سب سے زیادہ خوش نصیب وہ شخص ہوگا جس نے خلوص دل و جان سے(کلمہ) لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ پڑھا۔
بخاري، الصحیح، کتاب العلم، باب الحرص علی الحدیث، 1: 49، رقم: 99 أیضاً، کتاب الرقاق، باب صفۃ الجنۃ والنار، 5: 2402، رقم 6201
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
إِذَا کَانَ یَوْمُ الْقِیَامَۃِ کُنْتُ إِمَامَ النَّبِیِّیْنَ وَخَطِیْبَھُمْ وَصَاحِبَ شَفَاعَتِھِمْ غَیْرُ فَخْرٍ.
(ترمذي، الجامع الصحیح، کتاب المناقب، باب فی فضل النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، 5: 586، رقم: 3613 ابن ماجۃ، السنن، کتاب الزھد، باب ذکر الشفاعۃ، 2: 1443، رقم: 4314 أحمد بن حنبل، المسند، 5: 137)
میں قیامت کے دن تمام انبیاء علیہم السلام کا امام ہوں گا اور ان کی طرف سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ گفتگو کرنے والا اور ان کو اللہ تعالیٰ سے شفاعت کا حق دلانے والا ہوں گا اور میں یہ بات بطورِ فخر نہیں کہہ رہا۔
حضرت ام حبیبہ رضہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا :
میرے بعد میری امت جو کچھ کرے گی مجھے اس کا علم عطا کر دیا گیا ہے لوگ آپس میں لڑیں گے جس کے باعث ان کا حال بھی پچھلی قوموں کی طرح ہو جائے گا لیکن میں نے اللہ تعالیٰ سے اپنی امت کی شفاعت کا سوال کیاتو اسے قبول فرما لیا گیا ہے۔ (یعنی یہ کہ حضور ﷺ کو اپنی امت کے لئے شفاعت کرنے کا یعنی سفارش کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔)
(مسند احمد27410، التوحید لابن خزیمہ2/ 657، المستدرک علی الصحیحین227، شفا زریف1/ 421)
قاضی عیاض اپنی کتاب “الشفا” میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی ٰ نے قرآن پاک میں فرمایا :
عَسَىٰۤ اَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا
قریب ہے کہ تمہیں ، تمہارا رب ایسی جگہ کھڑا کرے گا جہاں سب تمہاری حمد کریں گے۔
(سورۃ الاسراء، آیت 79)
مقامہ محمود کا معنی محمود ایک مقام ہے جس پر رحمتِ کونینﷺ کو فائز کیا جائے گا۔ بعض علماء نے اس سے حضورﷺ کا قیام فرما ہونا مراد لیا ہے کہ مقام چونکہ ظرف ہے اس لئے حضورﷺ کو قیامت کے دن جس مقام پر کھڑا کیا جائے گا وہ مقامِ محمود ہے۔
جبکہ بعض علماء نے مذکورہ معنی کی بجائے یہ کہا ہے کہ مقامِ محمود سے مراد وہ خاص مقام، منصب، درجہ، مرتبہ اور منزلت ہے جس پر رحمتِ کونینﷺ کو روزِ قیامت فائز کیا جائے گا۔ اس معنی میں زیادہ وسعت، زیادہ صحت اور زیادہ بلاغت ہے۔ مقامِ محمود کی تمام روایات اور احادیث جو مقامہ محمود کو بیان کرتی ہیں انہیں جمع کیا جائے تو یہی معنی ان کی مراد کو سموتا ہے۔ اکثر علماء اور ائمہ تفسیر نے اسی دوسرے معنی کو اختیار کیا ہے۔ یہی معنی مذہب مختار ہے۔ اس مقام کو مقامِ محمود کیوں کہا گیا؟ اس کی تفصیل و تعبیر کتبہ حدیث میں بھی آئی ہے اور تمام تفاسیر میں بھی موجود ہے۔ لیکن سب سے اعلیٰ بات امامہابن کثیر نے کہی ہے۔
امام ابنِ کثیر رحمۃ اللہ علیہ (700 ۔ 774ھ) مقامِ محمود کا معنی ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں :
أي: افعل هذا الذي أمرتك به، لنقيمك يوم القيامة مقاما يحسدك فيه الخلائق كلهم وخالقهم، تبارك وتعالى
اے محبوب! آپ یہ عمل (نماز تہجد) ادا کیجئے جس کا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے تاکہ روزِ قیامت آپ کو اس مقام پر فائز کیا جائے جس پر تمام مخلوقات اور خود خالقِ کائنات بھی آپ کی حمد و ثناء بیان فرمائے گا۔
(تفسیر ابن کثير5/ 103)
حضرت عبداللہ بن عمر رضہ سے روایت ہے کہ:
إِنَّ النَّاسَ يَصِيرُونَ جُثًى يَوْمَ الْقِيَامَةِ، كُلُّ أُمَّةٍ تَتْبَعُ نَبِيَّهَا، يَقُولُونَ: يَا فُلَانُ اشْفَعْ لَنَا، يَا فُلَانُ اشْفَعْ لَنَا، حَتَّى تَنْتَهِيَ الشَّفَاعَةُ إِلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَلِكَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ
قیامت کے روز لوگوں کی مختلف جماعتیں ہوں گی اور ہر جماعت اپنے نبی کے پیچھے ہوگی اور ان سے عرض کرے گی کہ اے اللہ کے نبی آپ ہماری شفاعت فرمائیں ۔ آخر کار یہ معاملہ ہمارے آقا مولیٰ سیدنا محمدﷺ تک آپہنچے گا ۔ اس روز اللہ تعالیٰ آپﷺ کو مقام محمود پر فائز فرمائے گا ۔
( الزھد لاسد بن موسی63، صحیح البخاری4718، اھوال لابن ابی الدنیا152، السنن الکبریٰ للنسائی11231، الایمان لابن منذہ927، شفا شریف1/ 418)
یعنی ایسے مقام پر جہاں آپﷺ کودیکھ کر چھوٹے بڑے اور آپﷺ کےساتھی و مخالف ، سارے انسان اور ان کے ساتھ فرشتے آپﷺ کی تعریف اور مدح خوانی میں مگن ہوجائیں گے ، سب آپﷺ کی تعریف کرنے لگ جائیں گے۔
اسی طرح حضرت ابو ہریرہ رضہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ سے مقام محمود کے بارے میں پوچھا گیا تو آپﷺ نے فرمایا :
الشَّفَاعَةُ
وہ مقام شفاعت ہے ۔
( مسند احمد9735، 10839، شعب الایمان295، 296)
اسی طرح حضرت کعب بن مالک رضہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
قیامت کے دن سب لوگ اکھٹے کئے جائیں گے تو میں اپنی اُمت کے ساتھ ایک ٹیلے پر ہوں گا اور میرا رب مجھے سبز رنگ کا لباس پہنائے گا پھر مجھے شفاعت کی اجازت مل جائے گی اور اس وقت جن لفظوں میں اللہ تعالیٰ چاہے گا میں اللہ تعالیٰ کی خدمت میں اپنی گزارش پیش کروں گا ۔یہ جگہ اور آپﷺ کا یہ مرتبہ ہی مقام محمود ہوگا۔
(مسند احمد حاشیہ23/ 329، شفا شریف1/ 419)
حضرت عبداللہ بن عمر رضہ سے روایت ہے کہ اُنہوں نے حدیث شفاعت بیان کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ رسول اللہﷺ لوگوں کی شفاعت کرنے چل پڑیں گے اور جنت کی زنجیر کو کھٹکھٹائیں گے ، اس وقت اللہ تعالیٰ آپﷺ کو مقام محمود پر کھڑا کرے گا، جس کا اللہ تعالیٰ نے آپﷺ وعدہ فرمایا ہے ۔
( مسند احمد13562، الایمان لابن منذہ863، شفا شریف1/ 419)
اسی طرح حضرت عبداللہ بن مسعود رضہ سے روایت ہے :
فَأَقُومُ عَنْ يَمِينِهِ مَقَامًا لَا يَقُومُهُ أَحَدٌ غَيْرِي، يَغْبِطُنِي بِهِ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ
رسول اللہ ﷺعرش کے دائیں جانب ایک بہت ہی اعلیٰ مقام پر کھڑے ہوں گے جہاں دوسرا کوئی نہیں ہوگا۔ اور آپﷺ کو اس مقام پر دیکھ کر تمام انسان حیرت کریں گے۔
( مسند احمد 3787، شفا شریف1/ 420)
اور اسی طرح کی روایات حضرت کعب احبار رضہ اور حسن بصری رضہ سے روایت ہیں اور ایک روایت میں ہے کہ یہی وہ مقام ہے جہاں سے میں اپنی اُمت کی شفاعت کروں گا۔
(شفا شریف1/ 420)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺنے فرمایا:
اَنَا اَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الاَرْضُ فَاُكْسَى الْحُلَّةَ مِنْ حُلَلِ الْجَنَّةِ، ثُمَّ أَقُومُ عَنْ يَمِينِ الْعَرْشِ لَيْسَ أَحَدٌ مِنَ الْخَلَائِقِ يَقُومُ ذَلِكَ الْمَقَامَ غَيْرِي
میں ہی وہ سب سے پہلا شخص ہوں جس سے زمین (یعنی قبر) شق ہو گی، پھر مجھے ہی جنت کے جوڑوں میں سے ایک جوڑا پہنایا جائے گا، پھر میں عرش کی دائیں جانب کھڑا ہوں گا، اس مقام پر ساری مخلوقات میں سے میرے سوا کوئی نہیں کھڑا ہو گا۔
(جامع ترمذی 3611)
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نﷺسے کہا جائے کا کہ مانگئے آپ کو عطا کیا جائے گا، شفاعت کیجئے آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی، دعا مانگئے آپ کی دعا قبول کی جائے گی۔
فَيَرْفَعُ رَأْسَهُ فَيَقُولُ: أُمَّتِي أُمَّتِي مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ” فَقَالَ سَلْمَانُ: فِي كُلِّ مَنْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ حِنْطَةٍ مِنْ إِيمَانٍ أَوْ مِثْقَالُ شَعِيرَةٍ مِنْ إِيمَانٍ أَوْ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ قَالَ سَلْمَانُ: فَذَلِكَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ
آپ ﷺ اپنا سر انور اُٹھائیں گے اور دو یا تین مرتبہ اُمتی اُمتی (اے اﷲ! میری اُمت، میری اُمت) کہیں گے۔حضرت سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شفاعت ہر اُس شخص کے لئے ہو گی جس کے دل میں گندم کے دانے کے برابر یا جو کے برابر یا تل کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو گا۔ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہی آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا مقام محمود ہے۔
( مصنف ابن ابی شیبہ 30387)
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور نبیﷺ نے فرمایا:
اَشْفَعُ لِأُمَّتِي حَتَّى يُنَادِيَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ، فَيَقُولُ: أَرَضِيتَ يَا مُحَمَّدُ؟ فَأَقُولُ: نَعَمْ، رَضِيتُ
میں اپنی اُمت کے لئے شفاعت کروں گا یہاں تک کہ میرا ربّ مجھے پکار کر فرمائے گا: اے محمد، کیا آپ راضی ہو گئے؟ تو میں کہوں گا: ہاں (اے میرے ربّ!) میں راضی ہو گیا ہوں۔
( المعجم الاوسط 2062، حلیۃ الاولیاء 179)
معجزہ وہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کرام کو عطا فرماتا ہے جن کے ذریعے لوگوں کے اوپر انبیاء کی سچائی واضح ہو سکے۔ وہ ایسے کام ہوتے ہیں جو انسان کی حیثیت سے کوئی کر ہی نہ سکے یا کچھ ایسی چیزیں ہوتی ہیں جن کا جواب انسان نہ دے سکے۔
حضور ﷺ کے معجزات میں سب سے پہلا معجزہ قرآن پاک ہے جب تک دنیا رہے گی حضور ﷺ کا یہ زندہ معجزہ موجود رہے گا ۔آپﷺ پر نازل ہونے والا یہ کلام اس لحاظ سے معجزہ ہے کہ عرب اپنی زبان پر بہت فخر کرتے تھے اور یہ مانا جاتا تھا کہ عربی زبان بہت اعلیٰ زبان ہے۔ عرب اپنی زبان پر بہت عبور رکھتے تھے اور شعر و شاعری بھی کرتے تھے۔
ولید بن مغیرہ نے حضور پاک ﷺ کی زبان مبارکہ سے قرآن پاک کی چند آیات سنیں تو وہ بہت متاثر ہوا، لیکن جیسے ہی ابوجہل کو اس بات کا علم ہوا تو وہ اس کے پاس قرآن پاک کا انکار کرتے ہوئے پہنچ گیا اور کہا کہ نہیں نہیں یہ تو محض ایک شعر ہے۔
اِس پر ولید نے کہا:
وَاللَّهِ مَا مِنْكُمْ أَحَدٌ أعلم بِالْأَشْعَارِ مِنِّي وَاللَّهِ مَا يُشْبِهُ الَّذِي يَقُولُ شَيْئًا مِنْ هَذَا
خدا کی قسم تم میں سے کون ہے جو شعرو شاعری کا علم مجھ سے زیادہ رکھتا ہو، لیکن حضور ﷺ جو کلام پیش کر رہے ہیں وہ شعرو شاعری نہیں ہے۔
پھر ولید بن مغیرہ نےکفار ِقریش کہ ساتھ جمع ہو کر یہ طے کیا کہ حج کا موسم آنے والا ہے حجاج کے قافلے آئیں گے تو ہمیں چاہیے کہ ہم حضورﷺ کے خلاف بات چیت کرنے کے لئے کسی ایک رائے پر متفق ہو سکیں تاکہ ہم لوگوں کو گمراہ کر سکیں۔ ان میں سے کچھ نے کہا کہ ہمیں کہنا چاہیے کہ (نعوذباللہ) حضور ﷺ جادوگر ہیں۔
ولید نے کہا کہ واللہ وہ جادوگر نہیں ہیں کیونکہ میں نے انہیں کبھی ایسی باتیں کرتے نہیں دیکھا تو کفار نے کہا کہ ہم انہیں پاگل کہیں گے۔( نعوذ باللہ ) ولید نے کہا کہ وہ پاگل تو نہیں ہیں کیونکہ نہ تو وہ پاگلوں کی طرح غلط اور بے ہودہ باتیں کرتے ہیں، تو لوگوں نے کہا کہ پھر ہم ان کو شاعر کہیں گے۔ ولید نے کہا کہ واللہ وہ تو شاعر بھی نہیں ہیں کیونکہ شاعری ہم عرب خوب جانتے ہیں اور قرآن پاک میں کسی طرح سے شعر و شاعری نظر نہیں آتی۔
ان سب نے مل کر کہا کہ ہم سب مل کر حضورﷺ کو جادوگر کہیں گے۔ (نعوذباللہ) تو ولید نے کہا کہ میں نے انہیں جادو گر کی طرح گرہیں لگاتے اور ایسی حرکتیں کر تے کبھی نہیں دیکھا، تو ولید بھی پریشان ہونے لگا اور کہنے لگا کہ ہم حضور ﷺ پر جو الزام لگانا چاہتے ہیں وہ آپﷺ کی زندگی سے غلط ثابت ہوجاتا ہے کہ آپﷺ نے ایسی غلط اور بے معنی باتیں کبھی کی ہی نہیں ۔
اب یہ بات خود ہی ایک معجزہ ہے کہ جب حضور ﷺ پاک پیش کر رہے تھے وہ لوگ اس کو غلط ثابت کرنے کے لئے مشکل میں تھے۔ انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ( نعوذباللہ) ہم یہ کہیں گے کہ حضور ﷺ وہ جادو گر ہیں کہ جو ماں باپ، میاں بیوی اورباپ بیٹے میں جدائی ڈال دیتے ہیں اور حج کے لئے آنے والوں کے راستوں میں جا بیٹھے کہ وہاں سے آنے والے لوگوں کو بہکا سکیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اسی ولید بن مغیرہ کے بارے میں آیات نازل فرمائیں جس میں اس کو یہ وعدہ فرمایا کہ اس کو جہنم میں ڈالیں گے اور اس پر لعنت کردی ۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اس بات پر مہر لگادی کہ وہ جہنم میں جائے گا ۔
عتبہ بن ربیعہ نے قرآن کریم سنا تو اپنی قوم سے کہا :
قَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي لَمْ أَتْرُكْ شَيْئًا إِلَّا وَقَدْ عَلِمْتُهُ وَقَرَأْتُهُ وَقُلْتُهُ.. وَاللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُ قَوْلًا.. وَاللَّهِ مَا سَمِعْتُ مِثْلَهُ قَطُّ.. مَا هُوَ بِالشِّعْرِ، وَلَا بِالسِّحْرِ، وَلَا بِالْكِهَانَةِ
خدا کی قسم یہ ایسا کلام ہے جو نہ کبھی میں نے پڑھا اور نہ کبھی سنا ، یہ نہ تو شعر ہے اور نہ ہی جادوگری ہے ۔ سبحان اللہ !!
آپ دیکھیں کہ حضور ﷺ کے مخالف بھی مجبور تھے کہ آپﷺ کے پیش کردہ قرآن پاک کی فضیلت کو مانیں اور وہ مجبو ر تھے کہ وہ اس کو کچھ اور ثابت ہی نہیں کر سکے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم معجزہ ہے جو حضور ﷺ کو عنایت ہوا ۔
( شفا شریف1/ 511 تا 513)
حضرت ابو ذر رضہ کے اسلام لانے کا جو واقعہ ہے کہ انہوں نے اپنے بھائی اُنَیْس کی تعریف میں کہا تھا کہ میں نے باخدا کسی آدمی کے بارے میں نہیں سنا جو میرے بھائی سے بڑھ کر بہتر شاعر ہو کیونکہ کفر کے دور میں انہوں نے بارہ شاعروں سے مقابلہ کیا جن میں سےایک میں بھی ہوں اور جیت گئے۔
چنانچہ وہ مکہ مکرمہ گئے اور وہاں سے حضور ﷺ کی خبرلے کر آئے تو میں نے پوچھا کہ لوگ ان کے بارے میں کیا کہتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ لوگ انہیں شاعر کہتے ہیں یا انہیں جادوگر کہتے ہیں۔ (نعوذباللہ) لیکن میں نےجادوگروں کی باتیں سنی ہیں اور شعر تو میں خود لکھتا ہوں نہ میں نےآپ کی باتوں میں جادو گری دیکھی نہ ان کی باتیں کاہنوں جیسی لگی ہیں۔ آپ کے کلام کو شعر کے مدمقابل رکھا جاتاہے تو یہ کسی شعر جیسا نہیں لگتا۔
وَاللَّهِ إِنَّهُ لَصَادِقٌ، وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ
اللہ کی قسم وہ بالکل سچے ہیں اور جو لوگ آپ پر الزام لگا رہے ہیں اصل میں وہ جھوٹے ہیں ۔
(صحیح ابن حبان7133، سیر الصالحین للاصبہانی2/ 321 تا 323، شفا شریف1/ 514، الإعلام بما في دين النصارى من الفساد والأوهام للقرطبی، ص335، 336، البداية والنهاية – ت التركي 4/95، الجواب الصحيح لمن بدل دين المسيح لابن تيمية 5/365)
اسی طرح قرآن پاک کا معجزہ ہونا اس بات سے بھی ثابت ہے کہ تمام کفار کو اللہ تعالیٰ نے یہ چیلنج دیا کہ اس جیسا کوئی کلام بنا کر لے آئیں جبکہ عرب اپنی زبان پر بہت فخر کرتے تھے اور وہ بہت اچھا پڑھنا لکھنا جانتے تھے، لیکن وہ قرآن پاک کی سب سے چھوٹی “سورۃالکوثر”کے برابر بھی کلام بنا کر نہ لا سکے۔
اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو قرآن پاک ایک معجزے کی صورت میں عطا کیا اور عربوں نے اپنی تمام نفرت اور مخالفت کے باوجود حضورﷺ کو جھوٹا ثابت نہ کر سکے اور قرآن پاک جیسا کلام بنا کر نہ لا سکے ۔
واقعہ معراج حضو رﷺ کی ان خصوصیا ت میں سے ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کی افضلیت تمام انبیاء اور دنیا جہاں کی تمام چیزوں پر ثابت فرما دی ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا:
سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ البَصِيرُ
پاکی ہے اسے جو اپنے بندے کو راتوں رات لے گیا مسجد حرام سے مسجداقصیٰ تک جس کے ارد گرد ہر طرف ہم نے برکتیں رکھی ہیں کہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں بیشک وہ سنتا دیکھتا ہے۔
(سورۃ الاسرا، آیت 1)
اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا:
وَ النَّجۡمِ اِذَا ھَوٰی ۙ﴿۱﴾ مَا ضَلَّ صَاحِبُکُمۡ وَ مَا غَوٰی ۚ﴿۲﴾ وَ مَا یَنۡطِقُ عَنِ الۡہَوٰی ؕ﴿۳﴾ اِنۡ ھُوَ اِلَّا وَحۡیٌ یُّوۡحٰی ۙ﴿۴﴾
اس پیارے چمکتے تارے محمدﷺ کی قسم جب یہ معراج سے اترے تمہارے صاحب نہ بہکے اور نہ ہی وہ غلط چلے اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے۔
(سورۃ انجم ، آیت 1-7)
واقعہ معراج کہ بارے میں مسلمانوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے اپنے الفاظ اور قرآنی آیات سے ثابت ہے۔ اس کی تفصیلات بہت ساری احادیث میں موجود ہے، جو امت میں اسلام کی ابتدا سے آج تک مشہور ہیں۔
قاضی عیاض صاحب نے اپنی کتا ب “الشفاء” میں حضرت انس رضہ سے روایت کیا کہ حضور ﷺ نے فرما یا:
أُتِيتُ بِالْبُرَاقِ، وَهُوَ دَابَّةٌ أَبْيَضُ، فَوْقَ الْحِمَارِ وَدُونَ الْبَغْلِ، يَضَعُ حَافِرَهُ عِنْدَ مُنْتَهَى طَرْفِهِ، قَالَ: فَرَكِبْتُهُ فَسَارَ بِي حَتَّى أَتَيْتُ بَابَ الْمَقْدِسِ، فَرَبَطْتُ الدَّابَّةَ بِالْحَلْقَةِ الَّتِي يَرْبِطُ بِهِ الأَنْبِيَاءُ، قَالَ: ثُمَّ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَصَلَّيْتُ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجْتُ، فَجَاءَنِي جِبْرِيلُ بِإِنَاءٍ مِنْ خَمْرٍ، وَإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ، فَاخْتَرْتُ اللَّبَنَ، فَقَالَ جِبْرِيلُ: أَصَبْتَ الْفِطْرَةَ
میرے پاس براق لایا گیا جو سفید رنگ کا گھوڑا تھا ، گدھے سے تھوڑا بڑا اور خچر سے تھوڑا چھوٹا تھا اور وہ اتنا تیز جانور ہے کہ جتنی دور اس کی نظر پہنچتی ہے اتنے فاصلے پر وہ ایک قدم رکھتاہے نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں کہ میں اس پر سوار ہو کر بیت المقدس گیا اور اسی پتھر کے ساتھ اس براق کو باندھا جس کے ساتھ دوسرے انبیا ء کرام اپنی سواریوں کو باندھا کرتے تھے اس کے بعد مسجد میں دو رکعت نماز ادا کی اور مسجد سے باہر آیا تو جبرائیل ؑکہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ آپ نے فطرت کو اختیار فرمایا ہے۔
اس کے بعد وہ ہمیں لے کر آسمان تک پہنچے ۔
فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ، فَقِيلَ مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: جِبْرِيلُ. قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ مُحَمَّدٌ. قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إليه؟ قال: قد بعث إليه
جبرائیل ؑنے آسمان کے دروازے پر دستک دی ، پوچھاگیا کہ آپ کون ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا میں جبرائیل ہوں ، پوچھاگیا کہ آپ کے ساتھ کون ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ میرے ساتھ محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔پھر یہ پوچھا گیا کہ کیا انہیں بلایا گیا ہے جواب دیا کہ ہاں انہیں بلایا گیا ہے ۔
چنانچہ دروازہ کھول دیا گیا میں نے دیکھا کہ وہاں حضرت آدم ؑبھی موجود ہیں۔ آپ نے خوش آمدید کہا اور خیروبرکت کی دعائیں دی ۔ اس کے بعد براق ہمیں دوسرے آسمان تک لے گیا ، جبرائیل علیہ اسلام نےدروازہ کھولنے کے لئے کہا تو آواز آئی کہ آپ کون ہیں؟ جواب دیا میں جبرائیل ہوں ، پوچھاگیا کہ آپ کے ساتھ کون ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ میرے ساتھ محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔ مزید یہ پوچھا گیا کہ انہیں کیا بلایا گیا ہے جواب دیا کہ ہاں انہیں بلایا گیا ہے۔ چنانچہ دروازہ کھول دیا گیا ۔
فَلَمَّا خَلَصْتُ فَإِذَا يَحْيَى وَعِيسَى وَهُمَا ابْنَا خَالَةٍ، قَالَ: هَذَا يَحْيَى وَعِيسَى فَسَلِّمْ عَلَيْهِمَا، فَسَلَّمْتُ فَرَدَّا، ثُمَّ قَالاَ: مَرْحَبًا بِالأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ
نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ دونوں خالہ زاد بھائی یعنی حضرت عیسٰی اور حضرت یحیٰ علیہ السلام وہاں موجود تھے۔ انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور خیرو برکت کی دعائیں دی۔
( صحیح البخاری3430)
اس کے بعد براق ہمیں تیسرے آسمان تک لے گیا اور اسی طرح جیسے پچھلے آسمانوں پہ واقعہ پیش آئے تھے یہاں بھی ویسا ہی پیش آیا۔ سوال وجواب ہوئے اور آخر کار جب دروازہ کھولا گیا تو وہاں حضرت یوسف علیہ اسلام موجود تھے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے آدھا حسن عطا فرمایا تھا۔ آپ نے مجھے مرحبا کہا اور خیروبرکت کی دعائیں دی ۔
اس کے بعد براق ہمیں چوتھے آسمان تک لے گیا وہاں بھی اسی طرح سوال و جواب ہوئے اور دروازہ کھلنے پر معلوم ہو ا کہ وہا ں حضرت ادریس علیہ اسلام تشریف فرما ہیں۔ انہوں نے خوش آمدید کہا اور خیروبرکت کی دعائیں دی۔ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا
اور ہم نے اس کوبلند مقام پر اٹھالیا۔
(سورۃ مریم، آیت 57)
پھر براق ہمیں پانچویں آسمان تک لے گیا اور وہاں بھی یہی واقعہ پیش آیا دروازہ کھلنے پر دیکھا کہ وہاں حضرت ہارون علیہ اسلام تشریف فرما ہیں۔ انہوں نے بھی خوشامدید کہا اور خیروبرکت کی دعائیں دی ۔
پھر براق ہمیں چھٹے آسمان تک لے گیا وہاں بھی اسی طرح سوال و جواب ہوئے ، دروازہ کھلنے پر دیکھا کہ وہاں حضرت موسیٰ علیہ اسلا م موجود ہیں انہوں نے بھی خوش آمدید کہا اور خیروبرکت کی دعائیں دی ۔ اس کے بعد براق ہمیں ساتویں آسمان تک لے گیا اور اسی طرح سب معاملہ پیش آیا، دروازہ کھلنے پر دیکھا کہ حضرت ابراہیم علیہ اسلام تشریف فرما ہیں اور بیت المعمور کے ساتھ انہوں نے ٹیک لگائی ہوئی ہے۔
وَإِذَا هُوَ يَدْخُلُهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ، لَا يَعُودُونَ إِلَيْهِ. ثُمَّ ذَهَبَ بِي إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَىوَإِذَا هُوَ يَدْخُلُهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ، لَا يَعُودُونَ إِلَيْهِ. ثُمَّ ذَهَبَ بِي إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى وَإِذَا وَرَقُهَا كَآذَانِ الْفِيَلَةِ وَإِذَا ثمرها كالقلال
یہ بیت المعمور فرشتوں کا خانہ کعبہ ہے روزانہ وہاں ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں ۔ جس فرشتے کی اس میں داخل ہونے کی بار ی ایک بار آجاتی ہے وہ دوبارہ قیامت تک نہیں آئے گی اس کے بعد براق حضورﷺ کو سدرۃالمنتہیٰ تک لے گیا جس کے پتے ہاتھی کے کانوں جیسے ہیں اورپ اتنے بڑے ہیں جیسے مٹکے ہوں یعنی کہ بہت بڑے بڑے پھل ہیں ۔
حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکم نے اس سدرۃ المنتہیٰ کو ڈھانپ رکھا ہے اور خاص رحمت خداوندی نے اس کو اپنی لپیٹ میں لیا ہو اہے۔ اور مخلوق کی کیا مجال جو اس کے حسن اور اس کے کمال کو بیان کرے۔ وہاں پر اللہ تعالیٰ نے جو چاہا وہ آپﷺ پر وحی فرمائی اور روزانہ پچاس نمازیں فرض فرما دیں جب فارغ ہو کر آپﷺ واپس آرہے تھے تو حضرت موسیٰ ؑسے آپﷺ کی ملاقات ہوئی،آپ نے پوچھا یا سید المرسلین اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کی امت پر کیا فرض کیا ہے تو آپﷺ نے جواب دیا روزانہ پچاس نمازیں کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ آپ واپس جا کر ان کو کم کروا لیجئے ۔ کیونکہ آپﷺ کی امت میں یہ طاقت نہیں ہے اور اس سے پہلے میں بنی اسرائیل کوآزما چکا ہوں۔ حضور ﷺ واپس لوٹے اور اللہ کی بارگا ہ میں نمازوں کی کمی کے لئے گزارش کی اللہ تعالیٰ نے پانچ نمازیں کم کردیں۔ واپس جب تشریف لائے تو حضرت موسیٰ سے ان پانچ نمازوں کی معافی کا ذکر کیا حضرت موسیٰ ؑنے کہا کہ حضور آپﷺ کی امت میں اتنی طاقت نہیں آپﷺ جاکر اور کمی کرائیں ۔
حضورﷺحضرت موسیٰ کہ کہنے پرواپس پلٹے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جا کر نمازوں کو کم کرنے کا مسئلہ پیش کیا یہاں پر اللہ تعالیٰ نے فرمایااے حبیب آپﷺ کی امت پر روزانہ پانچ نمازیں پڑھنا فرض ہے یہ اگرچہ گنتی میں پانچ نمازیں ہوں گی مگر ان کا ثواب اتنا دیا جائے گا کہ جتنا پچاس نمازوں کا ہوتا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایاکہ اگر آپﷺ کے کسی امتی نے نیکی کا ارادہ کیا اور اسے نہ کر سکا تب بھی اس کے نام اعمال میں ایک نیکی لکھ دی جائے گی اور اگر اس نے اسے کر دیا تو اسے دس نیکیوں کا ثواب ملے گا لیکن اگر کسی نے برے کام کا ارادہ کیا اور اسے نہ کر سکا تو وہ اس کےحساب میں نہیں لکھا جائے گا اور اگر اس نے برائی کر دی تو پھر بھی اس کی ایک ہی برائی لکھی جائے گی ۔
حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ واپس آتے وقت وہ جب حضرت موسیٰ ؑسے ملے اور انہیں یہ بات بتائی تو وہ کہنے لگے حضور ﷺبارگاہ خداوندی سے ان نمازوں میں اور کمی کروا لیجیے تو حضور ﷺ نے فرمایاکہ:
قَدْ رَجَعْتُ إلى ربي حتى استحيت منه
مجھے اس سلسلے میں اب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جاتے ہوئے شرم آتی ہے ۔
( شفا شریف1/ 344 تا 346، صحیح البخاری3207، 3887، صحیح مسلم164، )
اِس طرح نمازوں کے تحفے کے ساتھ حضورﷺ معراج شریف سے واپس تشریف لائے۔
امام زہری رحمتہ روایت کرتے ہیں ہر نبی نے معراج کی رات آپﷺ کو کہا:
مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ إِلَّا آدَمَ وَإِبْرَاهِيمَ فَقَالَا لَهُ وَالِابْنِ الصَّالِحِ
مرحبا نبی صالح نیک بھائی کہا لیکن حضرت آدم علیہ اسلام اور حضرت ابراہیم علیہ اسلام نے آپﷺ کو یا صالح اور نیک بیٹا کہا۔
( شفا شریف1/ 349، صحیح البخاری3393)
حضرت عبداللہ بن عباس رضہ کی حدیث میں بھی یہی ہے کہ:
ثُمَّ عرج بي حتى ظهرت بمستوى أسمع فيه صَرِيفَ الْأَقْلَامِ
پھر براق مجھے اوپر لے گیا یہاں تک کی ایک ایسی جگہ پہنچ گیا کہ وہاں پر قلموں کی چلنے کی آوازیں سننے لگا یہ قلم وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے تقدیر لکھتے ہیں ۔
( شفا شریف1/ 349)
حضرت انس رضہ کی روایت میں ہے کہ:
ثُمَّ انْطُلِقَ بِي حتى أتيت سدرة المنتهى فَغَشِيَهَا أَلْوَانٌ لَا أَدْرِي مَا هِيَ
پھر براق ہمیں اور اوپر لے گیا حتٰی کہ میں سدرۃالمنتہیٰ تک جا پہنچا جو ایسے مختلف رنگوں سے بھرا ہو ا تھا کہ عقل اس کی کیفیت بیان نہیں کر سکتی تھی ۔
( شفا شریف1/ 350)
مالک بن صعصعہ کی روایت میں ہے:
فَأَتَيْتُ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ، فَلَمَّا جَاوَزْتُهُ بَكَى، فَنُودِيَ: مَا يُبْكِيكَ؟
جب حضرت موسیٰ علیہ کے پاس سے میرا گزر ہو ا تو وہ روپڑے تو آواز آئی کہ اے موسیٰ رونے کی کیا وجہ ہے انہوں نے کہا کہ اے پروردگار تو نے اس نوجوان کو میرے بعد دنیا میں بھیجا لیکن میری امت کی نسبت اس کی امت جنت میں زیادہ جائے گی ۔
( صحیح مسلم164، شفا شریف1/ 350)
حضرت ابو ہریرہ رضہ کی روایت میں ہے کہ:
فَحَانَتِ الصَّلَاةُ وَأَمَمْتُهُمْ فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنَ الصَّلَاةِ، قَالَ لِي قَائِلٌ: يَا مُحَمَّدُ هَذَا مَالِكٌ خَازِنُ النَّارِ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ فَبَدَأَنِي بِالسَّلَامِ
انبیا ء کرام کی جماعت میں جب حضور ﷺ پہنچے تو نماز کا وقت ہو گیا تو میں نے نماز میں ان کی امامت کا فریضہ انجام دیا۔ تو کسی نے کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ جو فرشتے ہیں یہ دوزح کےانچارج ہیں انہیں سلام کر لیجیے ، آپ ﷺفرماتے ہیں کہ جب میں ان کی طرف دیکھا تو انہوں نے پہلے مجھے سلام کیا۔
( مستخرج ابی عوانہ350، شرح مشکل الآثار5011، الایمان لابن منذہ 740، الإفصاح عن معاني الصحاح8/ 27، التقييد والإيضاح شرح مقدمة ابن الصلاح، ص296، شفا شریف1/ 350)
حضرت ابو ہریرہ رضہ کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ جب میں بیت المقدس میں آیا تو میں نے براق کو صخرہ نامی پتھر سے باندھ دیا پھر فرشتوں کے ساتھ نماز پڑھی جب نماز سے فارغ ہوئے تو بعض فرشتوں نے حضرت جبرائیل علیہ اسلام سے پوچھا کہ آپ کے ساتھ یہ کو ن ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ خاتم النبیین محمدرسول اللہ ﷺ ہیں پوچھا کیا ان کو بلایا گیا ؟تو حضرت جبرائیل نے جواب دیا کہ ہاں۔
یہ سن کر ان فرشتوں نے مجھے سلام کیا اور خوش آمدید کہا ۔
یہ کہا کہ بہترین بھائی اور بہترین خلیفہ ہیں ۔ اس کے بعد انبیا ء کرام علہیم اسلام کی اوراح مقدسہ سے ملاقات ہوئی ۔ انہوں اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء بیان کی اور روایت کے مطابق ہر نبی کہ مقدس الفا ظ ذکر کئے۔ آخر میں آپﷺ نے اپنے رب کی حمدو ثناء بیان کی اور بیان سے پہلے انبیاء کرام کو مخاطب کر کے فرمایا کہ آپ حضرات نے اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء بیان کی اب میں کرتا ہوں۔
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَرْسَلَنِي رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ.
وَكَافَّةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا.
وَأَنْزَلَ عَلَيَّ الْفُرْقَانَ فِيهِ تِبْيَانُ كُلِّ شَيْءٍ.
وَجَعَلَ أُمَّتِي خَيْرَ أُمَّةٍ.
وَجَعَلَ أُمَّتِي أُمَّةً وَسَطًا.
وَجَعَلَ أُمَّتِي هُمُ الْأَوَّلُونَ وَهُمُ الْآخِرُونَ.
وَشَرَحَ لِي صَدْرِي، وَوَضَعَ عَنِّي وِزْرِي، وَرَفَعَ لِي ذِكْرِي، وَجَعَلَنِي فَاتِحًا وَخَاتَمًا.
سب تعریفیں اللہ تعالی ٰ کے لئے جس نے مجھے سارے جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا اور سب کو خوشخبری دیتا اور ان کو ڈر سناتا ، اور مجھ پر قران کریم نازل فرمایا جس میں سب چیزوں کا بیان ہے اور میری امت کو بہتر درمیانے رستے والا معتدل بنایا اور میری امت ہی اول ہے اور وہی آخر ہے اور اللہ نے میرا سینہ کھول دیا اور میرا بوجھ مجھ سے ہٹادیا ور میرا ذکر بلند فرمایا ہے اور میں فاتح ہوں آخری نبی بنایا گیا ہوں ۔
یہ سن کر حضرت ابراہیم علیہ نے فرمایا کہ:
بِهَذَا فَضَلَكُمْ مُحَمَّدٌ
اس سے یہ بات ثابت ہورہی ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ ہم سب سے افضل اور اعلیٰ ہیں ۔
(شفا شریف1/ 350)
قاضی عیاض صاحب نے اپنی کتا ب “الشفاء” میں لکھاہے کہ حضورﷺ معراج میں سدرۃالمنتہیٰ تک پہنچے سدرۃالمنتہیٰ ایک درخت ہے جس کے بارے میں ہم پہلے بتا چکے ہیں اور سب سے اعلیٰ مقام ہے ۔ آپﷺ کے نقش قدم پر چلنے والے جو لوگ ہوں گے وہ زیادہ سے زیادہ یہاں تک پہنچ سکتے ہیں اس سے آگے نہیں۔
سدرۃالمنتہیٰ کی جڑ سے ایسے پانی کی لہریں نکلتی ہیں جو خراب نہیں ہوتا اور ایسا دودھ جس کا ذائقہ کبھی تبدیل نہیں ہوتا اور ایسی شراب جو پینے والے کو بہت لذت دیتی ہے اور صاف شہد کی نہریں بھی رواں دواں ہیں اور یہ اتنا بڑا درخت ہے کہ اس کے سائے میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک ایک سوار ستر برس تک چل سکتا ہے اس درخت کو نور نے اور نور کو اللہ تعالیٰ کے فرشتوں نے ڈھانپ رکھا ہے ۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو اپنی بارگا ہ میں بلایا اورفرما یا کہ اے حبیب جو چاہو مجھ سے مانگ لو تو نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی خدمت میں کہاکہ اے پروردگار تو نے حضرت ابراہیم علیہ اسلام کو خلیل بنایا اور انہیں بہت بڑی بادشاہی عطا کی حضرت موسیٰ علیہ اسلام کو اپنے سے بات کرنے کا شرف دیا اور حضرت داؤد علیہ اسلام کو ایک عظیم سلطنت اور ملک عطاکیا ۔اور لوہے کو ان کے لئے نرم کر دیا اور پہاڑوں کو ان کا فرما بردار بنا دیا اور حضرت سلیمان علیہ اسلام کو ایسی بادشاہت عطافرمائی کہ جس میں انسان و جن اور شیاطین ان کا حکم مانتے تھے ۔ اوران کو بادشاہت عطافرمائی کہ اس کے بعد کسی کو عطانہیں کی اور حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کو توریت اور انجیل کا علم عطافر مایا اور انہیں ایسا معجزہ عطافرمایا کہ جو پیدائشی اندھے تھے اور جن کو کوڑ کا مرض تھا ان کو تندرست کر دیتے تھے ۔انہیں اور ان کی والدہ کو یعنی حضرت مریم علیہ اسلام کو شیطان کے شر سے محفوظ رکھا تاکہ وہ ان پر کسی طرح قابو نہ پا سکے۔
تو اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ:
قَدِ اتَّخَذْتُكَ خَلِيلًا وَحَبِيبًا، فَهُوَ مَكْتُوبٌ فِي التَّوْرَاةِ: مُحَمَّدٌ حَبِيبُ الرَّحْمَنِ: وَأَرْسَلْتُكَ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً، وَجَعَلْتُ أُمَّتَكَ هُمُ الْأَوَّلُونَ وَهُمُ الْآخِرُونَ، وَجَعَلْتُ أُمَّتَكَ لَا تَجُوزُ لَهُمْ خُطْبَةٌ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنَّكَ عَبْدِي وَرَسُولِي، وَجَعَلْتُكَ أَوَّلَ النَّبِيِّينَ خَلْقًا، وَآخِرَهُمْ بَعْثًا وَأَعْطَيْتُكَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي، وَلِمْ أُعْطِهَا نَبِيًّا قَبْلَكَ، وَأَعْطَيْتُكَ خواتيم سورة البقرة من كنز تحت عرش، ولم أُعْطِهَا نَبِيًّا قَبْلَكَ، وَجَعَلْتُكَ فَاتِحًا وَخَاتَمًا
اے حبیب ﷺ میں نے آپ کو خلیل ، اور حبیب بنایا ہے چنانچہ توریت میں آپﷺ کا نام محمد حبیب الرحمان لکھا ہوا ہے ۔ اور میں نے آپ کو تمام انسانو ں کی جانب رسول بنا کر بھیجا ہے اور آپکی امت کو یہ اعزاز دیا ہے کہ وہ فضیلت کے لحاظ سے ساری امتوں میں اول اور اپنے زمانے کے لحاظ سے سب سے آخر ہیں ۔ اور ان کا خطبہ پڑھنا اس وقت تک درست نہیں جب تک کہ وہ یہ شہادت نہ دیں کہ آپ میرے بندے اور رسول ہیں ۔ اور آپ کو سب نبیوں سے پہلے پیدا کیا اور تمام انبیاء سے آخر میں مبعوث فرمایا۔ اور آپ کو سات آیا ت والی سورۃ عطا کی جو کہ سورہ فاتح ہے جو آپ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور سورۃ البقرہ کی آخری آیات عطا کیں جو عرش اعظم کے نیچے کا خزانہ ہے اور یہ بھی کسی اور نبی کو عطا نہیں کی گئی۔ اور اس کے ساتھ آپﷺ کو فاتحہ اور آخری نبی بنایا۔
(شفا شریف1/ 352، 353)
اسی طرح ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے آپﷺ کو تین خاص چیزیں عطا کی ہیں ۔
أُعْطِيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ، وَأُعْطِيَ خَوَاتِيمَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، وَغُفِرَ لِمَنْ لَمْ يُشْرِكْ بِاللهِ مِنْ أُمَّتِهِ شَيْئًا، الْمُقْحِمَاتُ
1۔ پانچ نمازیں
2۔ سورۃ البقرہ کی آخری آیات
3۔ آپ ﷺ کی امت کی بخششز
( صحیح مسلم173، مستخرج ابی عوانہ345، (شفا شریف1/ 354)
یعنی امت محمدیہ کا جو شخص خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے اس کی مغفرت ہو جائے گی ۔اس کے برے سے برے اور بڑے سے بڑے گناہ بھی حضورﷺکا امتی ہونے کی وجہ سے اور آپﷺ کی شفاعت کی وجہ سے بخش دیے جائیں گے ۔
واقعہ معراج اور اذان کی تعلیم:
حضرت علی بن ابی طالب رضہ سے روایت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو اذان کی تعلیم دینے کا ارادہ فرمایا تو حضر ت جبرائیل ؑ کو ایک جانور دے کر آپ ؐ کی خدمت میں بھیجا اس جانور کو براق کہتے ہیں اور جب حضورﷺ نے اس پر سوار ہونے کا ارادہ فرمایا تو براق اچھلنے کودنے لگا تو حضرت جبرائیل علیہ نے فرمایا :
اسْكُنِي فَوَاللَّهِ مَا رَكِبَكِ عَبْدٌ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَرَكِبَهَا حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْحِجَابِ الَّذِي يَلِي الرَّحْمَنَ تَبَارَكَ وَتَعَال
ا ے براق تسلی رکھ ۔ اللہ کے نزدیک میں ان سے بڑھ کر کرئی معزز اور محبوب نہیں ہے۔
اس کے بعد آپﷺ اس براق پر سوار ہوگئے اور اس حجاب(پردہ) تک پہنچے وہ حجاب جو اللہ تعالیٰ کی خاص تجلیات( اللہ تعالیٰ کا خاص نور) کے قریب ہے۔
اسی دوران ایک فرشتہ پردے کے اندر سے نکلا تو آپﷺ نے فرما یا کہ: اے جبرائیل یہ کون ہیں ؟ حضرت جبرائیل ؑ نے کہا کہ:
وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنِّي لَأَقْرَبُ الْخَلْقِ مَكَانًا وَإِنَّ هَذَا الْمَلَكُ مَا رَأَيْتُهُ مُنْذُ خُلِقْتُ قَبْلَ سَاعَتِي هَذِهِ
اے حضور ﷺ مجھے اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا میں دنیاوی لحاظ سے یا فاصلوں کے لحاظ سے دوسروں کی نسبت اللہ تعالیٰ کی تجلیات کے زیادہ قریب رہتا ہوں لیکن اپنی پیدائش سے لے کر آج تک میں نے اس فرشتے کو کبھی نہیں دیکھا اس فرشتے نے کہا ۔ اللہ اکبر، اللہ اکبر۔ تو اس حجاب یا پردے کے اندر سے آواز آئی میرے بندے نے ٹھیک کہا ہے واقعی میں بہت بڑا ہوں ۔
اس کے بعد فرشتے نے کہا “أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ” تو پردے کے پیچھے سے آواز آئی میرے بندے نے سچ کہا ہے، میرے سوا کوئی بھی عبادت کے لائق نہیں ۔
اسی طرح باقی آذان کا ذکر ہو ا حتٰی کہ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ کے الفاظ کہے۔
ان کا اس پردے کے پیچھے سے کوئی جواب نہ آیا ۔
پھر وہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضور ﷺ کا مبارک ہاتھ پکڑ لیا اور آپﷺ کو آسمان والوں کی امامت کرنے کے لئے آگے بڑھا دیااور آپﷺ کے پیچھے نماز پڑھنے والوں میں حضرت آدم علیہ اسلام ، حضرت ابراہیم ؑاور حضرت نوح ؑبھی موجود تھے۔
( مسند البزار 508، شفا شریف1/ 355، 356)
حضرت امام محمد باقر بن امام زین العابدین بن اما م حسین رضہ فرماتے ہیں کہ:
أَكْمَلَ اللَّهُ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّرَفَ عَلَى أَهْلِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ
اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے سب پر واضح کر دیاکہ حضورﷺ خاتم النبیین ، افضل انبیاء ہیں۔وہ تمام دنیاوی مخلوقات اور تمام آسمانی مخلوقات پر آپﷺ کو افضلیت ہے۔ آپﷺ سب سے اعلیٰ اور اللہ کے محبوب ترین ہیں ۔
( مسند البزار508، شفا شریف1/ 357)
اللہ تعالیٰ کا کلام
واقعہ معراج میں آپﷺ کا اللہ تعالی ٰ سے مناجات کرنا یعنی اس کی حمد و ثناء بیان کرنا اوربات کرنا بھی ثابت ہے۔
جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا قران پاک میں ارشاد ہے
فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِه مَاۤ اَوْحٰى
اب وحی فرمائی اپنے بندے کو جو وحی فرمائی
(سورۃ النجم، آیت10)
اسی طرح کتنی ہی احادیث میں ان باتوں کا ذکر ہے اکثر مفسرین نے اس آیت کی وضاحت اس طرح کی ہے کہ اس میں وحی فرمانے والا اللہ تعالیٰ ہے ۔یعنی پہلے اس نے حضرت جبرائیل علیہ اسلام پر وحی نازل فرمائی اور جبرائیل علیہ اسلام نے سیدنا محمدﷺ تک پہنچائی۔
حضرت امام جعفر صادق رضہ نے کہا کہ :
أَوْحَى إِلَيْهِ بِلَا واسطة
اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی واسطے کے وحی فرمائی ۔
(شفا شریف1/ 389)
امام واسطی رحمہہیں اور بہت سے علماء نے یہی سمجھا ہے کہ:
أَنَّ مُحَمَّدًا كَلَّمَ رَبَّهُ فِي الْإِسْرَاءِ
حضرت محمدﷺ نے معراج میں اپنے رب سے کلام کیا۔
(شفا شریف1/ 390)
اور امام ابو الحسن اشعری رحمہ نے بھی بیان کیا ہےکہ حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت عبداللہ بن عباس دونوں اس بات کو مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے حضورﷺ نے واقعہ معراج میں کلام (بات چیت )کیا ہے ۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضہ سے روایت ہے کہ جو حضرت نقاش رحمتہ نے کی ہے کہ واقعہ معراج کہ متعلق قران پاک میں ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ (سورۃ النجم، آیت 8)آئی ہے اس کی تفسیر میں کہا گیا ہے کہ حضرت جبرائیل ؑنے حضور ﷺ کو اوپر چڑھایا کہ یہاں تک کہ آوازوں کا آنا بند ہوگیا تو اس وقت آپﷺ نے اپنے رب کا کلام سنا ۔
اور اس وقت اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ اے محمد مطمئن رہو اور میرے اور نزدیک آجاؤاور حضرت انس رضہ کی حدیث میں بھی جس میں معراج کا ذکر ہے اس میں بھی یہی بات کہی گئی ہے اور اسی طرح ان صحابہ نے یہ کہا کہ جو قرآن پا ک میں آیا ہے
مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْيًا اَوْ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ
اور کسی آدمی کو یہ ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ سے کلام کرے مگر وحی کے طور پر یایوں کہ وہ بشر جو ہے وہ کسی پردہ کے پیچھے ہو یا کوئی فرشتہ جو پہنچے اس کے پاس اور وحی کرے جو اللہ چاہے اس سے۔
(سورۃ الشوریٰ ، آیت 51) (شفا شریف1/ 390)
تو یہاں پہ جو وحی کی تین کیفیتیں بیان کی گئی ہیں وہ درج ذیل ہیں:
1۔ پردے کے پیچھے سے وحی کرنا جس طرح حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ سے بات کی۔
2۔ فرشتہ بھیج کر وحی فرمانا ، جیسا کہ تمام ا نبیاء کرام کو اللہ تعالی ٰ نے حضرت جبرائیل ؑکے زریعے سے وحی نازل فرمائی اور حضور ﷺ پر بھی اسی طرح وحی نازل فرمائی
3۔ براہ راست کلام فرمایا جو کہ بالمشافہ اور مشاہدے کے ساتھ ہو ۔ اس کے لئے کوئی چیز بھی باقی نہیں رہ جاتی ماسوائے یہ کہ اس جگہ وحی فرمانے سے مراد وہ باتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی واسطے کے حضرت محمد ﷺکے دل میں اتار دی تھیں۔
(شفا شریف1/ 391)
اوراسی طرح حضرت علی رضہ کی حدیث میں جو حضرت ابو بکر بزازرضہ نے آپ سے روایت کی ہے اس میں بھی یہی مطلب ہےاور یہ جو کہا گیا کہ حضورﷺنے اللہ تعالیٰ کا کلام سنا تو حضرت علی رضہ کی حدیث میں ہے کہ جب فرشتے نے آذان کے الفاظ کہےکہ ‘ اللہ اکبر اللہ اکبر’تو پردے کے پیچھے سے آوازآئی کہ میرے بندے نے بالکل سچ کہا ہے، واقعی میں بہت بڑا ہوں واقعی میں بہت بڑا ہوں۔
(شفا شریف1/ 391)
اوراسی طرح اذان کے سارے کلمات کے جواب دیئے گئے ان حدیثوں سے بھی یہی بات واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالی نے واقعہ معراج پر حضور ﷺ سے بغیر کسی واسطے کہ ، کلام فرمایا جو حضور ﷺ کی عظمت یہ ہے کہ اور انبیاء میں سے اللہ تعالیٰ نے جو کلام کیا وہ حضرت موسیٰؑ کے ساتھ کیا جو ایک پردے کے پیچھے سے کیا لیکن آپﷺ کی جو عظمت ہے وہ بغیر پردے کے آپﷺ کے ساتھ کلام فرمایا گیا۔
شفا شریف1/ 391، 392
اس موضوع پر جن حضرات کو اور تحقیق کرنی ہو تو وہ قاضی عیاض صاحب کی کتاب ‘الشفاءحقوق المصطفیٰﷺ’ جو تقریباً ایک ہزار سال سے امت مسلمہ میں معروف ہے اس کتاب میں بہت تفصیل کے ساتھ پڑھی جاسکتی ہے ۔
تحقیق: محمد علی سکندری
حضور پاک ﷺ کے وہ فضائل اور خصوصیات جن کا قیامت کے دن اظہار ہو گا اور تمام انسانیت حضور ﷺ کی عظمت اور آپﷺ کی افضلیت کو دیکھ لے گی اور یقین کر لے گی ۔
حضرت انس رضہ کی روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرما یا:
أَنَا أَوَّلُ النَّاسِ خُرُوجًا إِذَا بُعِثُوا.. وأنا قائدهم إِذَا وَفَدُوا.. وَأَنَا خَطِيبُهُمْ إِذَا أَنْصَتُوا.. وَأَنَا شَفِيعُهُمْ إِذَا حُبِسُوا.. وَأَنَا مُبَشِّرُهُمْ إِذَا أُبْلِسُوا.. لِوَاءُ الْكَرَمِ بِيَدِي وَأَنَا أَكْرَمُ وَلَدِ آدَمَ عَلَى رَبِّي وَلَا فَخْر
لوگ جب قبروں سے اٹھائے جائیں گے تو سب سے پہلے میں اٹھوں گا اورجب وہ سب ایک جگہ جمع ہوں گے تو میں ان کا خطیب ہو ں گا اور جب وہ مایوس ہو جائیں گے تو انہیں امید دلانے والا میں ہوں گا اور “لوالحمد” یعنی حمد کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہوگا اور میں اپنے رب کے نزدیک آدم ؑ کی ساری اولاد سے زیادہ عزت والا ہوں اور میں یہ بات غرور کے طور پر نہیں کہتا۔
( شفا شریف1/ 399، جامع ترمذی 3610، مسند البزار 6523)
اسی طرح حضرت انس رضہ کی روایت ہے کہ:
أَنَا أَوَّلُ النَّاسِ يَشْفَعُ فِي الْجَنَّةِ وَأَنَا أَكْثَرُ الْأَنْبِيَاءِ تَبَعًا
سب سے پہلے میں لوگوں کی جنت میں داخلے کے لئے شفاعت کروں گا اور میرے امتیوں کی تعداد سب سے بڑی ہو گی۔
( صحیح مسلم196، الایمان لابن منذہ 889 ، شفا شریف1/ 400)
حضرت ابو ہریرہ رضہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺ نے فرمایا:
أَطْمَعُ أَنْ أَكُونَ أَعْظَمَ الْأَنْبِيَاءِ عِنْدَ اللَّهِ أَجْرًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ
میں امید کرتا ہوں کہ قیامت کے روز تمام انبیاء کرام سے ثواب میں، میں زیادہ ہوں گا۔
( مسند الشامیین3360، سنن الدارمی532، شفا شریف1/ 400)
اور حضورﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ:
أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
قیامت کے روز تمام انسانوں کا سردار میں ہوں گا۔
(صحیح البخاری 4712، صحیح مسلم 194، جامع ترمذی 2434، مسند البزار 9801، شفا شریف1/ 401)
بیشک آپﷺ دنیا میں بھی تمام انسانوں کے سردار ہیں اور قیامت میں بھی۔
آپﷺ تمام انسانوں کے سردار ہیں تو صرف قیامت کی سرداری کا ذکر کیوں فرمایا اس کی وجہ یہ ہےکہ وہاں پر آپﷺ کی شفاعت اور آپﷺ کی سب سے زیادہ بلندی سب پر ظاہر ہو گی اور تمام انسانیت یہ جان لے گی کہ آپﷺ کے علاوہ اور کسی کے پاس پناہ نہیں مل سکتی اور آپﷺکے علاوہ کوئی بھی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شفاعت نہیں کر سکتا ۔ آپﷺ کی سرداری اور آپﷺ کی بلندی سب پر واضح ہو جائے گی اوریہ ایسا ہی ہے جیسا قیامت کے روز اللہ تعالیٰ فرمائے گا
لِّمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ
آج کس کی بادشاہی ہے، ایک اللہ ہی ہے جو سب پر غالب ہے
(سورۃ الغافر، آیت 16)
تو بے شک یہ اللہ تعالیٰ کی آیت ہے لیکن اللہ تعالیٰ تو دنیا میں بھی سب پر غالب ہے قیامت سے پہلے بھی اس کی بادشاہی ہے مگر قیامت کے روز اس کا ذکر اس لئے ہے کہ کیونکہ اس دن انسان اپنی تمام غلط امیدوں سے اور غلط باتوں سے فارغ ہو چکا ہو گا اور اس دن اللہ تعالیٰ کی بادشاہی کو وہ بالکل سچے دل سے سمجھ سکے گا ۔
وَكَذَلِكَ لَجَأَ إِلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم جميع النَّاسِ فِي الشَّفَاعَةِ فَكَانَ سَيِّدَهُمْ فِي الْأُخْرَى دُونَ دَعْوَى
اسی طرح حضورﷺ قیامت کے دن جب انسانیت کی اِس وقت شفاعت کریں گے جب تمام انسانیت آپﷺ کی شفاعت کی محتاج ہوگی تو اس دن تمام انسانیت پر آپﷺ کی افضلیت اور آپﷺ کا سب سے بلند و بالا ہونا واضح ہو جائے گا۔
وہ کمال ہی کیا جس کا تعلق ذاتِ مصطفی ﷺ سے نہ جڑے۔ ہر وہ کمال جو مخلوق میں سے کسی کو ملا ، مالک کریم جل وعلا نے ان سارے کمالات کو اپنے حبیب ﷺ کی ذاتِ عالیہ میں جمع فرما دیا۔
علامہ علی قاری تلمسانی کے حوالے سے نقل فرماتے ہیں:
نبی اکرم ﷺ کی ذاتِ والا میں انبیاء کرام علی نبینا وعلیہم الصلوۃ والسلام کے تمام خصال جمع تھے ، کیونکہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تمام تر کمالات کا عنصر ومنبع ہیں۔ آپ ﷺ کو “خلقِ حضرت آدم” ، “معرفتِ حضرت عیسی” ، “شجاعتِ حضرت نوح” ، “خُلّت حضرت ابراہیم” ، “لسانِ حضرت اسماعیل” ، “رضائے حضرت اسحاق” ، “فصاحتِ حضرت صالح” ، “حکمتِ حضرت لوط” ، “بشارتِ حضرت یعقوب” ، “جمالِ حضرت یوسف” ، “شدتِ حضرت موسی” ، “صبرِ حضرت ایوب” ، “طاعتِ حضرت یونس” ، “جہادِ حضرت یوشع” ، “صوتِ حضرت داود” ، “حبِ حضرت دانیال” ، “وقارِ حضرت الیاس” ، “عصمتِ حضرت یحیی” ، “زہدِ حضرت عیسی” سے نوازا گیا۔ علی نبینا وعلیہم الصلوۃ والسلام
(شرح شفا 1/158)
“خُلّت” بھی ایک عظیم کمال ہے۔ یہ بات اپنی جگہ ہے کہ اللہ جل وعلا نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو مقامِ خُلّت سے بھی نوازا ہے۔ جیسا کہ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إن الله اتخذني خليلا كما اتخذ إبراهيم خليلا
جیسے اللہ جل وعلا نے حضرت ابراہیم علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کو خلیل بنایا ، یونہی مجھے بھی خلیل بنایا۔
(سنن ابن ماجہ 141)
یونہی حضرت جندب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنے وصال سے پانچ رات قبل لوگوں سے خطاب فرمایا اور اس خطاب کے دوران فرمایا:
إن الله اتخذني خليلا كما اتخذ إبراهيم خليلا
جیسے اللہ جل وعلا نے حضرت ابراہیم علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کو خلیل بنایا یونہی مجھے بھی خلیل بنایا۔
(صحیح ابن حبان 6425 ، مستدرک علی الصحیحین 4018 ، قال الحاکم: هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه واقرہ الذھبی فی التلخیص)
یونہی جنابِ عبد الرحمن سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الله اتخذني خليلا كما اتخذ إبراهيم خليلا
جیسے اللہ جل وعلا نے حضرت ابراہیم علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کو خلیل بنایا یونہی مجھے بھی خلیل بنایا۔
(شرح مذاہبِ اہلِ سنۃ لابن شاہین 183)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ مروی حدیث میں ہے:
ولكن صاحبكم خليل الله
جن کی صحبت سے تم لوگ مشرف ہوئے ہو وہ اللہ جل وعلا کے خلیل ہیں۔
(صحیح مسلم 2383)
لہذا یہ بات تو طے شدہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی ذاتِ والا کو مقامِ خُلّت سے نوازا گیا۔ لیکن علمائے اسلام کے بیچ اختلاف ہوا کہ آیا مقامِ خُلّت اعلی واشرف ہے یا مقامِ محبت بلند وبرتر۔۔۔ بعض اہلِ علم نے مقامِ خُلّت کو اعلی واشرف بتایا ، جبکہ اکثر اہلِ علم واربابِ قلوب کی رائے ہے کہ مقامِ محبت اعلی واشرف ہے۔
کیونکہ سیدِ عالم ﷺ حبیب ہیں اور سیدنا ابراہیم علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام خلیل ہیں ، اور بلا شبہ جنابِ سرورِ عالم ﷺ کا مقام ومرتبہ سیدنا ابراہیم علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام سے برتر وبالا ہے ، لہذا مقامِ محبت بھی مقامِ خُلّت سے برتر وبالا ہوا۔
اہلِ علم نے اس مقام پہ بڑی خوبصورت گفتگو فرمائی۔ فرمایا:
خلیل وہ ہے جس کا اتصال بالواسطہ ہو۔ اللہ جل وعلا نے فرمایا:
وَكَذلِكَ نُرِي إِبْراهِيمَ مَلَكُوتَ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ
اور یونہی ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمینوں کی بادشاہی دکھاتے ہیں۔
اور حبیب وہ ہے جس کا اتصال بلا واسطہ ہے۔ رب کریم فرماتا ہے:
فَكانَ قابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنى
تو وہ دو کمانوں کی مقدار کے فاصلہ پہ تھا یا اس سے بھی قریب۔
خلیل کی مغفرت حدِ طمع میں ہے:
وَالَّذِي أَطْمَعُ أَنْ يَغْفِرَ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ
وہ ذات کہ جس سے میں امید کرتا ہوں کہ وہ روزِ قیامت میری خطا کو بخش دے (اس مقام پہ خطا کے معنی ہرگز وہ نہیں جو مقامِ عصمت کے منافی ہوں ، بلکہ ایسے معنی جو سیدنا ابراہیم علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کے شایانِ شان تھے۔)
حبیب کی مغفرت حدِ یقین پہ ہے:
لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ ما تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَما تَأَخَّرَ
اللہ جل وعلا تیری برکت سے تجھ سے پہلوں اور بعد والوں کے گناہ بخش دے۔
وقتِ آزمائش خلیل کی زبان سے نکلتا ہے:
حسبي الله
مجھے اللہ کافی ہے۔
اور حبیب کو خود فرمایا جاتا ہے:
يا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللَّهُ
اے نبی! تجھے اللہ کافی ہے۔
خلیل عرض کرتے ہیں:
وَلا تُخْزِنِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ
بعثت کے روز مجھے رسوائی سے محفوظ فرما۔
جبکہ حبیب کو مژدہ سنایا جاتا ہے:
يَوْمَ لا يُخْزِي اللَّهُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ
اس روز اللہ جل وعلا نبی ﷺ کو اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں کو رسوائی سے محفوظ رکھے گا۔
خلیل عرض کرتے ہیں:
وَاجْعَل لِّي لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْآخِرِينَ
اور میرے لیے بعد والوں میں ذکرِ خیر جاری فرما۔
حبیب کو فرمایا جاتا ہے:
وَرَفَعْنا لَكَ ذِكْرَكَ
اور ہم نے آپ کے لیے آپ کے ذکر کو رفعت بخش دی۔
خلیل عرض کرتے ہیں:
وَاجْعَلْنِي مِنْ وَرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيمِ
اور مجھے جنت نعیم کے وارثوں سے بنا۔
اور حبیب کو بشارت دی جاتی ہے:
إِنَّا أَعْطَيْناكَ الْكَوْثَرَ
ہم نے آپ کو کوثر سے نوازا ہے۔
خلیل اپنے اہلِ بیت کے لیے دعا کرتے ہیں:
وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَنْ نَعْبُدَ الْأَصْنامَ
مجھے اور میرے بیٹوں کو بتوں کی پوجا سے محفوظ فرما۔
حبیب کے اہلِ بیت کی طہارت کا بیان خود کلامِ الہی میں وارد ہوتا ہے:
إِنَّما يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيراً
رب تو چاہتا ہے کہ اے اہلِ بیت تم سے پلیدی دور فرما دے اور تمہیں خوب پاک کر دے۔
خلیل وہ ہے جو اپنے خالق ومالک کو پیارا ومحبوب ہے ،
اور حبیب وہ ہے جس کے پیچھے چلنے والا بھی محبوبِ خدا بن جاتا ہے۔ فرمایا:
قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ
آپ فرمائیے: اگر تم لوگ اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو ، اللہ جل وعلا تمہیں محبوب بنا لے گا۔
علامہ خفاجی رحمہ اللہ تعالی نے اس سلسلے میں بڑی خاص بات ذکر فرمائی ، فرمایا:
وصفِ محبت صرف اور صرف جنابِ رسول اللہ ﷺ کو عطا ہوا۔ البتہ وصفِ خُلّت میں سیدنا ابراہیم علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کو بھی شریک کیا گیا۔
چند سطور بعد فرمایا:
سیدِ عالم ﷺ کی خُلّت اور سیدنا ابراہیم علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کی خُلّت کے بیچ فرق ہے۔ جنابِ رسول اللہ ﷺ کی خُلّت حقیقی اصلی ہے جبکہ حضرت ابراہیم کی خُلّت آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی خُلّت ذاتیہ سے مستعار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیدنا ابراہیم علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام وقتِ شفاعت فرمائیں گے:
إنما كنت خليلا من وراء وراء
میں تو پردے کے پیچھے کا خلیل تھا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی خلیل کوئی اور ہیں اور وہ جنابِ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی ذاتِ والا ہیں۔
حقیقی محبت اور حقیقی خُلّت رسول اللہ ﷺ کا خاصہ ہیں ، ہر صفت کے مراتب ہیں اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی ذاتِ والا سب سے اعلی مرتبہ کے ساتھ مختص ہیں۔
(جواہر البحار 2/286 ، 287)
بنا بریں وصفِ محبت اور وصفِ خُلّت کے باہم موازنہ کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ کیونکہ محبت افضل ہو یا خُلّت ، جنابِ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا ان اوصاف کے ساتھ اتصاف حقیقی ہے اور باقی ساری کائنات کو ملنے والے کمالات آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہی کے کمالات سے مستعار ہیں۔ بوصیری فرماتے ہیں:
وَكُلُّ ايٍ اتى الرسْلُ الْكِرامُ بهَا
فَانَّمَا اتصَلَت مِنْ نُوْرهِ بهِمِ
ہر وہ نشانی جسے لے کر رسلِ عظام تشریف لائے ، وہ نشانی در حقیقت رسول اللہ ﷺ کے نور ہی کے صدقے دوسرے انبیاء کرام تک پہنچی۔
اعلیحضرت فرماتے ہیں:
لا ورب العرش جس کو جو ملا ان سے ملا
بٹتی ہے کونین میں نعمت رسول اللہ کی
صلی اللہ تعالی علیہ سیدنا محمد وعلی آلہ وصحبہ وبارک وسلم
محمد چمن زمان نجم القادری
مرتب محمد علی سکندری
10 ربیع الاول 1442ھ / 28 اکتوبر 2020ء
حضور اکرمﷺ اپنی امت پر بے انتہا محبت اور شفقت فرمانے والے تھے۔ آپﷺ نے فرمایا:
لَا يُبَلِّغُنِي أَحَدٌ مِنْكُمْ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِي شَيْئًا فَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَخْرُجَ إِلَيْكُمْ وَأَنَا سَلِيمُ الصَّدْرِ
تم میں سے کوئی شخص میرے اصحاب کی برائی مجھ تک نہ پہنچائے کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ تم سے جدا ہوتے وقت بھی میرا سینہ اور میرا دل صاف ہو۔
(جامع ترمذی 3896، سنن ابی داؤد 4860، مسند البزار2038، شفا شریف1/ 253)
آپﷺ کا اپنی امت پر شفقت اور پیار کا ایک اظہار یہ بھی ہے کہ حضور ﷺ ہمیشہ اپنی امت کے لئے آسانی کے طلبگار رہے ۔آپﷺ نے کئی ایسی چیزوں کو صرف اس لئے ناپسند فرمایا کہ کہیں وہ امت پر فرض نہ ہوجائیں جیسا کہ آپﷺ نے فرما یا کہ:
لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي أَوْ عَلَى النَّاسِ لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ مَعَ كُلِّ صَلاَةٍ
اگر مجھے اپنی امت کی مشکل کا خطرہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا۔
إِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُكْتَبَ عَلَيْكُمْ صَلاَةُ اللَّيْلِ
حضور ﷺ نے نماز تراویح چند دن پڑھانے کے بعد لگا تار پڑھانے سے انکار فرما دیا تاکہ وہ امت پر فرض نہ ہوجائے۔
یہ روایت مختلف الفاظ کے ساتھ ان کتب میں موجود ہے۔
( صحیح البخاری 729، 924، 1129، 2012، صحیح مسلم 1783، 1784، سنن ابی داؤد1373)
اسی طرح آپﷺ نے اپنے صحابہ کرام رضہ کو سارا سال روزے رکھنے سے منع فرما دیا۔ تاکہ آپﷺ کی امت پر بہت زیادہ مشکل نہ پڑ جائے۔
حدیث پاک میں ہے:
مَنْ صَامَ الدَّهْرَ مَا صَامَ وَمَا أَفْطَرَ ، أَوْ: لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ
رحمتِ کونینﷺنے فرمایا:
جس نے ہمیشہ کا روزہ رکھا (یعنی بلا ناغہ سال بھر روزے رکھتا رہا) اس نے نہ روزہ رکھا اور نہ ہی افطار کیا“، یا (فرمایا): ”نہ اس کا روزہ ہوا اور نہ ہی افطار۔
(تھذیب الآثار للطبری 466، صحیح ابن خزیمہ 2150، المستدرک للحاکم 1590)
آپﷺ نے اپنی امت کی مشکل کو کم کرنے کےلئے خانہ کعبہ کے اندر داخل ہونے کو پسند نہ کیا کیونکہ آپﷺ جانتے تھے کہ اگر عمرہ یا حج کے دوران کعبہ کے اندر جانا ضروری ہوگیا تو امت کے لئے بہت مشکل ہوگی۔
اسی طرح آپﷺ نے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو کر عرض کیا کہ یا اللہ اگر میں نے کسی انسان کی بربادی یا اس پر لعنت کی دعا کی ہے تو اسے رحمت میں بدل دیا جائے۔
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ سے مروی ہے، کہا:
دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ فَكَلَّمَاهُ بِشَيْءٍ، لَا أَدْرِي مَا هُوَ فَأَغْضَبَاهُ، فَلَعَنَهُمَا، وَسَبَّهُمَا، فَلَمَّا خَرَجَا، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَنْ أَصَابَ مِنَ الْخَيْرِ شَيْئًا، مَا أَصَابَهُ هَذَانِ، قَالَ: «وَمَا ذَاكِ» قَالَتْ: قُلْتُ: لَعَنْتَهُمَا وَسَبَبْتَهُمَا، قَالَ: ” أَوَ مَا عَلِمْتِ مَا شَارَطْتُ عَلَيْهِ رَبِّي؟ قُلْتُ: اللهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَأَيُّ الْمُسْلِمِينَ لَعَنْتُهُ، أَوْ سَبَبْتُهُ فَاجْعَلْهُ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا
رحمتِ کونینﷺ کے پاس دو شخص آئے ، مجھے معلوم نہیں کس معاملے میں انہوں نے آپ سے گفتگو کی اور آپ کو ناراض کر دیا ، آپ نے ان پر لعنت کی اور ان دونوں کو برا کہا ، جب وہ نکل کر چلے گئے تو میں نے عرض کی : کوئی شخص بھی جسے کوئی خیر ملی ہو ( وہ ) ان دونوں کو نہیں ملی ۔ آپ نے فرمایا : ” وہ کیسے؟ ” کہا : میں نے عرض کی : آپ نے ان کو لعنت کی اور برا کہا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہیں علم نہیں ہے میں نے اپنے رب سے کیا شرط کی ہوئی ہے؟ میں نے کہا ہے : اے اللہ! میں صرف بشر ہوں ، لہذا میں جس مسلمان کو لعنت کروں یا برا کہوں تو اس ( لعنت اور برا بھلا کہنے ) کو اس کے لیے گناہوں سے پاکیزگی اور حصولِ اجر کا ذریعہ بنا دے ۔
( صحیح مسلم 2600، مصنف ابن ابی شیبہ29551، مسند ابو یعلی2271)
اسی طرح کبھی نماز کے بیچ میں آپﷺ کسی بچے کے رونے کی آواز سنتے تو نماز کو مختصر فرما دیتے۔ آپﷺ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے فرمایاکہ اے اللہ اگر میں نے کسی کو برا بھلا کہا اور لعنت کی ہو تو میرے ان الفاظ کو رحمت ، پاکیزگی ، نیکی اور اپنے قرب میں بدل دے۔ تاکہ قیامت کے دن وہ مجھ سے قریب ہوجائے اسی طرح آپﷺ کی رحمت اور شفقت کے بارے میں یہ بھی ہے کہ جب قوم نے آپﷺ کو جھٹلایا تو حضرت جبرائیل ؑ آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نےا س جواب کو سن لیا ہے جو آپﷺ کو اپنی قوم سے ملا ۔
اِسی لئے اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے نگران فرشتے کو بھیجا ہے آپﷺ انہیں جو بھی حکم دیں تو اس کوپورا کیا جائے تو اس فرشتے نے حضور ﷺ سے عرض کی یارسول اللہ ﷺ اگر آپ حکم فرمائیں تو میں فلاں پہاڑ کو اٹھا کر قریش کے کافروں پر رکھ دوں ۔ یہ سننے کے بعد آپﷺ نے فرمایا :
بَلْ أَرْجُو أَنْ يُخْرِجَ اللَّهُ مِنْ أَصْلاَبِهِمْ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ وَحْدَهُ، لاَ يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا
اللہ تعالیٰ ان کی نسلوں سے ایسے افراد پیدا فرمائے گا جو اللہ تعالیٰ کےسوا کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں گے ۔اور صرف ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں گے اور میں پرامید ہوں اس لیے آپﷺ نے فرشتے کو قریش کے کافروں پر پہاڑ پھینکنے سے منع فرما دیا۔
( صحیح البخاری 3231، صحیح مسلم 1795، شفا شریف1/ 255)
اسی طرح ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت جبرائیل ؑ نے آپﷺ کی بارگاہ میں عرض کی کہ:
نَّ اللَّهَ تَعَالَى أَمَرَ السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَالْجِبَالَ أَنْ تُطِيعَكَ فَقَالَ أُؤَخِّرُ عَنْ أُمَّتِي لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ
اللہ تعالیٰ نے آسمانوں ، زمینوں اور پہاڑوں کو آپﷺ کا حکم ماننے کو کہا لہذا آپﷺ جو حکم فرمائیں گے یہ اس کو پورا کر دیں گے۔ لیکن آپﷺ نے کبھی سختی نہ کرنی چاہی اور ہمیشہ یہ امید کی کہ اللہ تعالیٰ کا کرم ہو اور یعنی کفار قریش کو توبہ کی توفیق ہو جائے ۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضہ فرماتے ہیں کہ:
كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ فِي الأَيَّامِ، كَرَاهَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا
حضور ﷺ ہماری پریشانیاں دور کرنے کے لئے ہمارا حوصلہ بڑھاتے رہتے تھے ۔
( صحیح البخاری68، 6411، صحیح مسلم 2821، جامع ترمذی 2855، شفا شریف1/ 256)
حضرت عائشہ صدیقہ رضہ سے روایت ہے کہ:
أَنَّهَا رَكِبَتْ بَعِيرًا وَفِيهِ صُعُوبَةٌ فَجَعَلَتْ تُرَدِّدُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْكِ بِالرِّفْقِ
ایک روز میں ایک ایسے اونٹ پر سوار تھی جو مجھے تنگ کر رہا تھا تو میں نے اسے ادھر ادھر دوڑانہ شروع کر دیا تونبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ نرمی اختیار کیا کرو ۔
(مستخرج ابی عوانہ11308، شفا شریف1/ 256، الجمع بين الصحيحين4544)
حضور ﷺ اللہ کے بعد سب سے اعلیٰ اور افضل ہونے کے باوجود سب سے زیادہ انکساری فرماتے تھے۔ آپﷺ نے کبھی غرور کا مظاہرہ نہیں کیا اور آپﷺ کو اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا تھا کہ آپﷺ نبی بنیں جو کہ بادشاہ ہو جیسا حضرت سلیمان ؑ تھے یا نبی بنیں جو کہ اللہ کا بندہ ہو تو آپﷺ نے نبی عبدیعنی ایسا نبی جو اللہ تعالیٰ کا بندہ ہو بننا پسند کیا۔ حضرت اسرافیل ؑ نے حضورﷺ کو یہ کہا تھا کہ آپﷺ کی اس انکساری کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ فرما دیا ہے کہ قیامت کے روز آپﷺ تمام آدم کی اولاد کے سردار ہوں گے ۔ سب سے پہلے آپﷺ ہی اپنی روشن قبر سے باہر تشریف لائیں گے اور گنہگاروں کی سب سے پہلے شفاعت بھی آپﷺ ہی فرمائیں گے ۔
رحمتِ کونینﷺنے فرمایا:
مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ، وَمَا زَادَ اللهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ، إِلَّا عِزًّا، وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللهُ
مال سے صدقہ دینا مال میں کمی نہیں کرتا اور بندے کا معاف کرانا اور معذرت خواہ ہونے سے اللہ اس کی عزت کو بڑھاتا ہے اور اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے بندے کی تواضع و انکساری سے اللہ اسے درجہ فضیلت میں بلند کرتا ہے۔
ایک روایت میں آتا ہے:
يُخَيِّرُكَ بَيْنَ أَنْ تَكُونَ نَبِيًّا مَلَكًا، وَبَيْنَ أَنْ تَكُونَ نَبِيًّا عَبْدًا
آپ ﷺ کو اختیار دیا گیا کہ آپ نبی بادشاہ ہونا پسند کرتے ہیں یا نبی بندہ ہونا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نبی بندہ ہونا پسند کیا۔
( مسند ابو یعلیٰ 4920، السنن الکبری للبیہقی 13321، شعب الایمان 155، شفا شریف1/ 262)
قاضی عیاض رحمتہ نے اسی طرح ایک حدیث حضرت ابی امامہ رضہ سے روایت کی کہ:
خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَكِّئًا عَلَى عَصًا فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَقَالَ لَا تَقُومُوا كَمَا تَقُومُ الْأَعَاجِمُ، يُعَظِّمُ بَعْضُهَا بَعْضًا
ایک دفعہ حضور ﷺ اپنے عصائے مبارک(لاٹھی) پر ٹیک لگائے ہوئے ہمارے پاس تشریف فرما ہوئے، ہم تعظیم کی خاطر کھڑے ہوگئے تو آپﷺ نے فرمایا کہ عجمیوں کی طرح کھڑے مت ہوا کرو جو آپس میں ایک دوسرے کی عزت میں حد سے بڑھ جاتے تھے۔
( سنن ابی داؤد5230، شفا شریف1/ 263)
اس کے بعد آپﷺ نے فرما یا کہ:
آكُلُ كَمَا يَأْكُلُ الْعَبْدُ، وَأَجْلِسُ كَمَا يَجْلِسُ الْعَبْدُ فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدٌ
میں اللہ تعالیٰ کا ایک بندہ ہوں جس طرح دوسرے بندے کھاتے ہیں میں بھی کھاتا ہوں اور جس طرح دوسرے بندے بیٹھتے ہیں میں بھی بیٹھتا ہوں۔
( شعب الایمان5572، تلخیص الحبیر1449، شفا شریف1/ 188، 263)
یہ آپﷺ نے اپنی انکساری کے باعث کہا۔
روایات میں آیا ہے کہ حضورﷺ گدھے پر بھی سواری کر لیا کرتے تھے اور اپنے ساتھ سواری پر کسی اور کو بھی بیٹھا لیا کرتے تھے مسکینوں کی تیمارداری کیا کرتے تھے غریبوں کی مجلس میں بھی بیٹھ جایا کرتے تھے اور کسی بھی مجلس میں کسی بھی جگہ بیٹھ جایا کرتے اور اس میں کسی بھی طر ح کی شرم محسوس نہ کرتے۔
(شفا شریف1/ 263)
حضرت عمر فاروق رضہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرما یا کہ :
لاَ تُطْرُونِي، كَمَا أَطْرَتْ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ، فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُهُ، فَقُولُوا عَبْدُ اللَّهِ، وَرَسُولُهُ
میری تعریف میں اس قدر زیادتی نہ کرنا جتنا عیسیٰ ؑ کی شان میں عیسائیوں نے کی یعنی کہ انہیں خدا کا بیٹاہی بنا دیا بلکہ میں تو خدا کا بندہ ہوں میرے متعلق یہی کہنا کہ اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔
(مسند احمد 154، 164، 331، 391، صحیح البخاری 3445، 6830، شفا شریف1/ 263)
اسی طرح حضرت انس رضہ سے روایت ہے کہ ایک بار ایک کم عقل عورت حضور ﷺکےپاس آئی اور کہنے لگی کہ مجھے آپﷺ سے ایک کام ہے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ اے فلاں کی والدہ بیٹھ جاؤ! مدینہ منورہ میں جہاں بھی تمہارا کام ہوگا میں اسے کروں گا ۔ انشااللہ ۔
جب تک اس عورت کی حاجت پوری نہ ہوئی وہ بیٹھی رہی اور اس وقت تک حضورﷺ بھی اپنی جگہ پر تشریف فرما رہے۔
(مسند احمد 12197، 13241، صحیح مسلم 2326، سنن ابی داؤد 4818، شفا شریف1/ 263)
اسی طرح حضرت انس رضہ کی روایت میں یہ بھی ہے کہ:
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُ المَرِيضَ، وَيَشْهَدُ الجَنَازَةَ، وَيَرْكَبُ الحِمَارَ، وَيُجِيبُ دَعْوَةَ العَبْدِ كَانَ يَوْمَ بَنِي قُرَيْظَةَ عَلَى حِمَارٍ مَخْطُومٍ بِحَبْلٍ مِنْ لِيفٍ، عَلَيْهِ إِكَافُ لِيفٍ
مریض کی عیادت کرتے، جنازے میں شریک ہوتے، گدھے کی سواری کرتے اور غلام کی دعوت قبول فرماتے تھے۔ بنو قریظہ ۱؎ والے دن آپ ایک ایسے گدھے پر سوار تھے، جس کی لگام کھجور کی چھال کی رسی کی تھی، اس پر زین بھی چھال ہی کی تھی۔
( جامع ترمذی 1017، سنن ابن ماجہ 4178، المستدرک للحاکم 3734، شعب الایمان 7841، شفا شریف1/ 264)
اسی طرح آپﷺنے جب حج کیا اور آپﷺ جس سواری پر سوار تھے اس کی گدی پرانی تھی اس پر لکیر دار کپڑا پڑا ہوا تھا جس کی قیمت چار درہم بھی نہ تھی ۔ اس موقع پر آپﷺ نے دعافرمائی تھی کہ:
اللهم اجعله حجا مبرورا، لَا رِيَاءَ فِيهِ وَلَا سُمْعَةً
اے اللہ تو میرے لئے اسے مقبو ل حج بنا دے جو کسی کو دکھانے یا سنانے کے لئے نہ ہو۔
(شفا شریف1/ 264)
آپﷺ کی عاجزی اور انکساری کا یہ عالم تھا کہ جب فتح مکہ ہوئی تو سواری پر ایسی عاجزی سے بیٹھے تھے کہ آپﷺ کا سر اقدس اس قدر جھکایا ہوا تھاکہ گھٹنوں سے لگتا تھا۔
اسی طرح حضورﷺ نے فرمایاکہ مجھے حضرت یونس ؑ پر فضیلت نہ دو اور انبیاء کرام میں سے کسی ایک کو دوسرے پر فضیلت نہ دیا کرو اور مجھے حضرت موسیٰ ؑ سے نہ بڑھاواور حضرت ابراہیم ؑ ہم سب سے زیادہ حقدار ہیں کہ ان کی تعریف کی جائے اور فرمایا کہ جتنی تکلیف حضرت یوسف ؑ کو قید خانے میں گزارنی پڑی اگر میں اس سے دوچار ہوجاتا تو میں اللہ کو پیارا ہوجاتا ۔
(شفا شریف1/ 265)
نوٹ: یہ شفا شریف کی عبارت کا ترجمہ ہے، اس کے علاوہ مختلف الفاظ کے ساتھ یہ روایات ان کتب میں موجود ہے۔
(مسند احمد1756، 2167، 2294، 2298، 2654، 3179، صحیح البخاری2411، 3408، 3395، 3412، 3413، 3414، 3414، 3416، 4603، 4604، 4630، 4631، 4804، 4805 ،6517، ، 7539، صحیح مسلم2373، 2376، 2377، شعب الایمان346، 1411)
ایک شخص نےآپﷺ کو مخاطب کرتے ہوئےکہا:
يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ، قَالَ: ” ذَاكَ إِبْرَاهِيمُ
یا خیر البریہ تو آپﷺ نے فر ما یا کہ اس لقب کا صحیح حقدار تو حضرت ابراہیم ؑ ہیں۔
( مسند احمد12826، 13907، 12908، صحیح مسلم2369، جامع ترمذی3352، سنن ابی داؤد4672، شفا شریف1/ 265)
آپﷺ کے یہ جتنے بھی القابات ہیں یہ آپﷺ کی عاجزی اور انکساری کی وجہ سے ہیں کہ آپﷺ اپنی بڑائی اور اپنی افضلیت ہر وقت لوگوں کے سامنے بیان نہیں فرماتے تھے یہ آپﷺ کی عاجزی اور انکساری تھی۔ ورنہ تو صحابہ کرام سے بہت سی ایسی احادیث مروی ہیں جن سے یہ ثابت ہے کہ آپﷺ اللہ تعالیٰ کے بعد تمام مخلوقات عالم ، تمام انسانیت اور تمام انبیا سے افضل ہیں ۔
حضورﷺ کے معاملات کے بارے میں صحابہ کرام کی روایا ت میں یہ بھی ہے کہ :
كان في بيته في مهنة أهله، يغلي ثَوْبَهُ، وَيَحْلِبُ شَاتَهُ، وَيُرَقِّعُ ثَوْبَهُ، وَيَخْصِفُ نَعْلَهُ، وَيَخْدِمُ نَفْسَهُ، وَيَقُمُّ الْبَيْتَ، وَيَعْقِلُ الْبَعِيرَ وَيَعْلِفُ نَاضِحَهُ، وَيَأْكُلُ مَعَ الْخَادِمِ، وَيَعْجِنُ مَعَهَا وَيَحْمِلُ بِضَاعَتَهُ مِنَ السُّوقِ
آپﷺ گھر کے کام کاج بھی کرتے اپنے کپڑے صاف کر لیتے ، بکری کا دودھ دوہتے ،کپڑوں کو پیوند لگا لیتے ، یعنی پھٹے ہوئے کپڑے خود سی لیتے اپنی جوتیوں (نعلین مبارک) کو مرمت کرلیتے اپنے ذاتی کام اپنے ہاتھ سے کر تے ، گھر کا انتظام کر لیتے اونٹ کو خود باندھ لیتے انہیں چارہ ڈال دیتے ، غلاموں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا لیتے ، گھر میں آٹا گوندھ لیتے اور ضرورت پڑے تو بازار سے اپنا سودا سلف خود اٹھا کر لاتے ۔
حضرت انس رضہ سے روایت ہے کہ اہل مدینہ کی لونڈیوں (غلام ، ملازمہ) میں سے اگر کوئی آپﷺ کی مددکی طلبگار ہوتی تو آپﷺ ان کی مدد فرماتے، ان کا وزن اٹھا کر جہاں بھی وہ جانا چاہتی آپﷺ وہاں تشریف لے جاتے ان کی اگر کوئی ضروریات ہوتی تو وہ پوری فرما لیتے پھر واپس پلٹتے۔
(شفا شریف1/ 266)
اس کے علاوہ دیگر کتب میں اس سے ملتی جلتی مرویات موجود ہیں۔
( مسند احمد 24747، 24226، 24948، 25710، صحیح البخاری، السنن الکبری للنسائی 3170)
ایک بار ایک شخص حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو ا تو آپﷺ کی ہیبت اس کے اوپر طاری ہوگئی تو حضور ﷺ نے اسے فرمایا کہ:
هَوِّنْ عَلَيْكَ، فَإِنِّي لَسْتُ بِمَلِكٍ إِنَّمَا أَنَا ابْنُ امْرَأَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ، كَانَتْ تَأْكُلُ الْقَدِيدَ
اطمینان رکھو میں کوئی دنیاوی بادشاہ تو نہیں ہوں میں ایک قریشی عورت کا بیٹا ہو ں جو خشک گوشت کھایا کرتی تھیں۔
( المعجم الاوسط1216، العلل للدار قطنی1063، تاریخ بخداد7/ 263، وسيلة الاسلام بالنبي ، ص141، شفا شریف1/ 266
اِس طرح یہ آپﷺ نے اپنی عاجزی اور انکساری کا اظہار فرمایا۔
حضرت ابو ہریرہ رضہ سے روایت ہے کہ:
دَخَلْتُ بِالسُّوقِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَجَلَسَ إِلَى الْبَزَّازِينَ، فَاشْتَرَى سَرَاوِيلَ بِأَرْبَعَةِ دَرَاهِمَ، وَكَانَ لِأَهْلِ السُّوقِ وَزَّانٌ يَزِنُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: زِنْ وَارْجِحْ
میں حضور ﷺ کے ہمراہ بازار گیا آپﷺ نے ایک کپڑا خریدا رقم گننے والے سے فرمایا کہ قیمت ادا کردو بلکہ کچھ زیادہ دے دو۔
(سنن النسائی 4592، سنن ابی داؤد 3336، جامع ترمذی 1305، الضعفاء الکبیر للعقیلی4/ 453، شفا شریف1/ 267)
حضرت ابو ہریرہ رضہ نے یہ سارا واقعہ بیان فرمایاکہ وہ دکاندار حضور ﷺ کے ہاتھ کا بوسہ لینے کے لئے آگے بڑھا تو آپﷺ نے اپنا ہاتھ پیچھے ہٹاتے ہوئے فرمایاکہ:
هَذَا إِنَّمَا تَفْعَلُهُ الْأَعَاجِمُ بِمُلُوكِهَا، وَلَسْتُ بِمَلِكٍ، إِنَّمَا أَنَا رَجُلٌ مِنْكُمْ
یہ اہل عجم کا طریقہ ہے۔وہی اپنے بادشاہوں کی ایسے تعظیم کیا کرتے ہیں میں کوئی بادشاہ نہیں ہوں بلکہ تم میں سے ایک فرد ہوں۔
فَوَزَنَ فَأَرْجَحَ، ثُمَّ أَخَذَ النَّبِيُّ ﷺ السَّرَاوِيلَ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَذَهَبْتُ لِأَحْمِلَهُ عَنْهُ، فَقَالَ: صَاحِبُ الشَّيْءِ أَحَقُّ بِشَيْئِهِ أَنْ يَحْمِلَهُ
اس کے بعد آپﷺ نے اپنا وہ کپڑا اٹھایا جب میں یعنی حضرت ابوہریرہ رضہ وہ کپڑا اٹھانے کے لئے آگے بڑھے تو حضورﷺ ارشاد فرمایا کہ مالک کو اپنی چیز اٹھانے کا زیادہ حق ہے ۔
( معجم شیوخ ابن الاعرابی2336، مسند ابی یعلی 6162، شفا شریف1/ 267)
حضور ﷺ کی عاجزی او رآپﷺ کی انکساری اس حد تک بڑھی ہوئی تھی کہ اپنے ساتھ کام کرنے والوں کے ہونے کے باوجود بھی آپﷺ اپنی چیزیں خود اٹھا لیا کرتے تھے۔
حضور ﷺ اللہ کے بعد سب سے اعلیٰ اور افضل ہونے کے باوجود سب سے زیادہ انکساری فرماتے تھے۔ آپﷺ نے کبھی غرور کا مظاہرہ نہیں کیا اور آپﷺ کو اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا تھا کہ آپﷺ نبی بنیں جو کہ بادشاہ ہو جیسا حضرت سلیمان ؑ تھے یا نبی بنیں جو کہ اللہ کا بندہ ہو تو آپﷺ نے نبی عبدیعنی ایسا نبی جو اللہ تعالیٰ کا بندہ ہو بننا پسند کیا۔ حضرت اسرافیل ؑ نے حضورﷺ کو یہ کہا تھا کہ آپﷺ کی اس انکساری کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ فرما دیا ہے کہ قیامت کے روز آپﷺ تمام آدم کی اولاد کے سردار ہوں گے ۔ سب سے پہلے آپﷺ ہی اپنی روشن قبر سے باہر تشریف لائیں گے اور گنہگاروں کی سب سے پہلے شفاعت بھی آپﷺ ہی فرمائیں گے ۔
رحمتِ کونینﷺنے فرمایا:
مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ، وَمَا زَادَ اللهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ، إِلَّا عِزًّا، وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللهُ
مال سے صدقہ دینا مال میں کمی نہیں کرتا اور بندے کا معاف کرانا اور معذرت خواہ ہونے سے اللہ اس کی عزت کو بڑھاتا ہے اور اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے بندے کی تواضع و انکساری سے اللہ اسے درجہ فضیلت میں بلند کرتا ہے۔
( صحیح مسلم 2588، جامع ترمذی2029، مسند ابی یعلیٰ 6458)
ایک روایت میں آتا ہے:
يُخَيِّرُكَ بَيْنَ أَنْ تَكُونَ نَبِيًّا مَلَكًا، وَبَيْنَ أَنْ تَكُونَ نَبِيًّا عَبْدًا
آپ ﷺ کو اختیار دیا گیا کہ آپ نبی بادشاہ ہونا پسند کرتے ہیں یا نبی بندہ ہونا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نبی بندہ ہونا پسند کیا۔
( مسند ابو یعلیٰ 4920، السنن الکبری للبیہقی 13321، شعب الایمان 155، شفا شریف1/ 262)
قاضی عیاض رحمتہ نے اسی طرح ایک حدیث حضرت ابی امامہ رضہ سے روایت کی کہ:
خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَكِّئًا عَلَى عَصًا فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَقَالَ لَا تَقُومُوا كَمَا تَقُومُ الْأَعَاجِمُ، يُعَظِّمُ بَعْضُهَا بَعْضًا
ایک دفعہ حضور ﷺ اپنے عصائے مبارک(لاٹھی) پر ٹیک لگائے ہوئے ہمارے پاس تشریف فرما ہوئے، ہم تعظیم کی خاطر کھڑے ہوگئے تو آپﷺ نے فرمایا کہ عجمیوں کی طرح کھڑے مت ہوا کرو جو آپس میں ایک دوسرے کی عزت میں حد سے بڑھ جاتے تھے۔
( سنن ابی داؤد5230، شفا شریف1/ 263)
اس کے بعد آپﷺ نے فرما یا کہ:
آكُلُ كَمَا يَأْكُلُ الْعَبْدُ، وَأَجْلِسُ كَمَا يَجْلِسُ الْعَبْدُ فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدٌ
میں اللہ تعالیٰ کا ایک بندہ ہوں جس طرح دوسرے بندے کھاتے ہیں میں بھی کھاتا ہوں اور جس طرح دوسرے بندے بیٹھتے ہیں میں بھی بیٹھتا ہوں۔
( شعب الایمان5572، تلخیص الحبیر1449، شفا شریف1/ 188، 263)
یہ آپﷺ نے اپنی انکساری کے باعث کہا۔
روایات میں آیا ہے کہ حضورﷺ گدھے پر بھی سواری کر لیا کرتے تھے اور اپنے ساتھ سواری پر کسی اور کو بھی بیٹھا لیا کرتے تھے مسکینوں کی تیمارداری کیا کرتے تھے غریبوں کی مجلس میں بھی بیٹھ جایا کرتے تھے اور کسی بھی مجلس میں کسی بھی جگہ بیٹھ جایا کرتے اور اس میں کسی بھی طر ح کی شرم محسوس نہ کرتے۔
(شفا شریف1/ 263)
حضرت عمر فاروق رضہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرما یا کہ :
لاَ تُطْرُونِي، كَمَا أَطْرَتْ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ، فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُهُ، فَقُولُوا عَبْدُ اللَّهِ، وَرَسُولُهُ
میری تعریف میں اس قدر زیادتی نہ کرنا جتنا عیسیٰ ؑ کی شان میں عیسائیوں نے کی یعنی کہ انہیں خدا کا بیٹاہی بنا دیا بلکہ میں تو خدا کا بندہ ہوں میرے متعلق یہی کہنا کہ اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔
(مسند احمد 154، 164، 331، 391، صحیح البخاری 3445، 6830، شفا شریف1/ 263)
اسی طرح حضرت انس رضہ سے روایت ہے کہ ایک بار ایک کم عقل عورت حضور ﷺکےپاس آئی اور کہنے لگی کہ مجھے آپﷺ سے ایک کام ہے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ اے فلاں کی والدہ بیٹھ جاؤ! مدینہ منورہ میں جہاں بھی تمہارا کام ہوگا میں اسے کروں گا ۔ انشااللہ ۔
جب تک اس عورت کی حاجت پوری نہ ہوئی وہ بیٹھی رہی اور اس وقت تک حضورﷺ بھی اپنی جگہ پر تشریف فرما رہے۔
(مسند احمد 12197، 13241، صحیح مسلم 2326، سنن ابی داؤد 4818، شفا شریف1/ 263)
اسی طرح حضرت انس رضہ کی روایت میں یہ بھی ہے کہ:
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُ المَرِيضَ، وَيَشْهَدُ الجَنَازَةَ، وَيَرْكَبُ الحِمَارَ، وَيُجِيبُ دَعْوَةَ العَبْدِ كَانَ يَوْمَ بَنِي قُرَيْظَةَ عَلَى حِمَارٍ مَخْطُومٍ بِحَبْلٍ مِنْ لِيفٍ، عَلَيْهِ إِكَافُ لِيفٍ
مریض کی عیادت کرتے، جنازے میں شریک ہوتے، گدھے کی سواری کرتے اور غلام کی دعوت قبول فرماتے تھے۔ بنو قریظہ ۱؎ والے دن آپ ایک ایسے گدھے پر سوار تھے، جس کی لگام کھجور کی چھال کی رسی کی تھی، اس پر زین بھی چھال ہی کی تھی۔
( جامع ترمذی 1017، سنن ابن ماجہ 4178، المستدرک للحاکم 3734، شعب الایمان 7841، شفا شریف1/ 264)
اسی طرح آپﷺنے جب حج کیا اور آپﷺ جس سواری پر سوار تھے اس کی گدی پرانی تھی اس پر لکیر دار کپڑا پڑا ہوا تھا جس کی قیمت چار درہم بھی نہ تھی ۔ اس موقع پر آپﷺ نے دعافرمائی تھی کہ:
اللهم اجعله حجا مبرورا، لَا رِيَاءَ فِيهِ وَلَا سُمْعَةً
اے اللہ تو میرے لئے اسے مقبو ل حج بنا دے جو کسی کو دکھانے یا سنانے کے لئے نہ ہو۔
(شفا شریف1/ 264)
آپﷺ کی عاجزی اور انکساری کا یہ عالم تھا کہ جب فتح مکہ ہوئی تو سواری پر ایسی عاجزی سے بیٹھے تھے کہ آپﷺ کا سر اقدس اس قدر جھکایا ہوا تھاکہ گھٹنوں سے لگتا تھا۔
اسی طرح حضورﷺ نے فرمایاکہ مجھے حضرت یونس ؑ پر فضیلت نہ دو اور انبیاء کرام میں سے کسی ایک کو دوسرے پر فضیلت نہ دیا کرو اور مجھے حضرت موسیٰ ؑ سے نہ بڑھاواور حضرت ابراہیم ؑ ہم سب سے زیادہ حقدار ہیں کہ ان کی تعریف کی جائے اور فرمایا کہ جتنی تکلیف حضرت یوسف ؑ کو قید خانے میں گزارنی پڑی اگر میں اس سے دوچار ہوجاتا تو میں اللہ کو پیارا ہوجاتا ۔
(شفا شریف1/ 265)
نوٹ: یہ شفا شریف کی عبارت کا ترجمہ ہے، اس کے علاوہ مختلف الفاظ کے ساتھ یہ روایات ان کتب میں موجود ہے۔
(مسند احمد1756، 2167، 2294، 2298، 2654، 3179، صحیح البخاری2411، 3408، 3395، 3412، 3413، 3414، 3414، 3416، 4603، 4604، 4630، 4631، 4804، 4805 ،6517، ، 7539، صحیح مسلم2373، 2376، 2377، شعب الایمان346، 1411)
ایک شخص نےآپﷺ کو مخاطب کرتے ہوئےکہا:
يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ، قَالَ: ” ذَاكَ إِبْرَاهِيمُ
یا خیر البریہ تو آپﷺ نے فر ما یا کہ اس لقب کا صحیح حقدار تو حضرت ابراہیم ؑ ہیں۔
( مسند احمد12826، 13907، 12908، صحیح مسلم2369، جامع ترمذی3352، سنن ابی داؤد4672، شفا شریف1/ 265)
آپﷺ کے یہ جتنے بھی القابات ہیں یہ آپﷺ کی عاجزی اور انکساری کی وجہ سے ہیں کہ آپﷺ اپنی بڑائی اور اپنی افضلیت ہر وقت لوگوں کے سامنے بیان نہیں فرماتے تھے یہ آپﷺ کی عاجزی اور انکساری تھی۔ ورنہ تو صحابہ کرام سے بہت سی ایسی احادیث مروی ہیں جن سے یہ ثابت ہے کہ آپﷺ اللہ تعالیٰ کے بعد تمام مخلوقات عالم ، تمام انسانیت اور تمام انبیا سے افضل ہیں ۔
حضورﷺ کے معاملات کے بارے میں صحابہ کرام کی روایا ت میں یہ بھی ہے کہ :
كان في بيته في مهنة أهله، يغلي ثَوْبَهُ، وَيَحْلِبُ شَاتَهُ، وَيُرَقِّعُ ثَوْبَهُ، وَيَخْصِفُ نَعْلَهُ، وَيَخْدِمُ نَفْسَهُ، وَيَقُمُّ الْبَيْتَ، وَيَعْقِلُ الْبَعِيرَ وَيَعْلِفُ نَاضِحَهُ، وَيَأْكُلُ مَعَ الْخَادِمِ، وَيَعْجِنُ مَعَهَا وَيَحْمِلُ بِضَاعَتَهُ مِنَ السُّوقِ
آپﷺ گھر کے کام کاج بھی کرتے اپنے کپڑے صاف کر لیتے ، بکری کا دودھ دوہتے ،کپڑوں کو پیوند لگا لیتے ، یعنی پھٹے ہوئے کپڑے خود سی لیتے اپنی جوتیوں (نعلین مبارک) کو مرمت کرلیتے اپنے ذاتی کام اپنے ہاتھ سے کر تے ، گھر کا انتظام کر لیتے اونٹ کو خود باندھ لیتے انہیں چارہ ڈال دیتے ، غلاموں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا لیتے ، گھر میں آٹا گوندھ لیتے اور ضرورت پڑے تو بازار سے اپنا سودا سلف خود اٹھا کر لاتے ۔
حضرت انس رضہ سے روایت ہے کہ اہل مدینہ کی لونڈیوں (غلام ، ملازمہ) میں سے اگر کوئی آپﷺ کی مددکی طلبگار ہوتی تو آپﷺ ان کی مدد فرماتے، ان کا وزن اٹھا کر جہاں بھی وہ جانا چاہتی آپﷺ وہاں تشریف لے جاتے ان کی اگر کوئی ضروریات ہوتی تو وہ پوری فرما لیتے پھر واپس پلٹتے۔
(شفا شریف1/ 266)
اس کے علاوہ دیگر کتب میں اس سے ملتی جلتی مرویات موجود ہیں۔
( مسند احمد 24747، 24226، 24948، 25710، صحیح البخاری، السنن الکبری للنسائی 3170)
ایک بار ایک شخص حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو ا تو آپﷺ کی ہیبت اس کے اوپر طاری ہوگئی تو حضور ﷺ نے اسے فرمایا کہ:
هَوِّنْ عَلَيْكَ، فَإِنِّي لَسْتُ بِمَلِكٍ إِنَّمَا أَنَا ابْنُ امْرَأَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ، كَانَتْ تَأْكُلُ الْقَدِيدَ
اطمینان رکھو میں کوئی دنیاوی بادشاہ تو نہیں ہوں میں ایک قریشی عورت کا بیٹا ہو ں جو خشک گوشت کھایا کرتی تھیں۔
( المعجم الاوسط1216، العلل للدار قطنی1063، تاریخ بخداد7/ 263، وسيلة الاسلام بالنبي ، ص141، شفا شریف1/ 266
اِس طرح یہ آپﷺ نے اپنی عاجزی اور انکساری کا اظہار فرمایا۔
حضرت ابو ہریرہ رضہ سے روایت ہے کہ:
دَخَلْتُ بِالسُّوقِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَجَلَسَ إِلَى الْبَزَّازِينَ، فَاشْتَرَى سَرَاوِيلَ بِأَرْبَعَةِ دَرَاهِمَ، وَكَانَ لِأَهْلِ السُّوقِ وَزَّانٌ يَزِنُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: زِنْ وَارْجِحْ
میں حضور ﷺ کے ہمراہ بازار گیا آپﷺ نے ایک کپڑا خریدا رقم گننے والے سے فرمایا کہ قیمت ادا کردو بلکہ کچھ زیادہ دے دو۔
(سنن النسائی 4592، سنن ابی داؤد 3336، جامع ترمذی 1305، الضعفاء الکبیر للعقیلی4/ 453، شفا شریف1/ 267)
حضرت ابو ہریرہ رضہ نے یہ سارا واقعہ بیان فرمایاکہ وہ دکاندار حضور ﷺ کے ہاتھ کا بوسہ لینے کے لئے آگے بڑھا تو آپﷺ نے اپنا ہاتھ پیچھے ہٹاتے ہوئے فرمایاکہ:
هَذَا إِنَّمَا تَفْعَلُهُ الْأَعَاجِمُ بِمُلُوكِهَا، وَلَسْتُ بِمَلِكٍ، إِنَّمَا أَنَا رَجُلٌ مِنْكُمْ
یہ اہل عجم کا طریقہ ہے۔وہی اپنے بادشاہوں کی ایسے تعظیم کیا کرتے ہیں میں کوئی بادشاہ نہیں ہوں بلکہ تم میں سے ایک فرد ہوں۔
فَوَزَنَ فَأَرْجَحَ، ثُمَّ أَخَذَ النَّبِيُّ ﷺ السَّرَاوِيلَ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَذَهَبْتُ لِأَحْمِلَهُ عَنْهُ، فَقَالَ: صَاحِبُ الشَّيْءِ أَحَقُّ بِشَيْئِهِ أَنْ يَحْمِلَهُ
اس کے بعد آپﷺ نے اپنا وہ کپڑا اٹھایا جب میں یعنی حضرت ابوہریرہ رضہ وہ کپڑا اٹھانے کے لئے آگے بڑھے تو حضورﷺ ارشاد فرمایا کہ مالک کو اپنی چیز اٹھانے کا زیادہ حق ہے ۔
( معجم شیوخ ابن الاعرابی2336، مسند ابی یعلی 6162، شفا شریف1/ 267)
حضور ﷺ کی عاجزی او رآپﷺ کی انکساری اس حد تک بڑھی ہوئی تھی کہ اپنے ساتھ کام کرنے والوں کے ہونے کے باوجود بھی آپﷺ اپنی چیزیں خود اٹھا لیا کرتے تھے۔
ایران کے بادشاہ نے اپنے دنوں کی تقسیم اس طرح سے کر رکھی تھی کہ جس روز خوب ہو ا چلتی تو وہ روز اس کے سونے کا دن ہوتا ، جس روز آسمان پہ بادل ہوتے وہ روز شکار کا ہوتا، اور جس دن بارش ہوتی وہ شراب پینے اور گانے بجانے کی محفلیں سجا نے کا دن ہوتااور جس دن دھوپ نکلتی اور مطلع صاف ہوتا اس دن کام کیا جاتا ۔
اگر ہم دیکھیں کہ ایران کے بادشاہ کے وقت کی تقسیم کتنی غلط تھی۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا :
يَعْلَمُونَ ظاهِراً مِنَ الْحَياةِ الدُّنْيا، وَهُمْ عَنِ الْآخِرَةِ هُمْ غافِلُونَ
جانتے ہیں اپنی آنکھوں کے سامنے وہ دنیاوی زندگی کو اور آخرت سے وہ پوری طرح بےخبر ہیں۔
( الروم7)
لیکن ہمارے آقا محمدﷺ نے آج سے ڈیڑھ ہزار سال پہلے یہ سکھا دیا کہ ہم اپنی وقت کی تقسیم کیسے کریں۔۔
ثلاثة أجزاء، جزء لله، وجزء لأهله، وجزء لِنَفْسِهِ
آپﷺ نے اپنے دن کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہوا تھا ، ایک حصہ اللہ تعالی ٰ کی عبادت کے لئے ، دوسرا حصہ اپنے گھر والوں کے لئے اور تیسرا حصہ اپنے لئے رکھا ہوا تھا۔
ثُمَّ جَزَّأَ جُزْأَهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ، فَيَرُدُّ ذَلِكَ بِالْخَاصَّةِ عَلَى الْعَامَّةِ
اور آپﷺ اپنے وقت کو اپنی ذات کے علاوہ اور دوسروں کے درمیان بھی تقسیم فرماتے۔
شمائل المحمدیہ1/ 277، شرح السنۃ للبغوی13/ 272، الأنوار في شمائل النبي المختار1/ 346، شفا شریف1/ 272، وصائل الوصول الی شمائل الرسول1/ 199،
نیز آپﷺ نے اپنے خاص لوگوں کو حکم دیا ہوا تھا کہ:
أَبْلِغُوا حَاجَةَ مَنْ لَا يَسْتَطِيعُ إِبْلَاغِي، فَإِنَّهُ مَنْ أَبْلَغَ حَاجَةَ مَنْ لَا يَسْتَطِيعُ إِبْلَاغَهَا أَمَّنَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ
وہ لوگوں کی مددکریں اور یہ کہا ہوا تھا کہ کوئی شخص اپنی مشکل لے کراگر نہ پہنچ سکے تو وہ اس کی ضرورت پوری کریں فرما یا کہ جو کسی مصیبت زدہ کی ضرورت پوری کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے میدان حشر کی مشکلا ت سے دور رکھے گا ۔
شفا شریف1/ 272، کشف الخفاء للعجلونی43
حضرت امام حسن بصری رضہ سے روایت ہے کہ :
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَأْخُذُ أَحَدًا بِقَرَفٍ، وَلَا يُصَدِّقُ أَحَدًا عَلَى أَحَدٍ»
حضورﷺ کسی شخص کو دوسرے کی غلطی کے لئے نہیں پکڑتے تھے نہ کسی دوسرے سے تصدیق فرماتے تھے یعنی کسی کی غلطی کی سزا دوسرے شخص کو یا اس کے جاننے والوں اور رشتہ داروں کو نہ دیتے۔
( المراسیل لابی داؤد 514، السنن الکبریٰ للبیہقی 16676، شعب الایمان 10600، شفا شریف1/ 273)
حضرت علی رضہ سے روایت ہے کہ: حضور ﷺ نے فرمایا کہ:
مَا هَمَمْتُ بِشَيْءٍ مِمَّا كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَعْمَلُونَ بِهِ غَيْرَ مَرَّتَيْنِ، كُلُّ ذَلِكَ يَحُولُ اللَّهُ بَيْنِي وَبَيْنَ مَا أُرِيدُ مِنْ ذَلِكَ، ثُمَّ مَا هَمَمْتُ بَعْدَهَا بِشَيْءٍ حَتَّى أَكْرَمَنِي اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ
میں نے زمانہ جاہلیت کے کسی بھی کام کا کوئی ارادہ نہیں کیا سوائے دو موقعوں کے لیکن ان دو موقعوں میں سے جب میں نے ان میں شامل ہونے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص قدرت سے مجھے روک دیا اس طرح میں کبھی کسی ناپسندیدہ کام کرنے کا ارادہ بھی نہ کر پایا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے میں نے نبوت کا اعلان فرما دیا ۔
( مسند البزار640، التاریخ الکبیر للبخاری 389، شفا شریف1/ 273)
اور وہ دو چیزیں جن کا میں نے ارادہ کیا ان میں سے ایک یہ ہے کہ ایک لڑکا میرے ساتھ بکریا ں چرایا کرتا تھا ایک دن میں نے اس سے کہا کہ آج تم میری بکریوں کی بھی نگرانی کرنا کیونکہ میں مکہ جانا چاہتا ہوں اور وہاں آج جوانوں میں بیٹھ کر اِن سے ہنسی مذاق کروں گا ۔
چنانچہ میں اس مقصد کے تحت شہر کی طرف روانہ ہو گیا مگر مکہ مکرمہ سے پہلے ہی ایک مقام پر دف او رگانے بجانے کے ساز (کیونکہ وہاں شادی کی تقریب تھی) میں سننے کے لئے قریب ہی بیٹھ گیا مگر کچھ بھی نہ سن سکا ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھےنیند آگئی گانے اور بجانے کا شور بھی مجھے بیدار نہ کر سکا حتیٰ کہ سورج کی گرمی سے میری آنکھ کھلی، میں کچھ بھی نہ سن سکا ۔اور جیسا گیا تھا ویسا ہی واپس آگیا۔
اسی طرح کا ایک اور واقعہ دوسری دفعہ پیش آیا اور یہی کچھ ہو ا اور ان دو موقعوں کے علاوہ میں نے کبھی کسی دنیاوی اور ناپسندیدہ کام کی طرف ارادہ بھی نہیں کیا۔ یہ اللہ تعالی ٰ کی طرف سے حضورﷺ پر اپنی خاص رحمت رہی کہ آپﷺ نے ایک عام آدمی کی طرح کبھی کوئی وقت صائع کرنے کا کام یا نوجوانوں کی طرح کھیلنا کودنا اور گانے بجانا نہیں کرتے۔ آپﷺ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص رحمت سے ان چیزوں سے بھی محفوظ رکھا۔
(شفا شریف1/ 273)
آپ ﷺکی پوری زندگی نیک شگون اور خوش آئند علامات سے معمور تھی اور آپ کا قلب امید و بہار سے لبریز رہتا۔ آپ کے رب نے آپﷺ کو یہ بشارت عطا فرمائی کہ ہم نے آپ کا سینہ کشادہ کردیا اور آپ کو ہمیشہ پُر امید رکھا جائے گا، جیسا کہ ارشاد ہے:
أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ
(اے نبی!) کیا ہم نے آپ کے لیے آپ کا سینہ کشادہ نہیں کیا؟
(الم نشرح، 94: 1)
آپ نہایت صاف دل، خوش مزاج اور ہمیشہ پُر امید رہنے والے تھے۔ آپ ﷺکے چہرہ انور پر ہمیشہ مسکراہٹ نمایاں رہتی، اور آپ مایوسی و دل شکستگی سے کوسوں دور، ہمیشہ آگے بڑھنے کے حوصلے اور عزم کے ساتھ رہتے۔ جب پہاڑوں کا فرشتہ آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اگر آپﷺ اجازت دیں تو ان مشرکین کو دو پہاڑوں کے درمیان پیس دوں جنہوں نے آپ کو ایذا دی، تو آپﷺ نے پُر یقین اور پُر امید لہجے میں فرمایا:
بَلْ أَرْجُو أَنْ يُخْرِجَ اللهُ مِنْ أَصْلَابِهِمْ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ وَحْدَهُ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا
بلکہ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی پشتوں سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو صرف اللہ کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔
(صحیح البخاری، بدء الخلق، حدیث3231)
اللہ کے فضل و کرم اور نبی اکرم ﷺ کے نیک شگون و حسنِ ظن کی برکت سے ایسا ہی ہوا۔آپ کو مکہ میں اذیتیں دی گئیں، مشقتیں سہنے پر مجبور کیا گیااور آپﷺ کے پیروکاروں کو تکالیف سے دوچار کیا گیا، لیکن آپ نے کبھی اُمید کا دامن نہ چھوڑا۔ آپﷺ اپنے رب پر کامل اعتماد کے ساتھ فرمایا کرتے:
اللہ کی قسم! ایک دن ضرور آئے گا کہ اللہ تعالیٰ اس دین کو عروج بخشے گا، یہاں تک کہ ایک سوار صنعاء سے حضرموت تک تنہا سفر کرے گا اور راستے میں اسے کسی کا خوف نہ ہوگا سوائے اس بھیڑیے کے جس سے اپنی بکریوں کے بارے میں ڈر ہوگا۔
(صحیح البخاری، مناقب الأنصار، حدیث: 3852)
نبی کریم ﷺ نہایت کٹھن اور مشکل حالات میں بھی پُر امید رہے۔ جب آپ ﷺاور آپ کے رفیق سیدنا ابو بکر صدیقؓ غارِ ثور میں پناہ گزین ہوئے اور مشرکین تلواروں کے ساتھ تعاقب کرتے ہوئے دہانے تک پہنچ گئے تو آپ ﷺاللہ کی امان و حفاظت میں مطمئن تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ پر سکینت نازل فرمائی، آپ کے قلب کو یقین و توکل سے منور کیا اور آپ ﷺکو تمام امور اللہ کے سپرد کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ سیدنا ابو بکرؓ نے ان لمحوں کی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہا:
میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: اگر ان میں سے کوئی اپنے قدموں کی طرف دیکھ لے تو ہمیں ضرور دیکھ لے گا۔اس پر آپﷺ نے فرمایا:
مَا ظَنُّكَ يَا أَبَا بَكْرِ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا
اے ابوبکر! تیرا کیا گمان ہے ان دو کے بارے میں جن کا تیسرا اللہ ہے۔
(صحیح البخاری، کتاب أصحاب النبي، حدیث3653 )
ایسے حالات میں بھی آپ ﷺاپنے ساتھی کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا :
لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا
غم نہ کر و ، یقیناً اللہ ہمارے ساتھ ہے۔
اسی طرح میدانِ بدر میں جب قریش کا لشکر جدید اسلحہ اور گھوڑوں کے ساتھ مقابلے کے لیے اترا تو آپ ﷺنے فوراً اپنے رب کی بارگاہ میں گرگڑا کر دعائیں مانگنا شروع کر دیں، یہاں تک کہ آپﷺ کی چادر کندھوں سے گر گئی۔ سیدنا ابو بکر صدیقؓ آگے بڑھے، آپﷺ کی چادر اٹھا کر کندھوں پر ڈالی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! بس کیجیے، آپ کی دعا کافی ہے، اللہ تعالیٰ اپنا وعدہ پورا فرمائے گا۔ اسی موقع پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی:
إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْدِفِينَ
(یاد کرو) جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے تو اس نے تمہاری فریاد قبول کی اور فرمایا کہ میں تمہاری مدد ایک ہزار فرشتوں کے ذریعے کروں گا جو پے در پے آئیں گے۔
(الانفال، 8: 9؛ صحیح مسلم، الجهاد والسير، حدیث 1763)
آپ ﷺ مسلسل گریہ و زاری کرتے رہے۔ جب صبح کی روشنی پھیلی تو آپﷺ اپنے روشن اور مسکراتے چہرے کے ساتھ صحابہ کرامؓ کے پاس تشریف لائے اور پُر امید لہجے میں فرمایا:
اللہ کی برکت کے ساتھ بڑھو اور خوش ہو جاؤ، بلاشبہ اللہ نے مجھ سے ایک گروہ کے بارے میں وعدہ فرمایا ہے۔ اللہ کی قسم! میں گویا وہ مقامات دیکھ رہا ہوں جہاں کفار قتل ہو کر گریں گے۔
(سبل الهدى والرشاد، 4/26)
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً لِيُطَهِّرَكُمْ بِهِ وَيُذْهِبَ عَنكُمْ رِجْزَ الشَّيْطَانِ وَلِيَرْبِطَ عَلَى قُلُوبِكُمْ وَيُثَبِّتَ بِهِ الْأَقْدَامَ
(اور اللہ) آسمان سے تم پر بارش برسا رہا تھا تاکہ اس کے ذریعے تمہیں پاک کرے، تم سے شیطانی وسوسے دُور کرے، تمہارے دلوں کو مضبوط کرے اور تمہیں ثابت قدم رکھے۔
(الأنفال 8: 11)
چنانچہ بارش برسنے لگی ۔ مسلمانوں نے اس کا پانی پیا، وضو اور غسل کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو مضبوط کیا اور انہیں ثابت قدمی عطا فرمائی۔ آپ ﷺ نے یہ معرکہ ایسے لڑا جیسے ایک فاتح جنگ سے پہلے ہی نتیجہ جانتا ہو۔ پھر جب معرکہ شروع ہوا تو آپﷺ کی نصرت کے لیے فرشتے نازل ہوئے اور الحمدللہ “یوم الفرقان” کے دن فتح مکمل ہوئی۔ یہ اسلام کی پہلی عظیم کامیابی تھی، پھر فتوحات اور کامیابیوں کا سلسلہ شروع ہوا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو عزت بخشی، اپنے کلمے کو بلند کیا اور اپنی نعمت کو کامل فرما دیا۔
آپ ﷺ نے کبھی ناامیدی کا اظہار نہیں کیا۔ اور آپ ناامید اور مایوس کیسے ہو سکتے تھے جب کہ آپﷺ پر یہ فرمانِ الٰہی نازل ہو چکا تھا:
وَلَا تَيْأَسُوا مِن رَّوْحِ اللَّهِ إِنَّهُ لَا يَيْأَسُ مِن رَّوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ
اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، بے شک اللہ کی رحمت سے تو کافر ہی مایوس ہوا کرتے ہیں۔
(یوسف 12: 87)
آپ ﷺ مایوسی اور ناامیدی سے کوسوں دور تھے اور اپنے صحابہ کرام کو بھی ہمیشہ اللہ پر حسنِ ظن، اچھی اُمید اور توکل کا درس دیتے۔ اسلام کی پُر امیدی اور نیک شگون کا ایک نمایاں واقعہ خندق کی کھدائی کا ہے ۔ نبی رحمت ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ مل کر خندق کھود رہے تھے۔ بھوک، پیاس اور تھکن نے سب کی کمر دوہری کر رکھی تھی۔ ادھر کفارِ قریش، یہود اور دیگر قبائل کا لشکر کثیر تعداد میں ان پر حملہ آور ہونے کے قریب تھا۔ حالات اتنے سخت اور نازک تھے کہ قرآن نے ان کی تصویر کشی ان الفاظ میں فرمائی ہے:
إِذْ جَآءُوكُم مِّن فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا ﴿١٠﴾ هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا
جب دشمن تم پر اوپر اور نیچے سے چڑھ آئے، اور جب خوف کے باعث آنکھیں پتھرا گئیں اور کلیجے حلق کو آنے لگے، اور تم اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔ وہاں مومن شدید آزمائش سے دوچار کیے گئے اور خوب ہلا دیے گئے۔
(الأحزاب 33: 10-11)
یہ ننگے پاؤں، بھوکے پیاسے، تھکے ماندے فقراء و کمزور لوگ اپنے پرانے ہتھیاروں سے خندق کھود رہے تھے۔ موت ان کے دائیں بائیں منڈلا رہی تھی اور ان کی کیفیت کو اللہ کے سوا کوئی نہ جانتا تھا۔ بھوک اتنی شدید تھی کہ روٹی کا ایک ٹکڑا بھی ان کے لیے زندگی کی نوید تھا۔ ایسے کٹھن حالات میں نبی اکرم ﷺ ان پتھروں اور چٹانوں کے درمیان انہیں اُمید دلاتے اور بشارت سناتے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ نے خندق کھودی اور بھوک کی شدت سے اپنے پیٹوں پر پتھر باندھ رکھے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ہمیں سلمان کے پاس لے چلو۔ وہاں ایک سخت چٹان نے صحابہ کو مشکل میں ڈال رکھا تھا۔ آپ ﷺچٹان کے پاس گئے ، اپنی چادر مبارک کو اتار کر ایک طرف رکھ دیا۔ خندق میں اترے، کدال اٹھائی، اسے اپنے کندھوں سے اوپر تک بلند کیا اور فرمایا: بسم اللہ۔ پوری قوت سے جب کدال چٹان پر پڑی تو اس میں سے چنگاریاں نکلیں اور اس کا بڑا حصہ ٹوٹ گیا۔ سبحان اللہ! یہ طاقت، یہ قوت، ایمان کا یہ جذبہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے مقدس ہاتھ! آپ ﷺ نے صحابہ کرام کی طرف دیکھا۔ یہ وقت ان کے حوصلے بڑھانے کا تھا۔ اسی موقع پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
اللهُ أَكْبَرُ، أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الشَّامِ
اللہ اکبر! مجھے ملک شام کی چابیاں عطا کی گئی ہیں،
وَاللهِ إِنِّي لَأُبْصِرُ قُصُورَهَا الْحُمْرَ السَّاعَةَ
اللہ کی قسم! اس وقت میں اس کے سرخ محلات اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔
پھر آپ ﷺ نے دوبارہ کدال اٹھائی، اسے اپنے کندھوں سے بلند کیا اور فرمایا: بسم اللہ۔ پوری قوت سے جب کدال چٹان پر پڑی تو اس میں سے چنگاریاں نکلیں اور اس کا بڑا حصہ ٹوٹ گیا۔ آپ ﷺ نے صحابہ کرام کی طرف دیکھا اور فرمایا:
اللهُ أَكْبَرُ، أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ فَارِسَ
اللہ اکبر! مجھے فارس (ایران) کی چابیاں عطا کی گئی ہیں،
وَاللهِ إِنِّي لَأُبْصِرُ قَصْرَ الْمَدَائِنِ الْأَبْيَضَ
اللہ کی قسم! میں اس وقت مدائن کے سفید محلات کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔
پھر رسول اللہ ﷺ نے کدال اٹھائی اور بسم اللہ کہہ کر امت کو یہ سبق دیا کہ ہر کام کی ابتدا اللہ کے نام سے کرنی چاہیے۔ آپ ﷺ نے پوری قوت کے ساتھ ایک مرتبہ پھر کدال کو چٹان پر مارا۔ چٹان ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی۔ اسی وقت آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
اللَّهُ أَكْبَرُ، أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الْيَمَنِ
اللہ اکبر! مجھے یمن کی چابیاں عطا کی گئی ہیں،
وَاللهِ! إِنِّي لَأَبْصِرُ أَبْوَابَ صَنْعَاءَ مِنْ مَّكَانِي هَذَا السَّاعَةَ
اللہ کی قسم! اس وقت میں اپنی اسی جگہ سے صنعاء شہر کے دروازے دیکھ رہا ہوں۔
(مسند احمد: 303/4، سنن النسائي، حدیث: 3178)
یہ سن کر منافقین کہنے لگے: ہمیں اپنی جانوں کی فکر لاحق ہے اور آپﷺ ہمیں فارس و روم کے محلات کی نوید سناتے ہیں۔
(المعجم الكبير للطبراني، 11/372)
رسول اکرم ﷺ کی طرف سے یہ امید اور بشارت گویا پیاس کی شدت میں میٹھا اور شیریں پانی تھی۔ ساتھ ہی آپ ﷺ نے فرمایا:
یقیناً اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین کو سمیٹ دیا، میں نے اس کے مشرق و مغرب دیکھ لیے۔ اور بے شک میری امت کی سلطنت وہاں تک پہنچے گی جہاں تک زمین میرے لیے سمیٹی گئی۔ اور مجھے سونے چاندی کے خزانے دیے گئے۔
(صحیح مسلم، الفتن وأشراط الساعة، حدیث: 2889)
معمولی سی خندق کو تین عظیم سلطنتوں کی فتح کا پیش خیمہ بتانا وہی کر سکتا تھا جو کامل یقین اور ایمان رکھتا ہو۔ صحابہ کرامؓ نے یہ بشارت سن کر سکون، خوشی اور اطمینان محسوس کیا۔ ان کے چہرے مسرت سے کھل اٹھے اور ان کی زبانیں قرآن کے اس کلمے کو بار بار دہرانے لگیں:
هذَا مَا وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَمَا زَادَهُمْ إِلَّا إِيمَانًا وَتَسْلِيمًا
یہی ہے وہ جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا، اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا۔ اور اس چیز نے ان کے ایمان اور فرماں برداری کو اور بڑھا دیا۔
(الأحزاب 33: 22)
مگر منافقین نے کہا:
مَا وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُورًا
اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے جو وعدہ کیا ہے وہ تو دھوکے اور فریب کے سوا کچھ نہیں۔
(الأحزاب 33: 12)
وہ استہزا اور مذاق میں کہتے: ہم دشمن کے خوف سے قضائے حاجت کے لیے بھی نہیں جا سکتے اور آپ ہمیں فارس و روم کے محلات کی خوشخبری سناتے ہیں! یہ اس لیے کہ وہ اس معاملے کو شک اور بدگمانی کی نظر سے دیکھتے تھے۔ پھر چند سال بعد وہ بشارت سچ ثابت ہوئی۔ اسلامی لشکر فارس و روم کی سرزمین میں لا إله إلا اللہ کا پرچم لہراتے داخل ہوئے اور اللہ کی کبریائی کا جھنڈا گاڑ دیا۔یوں ایک ہی میدان اور ایک جیسی صورت حال میں کچھ لوگ پُرامید تھے اور کچھ مایوس و بدگمان۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا:
وَإِذَا مَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ فَمِنْهُم مَّن يَقُولُ أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَـذِهِ إِيمَانًا فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَزَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَهُمْ يَسْتَبْشِرُونَ ﴿١٢٤﴾ وَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا إِلَى رِجْسِهِمْ وَمَاتُوا وَهُمْ كَافِرُونَ
اور جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو ان میں سے بعض کہتے ہیں: تم میں سے کس کے ایمان میں اس نے اضافہ کیا؟ تو جو ایمان والے ہیں ان کا ایمان بڑھ گیا اور وہ خوش ہو گئے۔ اور جن کے دلوں میں بیماری ہے ان کی پلیدی پر مزید پلیدی کا اضافہ ہو گیا اور وہ کافر ہی مرتے ہیں۔
(التوبة 124-125)
پس آیات، ان کا نزول، معرکہ اور زمان و مکان سب ایک تھے لیکن لوگ مختلف۔ کچھ اللہ پر اعتماد اور بھروسہ کرنے والے تھے، اللہ تعالیٰ نے انہیں امیداور بشارت عطا کی۔ اور کچھ فتنہ گر تھے جو اللہ پر بدگمانی رکھتے، اس کے دین کا انکار اور اس کے رسول کو جھٹلاتے، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا میں ذلت و رسوائی اور آخرت میں آگ کا عذاب دیا۔
آپ ﷺ ایک دن منبر پر جلوہ افروز تھے اور صحابہ کرام آپﷺ کے سامنے بیٹھے تھے۔ اسی دوران آپﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہؓ کے لختِ جگر سیدنا حسن بن علیؓ وہاں آ گئے۔ آپ ﷺ نے انہیں اپنے ساتھ منبر پر بٹھا لیا اور پھر لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ
بلا شبہ میرا یہ بیٹا سردار ہے اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں کے درمیان صلح فرمائے گا۔
(صحیح البخاری، الصلح، حدیث: 2704)
یوں محسوس ہوتا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کے سامنے کائنات کی کتاب کھول دی گئی تھی اور آپ اس کا مطالعہ فرما رہے تھے اور اس بچے کے بارے میں پُر امید تھے کہ یہ مسلمانوں کے خون کی حفاظت کرے گا، انہیں باہم نہ لڑنے دے گا، فتنہ ختم کرے گا اور امت مسلمہ کے دونوں گروہوں کی باہمی جنگ کو بند کر دے گا۔ اور الحمد للہ اس کریم فرزند، حضرت حسن بن علی نے عملاً ایسا ہی کیا کہ جب انہوں نے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان کے حق میں خلافت سے دستبرداری اختیار کی تو خون بہنا رک گیا، شر و فتنہ ختم ہوگیا اور معاملہ بالکل اسی طرح ہوا جیسا کہ رسول کریم ﷺ نے امید ظاہر فرمائی تھی۔
آپ ﷺ کے خواب بھی امید اور بشارت پر مبنی ہوا کرتے تھے جیسا کہ سیدہ اُم حرام بنت ملحان ، جو نبی اکرم ﷺ کی محرم تھیں، بیان کرتی ہیں کہ ایک دن آپ ﷺ میرے ہاں سو گئے۔ پھر جب آپ ﷺبیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے۔ میں نے عرض کیا: آپ کس وجہ سے مسکرا رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا:
میری امت میں سے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کیے گئے جو بحر اخضر (بحیرہ روم) پر ایسے سوار ہوں گے جیسے بادشاہ تخت پر بیٹھے ہوتے ہیں۔
سیدہ اُم حرام نے عرض کیا:
یا رسول اللہ! آپ اللہ سے دعا کریں کہ مجھے بھی ان لوگوں میں شامل فرما دے۔ آپ ﷺ نے ان کے لیے دعا فرمائی۔ پھر دوبارہ سو گئے اور پہلے کی طرح خواب دیکھ کر مسکرائے اور سیدہ اُم حرام نے پھر عرض کیا اور آپ ﷺ نے پہلے جیسا جواب دیا۔ سیدہ اُم حرام رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ اللہ سے دعا کریں کہ مجھے بھی ان میں شامل فرما دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
تو ان میں پہلے گروہ میں شامل ہوگی۔
(صحیح البخاری، الجہاد والسیر، حدیث: 2799)
اللہ اکبر! آپ ﷺ کے خواب بھی نیک شگون، امید اور بشارت پر مبنی تھے جنہیں اللہ تعالیٰ حقیقت کا جامہ پہنا دیتا اور جیسا آپ بتاتے ویسا ہی ہو جاتا۔ سو ایک دن آیا کہ یہ لشکر روانہ ہوا تو اس کے ساتھ جلیل القدر صحابی سیدنا عبادہ بن صامتبھی تھے اور ان کی زوجہ محترمہ سیدہ اُم حرام بنت ملحان بھی شریک تھیں اور ہزاروں نیکوکار اہل ایمان جزیرہ قبرص کی طرف بحیرہ روم کو عبور کر رہے تھے۔ وہ امن و سلامتی اور ایمان پر مبنی کلمہ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰہِ کی سربلندی کا عزم رکھتے تھے۔
آپ ﷺ نیک شگون کی وجہ سے ان ناموں کو پسند کرتے تھے جن میں خوشخبری، بھلائی اور امید کے معانی پائے جاتے ہوں اور جو برکت کا مفہوم رکھتے ہوں۔ اور آپ ﷺ برے ناموں یا برے معانی والے ناموں سے منع فرماتے تھے جن سے بدشگونی، جنگ، شر، خوف، غم اور مصیبت وغیرہ کا مفہوم نکلتا ہو۔ ابو وہب بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
أَحَبُّ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ عَبْدُ اللَّهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَأَصْدَقُهَا: حَارِثٌ، وَهَمَّامٌ، وَأَقْبَحُهَا: حَرْبٌ، وَمُرَّةُ
اللہ کو سب سے محبوب نام عبداللہ اور عبدالرحمٰن ہیں، سب سے زیادہ سچے نام حارث اور ہمام ہیں، اور سب سے برے نام حرب (جنگ) اور مُرَّه (کڑوا) ہیں۔
(السلسلة الصحیحة: 34/3)
آپ ﷺ ناموں سے امید، سچائی، نیک فال اور خوبصورت نتائج اخذ فرماتے تھے۔ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کو سب سے محبوب نام وہ ہیں جو “عبد” سے شروع ہوں، جیسے عبداللہ اور عبدالرحمٰن، اور سب سے برے نام حرب اور مُرَّه ہیں کیونکہ آپ ﷺ کا دین سلامتی، عدل، امن اور ایمان پر مبنی ہے جبکہ حرب اس کے برعکس ہے اور مُرَّه مٹھاس کی ضد ہے جو اسلام میں نامناسب ہے کیونکہ اسلام سراپا مٹھاس ہے۔ صحیح مسلم کی روایت کے مطابق آپ ﷺ نے اس عورت کا نام بھی بدل دیا جسے “عاصیہ” (گناہ گار) کہا جاتا تھا اور اس کا نام “جمیلہ” رکھا۔ رسول اکرم ﷺ نے ایک آدمی سے پوچھا: تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے کہا: “حَزْن” (سختی)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: بلکہ تم سہل (نرم) ہو۔
(صحیح البخاری، الأدب، حدیث: 6193)
حدیبیہ کے دن جب قریش مکہ نے نمائندے بھیجے اور آخر میں سہیل بن عمرو کو بھیجا تو رسول اکرم ﷺ نے نیک شگون لیتے ہوئے فرمایا: اب تمہارا معاملہ آسان ہوگیا ہے۔
(صحیح البخاری، الشروط، حدیث: 2732)
جب آپ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو اس کا نام “یثرب” تھا، آپ ﷺ نے اسے بدل کر “طیبہ” رکھا کیونکہ یثرب کے معنی رونا پیٹنا اور سرزنش ہیں لیکن طیبہ عمدہ، خوبصورت اور اچھا نام ہے جو خیر و برکت اور ہر طرح کی خوبی پر دلالت کرتا ہے۔ سیدنا سمرہ بن جندبسے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
تم اپنے بیٹے کا نام یسار (آسانی)، رباح (نفع پانے والا)، نجیح (کامیاب ہونے والا) اور اَفلَح (زیادہ فلاح پانے والا) نہ رکھو، کیونکہ جب پوچھا جائے گا: افلح یہاں ہے؟ اور وہ موجود نہ ہوگا تو کہا جائے گا: یہاں کوئی افلح نہیں۔سیدنا سمرہ نے کہا: بس یہ چار ہی نام ہیں، میری ضمانت پر اور کوئی نام نہ بڑھانا۔
(صحیح مسلم، الآداب، حدیث: 2137)
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی کا نام یسار وغیرہ رکھا جائے اور کسی سے پوچھا جائے: “کیا یسار گھر میں ہے؟” اور جواب ملے کہ نہیں، تو اس سے بدشگونی لی جا سکتی ہے کہ آسانی گھر میں نہیں بلکہ تنگی ہے۔ اسی طرح اگر پوچھا جائے: “رباح ہے؟” اور جواب ملے کہ نہیں، تو مطلب ہوگا کہ نفع نہیں بلکہ خسارہ ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کس قدر نیک شگون اور اچھے معانی کے حریص تھے۔ آپ ﷺ نے مایوسی، گھبراہٹ، بدشگونی اور نحوست کے تمام دروازے بند کر دیے اور ہر نام سے کوئی نہ کوئی اچھائی نکال لیتے تاکہ زندگی میں خوشخبری پھیلائیں۔
سیدنا انس سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ رات کے وقت خیبر پہنچے اور آپ ﷺ کی عادت تھی کہ جب کسی قوم کے پاس رات میں پہنچتے تو صبح ہونے تک ان پر حملہ نہ کرتے۔ جب صبح ہوئی تو یہودی کلہاڑیاں اور ٹوکریاں لیے کھیتوں کی طرف نکلے۔ جب انہوں نے آپ ﷺ کو دیکھا تو کہنے لگے: اللہ کی قسم! یہ تو محمد اور ان کا لشکر ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
خیبر تباہ ہوگیا۔ (صحیح البخاری، المغازی، حدیث: 4197)
دیکھیے! آپ ﷺ نے کس طرح جب ان کے پاس توڑ پھوڑ کے آلات دیکھے تو نیک فال لی کہ ان کی تباہی اور بربادی ہوگی، ان کی قوت پاش پاش ہو جائے گی اور مسلمانوں کو فتح نصیب ہوگی۔
صلح حدیبیہ میں بظاہر لگتا تھا کہ رسول اکرم ﷺ نے بہت سے معاملات میں پسپائی اختیار کی ہے، حتیٰ کہ سیدنا عمر بن خطاببھی حاضر ہوکر عرض کرتے ہیں: “اللہ کے رسول! کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں؟” آپ ﷺ نے فرمایا: کیوں نہیں! عرض کی: “کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول جہنم میں نہیں جائیں گے؟” فرمایا: کیوں نہیں! عرض کی: “پھر ہم اپنے دین میں کمزوری کیوں اختیار کریں اور صلح کیوں کریں؟ اور یوں کیوں لوٹ جائیں کہ اللہ نے فیصلہ نہیں کیا؟” اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: خطاب کے بیٹے! میں اللہ کا رسول ہوں، اس کے حکم سے صلح کر رہا ہوں، اللہ مجھے ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔
آپ نے سیدنا عمرؓ کو فتح کی خوشخبری دی اور یہ ساری بات ایک ہی سطر میں سمیٹ دی۔ مشرکین کی طرف سے طے کردہ صلح کی تمام شرائط اگرچہ ظالمانہ اور غیر منصفانہ تھیں، لیکن رسول اکرم ﷺ اپنی پُر امید شخصیت اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسے کے باعث ہرگز مایوس نہیں ہوئے۔ آپ ﷺنے ہمیشہ مثبت نتائج پر نگاہ رکھی۔ آپﷺ کو یقین تھا کہ بہت جلد آپ ﷺفاتحانہ طور پر مکہ میں داخل ہوں گے، توحید کا پرچم بلند ہوگا اور شرک کو شکست فاش ملے گی، حق سربلند ہوگا اور باطل پسپا ہو جائے گا۔ اس یقین کی بنیاد یہ تھی کہ آپ ﷺکے پاس وحی کا نور، نبوت کی عصمت اور اللہ تعالیٰ کی براہِ راست نگرانی موجود تھی۔ آپ ﷺکی زندگی مومن کے ہر اقدام کے لیے اس قول “پیوستہ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھ” کا عملی مظہر تھی۔
آپ ﷺ نے ہر مومن مرد و عورت کو اچھی فال لینے اور اللہ کے ساتھ اچھا گمان رکھنے کی ترغیب دی اور ہمیں یہ خوشخبری سنائی کہ حالات جیسے بھی ہوں، خیر اور بھلائی ہمارے ہی حق میں ہے۔ تنگی ہو یا آسانی، شدت ہو یا فراوانی، صحت ہو یا بیماری، غربت ہو یا مال داری، کوئی بھی کیفیت خیر اور بھلائی سے خالی نہیں۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
مسلمان پر جو بھی مصیبت آتی ہے، اللہ تعالیٰ ضرور اسے اس کے لیے کفارہ بنا دیتا ہے، یہاں تک کہ اسے جو کانٹا بھی چھبتا ہے، وہ اس کے لیے کفارہ بن جاتا ہے۔
(صحیح البخاری، المرضى، حدیث: 5640)۔
اس سے بڑھ کر امید کی کیا بات ہو سکتی ہے اور اس سے بہتر شگون کیا ہو سکتا ہے کہ انسان کے خسارے اور منافع، غم اور خوشیاں سب اس کے حق میں بہتر ثابت ہوں؟ ہم اللہ تعالیٰ کے اس آسان، معتدل اور سہل دین پر اس کا شکر ادا کرتے ہیں۔
آپ ﷺ نے خبر دی کہ اچھی امید رکھنے والوں کے لیے اللہ کے ہاں اجر و ثواب ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
تَبَسُّمُكَ فِي وَجْهِ أَخِيكَ لَكَ صَدَقَةٌ
یعنی اپنے بھائی کے چہرے پر مسکرانا بھی تمہارے لیے صدقہ ہے۔
(جامع الترمذی، أبواب البر والصلة، حدیث: 1956)
مسکراہٹ جو خرید و فروخت کا حصہ نہیں، بلکہ صرف دانتوں اور ہونٹوں کا حسین امتزاج ہے جس سے خوشی اور امید جھلکتی ہے، اس پر بھی بندے کو اجر ملتا ہے، کیونکہ اس سے وہ اپنے بھائی کو یہ پیغام دیتا ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے، لوگ اچھی حالت میں ہیں اور آنے والا کل آج سے زیادہ خوبصورت اور بہتر ہے۔
رسول اکرم ﷺ نے مومن کے نیک شگون کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کی مراد پوری ہونے کا ذریعہ قرار دیا ہے، کیونکہ اس نے اللہ سے اچھی امید رکھی تو اللہ تعالیٰ نے اسے عزت بخشی اور اس کی مراد پوری کر دی۔ نبی اکرم ﷺ ایک نوجوان کے پاس تشریف لے گئے جو زندگی اور موت کی کشمکش میں تھا۔ آپ ﷺ نے پوچھا:
تم کیا محسوس کرتے ہو؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! میں اللہ سے امید رکھتا ہوں اور اپنے گناہوں سے ڈرتا ہوں۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
اس موقع پر یہ دونوں چیزیں کسی بندے کے دل میں اکٹھی نہیں ہوتیں مگر یہ کہ اللہ اسے وہ عطا کرتا ہے جس کی وہ امید رکھتا ہے اور جس سے وہ ڈرتا ہے اس سے اسے امن بخشتا ہے۔
(جامع الترمذی، الجنائز، حدیث: 983)
امید سے مراد اللہ تعالیٰ کی مغفرت، رحمت اور رضا کی طلب ہے اور یہ وہ آرزو ہے جو بندے کو اللہ کی خوشنودی اور جنت کی نعمتوں تک پہنچاتی ہے۔ بلاشبہ ہمارے نبی کریم ﷺ نے ہمارے لیے امید، خوش بختی اور آرزو کو ابتدا سے انتہا تک ایک ہی جملے میں سمو دیا ہے۔ آپ ﷺ نے اللہ عزوجل سے یہ فرمان نقل کیا:
أنا عند ظنِّ عبدي بي
میرا بندہ میرے ساتھ جیسا گمان رکھتا ہے، میں بھی اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہوں۔
(صحیح البخاری، التوحید، حدیث: 7405)
اگر آپ اللہ تعالیٰ سے بھلائی کی امید رکھتے ہیں اور یہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ سب سے بڑا، جود و کریم اور ارحم الراحمین ہے تو پھر آپ کو اس کے خوبصورت اور بہترین نتائج کی بشارت ہے۔ اور اگر کوئی شخص اس کے برعکس اللہ کے ساتھ بدگمانی رکھتا ہے یا شر کی امید رکھتا ہے تو اس کے برے گمان کی وجہ سے یہ ناپسندیدہ صورت حال ضرور اس پر واقع ہوگی، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
الظَّانِّينَ بِاللّٰهِ ظَنَّ السَّوْءِ عَلَيْهِمْ دَائِرَةُ السَّوْءِ وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ وَلَعَنَهُمْ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَهَنَّمَ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا
جو لوگ اللہ کے متعلق برے گمان کرتے ہیں، ان پر بری گردش آن پڑی ہے، اللہ ان سے ناراض ہوا، ان پر لعنت کی اور ان کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے، اور وہ بدترین لوٹنے کی جگہ ہے۔
(الفتح: 6)
جدید سائنسی تحقیقات سے بھی یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ مثبت سوچ رکھنے والے اور پُر امید انسان کی عمر اوسطاً ساڑھے سات سال زیادہ ہوتی ہے اور پرامید رہنے والے اللہ کے حکم سے لمبی عمر پاتے ہیں۔ عصری سائنسی علوم نے اس فرمانِ نبوی ﷺ کی تصدیق کی ہے۔ بیسویں صدی کی مغربی تہذیب میں اس پر بے شمار تحقیقات ہوئیں جو سینکڑوں جرائد پر مشتمل ہیں، اور ان سب کا خلاصہ یہی نکلا:
كَمَا تَتَوَقَّعُ يَكُونُ
آپ جیسی توقع اور امید رکھیں گے، ویسا ہی ہوگا۔
یہ حقیقت نبی کریم ﷺ نے آج سے چودہ سو سال پہلے ان خوبصورت الفاظ میں بیان فرمائی:
أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي
میں اپنے بندے سے اس کے گمان کے مطابق معاملہ کرتا ہوں۔
لہٰذا اپنے دل کے ربط اور نیت کے زاویے کو ہمیشہ نیک شگون اور امید کے ساتھ قائم رکھیں اور رب العالمین کی آسانیوں پر خوش رہیں۔ ہمارے رسول ﷺ نے ہمیں تعلیم دی ہے کہ ہم پرامید رہیں اور زندگی میں ہمیشہ بہترین اور اچھائی کی توقع رکھیں۔ برے وقت کا انکار نہ کریں کیونکہ قرآن کا اسلوب واضح کرتا ہے کہ جس نے اللہ تعالیٰ سے اچھائی کی امید رکھی اور اس کے ساتھ اچھا گمان رکھا، اللہ اسے نوازے گا اور اسے سعادت مند بنا کر اس کی آرزو پوری کرے گا۔ اور جس نے اللہ کے ساتھ بدگمانی رکھی اور مصائب و مشکلات کی توقع رکھی، تو اس کے ساتھ ویسا ہی ہوگا۔
آپ ﷺ بدشگونی سے منع کرتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ ﷺ بخاری شریف میں مذکور روایت کے مطابق ایک دیہاتی کی تیمارداری کے لیے گئے اور فرمایا:
لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ
فکر نہ کرو، یہ ان شاء اللہ پاکیزگی کا باعث ہے۔
دیہاتی نے کہا: پاکیزگی کا باعث؟ بلکہ یہ تو بخار ہے جو بوڑھے پر حملہ آور ہوا ہے اور قبر دکھا کر ہی دم لے گا۔ یہ سن کر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
فَنَعَمْ إِذًا
تو پھر ایسا ہی ہوگا۔
(صحیح البخاری، المناقب، حدیث: 3616)
اس کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ تم نے اچھے گمان کو رد کر دیا، اس لیے برا گمان ہی قبول کیا جائے گا اور جلد ہی تمہارے ساتھ ایسا ہوگا۔
آپ ﷺ نے مایوسی اور بری امید سے منع فرمایا اور کہا:
کوئی بیماری خودبخود متعدی نہیں، نہ بدشگونی درست ہے، البتہ مجھے فال پسند ہے۔راوی نے پوچھا: فال کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا
اچھی بات۔
(صحیح مسلم، السلام، حدیث: 2224)
اس کا مطلب یہ ہے کہ احتیاطی تدابیر کے بعد اللہ کے حکم کے بغیر کوئی بیماری خودبخود متعدی نہیں ہوتی۔ جو لوگ ہمیشہ متعدی امراض کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں، وہ شکوک، شبہات، وہم اور بدشگونی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
سیدنا عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
میری امت کے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے، یہ وہ لوگ ہوں گے جو کسی سے دم نہیں کرواتے، بدشگونی نہیں لیتے اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔
(صحیح البخاری، الرقاق، حدیث: 6472)
اسلام سے قبل زمانہ جاہلیت میں لوگ نیک یا بدشگونی پر مبنی کئی باطل اور غیر عقلی تصورات رکھتے تھے، جن میں شامل تھے:
پرندوں کے اڑنے سے فال لینا: اگر پرندہ دائیں جانب اڑتا تو اسے نیک شگون سمجھا جاتا، اور اگر بائیں جانب اڑتا تو بدشگونی قرار دے کر کسی کام سے رک جاتے۔
صفر کے مہینے کو منحوس سمجھنا: لوگ صفر کو بلاؤں، بیماریوں اور مصیبتوں کا مہینہ تصور کرتے تھے۔
ستاروں کی چال پر بارش یا حالات کی نسبت کرنا: یہ عقیدہ تھا کہ ستاروں کے طلوع و غروب کی وجہ سے بارش ہوتی ہے۔
اسلامی تعلیمات میں فرق واضح ہے:
نیک فال لینا جائز بلکہ مسنون ہے۔
رسول اللہ ﷺ نیک شگون کو پسند فرماتے تھے، اور کبھی کبھی اچھا نام سن کر نیک فال لیتے تھے۔
بدفال لینا اور کسی منفی علامت کو دیکھ کر فیصلہ کرنا منع ہے: اس فرق کو واضح کرنے کے لیے ایک اہم واقعہ غزوہ خیبر کے موقع پر پیش آیا جب مسلمانوں کا لشکر خیبر کے قلعوں کے قریب پہنچا، تو انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ دشمن ان پر حملہ کرنے والا ہے یا نہیں۔وہ صبح کا وقت تھا، اور یہودی اپنے کھیتوں میں کاشت کاری کے لیے نکلے ہوئے تھے۔نبی کریم ﷺ نے ان کے یوں اطمینان سے کھیتوں میں نکلنے کو نیک شگون (تفاؤل) سمجھا اور فرمایا:
اللَّهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ
اللہ اکبر! خیبر تباہ ہو گیا۔
(صحیح بخاری: 4200، صحیح مسلم: 1801 )
یہ واضح کرتا ہے کہ نیک شگون لینا نہ صرف جائز بلکہ نبی کریم ﷺ کی سنت ہے۔حافظ ابن حجر عسقلانیؒ (م 852ھ) اس موضوع پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
وربما وقع به ذلك المكروه بعينه الذي اعتقده عقوبة له
بسا اوقات جس بدشگونی کا وہ یقین کرتا ہے، وہی ناپسندیدہ شے اس پر بطور سزا نازل ہو جاتی ہے۔
(فتح الباری، ج 10، ص 215)
یعنی اگر انسان غلط عقیدہ رکھے اور بدشگونی کی بنیاد پر فیصلے کرے، تو اللہ تعالیٰ اسے اسی میں مبتلا کر دیتا ہے یہ اس کے گمان کی سزا ہے۔آپ ﷺ بدشگونی اور مایوسی سے منع کرتے تھے۔ سیدنا ابو ہریرہؓ بھی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم ﷺ سے سنا
پرندوں کے ساتھ بدشگونی کی کوئی حقیقت نہیں، بہترین چیز فال ہے۔پوچھا گیا: فال کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:
اچھی بات جو تم میں سے کوئی سنتا ہے اور اس سے اچھی امید وابستہ کرتا ہے۔
(صحیح البخاري، الطب، حدیث: 5754)
یہاں تک کہ موت کی تمنا بھی جائز نہیں، حالانکہ وہ ہر صورت آئے گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
اگر کوئی کسی تکلیف میں مبتلا ہو تو اسے موت کی تمنا ہرگز نہیں کرنی چاہیے۔ اگر اس کے بغیر چارہ نہ ہو تو یوں دعا کرے: اے اللہ! جب تک زندگی میرے لیے بہتر ہے، مجھے زندہ رکھ اور جب میری وفات میرے لیے بہتر ہو تو مجھے فوت کر دے۔
(صحیح البخاري، المرضى، حدیث: 5671)
ہمارے رسول ﷺ نے ہمیں خوبصورت زندگی کی طرف بلایا، کیونکہ اللہ کی راہ میں گزارنے والی زندگی خیر و برکت، نیکیوں میں اضافے اور درجات کی بلندی کا سبب ہے۔ اسی لیے باری تعالیٰ نے فرمایا:
وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا
اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بے شک اللہ تم پر بہت رحم کرنے والا ہے۔
(النساء: 29)
قتل کے محض ذکر پر بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آتی ہے ، یہ امید اور سعادت والی اچھی زندگی کی طلب کی انتہا ہے۔ آپ ﷺ نے ہر انسان کو ناراضی، بحران اور مایوسی سے دور رہنے کی تعلیم دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
جس نے پہاڑ سے خود کو گرا کر خودکشی کی، وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ کے لیے گرتا رہے گا۔ جس نے زہر پی کر خودکشی کی، اس کے ہاتھ میں زہر ہوگا اور جہنم کی آگ میں ہمیشہ کے لیے وہی زہر پی کر خودکشی کرتا رہے گا، اور جس نے تیز دھار آلے سے خودکشی کی، وہ آلہ اس کے ہاتھ میں ہوگا اور جہنم کی آگ میں ہمیشہ کے لیے اپنے پیٹ کو پھاڑتا رہے گا۔
(صحیح البخاري، الطب، حدیث: 5778)
یقیناً ہمارے نبی ﷺ نے ہمیں دعا میں بھی امید، اعتماد اور بلند حوصلے کا درس دیا۔ کثرت سے دعا کرنے اور اللہ کی رحمت کی امید رکھنے کا حکم دیا۔ آپ ﷺ نے یہ سبق دیا کہ جس چیز کی رغبت ہو، وہ اعلیٰ اور قیمتی مانگیں کیونکہ اللہ تعالٰی عاجز نہیں اور سب معززین سے بڑھ کر عزت والا اور ارحم الراحمین ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا:جب تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو فردوس کا سوال کرو کیونکہ یہ افضل اور اعلیٰ جنت ہے۔راوی کہتے ہیں کہ میرے خیال کے مطابق آپﷺ نے فرمایا:
اور اس کے اوپر رَحْمَٰن کا عرش ہے اور وہیں سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں۔
(صحیح البخاري، الجهاد و السير، حدیث: 2790)
آپ ﷺ کی اکثر دعائیں اور مناجات امید اور حسن ظن پر مبنی ہوتی تھیں۔ چنانچہ آپ ﷺ کثرت سے یہ دعا کیا کرتے تھے:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُبِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَضَلَعِ الدَّيْن وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ
اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں غم و پریشانی سے، بے بسی و کاہلی سے، بخل و بزدلی سے، قرض کے بوجھ اور لوگوں کے غلبے سے۔
(صحیح البخاري، الجهاد و السير، حدیث: 2893)
آپ ﷺ کی حیات مبارکہ میں مایوسی، ہستی، بزدلی اور بخل کا کوئی عمل نہیں تھا۔ صرف فتح، امید و آرزو، اللہ پر اعتماد، اچھا انجام، عظیم انعامات، روشن مستقبل، مطلوبہ امید، بلند اور مبارک مقصد آپ کی زندگی کی خاصیت تھے۔
آپ ﷺ جب صحابہ کے لیے دعا کرتے تو وہ بھی نہایت اعتماد اور اللہ کے ساتھ حسن ظن کے ساتھ ہوتی۔ ایک دیہاتی رسول اکرم ﷺ کے پاس آیا جو سینکڑوں میل صحرائی سفر طے کر کے اپنے اہل وعیال کے پاس جانا چاہتا تھا، مگر اس کے پاس زادِ راہ نہیں تھا اور اسے بے آب و گیاہ صحرا میں کھو جانے کا خطرہ تھا۔ وہ اپنی ساری صورت حال رسول اکرم ﷺ کو بتانے کے لیے خدمت میں حاضر ہوا۔
عرض کیا: میں سفر کا ارادہ رکھتا ہوں، لہٰذا مجھے زادِ راہ عطا فرمائیں۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس نے مالی تعاون کی درخواست کی کہ گندم، جو یا دیگر سامان عطا کر دیا جائے، مگر رسولِ معظم ﷺ نے اسے اس سے بھی اعلیٰ، ارفع اور قیمتی زادِ راہ عطا فرمایا اور فرمایا:
زَوَّدَكَ اللهُ التَّقْوَى
اللہ تعالیٰ تجھے تقویٰ کا زادِ راہ عطا کرے۔
جسے اللہ تعالیٰ تقویٰ کی دولت سے نواز دے، اسے کسی چیز کا خوف نہیں رہتا۔ دیہاتی کو یہ نہایت پسند آیا اور وہ خوش ہوگیا۔ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مزید ارشاد فرمائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
وَغَفَرَ ذَنْبَكَ
اور اللہ تیرے گناہ بخش دے۔
اللہ تعالیٰ جس کے گناہ معاف فرما دے، اسے نہ کسی کا ڈر باقی رہتا ہے اور نہ ہی کوئی غم۔ یہ سن کر اعرابی خوش ہوا اور اس کے دل کو اطمینان حاصل ہو گیا۔ اس نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان! اور زیادہ فرمائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
وَيَسَّرَ لَكَ الْخَيْرَ حَيْثُمَا كُنتَ
اور جہاں بھی ہو، اللہ تمہارے لیے خیر اور بھلائی کی راہیں آسان فرمائے۔
(جامع الترمذی، کتاب الدعوات، احادیث)
جسے ہر جگہ اور ہر موقع پر اللہ تعالیٰ خیر اور بھلائی عطا فرما دے، وہ بھوک، پیاس، تھکن اور سفر کی مشقت کا شکوہ نہیں کرتا۔ انسانی زندگی کی اصل غایت اور مقصد اللہ کا تقویٰ، گناہوں کی بخشش اور معاملات کی آسانی ہے۔ سیدنا جابرسے مروی ہے کہ انھوں نے وفات سے تین دن پہلے رسولِ اکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
أَلَا يَمُوتَنَّ أَحَدُكُمْ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ الظَّنَّ بِاللهِ عَزَّوَجَلَّ
تم میں سے کسی کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ وہ اللہ کے ساتھ اچھا گمان رکھتا ہو۔
(صحیح مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا وأہلہا، حدیث: 277)
یہاں ایک نہایت اہم پہلو یہ ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ یومِ وفات تک پرامید رہے اور آخری لمحے تک اپنے رب کے ساتھ اچھا گمان رکھا۔ آپ ﷺ مرض الموت کی شدت میں بھی پُرامید تھے۔ سیدنا انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ مرضِ وفات میں سیدنا ابو بکر صدیقلوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ جب پیر کا دن آیا اور صحابہ کرام صف بستہ نماز میں کھڑے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے حجرے کا پردہ اٹھایا اور ہماری طرف نگاہ فرمائی۔ اس وقت آپ ﷺ کھڑے ہوئے تھے اور ایسا لگ رہا تھا کہ آپ کا رخِ انور گویا ایک روشن ورق ہے۔ پھر آپ ﷺ نے تبسم فرمایا۔
(صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ، حدیث: 419)
آپ ﷺ نے اپنے رب کے وعدوں پر پختہ یقین، امت کی اصلاح کی خوشی اور ایک امام پر جمع ہونے، باہمی محبت و الفت کی بنا پر مسکرایا۔ مشکلات کتنی بھی زیادہ رہیں مگر امید اور حسنِ ظن ہمیشہ آپ ﷺ کا رفیق و ہمنوا رہا۔
بلا شبہ آپ ﷺ کا گمان دنیا کے کسی اور شخص سے بالکل مختلف تھا کیونکہ آپ ﷺ کے نیک شگون اور اچھے گمان کا انحصار وحیِ مقدس پر تھا، جس کی بدولت آپ ﷺ اپنے مستقبل کے بارے میں پُرامید تھے۔ اس کے برعکس دوسرا کوئی شخص صرف اندازہ لگا سکتا ہے اور گمان ہی کر سکتا ہے، اسے انجام کا یقین نہیں ہو سکتا۔ آپ ﷺ کا گمان و شگون اس لیے بھی دوسروں سے ممتاز ہے کہ یہ ایک ایسی برگزیدہ ہستی کا گمان ہے جس میں توکل اور عمل دونوں جمع ہیں۔ آپ ﷺ کا توکل محض میٹھی آرزو یا جذباتی کیفیت نہ تھا بلکہ آپ ﷺ کو اللہ کی نصرت و مدد پر کامل بھروسہ اور اعتماد تھا۔ آپ ﷺ غار میں بھی چھپے ہوئے تھے تو نہ صرف ان پر خطر حالات میں مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کا عزم رکھتے تھے بلکہ اسلامی ریاست کے قیام کی منصوبہ بندی بھی فرما رہے تھے۔
جس روز آپ ﷺ نے فارس و روم پر غلبے اور ان کے سونے چاندی کے خزانوں کے مسلمانوں کو مالک بننے کی بشارت دی، اس وقت آپ ﷺ سہولت پسندی یا خوابوں کی دنیا میں نہیں تھے بلکہ خندق کھودنے میں صحابہ کرام کے ساتھ عملاً شریک تھے اور پوری سنجیدگی سے محنت کر رہے تھے۔ لہٰذا مومن اللہ کے ساتھ حسنِ ظن میں رسولِ کریم ﷺ کی پیروی کرتا ہے۔ وہ ہمیشہ اچھی، حسین اور بہتر چیز کی توقع رکھتا ہے اور اللہ کی تقدیر پر راضی رہتا ہے۔ زندگی کا کھلے دل سے استقبال کرنے، پُر امید رہنے اور اچھا گمان رکھنے میں آپ ﷺ ہی ہمارے لیے کامل نمونہ اور مثالی رہنما ہیں۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللهَ كَثِيرًا
بیشک تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذات میں بہترین نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ سے ملاقات اور یومِ آخرت کی امید رکھتا ہے اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتا ہے۔
(الأحزاب: 21)