أَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ مَرَّ عَلَى صَبْرَةِ طعامٍ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهَا، فَنَالَتْ أَصَابِعُهُ بَلَلَا، فَقَالَ مَا هٰذَا يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ؟ قَالَ أَصَابَتُهُ السَّمَاءُ يَا رَسُولَ اللهِ۔ قَالَ: أَفَلَا جَعَلْتَهُ فَوقَ الطَّعَامِ كَي يَرَاهُ النَّاسُ ؟ مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنِّيْ
ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ بیشک رسول اللہ ﷺ کا غلے کے ایک ڈھیر سے گزر ہوا، پس آپ ﷺنے اس میں اپنا ہاتھ داخل کیا تو آپ کی انگلیوں نے تری محسوس کی۔ آپ نے پوچھا، اے غلے والے! یہ کیا ہے؟ اس نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول ! اسے بارش پہنچی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا تو تو نے اس (بھیگے ہوئے حصے) کو غلے کے اوپر کیوں نہ کر دیا تاکہ لوگ اسے دیکھ لیں (یاد رکھ) جس نے ہم سے دھو کہ کیا، پس وہ ہم سے نہیں۔
(صحیح مسلم: كتاب الإيمان، باب قول النبي ﷺ مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا)
عَنْ حَكِيْمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: اَلْبَيِّعَانِ بالخيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا وَإِنْ كَتَمَا وَ كَذِبًا مُحِقَّتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا
(أخرجه البخاري)
(صحیح بخاري كتاب قيوع، باب إذا بين البيعان ولم يكتما ونصحا)
حکیم بن حزام سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خریدو فروخت کرنے والے دونوں کو اختیار ہے (سوداختم کرنے کا) جب تک جدا نہ ہوں پھر اگر وہ دونوں سچ بولیں گے اور بیان کر دیں گے (جو کچھ عیب ہے چیز میں یا قیمت میں) تو ان کی بیع میں برکت ہوگی اور اگر جھوٹ بولیں گے اور چھپائیں گے (عیب کو) تو ان کی بیچ میں سے برکت مٹ جائے گی (اور ان کی تجارت کو کبھی فروغ نہ ہوگا)۔
عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: الحلف مَنفَقَةٌ لِلسِّلْعَةِ مَمْحَقَةٌ لِّلرِّبْحِ
ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ قسم سودے کے زیادہ بکنے کا سبب ہے لیکن کمائی کی برکت مٹانے کا ذریعہ بھی ہے۔
(صحيح مسلم: كتاب المساقاة، باب النهي عن الحلف في البيع) (أخرجه مسلم)
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ ﷺ يقُولُ : إِيَّاكُمْ وَكَثْرَةَ الْحَلْفِ فِي الْبَيْعِ فَإِنَّهُ يُنْفِقُ ثُمَّ يَمْحَقُ
(صحیح مسلم: كتاب المساقاة، باب النهي من الحلف في البيع) (أخرجه مسلم)
ابو قتاد ہسے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ
سودا کرتے وقت زیادہ قسم کھانے سے بچو، اس لئے کہ اس سے سودا تو زیادہ بک جاتا ہے لیکن (یہ طریقہ) برکت کو مٹا دیتا ہے۔
تشریح
تجارت کا مطلب یہ ہے کہ ایک چیز کو خرید کر دوسری جگہ لے جا کر مناسب نفع لے کر بیچنا۔ اسلام نے تجارت کے کچھ اصول و ضوابط بنائے ہیں جن پر عمل کرنا بیحد ضروری ہے انہیں اصولوں میں سے فریقین کی رضامندی، آزادی، عیب سے پاک اور مکمل معلومات کا ہونا ضروری ہے، اسی طرح خرید و فروخت میں دھوکہ دہی اور جھوٹی قسمیں کھانا حرام ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے بیع و شراء اور خرید وفروخت کا جو ایک نظام بنایا ہے اگر اس پر عمل کیا جائے تو یقینًا پورا معاشرہ اور سوسائٹی ہر قسم کے ظلم وجور سے پاک ہو جائے گی اور معیشت مستحکم ہو جائے گی اور سارے لوگ خوشحال ہو جائیں گے۔ اپنے سماج میں یہ دیکھا جا رہا ہے کہ اگر کسی نے کسی چیز کا ریٹ لگا دیا لیکن اسے لگا کہ میں نے قیمت کم کہہ دی ہے اور ابھی بات چیت جاری ہے اور پھر دو ریٹ بڑھا دیتا ہے تو اسے معیوب سمجھا جاتا ہے حالانکہ ابھی اس کو اختیار ہے کہ وہ سود اختم کر دے یا مول بھاؤ میں کمی و بیشی کر دے اسی طرح لینے والے کو بھی اختیار ہے کہ وہ قیمت دوبارہ لگا سکتا ہے۔ اللہ تعالی خرید و فروخت کے معاملے میں اسوہ رسول ﷺ کو اپنانے کی توفیق عطافرمائے۔ اور دھوکہ دہی سے محفوظ رکھے۔
فوائد
٭ خرید و فروخت میں دھوکہ دینا ممنوع اور گناہ کبیرہ ہے۔
٭ بیع وشراء میں فریقین کی رضا مندی ضروری ہے۔
٭ فریقین کو جدا ہونے سے قبل سود ختم کرنے کا حق ہے۔
٭بیع وشراء میں قسم کھانا برکت کے ضائع ہونے کا سبب ہے۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جب تک کسی معاشرہ کے معاشی اور مالی معاملات مناسب اُصول و ضوابط کے پابند نہ ہو ں ، تب تک اس معاشرہ کی منصفانہ تشکیل ممکن نہیں ۔ اسلام چونکہ منصفانہ معاشرہ قائم کرنے کا داعی ہے، اس لیے اسلام نے لین دین اور تجارتی تعلقات کے متعلق نہایت عمدہ اور جامع اُصول عطا کئے ہیں جن کی روشنی میں ہم اپنی معیشت کوصحت مند بنیادوں پر استوار کر سکتے ہیں۔
معیشت و تجارت کے حوالہ سے دین اسلام کا ایک نمایاں وصف ہے کہ یہ نہ تو سرمایہ دارانہ نظام کی طرح لوگوں کو کھلی چھٹی دیتا ہے اور نہ ہی آ ہنی زنجیروں میں جکڑتا ہے۔ بلکہ اس کا رویہ اعتدال پر مبنی ہے کہ جہاں اپنے ماننے والوں کوتجارت کے ذریعے کسب ِمال کی ترغیب دیتاہے، وہاں ایسے رہنمااُصول بھی پیش کرتا ہے جن کو ملحوظ رکھنا اشد ضروری ہے۔ ان اُصولوں کی پابندی کر کے جو بھی لین دین کیا جائے، وہ شریعت کی نگاہ میں جائز تصور ہو گاخواہ وہ دور جدید کی ہی پیداوار ہو، یعنی اسلام کا رویہ معتدل ہونے کے ساتھ ساتھ جامع اور لچک دار بھی ہے جو ہر دور کے تقاضے پورے کر سکتا ہے۔
اس میں شبہ نہیں کہ اسلام جہاں معاشی ترقی کا خواہاں ہے، وہاں دینی،روحانی اور اخلاقی ہدایات کا معلم بھی ہے جن کی خلاف ورزی کر کے فلاحی نظامِ معیشت کا قیام ممکن نہیں ،اس لیے اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتاکہ انسان حصولِ مال کی خاطر بے مہار ہوجائے اورحلال و حرا م کا امتیاز ہی ختم کر دے کیونکہ اس طرح معاشی بگاڑ پیدا ہوتا ہے جس سے پورا معاشرہ متاثرہوتا ہے، اس لیے اسلامی ریاست میں ان لوگوں کو کاروبارکی اجازت نہیں ہے جو ان احکام سے واقف نہ ہوں جو اسلام نے تجارت کے سلسلے میں دیئے ہیں ،چنانچہ خلیفہ ثانی حضرت عمرؓ بن خطاب کا فرمان ہے :
لَا یَبـِعْ فِي سُوقِنَا إلاَّ مَنْ تَفَقَّهَ فِي الدِّیْنِ
ہمارے بازار وں میں وہی خرید وفروخت کرے جسے دین (تجارتی احکام )کی سمجھ ہو۔
تیرھویں صدی ہجری کے مالکی فقیہ مَحْمَد بن احمدالرہونی رحمة اللہ علیہ (وفات 1230ھ)نے اپنے شیخ ابو محمد رحمة اللہ علیہ کے حوالہ سے نقل کیا ہےکہ:
اُنہوں نے مراکش میں محتسب کو بازاروں میں گشت کرتے دیکھا، جوہر دکان کے پاس ٹھہرتااور دکان دارسے اس کے سامان سے متعلق لازمی احکام کے بارہ میں پوچھتااور یہ دریافت کرتاکہ ان میں سود کب شامل ہوتا ہے اور وہ اس سے کیسے محفوظ رہتا ہے؟ اگر وہ صحیح جواب دیتاتو اس کو دکان میں رہنے دیتا اور اگر اسے علم نہ ہوتاتو اسے دکان سے نکال دیتا اور کہتا تیرے لیے مسلمانوں کے بازار میں بیٹھنا ممکن نہیں تو لوگوں کو سود اور ناجائز کھلائے گا۔ 2
اسلامی تعلیمات سے نا آشنا بعض حلقے یہ پراپیگنڈہ کرتے ہیں کہ معیشت و تجارت کے بارہ میں اسلامی احکام پر عمل کر نے سے ہمارا سار اکاروبار ٹھپ ہو جائے گا اور ہم معاشی اعتبارسے بہت پیچھے رہ جائیں گے ، مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ حقیقی اور دیرپا ترقی کے لیے تجارتی سرگرمیوں کو مناسب اُصول و ضوابط کے دائرہ میں رکھنا انتہائی ضروری ہے۔حقیقت پسندماہرین کے نزدیک موجودہ معاشی بحران کا بنیادی سبب معاشی سرگرمیوں کا اخلاقی قیود اور پابندیوں سے مستثنیٰ ہونا ہے اور مارکیٹ کو اخلاقی ضوابط کا پابند بناکر معیشت میں بہتری پیدا کی جاسکتی ہے۔
اور اگر یہ ناقدین اسلام کے تجارتی احکام کاحقیقت پسندی سے جائزہ لیں توخودگواہی دیں گے کہ اسلامی طریقۂ تجارت میں شتر بے مہار آزادی، ہوس، مفاد پرستی اور خود غرضی کو کنٹرول کرنے کاشاندار میکانزم موجود ہے اوریہی وہ خرابیاں ہیں جو معاشرے کے اجتماعی مفادات پر اثر انداز ہوتی ہیں اورمعاشی بے اعتدالیوں اور نا ہمواریوں کاباعث بنتی ہیں ۔
یہ حقیقت ہے کہ اکثر و بیشتر صحابہ کرامؓ تجارت پیشہ تھے اور ان کی تمام کاروباری سرگرمیاں شریعت کے تابع ہی ہوتی تھیں مگر اس کے باوجود اُنہوں نے معاشی میدان میں بے مثال ترقی کی، ہر طرف مال و دولت کی فروانی، آسودگی اور خوش حالی عام تھی اور وسیع اسلامی مملکت میں کوئی زکوٰة قبول کرنے والا نہ ملتا تھا۔ معاشی اعتبار سے کمزور ترین افرادبھی زکوٰة ادا کرنے کے قابل ہو گئے تھے جو اس بات کابین ثبوت ہے کہ معاشی ترقی کے لیے بے قید آزادی ناگزیر نہیں بلکہ یہ مقصد حدود وقیود کے اندر رہ کر بھی بخو بی حاصل کیا جاسکتا ہے۔
لین دین کے وہ کونسے احکام ہیں جو شریعت کی رو سے لازمی اور واجب التعمیل ہیں ،ذیل میں اس کی تفصیل پیش خدمت ہے:
بیع کا تعارف
مناسب ہوگا کہ خرید وفروخت کے متعلق احکامِ شرعیہ بیان کرنے سے قبل بیع کا مفہوم واضح کر دیا جا ئے کیو نکہ کتب ِحدیث میں لین دین کے معاملات اور ان سے متعلقہ احکام بالعموم کتاب البیُوع کے تحت ذکرہوتے ہیں ، قرآن نے بھی ان معاملات کے لیے یہی اصطلاح استعمال کی ہے جبکہ ہمارے معاشرے میں بھی خرید وفروخت کے معاہدے بیع نامہ کے نام سے ہی تحریرہوتے ہیں۔
بیع کا معروف معنی ہے: بیچنا لیکن یہ خریدنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتاہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زمانۂ قدیم میں اشیا کا لین دین اشیا کے بدلے ہی ہوتا تھا یعنی بارٹر سسٹم رائج تھا، اس طریقہ میں ہر شخص گویا فروخت کنندہ بھی ہوتا تھا اور خریدار بھی، اس سے بیع کے لفظ میں دونوں معنی پیداہو گئے۔
علمائے شریعت کے نزدیک لین دین کے وہ تمام معاملات جو کسی معاوضہ کی اساس پر طے پاتے ہیں ،بیع کہلاتے ہیں اس لیے بیع کا شرعی مفہوم یوں بیان کیا جاتاہے:
والبیع نقل ملك إلی الغیر بثمن
بیع کا معنی ہے قیمت کے عوض چیز کی ملکیت دوسرے کی طرف منتقل کرنا۔
ملکیت کی منتقلی تو سودی معاملات میں بھی ہوتی ہے مگر ان کو بیع نہیں کہا جاتا۔ایسے ہی قرض کا لین دین بھی بیع میں داخل نہیں کیونکہ قرض کا مقصد قرض لینے والے کے ساتھ احسان کرنا ہے نہ کہ قیمت وصول پانا۔ واضح رہے کہ بیع میں ملکیت کی منتقلی دائمی ہو نی چاہیے۔
بیع اور تجارت کا باہمی فرق:
بیع کے مقابلہ میں تجارت کا مفہوم قدرے محدود ہے۔ تجارت کا مطلب ہے Trade یعنی کوئی چیز اس غرض سے خریدنا تاکہ اسے بیچ کر نفع حاصل کیا جائے خواہ بعد میں نفع ہو یانقصان، جبکہ بیع کا لفظ وسیع تر معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
خرید وفروخت کی دو قسمیں ایسی ہیں جو بیع تو ہیں مگر تجارت میں شامل نہیں :
1. ذاتی استعمال کے لیے چیز خریدنا،یہ بیع تو ہے لیکن تجارت نہیں کیونکہ اس کا محرک نفع کا حصول نہیں بلکہ اپنی ضرورت ہے۔
2. کسان کا اپنی فصل یا مینوفیکچررکا اپنی مصنوعات بیچنا بیع تو ہے مگر تجارت نہیں کیونکہ یہ دونوں کسی سے چیز خریدکر نہیں بیچتے بلکہ خود پیدا یا تیار کرتے ہیں ۔ تجارت تب ہی ہوگی جب چیز ایک سے خرید کر دوسرے کو بیچی جائے۔
بیع کی اقسام
مختلف اعتبار سے بیع کی مختلف قسمیں ہیں:
جو چیز بطورِقیمت دی جائے، اس کے اعتبار سے بیع کی چار قسمیں ہیں :
1. چیز کا تبادلہ چیز کے ساتھ ہو، مثلا گندم کے بدلے چاول یا زمین دے کر مکان لینا۔اس کو بارٹر سیل(اَلْمُقايَضَةُ)کہتے ہیں ۔
2. روپے پیسے کے بدلے کوئی چیز خریدنا،یہ صورت بغیر کسی قید کے بیع مُطْلَق کہلاتی ہے کیونکہ عموماًخرید وفروخت اسی طرح ہوتی ہے ۔
3. نقدی کے بدلے نقدی کا لین دین، اسکو بیع الصرف،منی چینجرکا کاروبار کہتے ہیں ۔
4. ایک طرف کسی چیز کا حق استعمال یا کسی شخص کی محنت ہو خواہ وہ محنت جسمانی ہو یا ذہنی اور دوسری طرف اس کا معاوضہ تواس کے لیے اِجَارَہ کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ جس کا معنی ہے: کرایہ داری اور محنت مزدوری کا معاملہ۔اسکے احکام علیحدہ بیان کئے جائیں گے۔
قیمت کی ادائیگی کے اعتبار سے بھی بیع کی چار قسمیں ہیں :
1. خریدی گئی چیز کی حوالگی اور قیمت کی ادائیگی دونوں نقد ہوں تو اس کو نقد خرید وفروخت
2. اور اگر چیزکی سپردگی تو فوری ہو مگر قیمت کی ادائیگی مستقبل کی کسی تاریخ پر طے ہو تو اسے ادھار خرید وفروخت(بیع مُؤَجَّل) کا نام دیتے ہیں ۔
3. جب قیمت کی مکمل ادائیگی تو پیشگی کر دی جائے لیکن چیز کی حوالگی کے لیے مستقبل کی کوئی تاریخ مقرر ہو تو اس کو بیع سَلَم کہتے ہیں جو کچھ مخصوص شرائط کے ساتھ جائزہے۔
4. اگرقیمت کی ادائیگی اورچیزکی سپردگی دونوں اُدھار ہوں تواس کو حدیث میں بَیْعُ الْکَالِيْ بِالْکَالِيْکہاگیا ہے جو کہ ناجائزہے ۔
فائدہ:بعض اوقات مشتری فوری ادائیگی کی بجائے یہ کہہ دیتا ہے کہ پیسے بعد میں دوں گا، بعد میں کب دوں گا، یہ طے نہیں ہوتا۔یہ صورت اُدھار میں شامل نہیں بلکہ نقد کی ہی ایک شکل ہے جس میں فروخت کنندہ کچھ رعایت دے دیتا ہے ۔ اس میں اور اُدھار میں فرق ہے، وہ یہ کہ ادھار میں مقررہ مدت سے قبل ادائیگی کا مطالبہ نہیں کیا جاسکتا جبکہ اس میں فروخت کنندہ جب چاہے تقاضا کر سکتا ہے، اگرچہ وہ اپنی مرضی سے جب تک چاہے تاخیر کرتا رہے لیکن اسے بیع کے فوری بعد مطالبے کا حق حاصل ہو جاتا ہے ۔
قیمت فروخت کے لحاظ سے بھی بیع کی مختلف قسمیں ہیں:
مُساوَمَۃ: یہ خرید وفروخت کی ایک عام قسم ہے جس میں فروخت کنندہ اپنی قیمت خرید یا لاگت ظاہرکئے بغیر کسی بھی قیمت پرفروخت کرتا ہے ۔مساومہ کا معنی ہے: بھاؤ تاؤ۔
اس میں چونکہ فروخت کنندہ اور خریدار کے درمیان قیمت کا تعین بھاؤ تاؤ کے ذریعے ہوتا ہے اور فروخت کنندہ اپنی لاگت بتانے کا پابند نہیں ہوتا، اس لیے اسے ‘مساومہ’ کہتے ہیں ۔ جہاں فروخت کنندہ ان اشیا کی لاگت کا صحیح اندازہ نہ لگا سکتا ہو جو وہ فروخت کرنا چاہتا ہو تو وہاں مساومہ ایک مثالی طریقہ ہو سکتا ہے۔
نیلام:فروخت کنندہ یو ں کہے جو مجھے زیادہ قیمت دے گا، میں یہ چیز اس کو بیچ دوں گا۔یہ بھی اصل میں مساومہ کی ہی ایک قسم ہے جس میں فروخت کنندہ ایک متعین قیمت طلب کرنے کی بجائے خریداری کے خواہاں کو دعوت دیتاہے کہ وہ قیمت لگائیں اور جس کی بولی زیادہ ہو گی اس کے ساتھ بیع منعقد ہو جائے گی۔
اس کے مقابلے میں ٹینڈر (مُناقَصَة) پر خریداری ہے جس میں خریدار یہ کہتا ہے کہ مجھے فلاں چیز کی ضرورت ہے جو کم قیمت پر مہیا کرے گا، میں اس سے لوں گا۔ یہ جدید صورت ہے جس کا قدیم فقہی ذخیرہ میں تذکرہ نہیں ملتا، تاہم اس کا بھی وہی حکم ہے جو نیلام کا ہے۔
مُرابَحة: مرابحہ سے مراد ہے کہ فروخت کنندہ کوئی چیز اس وضاحت کے ساتھ بیچے کہ اس پر میری یہ لاگت آئی ہے اور اب میں اتنے منافع کے ساتھ فلاں قیمت پر آپ کو بیچتا ہوں ۔ مرابحہ کا معنی ہے:’نفع پر بیچنا’ مرابحہ میں قیمت نقد بھی ہو سکتی ہے اور اُدھار بھی ۔ فروخت کنندہ کی جانب سے مشتری کو اپنی لاگت اور اس میں شامل منافع سے آگاہ کرنا ہی وہ نکتہ ہے جو مرابحہ کو مساومہ سے الگ کرتاہے۔
تَوْلِیۃ: جب فروخت کنندہ کوئی چیزنفع و نقصان کے بغیر لاگت قیمت پر ہی فروخت کرے تو اس کو بیع تَوْلِیَہ کہتے ہیں ۔تولیہ کا لغوی معنی ہے:والی بنانا، فروخت کنندہ چونکہ نفع حاصل کئے بغیرہی خریدار کو چیز کا مالک بنا دیتا ہے، اسلئے اس کو تولیہ کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔
وَضْعِیَّة: وضعیہ کا معنی ہے قیمت ِخرید سے کم پر بیچنا ،یعنی خسارے کا سودا۔
آخری تین قسمو ں میں چونکہ فروخت کنندہ اپنی قیمت ِخرید یا لاگت بتا کر سودا کرتا ہے اور خریدار اس پر اعتماد کرتا ہے، اس لیے ان کو بُیُوْعُ الْاَمانَةِ امانت داری پر مبنی بیوع کا نام دیا جاتا ہے۔
خرید وفروخت کی اجازت کا فلسفہ
یہ بات مسلم ہے کہ خرید وفروخت ہمیشہ سے انسانی زندگی کا لازمی حصہ رہا ہے، اس لیے کہ یہ انسا ن کی فطری ضرورت ہے جس کے بغیر اس کی ضروریات پوری نہیں ہو سکتیں کیونکہ دنیا میں ہر شخص کسی نہ کسی لحاظ سے دوسروں کا دست نگر ہے، یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنے استعمال کی تمام اشیا خود ہی پیدا یا تیار کرلے۔ مثلاً ایک شخص کسان ہے جو اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے خود ہی کھیتی باڑی کرتاہے مگر زرعی آلات، لباس ا و ررہائش کے سلسلے میں وہ دوسروں کا محتاج ہوتا ہے۔اسی لیے کہا جاتا ہے:
الإنسان مدني بالطبع انسان اپنی حاجات و ضروریات کے لیے ہر آن دوسروں کا محتاج ہے۔ جب ہر شخص کی ضرورتیں دوسروں کے ساتھ بندھی ہوئی ہیں تو پھر خرید وفروخت کے معاملات نا گزیر ہیں ۔
اگر خرید و فروخت کا سلسلہ نہ ہوتاتونظامِ حیات درہم برہم ہوجاتا،انسانیت اضطراب اور بے چینی میں مبتلا ہوجاتی اور انسان ضروریاتِ زندگی کے حصول کے لیے یا توچوری اور لوٹ مار کا سہارا لیتا جس سے نہ صرف لوگوں کے اَموال خطرات میں پڑ جاتے بلکہ خونریزی کا بازار بھی گرم ہوتا یا دوسروں کے سامنے دست ِسوال دراز کرنے پر مجبور ہوتا جو کہ باعث ِذلت ہے اور بسا اوقات مالک معاوضہ کے بغیر دینے پر آمادہ بھی نہیں ہوتا، لہٰذا اللہ تعالی نے اپنے بندوں پر یہ خاص لطف وکرم فرمایا کہ اُنہیں اپنی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے نہ صرف خرید وفروخت کی اجازت مرحمت فرمائی بلکہ اس کے متعلق احکام و ہدایات دے کر ثواب اور اپنے قرب کا ذریعہ بنا دیا ہے۔
تجارت کی فضیلت
ایک دوسرے کے ساتھ اشیا کا تبادلہ چونکہ انسانی معاشرہ کی بنیادی ضرورت ہے، اس لیے قرآنِ حکیم اور احادیث ِ نبویؐ میں بڑے شوق آفرین انداز میں خرید وفروخت کے ذریعے کسب مال کی ترغیب دی گئی ہے۔ قرآنِ حکیم نے متعدد مقامات پرتجارت کے ذریعے حاصل ہونے والے فوائد کو اللہ کا فضل قرار دیا ہے۔ حج کے معاشی اور تجارتی پہلو کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:
لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَبْتَغُوا فَضْلًا مِّن رَّبِّكُمْ ۚ فَإِذَآ أَفَضْتُم مِّنْ عَرَفَـٰتٍ فَٱذْكُرُواٱللَّهَ عِندَ ٱلْمَشْعَرِ ٱلْحَرَامِ ۖ وَٱذْكُرُوهُ كَمَا هَدَىٰكُمْ وَإِن كُنتُم مِّن قَبْلِهِۦ لَمِنَ ٱلضَّآلِّينَ﴿١٩٨﴾
سورة البقرةتم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم (تجارت کے ذریعے) اپنے ربّ کا فضل تلاش کرو۔پھر جب تم عرفات سے واپس آؤتو مشعر حرام (مزدلفہ میں ایک پہاڑی)کے پاس اللہ کو یاد کرو۔اور اس کو اس طرح یاد کرو جس طرح اس نے تمہیں ہدایت کی ہے بلاشبہ اس سے پہلے تم نا واقف تھے۔
حج کے دنوں میں جب سارے عرب سے لوگ مکہ مکرمہ میں حاضر ہوتے تو بازار مالِ تجارت سے بھر جا تے اور خرید و فروخت کاتانتا بندھا رہتاجیسا کہ آج کل بھی ہوتا ہے۔ بعض مسلمان احتیاط کے پیش نظر دورانِ حج تجارت سے اجتناب کرتے تھے ۔اللہ تعالیٰ نے ان کی غلط فہمی دور کرنے کے لیے یہ آیت ناز ل فرمائی۔ ربّ کے فضل سے مراد یہاں تجارت اور کاروبار ہے یعنی دورانِ حج مالی، تجارتی اور معاشی فوائد حاصل کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے کیونکہ یہ اللہ کا فضل تلاش کرنے کے مترادف ہے بشرط کہ حج کے مناسک متاثر نہ ہوں۔
ایک اور جگہ نمازِ جمعہ کے بعد تجارت کرنے کی ہدایت دی گئی ہے:
فَإِذَا قُضِيَتِ ٱلصَّلَوٰةُ فَٱنتَشِرُوا فِى ٱلْأَرْضِ وَٱبْتَغُوا مِن فَضْلِ ٱللَّهِ وَٱذْكُرُواٱللَّهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴿١٠﴾
پھر جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤاور اللہ کا فضل تلاش کرواور اللہ کو بکثرت یاد کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ۔
سورة الجمعہ
یہاں بھی ‘اللہ کا فضل تلاش کرو’ سے مراد کسب ِمال ہے جس میں خرید وفروخت بھی شامل ہے۔ گویا تجارت محض دنیاوی کام نہیں جیسا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں بلکہ یہ اللہ کا فضل تلاش کرنے کے مترادف ہے۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ اگر کاروبار میں اسلامی احکام کو ملحوظ رکھا جائے تو یہ کاروبار بھی اللہ کے قرب کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ اس کے علاوہ قرآنِ حکیم میں دوسرے مقامات پر بھی تجارت اور مال کو اللہ کے فضل سے تعبیر کیا گیا ہے۔
سید الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم نے بعثت سے قبل خود بھی تجارت کی اورصحابہ کو بھی اس کی ترغیب دیتے، چنانچہ اکثر و بیشتر صحابہ کرام تجارت ہی کرتے تھے۔احادیث ِنبویؐ میں تجارت کو بہت معزز پیشہ قرار دیا گیا اور دیانت دار تاجر کا بڑا مرتبہ تسلیم کیا گیا ہے ۔ایک حدیث میں سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے سچے اور دیانتدار تاجر کو جنت میں انبیا، صدیقین اور شہدا کی رفاقت کی بشارت سنائی ہے :
التَّاجِرُ الصَّدُوقُ الأَمِینُ مَعَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّہَدَاء
راست باز اور امانت دار تاجر انبیا ، صدیقین اور شہدا کے ساتھ ہو گا۔
ایک مرتبہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیاگیا کہ کسب ِمعاش کا بہترین اور باعث برکت ذریعہ کونسا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
عَمَلُ الرَّجُلِ بِیَدِہٖ وَکُلُّ بَیْعٍ مَبْرُور
انسان کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا اور ہر بیع مبرور۔
یعنی بہترین پیشہ وہ ہے جس میں انسان کو اپنے ہاتھ سے محنت کرنا پڑے یا پھر ایسی تجارت جس میں امانت ودیانت کی روح کار فرما ہو۔ ثابت ہوا کہ تجارت بابرکت ذریعہ معاش ہے، تاہم اس میں دنیا ہی مد نظر نہیں ہونی چاہیے بلکہ آخرت کی فلاح بھی مطلوب ہے اس لیے یہ شریعت کے تابع ہونی چاہیے۔ جوخرید وفروخت شریعت کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کو ملحوظ رکھ کر کی جائے، اس کو ‘بیع مبرور’ کہتے ہیں ۔یہ حدیث بھی اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام ہماری معاشی سر گرمیوں کو ایک نظم و نسق کے تحت دیکھنا چاہتا ہے۔
خرید وفروخت کے متعلق بنیادی ہدایات
خرید وفروخت کا جومعاملہ بھی ہو، اس میں تین چیزیں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں :
1. معاملہ کرنے والے فریقین
2. وہ چیز جس کا سودا کیا جا رہا ہو
3.چیز کی قیمت
شریعت ِمطہرہ نے ہر ایک کے لیے الگ الگ ہدایات دی ہیں :
فریقین کے لیے ہدایات
معاملہ باہمی رضامندی سے طے پانا چاہیے
بیع کی شرطِ اوّل یہ ہے کہ فریقین کا نہ صرف ذہنی توازن درست ہو اور وہ معاملات کی سوجھ بوجھ رکھتے ہوں بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ سودے پریکساں طور پر رضامندہوں ۔ چنانچہ لین دین کے وہ تمام معاملات جن میں فریقین کی حقیقی رضامندی یکساں طور پر نہ پائی جاتی ہو ناجائز ہیں ۔اِرشاد باری تعالیٰ ہے:
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوالَا تَأْكُلُوٓا أَمْوَٰلَكُم بَيْنَكُم بِٱلْبَـٰطِلِ إِلَّآ أَن تَكُونَ تِجَـٰرَةً عَن تَرَاضٍ مِّنكُمْ ۚ وَلَا تَقْتُلُوٓاأَنفُسَكُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا …﴿٢٩﴾…
اے ایمان والو !ایک دوسرے کا مال باطل طریقہ سے نہ کھاؤمگر یہ کہ تجارت ہو تمہاری باہمی رضامندی سے۔اور اپنے نفسوں کو قتل نہ کروبلا شبہ اللہ تمہارے ساتھ رحم کرنے والا ہے۔
سورة النساء
سورہ نساء کی یہ آیت تجارتی اور معاشی تعلقات کے متعلق بنیادی اُصول پیش کر رہی ہے کہ وہ کاروباری اور تجارتی معاملات جن پر دونوں فریق یکساں مطمئن اور راضی نہ ہوں ، باطل ہیں ۔ یہ اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ لین دین میں فریقین کی باہمی رضامندی لازم ہے ۔ شریعت ِاسلامیہ اس امر کی اجازت نہیں دیتی کہ کوئی کسی کو اپنی چیز بیچنے پر مجبور کرے یا زبر دستی اپنی پسند کی قیمت پر حاصل کرنے کی کوشش کرے ۔اسلام نے ایک دوسرے کی جان ، مال اور عزت کویکساں محترم قرار دیا ہے۔
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لاٹھی جیسی معمولی چیز کی زبر دستی خرید وفروخت کو بھی قابل حرمت قرار دیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اِرشاد ہے:
کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کی لاٹھی( بھی) اس کی قلبی خوشی کے بغیر لے۔
اسی طرح ایک شخص اگر انتہائی بے بسی اور مجبوری کی بنا پر اپنی چیز بیچ رہا ہوتو ایسے شخص سے مارکیٹ ریٹ سے بہت کم پر خریدنا، اگرچہ بظاہر وہ اس پر راضی بھی ہوناجائز ہے، درست نہیں ۔ معمولی کمی بیشی کی تو گنجائش ہے لیکن بہت زیادہ فرق درست نہیں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قلبی خوشی کی تاکید فرمائی ہے اور یہ بات طے ہے کہ مجبور شخص خوش دلی سے غیر معمولی کم ریٹ پربیچنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں مجبور شخص سے سستے داموں خریدنے کو ترجیح دی جاتی ہے، یہ ناپسندیدہ رویہ ہے جس کی اصلاح ہونی چاہیے۔
البتہ بعض صورتوں میں حکومت یا کوئی مجاز اتھارٹی مالک کو اس بات پر مجبور کر سکتی ہے کہ وہ اپنی چیز فروخت کرے :
پہلی صورت یہ ہے کہ مقروض اپنے ذمے قرض ادا نہ کر رہا ہو اور اس کے پاس نقد رقم بھی موجود نہ ہو تو عدالت اس کو اپنی جائیداد فروخت کر کے قرض ادا کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔ اگر وہ عدالتی حکم کے باوجود لیت و لعل سے کام لے تو عدالت قرض خواہ کی داد رسی کے لیے خود بھی اس کی جائیداد مارکیٹ ریٹ پرفروخت کر سکتی ہے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ کسی شخص نے جائیداد رہن رکھ کر قرض لے رکھا ہو اور وہ متعدد مرتبہ کی یاد دہانی کے باوجود ادائیگی نہ کر رہا ہو تو قرض خواہ رہن شدہ جائیداد فروخت کر کے اپنا حق وصول پا سکتا ہے، چاہے مقروض اس پر راضی نہ بھی ہوبشرطیکہ عدالت اورقرض خواہ منصفانہ قیمت پربیچنے کو یقینی بنائیں ،اپنی رقم کھری کرنے کے لالچ میں کوڑیوں کے بھاؤ بیچنے کی اجازت نہیں ہے۔
تیسری صورت جبمالک کو اپنی اشیا فروخت کرنے پر مجبور کیا سکتا ہے، یہہے کہ جب غذائی اشیا کی قلت ہو اور کچھ لوگ ذخیرہ اندوزی کر رہے ہوں تو حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ تاجروں کو ذخیرہ کی گئی اشیا فروخت کرنے کا حکم دے، اگر وہ تعمیل نہ کریں توحکومت ان کی مرضی کے خلاف خود بھی مارکیٹ ریٹ پر فروخت کر سکتی ہے، جیسا کہ الموسوعة الفقهية میں ہے :
إذا خیف الضّرر علی العامّة أجبر بل أخذ منه ما احتکرہ وباعه وأعطاہ المثل عند وجودہ أو قیمته وهذا قدر متّفق علیه بین الأئمة ولا یعلم خلاف في ذلك
”جب عوام کے متاثر ہونے کا اندیشہ ہو توحاکم ذخیرہ اندوز کو مجبورکرے گا بلکہ اس سے ذخیرہ شدہ مال لے کر فروخت کر دے گااور اس کو اس مال کا مثل جب موجود ہو یا اس کی قیمت دے گا۔اتنی بات تمام ائمہ میں متفق علیہ ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔”
کسی کی چیز زبر دستی لینے کی چوتھی صورت یہ ہے کہ حکومت کو عوامی مقاصد کے لیے کسی جگہ کی حقیقی ضرورت ہو اور مالکان بیچنے پر آمادہ نہ ہوں تو حکومت وہ جگہ زبردستی بھی حاصل کر سکتی ہے، تاہم حکومت پر فرض ہو گا کہ مالکان کو مارکیٹ ریٹ کے حساب سے ادائیگی کرے۔حکومت بازاری قیمت ادا کئے بغیر کسی شہری کو جائیدا د سے محروم نہیں کر سکتی۔
خریدنے سے پہلے بیچنا ممنوع ہے !
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تلقین بھی فرمائی ہے کہ بیچنے والا فقط اسی چیز کا سودا کرے جس کا وہ کلی طورپر مالک بن چکا ہو۔بعض دفعہ کاروباری حضرات کے پاس چیز موجود نہیں ہوتی مگر و ہ اس اُمید پر سودا طے کر لیتے ہیں کہ بعد میں کہیں سے خرید کر فراہم کر دینگے، ایساکرنا منع ہے،کیونکہ ممکن ہے مالک وہ چیز بیچنے پر آمادہ ہی نہ ہو یا وہ اس کی قیمت فروخت سے دگنی قیمت طلب کر لے اور یہ نقصان سے بچنے کے لیے خود ہی خریدنے پر تیار نہ ہو۔ اس طرح فریقین کے ما بین تنازعات جنم لینے کا اندیشہ ہے ، لہٰذاشریعت ِاسلامیہ نے ان کے سد باب کے لیے یہ اُصول بنا دیا ہے کہ وہ متعین چیزجوفی الحال فروخت کنندہ کی ملکیت میں نہ ہو، اس کا سودا نہ کیا جائے، جیساکہ جناب حکیم بن حزامؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا :
”میرے پاس ایک آدمی آتا ہے اور وہ مجھ سے ایسی چیز کا سودا کرنا چاہتا ہے جو میرے پاس نہیں ہوتی۔ کیا میں اس سے سودا کر لوں پھر وہ چیز بازار سے خرید کر اسے دے دوں ۔”
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوابافرمایا :
لَا تَبِعْ ما لَیْسَ عِنْدَکَ
”جو (متعین )چیز تیرے پاس موجود نہیں ، وہ فروخت نہ کر۔”
حضرت حکیم بن حزام ؓکا سوال متعین چیز کی فروخت کے متعلق ہی تھا۔متعین کا معنی ہے کسی مخصو ص پلاٹ یا گاڑی وغیرہ کا سودا کرنامثلاً یوں کہنا کہ میں فلاں سکیم کا فلاں نمبر پلاٹ آپ کو اتنے میں بیچتا ہوں جبکہ وہ اس وقت اس کی ملکیت نہ ہو، ایسا کرنا ناجائز ہے جیساکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب سے واضح ہے ۔ لیکن اگر تعین کی بجائے صرف مخصوص صفات بیان کی جائیں ، مثلاً یوں کہا جائے کہ میں تمہیں اتنی مدت بعدان صفات کی حامل فلاں چیز مہیا کرنے کی ذمہ داری لیتا ہوں تویہ صورت جائز ہے بشرط کہ مکمل قیمت پیشگی ادا کر دی جائے، اس کو بیع سَلَم کہتے ہیں ۔مکمل قیمت کی پیشگی ادائیگی لازمی شرط ہے، اس کے بغیر یہ جائز نہیں ہو سکتی ۔
ملکیت سے قبل فروخت کی بعض صورتیں
بعض ہاؤسنگ اسکیمیں اپنی ملکیّتی زمین سے زیادہ تعداد میں پلاٹس کی فائلیں فروخت کر دیتی ہیں مثلاً ابھی تک اسکیم کے پاس زمین صرف ایک ہزار پلاٹس موجود ہیں لیکن فائلیں دو ہزار پلاٹس کی بیچ دی جاتی ہیں اور ان کا خیال یہ ہوتا ہے کہ بقیہ زمین بعد میں خرید لی جائے گیــ۔ اس طرح اسکیم مالکان کو کچھ مدت کے لیے لوگوں کی دولت سے فائدہ اٹھانے کا موقع مل جاتا ہے اور یہی جلب ِمنفعت ان کا مطمح نظر ہوتا ہے۔یہ طریقہ سراسر خلافِ شریعت ہے کیونکہ اسکیم نے ایک ہزار پلاٹس کی جو زائدفائلیں فروخت کی ہیں ، اُن کی زمین ابھی اس کی ملکیت میں نہیں آئی،لہٰذا اسکیم مالکان کو ان کی فروخت کا حق بھی نہیں پہنچتا ۔
ہمارے ہاں جائیداد کی خرید وفروخت کے مروّجہ طریقہ کارکے مطابق خریدار معاہدہ خریدکرکے کچھ رقم (بیعانہ) اَدا کر دیتا ہے اور بقیہ ادائیگی کے لیے مہلت لے لیتا ہے اور معاہدے میں یہ شرائط بھی طے ہوتی ہیں کہ اگر خریدار منحرف ہو گیا تو بیعانہ کی رقم ضبط ہو جائے گی اور اگر فروخت کنندہ اپنی بات پر قائم نہ رہا تو اس سے بیعانہ کی رقم دگنی وصول کی جائے گی۔ اور یہ بات بھی معاہدے کا حصہ ہوتی ہے کہ معاہدئہ بیعانہ کرنے والااس معاہدے کی بنیادپر کسی تیسرے فریق کو فروخت کرنا چاہے تومالک کو کوئی اعتراض نہ ہو گا، بیعانہ دینے والا جس خریدارکا نام پیش کرے گا، مالک اس کے نام ملکیت منتقل کرنے کا پابند ہو گا۔ بسا اوقات بیعانہ دینے والا کچھ منافع لے کر آگے فروخت بھی کر دیتا ہے۔ شرعی لحاظ سے اس طرح آگے فروخت کرنا جائز نہیں کیونکہ معاہدہ بیعانہ کرنے والا جائیداد مذکورکا ابھی مالک نہیں بنا۔اگر اصل مالک دگنا بیعانہ ادا کر کے منحرف ہو جائے جیسا کہ بعض اوقات ہوجاتا ہے تو ایسی صورت میں نزاع پیدا ہو گا۔ہاں اگر پراپرٹی مالک کے پاس منحرف ہونے کا اختیار نہ ہویا سودا مکمل ہو چکا ہو، صرف بقیہ رقم کی ادائیگی باقی ہو تو پھر آگے فروخت کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔ اس سلسلہ میں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ مالک کے انکار کی صورت میں اس سے دگنا بیعانہ وصول کرنا شرعی لحاظ سے درست نہیں ہے ۔
ملکیت کے بغیر فروخت کی تیسری صورت سٹاک مارکیٹ میں رائجShot Salesکی ہے۔ اس میں فروخت کنندہ ایسے شیئرز بیچ دیتا ہے جو اس کی ملکیت میں نہیں ہوتے لیکن اسے یہ اُمید ہوتی ہے کہ وہ کلیئرنگ سے قبل مارکیٹ سے سستے داموں حاصل کر کے خریدار کے حوالے کر دے گا ،یہ غیر ملکیتی شیئرز کی بیع ہے جو ناجائز ہے ۔اگر مارکیٹ میں مندے کی بجائے تیزی غالب رہے تو Shot Salesکرنے والوں کو اچھا خاصا نقصان اُٹھانا پڑتا ہے ۔جب بھی سٹاک مارکیٹ کسی بڑے بحران سے دوچارہوتی ہے، اس میں نمایاں کردار اسی شاٹ سیل کا ہوتا ہے ۔
قبضہ سے قبل فروخت نہ کریں
عصر حاضرمیں خریدی گئی چیز کو قبضہ میں لئے بغیر آگے فروخت کرنے کا عام رواج ہے بالخصوص درآمدات میں سامان منزلِ مقصود پر پہنچنے سے قبل کئی جگہ فروخت ہو چکا ہوتا ہے اور ظاہر ہے، ہر خریدار کچھ منافع رکھ کر ہی آگے فروخت کرے گا، اس لیے مارکیٹ پہنچتے پہنچتے اس چیز کی قیمت بڑھ کر کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک معاشی نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ بار برداری کے شعبہ سے وابستہ مزدوروں کا روزگار متاثر ہوتا ہے۔ یہ شریعت ِمطہرہ کے محاسن میں سے ہے کہ اس نے یہ قانون بنا دیا ہے جب کسی چیز کا سودا طے پاجائے اورخریداراس کو آگے فروخت کرنا چاہتا ہو تو اس کو چاہیے وہ اسے قبضہ میں لے کر کسی دوسری جگہ منتقل کر دے، اسی جگہ فروخت کرنا منع ہے۔
چنانچہ احادیث ِصحیحہ سے ثابت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلاَ یَبِعْهُ حَتَّی یَسْتَوْفِیَهُ
”جو غلہ خریدے، وہ قبضہ سے قبل فروخت نہ کرے۔”
جناب عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں :
کُنَّا فِي زَمَانِ رَسُولِ اﷲِ ﷺ نَبْتَاعُ الطَّعَامَ فَیَبْعَثُ عَلَیْنَا مَنْ یَأْمُرُنَا بِانْتِقَالِهِ مِنَ الْمَکَانِ الَّذِي ابْتَعْنَاہُ فِیهِ إِلَی مَکَانٍ سِوَاہُ قَبْلَ أَنْ نَبِیعَهُ
”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں غلہ خریدتے تو آپ ہمارے پاس ایک شخص کو بھیجتے جو ہمیں حکم دیتا کہ ہم بیچنے سے قبل جہاں سے خریدا ہے، وہاں سے اُٹھا کر دوسری جگہ لے جائیں ۔”
اسلام پورے عالم کے لیے رحمت ہے، اس کی عالمی تعلیمات میں سے ایک بنیادی تعلیم یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک سب سے بہتر انسان وہ ہے، جو دوسروں کے لیے مفید اور کام آنے والا ہو؛ اسی لیے اسلام میں آپسی تعاون کی بہت تاکید کی گئی ہے، ”قرض“ بھی آپسی تعاون کی ایک قدیم شکل ہے، ہر انسان کو زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر اس کی ضرورت پیش آجاتی ہے؛ لہٰذا اسلام نے اس کی بہت ترغیب بھی دی ہے اور قرض دینے والے کے لیے بڑے ثواب کا وعدہ کیا ہے اور قرض کے لین دین کے لیے بہت سے حدود اور احکام بیان فرمائے ہیں؛ تاکہ نہ کوئی کسی کی مجبوری سے فائدہ اٹھائے اور نہ کوئی کسی شریف انسان کو پریشان کر سکے۔
قرض دینے کی فضیلت
ہمیں قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں بہت سی آیات اور رسول اللہ ﷺکے بہت سے ارشادات قرض دینے کی فضیلت میں ملتے ہیں؛ چناں چہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
إِنْ تُقْرِضُوا اللَّہَ قَرْضًا حَسَنًا یُضَاعِفْہُ لَکُمْ وَیَغْفِرْ لَکُمْ وَاللَّہُ شَکُورٌ حَلِیمٌ
اگر تم اللہ تعالی کو قرض حسن دوگے، تو اللہ تعالیٰ اسے تمہارے لیے بڑھائیں گے اور تمہاری مغفرت کردیں گے اور اللہ تعالیٰ بہت قبول کرنے والا اور بردبار ہے۔
سورة التغابن:17
دوسرے کسی انسان کومدد کے طور پر قرض دینے کو اس آیت میں اللہ تعالیٰ کو قرض دینا قرار دیا گیا ہے اور اس پر دو بشارتیں سنائی گئی ہیں: قرض کی شکل میں اس تعاون کی برکت سے اللہ تعالیٰ ثواب اور مال دونوں میں اضافہ کرے گا۔ دوسری بشارت مغفرت کی ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے درج ذیل آیت میں یہ نکتہ بھی واضح فرمایا ہے کہ خوش حالی اور تنگ دستی تو اللہ تعالی کی طرف سے ہے، لہٰذا خوش حال کو چاہیے کہ وہ قرض کی شکل میں پریشان حال لوگوں کی مدد کرے۔ اللہ کا ارشاد ہے:
مَنْ ذَا الَّذِی یُقْرِضُ اللَّہَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضَاعِفَہُ لَہُ أَضْعَافًا کَثِیرَةً وَاللَّہُ یَقْبِضُ وَیَبْسُطُ وَإِلَیْہِ تُرْجَعُون
کون ہے جو اللہ کو قرض حسن دے؟ پھر اللہ تعالیٰ اس کو کئی گنا بڑھادے اور اللہ ہی تنگی پیدا کرتا ہے اور وہی کشادگی عطا کرتا ہے اور تم سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
البقرة:245
اس سلسلے میں رسول رحمت ﷺکی تعلیمات بھی بہت حوصلہ افزا ہیں، درج ذیل حدیث میں کتنی بڑی بشارت دی گئی ہے:
رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ مَكْتُوبًا: الصَّدَقَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَالْقَرْضُ بِثَمَانِيَةَ عَشَرَ، فَقُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ مَا بَالُ الْقَرْضِ أَفْضَلُ مِنَ الصَّدَقَةِ؟ قَالَ: لِأَنَّ السَّائِلَ يَسْأَلُ وَعِنْدَهُ، وَالْمُسْتَقْرِضُ لَا يَسْتَقْرِضُ إِلَّا مِنْ حَاجَةٍ
رسول اللہ ﷺکا ارشاد گرامی ہے
شب معراج کے موقع پر میں نے جنت کے دروازے پر لکھا دیکھا:صدقہ کا ثواب دس گنا زیادہ ہے اور قرض کا ثواب اٹھارہ گنا زیادہ ہے۔ تو میں نے جبریل سے پوچھا کہ قرض، صدقے سے بھی افضل کیسے ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ سائل جب مانگتا ہے، تو اس کے پاس کچھ نہ کچھ پہلے سے بھی رہتا ہے اور قرض لینے والا ضرورت کے وقت ہی قرض لیتا ہے۔
سنن ابن ماجہ2431
ایک دوسرے موقع پر رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
إِنَّ مَلَكًا بِبَابٍ مِنْ أَبْوَابِ السَّمَاءِ يَقُولُ: مَنْ يُقْرِضِ الْيَوْمَ يُجْزَ غَدًا، وَمَلَكٌ بِبَابٍ آخَرَ يُنَادِي: اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا، وَأَعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا
آسمان کے ایک دروازے پر ایک فرشتہ ہے، جو یہ آواز لگاتا رہتا ہے: جو آج قرض دے گا، کل اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا۔ اور آسمان کے دوسرے دروازے پر ایک دوسرا فرشتہ ہے، جو یہ آواز لگاتا ہے:اے اللہ! خرچ کرنے والوں کو اس کا بدل عطا فرما اور بخیل پر جلدی ہلاکت نازل فرما۔
(مسند احمد 8054، العظمۃ لابی شیخ الاصبہانی 517)
قرض کی واپسی میں مہلت دینا
قرض دینے کے بعد اس کی واپسی کے لیے قرض لینے والے کو ایک مناسب وقت اور مہلت دینا ضروری ہے؛ تاکہ وہ قرض کی واپسی کے انتظامات کر سکے، اسی طرح بسا اوقات ایسابھی ہوتا ہے کہ قرض لینے والے کے پاس انتظام نہیں ہو پاتا، جس کی وجہ سے طے شدہ وقت میں قرض کی واپسی اس کے لیے بہت دشوار ہوجاتی ہے؛ لہٰذا اسلام میں جہاں قرض دینے کی بڑی فضیلت وارد ہوئی ہیں، وہیں واپسی میں مہلت دینے پر بھی اللہ کی طرف سے بڑے انعام کا وعدہ کیا گیا ہے۔
اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
وَإِنْ کَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَی مَیْسَرَةٍ وَأَنْ تَصَدَّقُوا خَیْرٌ لَکُمْ إِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُونَ
البقرة:280
اگر قرض لینے والاتنگ دست ہو، تو سہولت ہونے تک مہلت دینا ہے اور اگر تم قرض معاف کردو، تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تمہیں اس کے فائدہ کا علم ہو۔
رسول اللہ ﷺکا ارشاد عالی ہے:
مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُنْجِيَهُ اللهُ مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَلْيُنَفِّسْ عَنْ مُعْسِرٍ، أَوْ يَضَعْ عَنْهُ
جو یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کی پریشانیوں سے نجات عطا فرمائے تو اسے چاہیے کہ وہ تنگ دست کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے۔
صحیح مسلم1563
ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺفر ماتے ہیں:
مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ عَنْهُ، أَظَلَّهُ اللهُ فِي ظِلِّهِ
جو تنگ دست کو مہلت دے گا یا اس کا قرض معاف کردے گا تو اللہ تعالیٰ کل قیامت کے دن اسے اپنے عرش کے سایہ میں جگہ عنایت فرمائے گا:
(مسند احمد8696، مسلم 3006)
بلکہ ایک روایت میں تو نبی مصطفی ﷺکا ارشاد ہے کہ:
مقررہ وقت کے بعد، انسان قرض لینے والے کو جتنی مہلت دے گا، ہر دن اسے قرض دینے کے برابر صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا اور جیسے جیسے مہلت کے دن بڑھیں گے، ویسے ویسے ثواب میں دوگنا اضافہ ہوتا رہے گا۔
مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا فَلَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ مِثْلِهِ صَدَقَةٌ “، ثُمَّ سَمِعْتُكَ تَقُولُ: ” مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا فَلَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ مِثْلَيْهِ صَدَقَةٌ “، قَالَ لَهُ: ” بِكُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ قَبْلَ أَنْ يَحِلَّ الدَّيْنُ، فَإِذَا حَلَّ الدَّيْنُ فَأَنْظَرَهُ فَلَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ مِثْلَيْهِ صَدَقَةٌ
جس نے وقت پورا ہونے سے پہلے تنگ دست کو مہلت دی تو اسے ہر دن کے بدلہ اتنی ہی رقم صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا۔اور وقت پورا ہونے کے بعد مہلت دی تو اس سے دوگنی رقم صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا۔
مسند احمد 23046
ایک بے عمل تاجر کی مغفرت
حدیث میں واقعہ لکھا ہے کہ قیامت کے دن ایک تاجر کے اعمال کو تولا جائے گا، تو اس کے اعمال میں کوئی ایسی نیکی نہیں ملے گی، جس کی وجہ سے وہ جہنم سے بچ سکے، لہٰذا فرشتے یہ بات اللہ تعالی سے عرض کریں گے، اللہ تعالی اس سے اس کے اعمال کے بارے میں پوچھیں گے؟ وہ کہے گا:
یا اللہ! میرے پاس صرف ایک عمل ہے کہ دنیا میں جب کوئی مجھ سے قرض لیتا تھا، تو میں واپسی کے مطالبہ میں اس پر زور نہیں ڈالتا تھا، بلکہ اسے مہلت دیتا تھا اور اس کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرتا تھا، اس امیدپر کہ اللہ تعالیٰ میرے ساتھ نرمی کا معاملہ کرے گا۔ تو یہ سن کر اللہ تعالی اس کی مغفرت فرما دیں گے اور فرمائیں گے کہ ہم تم سے زیادہ نرمی کرنے والے اور مہلت دینے والے ہیں۔
مَاتَ رَجُلٌ، فَقِيلَ لَهُ، قَالَ: كُنْتُ أُبَايِعُ النَّاسَ، فَأَتَجَوَّزُ عَنِ المُوسِرِ، وَأُخَفِّفُ عَنِ المُعْسِرِ، فَغُفِرَ لَهُ
ایک شخص کا انتقال ہوا، اس سے پوچھا گیا کہ دنیا میں تو کیا کہتا تھا؟ اس نے جواب دیا:میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور مال دار سے چشم پوشی کرتا تھا اور تنگ دست پر تخفیف کرتا تھا۔ چناں چہ اس کی مغفرت کردی گئی۔
صحیح البخاری2391، صحیح مسلم 1560، مسند احمد 23384
قرض کی جلد واپسی کی فکر کرنا
قرض لینے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر وقت اس فکر میں رہے کہ کس طرح جلد از جلد قرض واپس کرسکے، تاکہ اس کی ذمہ داری فارغ ہوسکے اور خدا نخواستہ اگر اسے موت آجائے تو اللہ کے پاس یہ قرض اس کے لیے وبال جان نہ بن جائے، رسول اللہ ا اس حوالے سے اتنی سخت تاکید فرماتے تھے کہ شروع میں جب کوئی جنازہ آتا، تو پہلے معلوم کرتے کہ کیا مرنے والے کے ذمہ میں قرض ہے یا نہیں؟ اگر معلوم ہوتا کہ قرض ہے، تو آپ ﷺاس کا جنازہ نہیں پڑھاتے تھے۔
حضرت جابر کہتے ہیں کہ:
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّي عَلَى رَجُلٍ مَاتَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، فَأُتِيَ بِمَيِّتٍ، فَقَالَ: أَعَلَيْهِ دَيْنٌ؟ قَالُوا: نَعَمْ، دِينَارَانِ، قَالَ: صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ: هُمَا عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
رسول اللہ ﷺایسے شخص کی نماز جنازہ نہیں پڑھاتے تھے جس کے اوپر قرض ہو، چناں چہ ایک میت کو لایا گیا تو آپ ﷺنے دریافت فرمایا کہ کیا اس کے ذمہ قرض ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ جی!دو دینار ہیں۔ تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا:تم اس کا جنازہ پڑھو۔ پھر جب حضرت ابوقتادة نے عرض کیا:یا رسول اللہ!اس کا قرض میں اپنے ذمہ لیتا ہوں، تب آپ ﷺنے اس کا جنازہ پڑھایا۔
سنن أبی داوود 3343
اس کی وجہ یہ ہے کہ جب تک اس کے ذمہ میں قرض رہتا ہے، اللہ تعالی کے پاس بھی اس کا معاملہ لٹکا رہتا ہے، اس کے حق میں کوئی خیر کا فیصلہ نہیں کیا جاتا۔ جیسا کہ ذیل کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے:
رسول اللہﷺنے فرمایا:
نَفْسُ المُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ بِدَيْنِهِ حَتَّى يُقْضَى عَنْهُ
مومن کا نفس اس کے قرض کی وجہ سے لٹکا رہتا ہے؛ جب تک کہ اس کا قرض نہ ادا کردیا جائے۔
جامع ترمذی 1078، 1079، مسند احمد 9679، 10156
بعد میں جب رسول اللہ ﷺکو اللہ تعالیٰ نے کچھ کشادگی عطا فرمائی تو آپ ﷺمرنے والے کا قرض اپنی طرف سے ادا کرکے، پھر اس کی نماز جنازہ پڑھاتے تھے۔
قرض کی واپسی میں ٹال مٹول کرنا
قرض کامعاملہ کرتے وقت اسلام کی ہدایت ہے کہ جانبین کی موجودگی میں قرض کی مقدار، واپسی کی تاریخ وغیرہ تمام تفصیلات لکھ لی جائیں، تاکہ بعد میں کوئی اختلاف پیدا نہ ہو؛ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ إِلَی أَجَلٍ مُسَمًّی فَاکْتُبُوہ
اے ایمان والو!جب تم کسی معینہ وقت تک کے لیے قرض کا معاملہ کروتو اسے لکھ لیا کرو۔
البقرة: 282
پھر اس کے بعد قرض لینے والے کو اسلام نے یہ ہدایت دی ہے کہ وہ قرض کی واپسی کو ممکن بنائے،اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
إِنَّ اللَّہَ یَأْمُرُکُمْ أَن تُؤَدُّوا الأَمَانَاتِ إِلَی أَہْلِہَا
بے شک اللہ تعالی تمہیں حکم دیتے ہیں کہ امانتیں ان کے مالکوں کی طرف لوٹاؤ۔
النساء:58
اس کی مزید وضاحت فرماتے ہوئے رسول اللہﷺ تنبیہ فرماتے ہیں کہ اگر قرض لینے والے کے پاس قرض کی واپسی کا انتظام ہے، اس کے باوجود وہ ٹال مٹول کر رہا ہے، قرض واپس نہیں کر رہا ہے، تو وہ ظالم ہے۔
رسول اللہﷺنے فرمایا:
مَطْلُ الغَنِيِّ ظُلْمٌ
الدار کی طرف سے (قرض کی ادائیگی میں) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔
( مسند احمد 5395 ، 7541 ، 8938 ، 99743، 10002 ، صحیح البخاری 2287 ، 2288، 2400، صحیح مسلم 1564)
قرض کی واپسی کے اسباب مہیا نہ کرنا گناہ کبیرہ
بعض حضرات اس سلسلہ میں بہت لاپرواہی سے کام لیتے ہیں، قرض لینے کے بعد ادائیگی کی کوئی فکر ان کو نہیں رہتی؛ایسے لوگوں کے بارے میں نبی مصطفیﷺکے ارشادات بہت سخت ہیں، آپﷺفرماتے ہیں:
مَنْ أَخَذَ أَمْوَالَ النَّاسِ يُرِيدُ أَدَاءَهَا أَدَّى اللَّهُ عَنْهُ، وَمَنْ أَخَذَ يُرِيدُ إِتْلاَفَهَا أَتْلَفَهُ اللَّهُ
جس نے لوگوں کا مال لیا اور وہ ادا کرنا چاہتا ہے تو اللہ تعالی اس کی طرف سے ادا کردیتے ہیں۔ اور جو دوسرے کا مال ہلاک کرنا چاہے تو اللہ تعالیٰ اسے ہلاک کردیتے ہیں۔یعنی اس شخص کو اور اس کے مال کو ہلاک کر دیتے ہیں۔
( صحیح البخاری 2387، مسند احمد 8733، 9407)
اگر کسی شخص نے اپنی پوری زندگی قرض واپس نہیں کیا اور نہ اس کی واپسی کے اسباب مہیا کیے کہ اتنے میں دنیا سے اس کے جانے کا وقت آگیا، تو ایسے شخص کے بارے میں رسول اللہ ﷺفرماتے ہیں کہ اس نے گناہ کبیرہ کا ارتکاب کیا۔
محبوب کریمﷺنے فرمایا:
إِنَّ أَعْظَمَ الذُّنُوبِ عِنْدَ اللَّهِ أَنْ يَلْقَاهُ بِهَا عَبْدٌ بَعْدَ الْكَبَائِرِ الَّتِي نَهَى اللَّهُ عَنْهَا، أَنْ يَمُوتَ رَجُلٌ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، لَا يَدَعُ لَهُ قَضَاءً
اللہ کے نزدیک کبیرہ گناہوں کے بعد سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ انسان ایسی حالت میں انتقال کرے کہ اس نے قرض کی ادائیگی کے لیے کوئی مال نہ چھوڑا ہو۔
(مسند احمد 19495، سنن أبی داود 3342)
قرض کی واپسی کا ارادہ نہ رکھنے والے کا اللہ کے یہاں چور وں میں شمار
بعض لوگ قرض لے کر واپس نہیں کرتے، بلکہ واپس نہ کرنے کی نیت کرلیتے ہیں، ایسے لوگ بہت بد ترین اور بد نصیب ہوتے ہیں، ان کے بارے میں رسول اللہﷺنے فرمایا کہ ایسے لوگ اللہ کے یہاں چوروں کی فہرست میں شمار ہوتے ہیں۔
رحمتِ کونینﷺنے فرمایا:
أَيُّمَا رَجلٍ يَدِينُ دَيْنًا وهُو يُجْمِعُ أَنْ لاَ يُوَفِّيَهُ لَقِى الله سَارِقًا
جس شخص نے قرض لیا اور واپس نہ کرنے کا ارادہ کیا تو وہ اللہ سے چور ہونے کی حالت میں ملے گا۔
(جامع المسانید والسنن 5362)
ہماری بے راہ روی اور سودی قرض کی لعنت
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قرض کے لین دین اور اس کی واپسی میں ہماری اس بے راہ روی، نیت کی خرابی اورظلم وزیادتی کی وجہ سے ہی ہم پر سودی قرض کی لعنت مسلط کی گئی ہے، جس میں ہمارا معاشرہ بری طرح سے جکڑا ہوا ہے، چناں چہ کہیں بینک کا سود ہے، تو کہیں رہن کا سود ہے اور کہیں فائننسر کا سود ہے، ہر چہار طرف سے سود کی لعنت میں میں ہمارا معاشرہ ڈوبا ہواہے، جس کی وجہ سے اس معاشرہ میں کوئی ڈپریشن کا شکار ہو رہا ہے، تو کوئی اقدام خود کشی کر رہا ہے۔ اللہ تعالی اس لعنت سے ہم سب کی حفاظت فرمائے۔
آخری گزارش
لہٰذا ہمیں جہاں معاشرے میں پریشان حال لوگوں کی مدد کرنی چاہیے، ضرورت کے موقع پر قرض یا کسی صورت سے ان کا تعاون کرنا چاہیے، انتظام نہ ہونے کی شکل میں قرض کی واپسی میں سختی سے کام نہیں لینا چاہیے، وہیں قرض لینے والے کو چاہیے کہ وہ جلد از جلد قرض واپس کرنے کی فکر میں رہے، بلا ضرورت ٹال مٹول نہ کرے؛بلکہ اچھے انداز سے قرض واپس کرے، رسول اللہ ﷺنے غزوہٴ حنین کے موقع پر عبد اللہ بن ابی ربیعہ مخزومی سے تیس یا چالیس ہزار قرض لیے تھے، پھر جب حنین سے واپس تشریف لائے توقرض واپس فرمایا اور انہیں دعائیں بھی دیں اور فرمایا کہ قرض کا بدلہ یہ ہے کہ پورے طور پر اسے ادا کیا جائے اور قرض دینے والے کی تعریف بھی کی جائے۔ ایک اور موقع پر رسول اللہ ﷺنے قرض دینے والے کو اس کے اونٹ سے بہتر اونٹ واپس دیتے ہوئے فرمایا:تم میں بہتر وہ شخص ہے جو اچھے انداز سے قرض ادا کرے۔اے کاش کہ ہم بھی ان بہترین تعلیمات پر عمل کر کے ایک پرسکون معاشرہ کی تشکیل میں اپنے حصہ کا کردار ادا کرتے۔
ہمارے سماج میں آپس کی، رنجشوں، نفرتوں،جھگڑوں اور تنازعات کا جو سلسلہ چل رہا ہے، ان کی تہہ میں اگر دیکھا جائے، تو ان کے اسباب میں سے ایک بنیادی سبب کاروباری معاملات کو صاف اورواضح نہ رکھنا ہے، چناں چہ روپیہ، پیسہ، زمین وجائداد اور دیگر مالی معاملات کو صاف نہ رکھنے کی وجہ سے بعض اوقات جو جھگڑے اورعداوت پیدا ہوتی ہے، وہ کئی پشتوں کو اپنے لپیٹ میں لے لیتی ہے اور پرانے تعلقات کو دیکھتے ہی دیکھتے بھسم کرڈالتی ہے اور اس کی وجہ سے بڑی مثالی دوستیاں آن کی آن میں دشمنیوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ وجہ وہی زروزمین اوربزنس کے معاملات کا ابہام اور واضح نہ ہونا ہی ہوتا ہے۔
حالاں کہ اسلام نے معاملات کی صفائی کی طرف خاص توجہ دلائی ہے کہ جو بھی معاملہ کیا جائے، خواہ وہ قریب ترین رشتہ دار،بھائیوں کے درمیان ہو، باپ بیٹے کے درمیان ہو، شوہر اور بیوی کے درمیان ہو، غرض کسی بھی شخص اور فرد کے ساتھ جو بھی معاملہ ہو، وہ بالکل واضح اور بے غبار ہونا چاہیے۔ اس میں ایسا ابہام نہیں ہونا چاہیے جو آئندہ کسی تنازع اور جھگڑے کا باعث ہو، اسی لیے خرید وفروخت کی ایسی تمام صورتوں کو منع کیا گیا ہے، جس میں فروخت کی جانے والی چیز، ادا کی جانے والی قیمت، سامان کی سپردگی کے مقام اور ادھار کی صورت میں قیمت یا ادائیگی کا وقت مبہم ہو، تجارت کے بہت سے احکام اسی اصول پر مبنی ہیں۔ اس لیے شرعی نقطہٴ نظر سے جو معاملات کسی بھی پہلو سے ابہام کی وجہ سے آئندہ کسی نزاع کا سبب بن سکتے ہیں وہ درست نہیں ہوں گے۔
معاملات کے باب میں اہل علم حضرات لکھتے ہیں
آپس میں بھائیوں کی طرح رہو، لیکن لین دین کے معاملات اجنبیوں کی طرح کرو۔
(التمثیل والمحاضرة للثعالبي)
مطلب یہ ہے کہ روزمرہ کی زندگی میں ایک دوسرے کے ساتھ ایسا برتاؤ اور حسن سلوک کرو، جیسے ایک مخلص بھائی کو دوسرے بھائی کے ساتھ کرنا چاہیے، جس میں ایثار، محبت، شفقت، مروت، رواداری، تحمل اور انسانیت کا جذبہ ہو، لیکن جب روپے پیسے اور تجارت ونفع کے لین دین، جائداد کے معاملات اور شرکت وحصہ داری کا معاملہ آجائے ،تو اچھے تعلقات کی حالت میں بھی انہیں اس طرح انجام دو، جیسے دو اجنبی ا فراد انہیں انجام دیتے ہیں۔ کہ معاملہ کا ہر پہلواور بات صاف اور واضح ہو، نہ کوئی پہلو مبہم رہے، اور نہ معاملہ کی حقیقت میں کوئی اشتباہ باقی رہے۔
اگر محبت، اتفاق اور خوش گوار تعلقات کی حالت میں اس اصول پر عمل کر لیاجائے، تو بعد میں پیدا ہونے والے بہت سے فتنوں اور جھگڑوں کا سد باب ہو جاتا ہے۔ لیکن افسوس ناک صورت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اس اصول کو یکسر نظر انداز کیا جاتا ہے جس کی ایک واضح صورت ہمارے معاشرے میں یہ ہے
کاروبار میں والد کے ساتھ اولاد کی شرکت
ہمارے ہاں تجارت وکاروبار میں عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ ایک شخص نے کاروبار شروع کیا، اس وقت اس کے بچے چھوٹے تھے۔ رفتہ رفتہ کاروبار بھی بڑھا اور بچے بھی بڑے ہو کر اپنے والد کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں، ان کے کاروبار میں پورے طور پر معاونت کرتے ہیں، اس کاروبار کو اپنا کاروبار تصور کرتے ہیں اور حسب استطاعت اس کو ترقی دینے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں ، والد ان کی جملہ ضروریات کی مکمل کفالت کرتا ہے اور جب تک حالات خوش گوار رہتے ہیں ،ان کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ یہ مشترکہ نظام برقرار رہے۔ لیکن جب والد کی زندگی میں یا ان کے انتقال کے بعداس کا روبار کی تقسیم کا مسئلہ سامنے آتا ہے، تو بڑے لڑکوں کو یہ احساس ہوتا ہے کہ کاروبار میں چھوٹے بھائیوں کی بنسبت ان کا تعاون زیادہ رہا ہے ، اس لیے اسی تناسب سے انہیں زیادہ حصہ ملناچاہیے،پھر جب تمام بھائیوں کے درمیان کاروبار کی مساوی طور پر تقسیم کی بات ہوتی ہے۔ توان کے احساس کو ٹھیس پہنچتی ہے اور وہ اس میں اپنی حق تلفی محسوس کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں بھائیوں کے درمیان فاصلے بڑھنے لگتے ہیں ۔ یوں قریبی رشتہ داروں کے درمیان نفرت کی دیوار قائم ہوتی ہے اور بات مقدمہ بازی اور خون بہانے تک پہنچ جاتی ہے ،اس لیے ہونا یہ چاہیے کہ اگر کسی کاروبار میں والد کے ساتھ ان کے بچے بھی شریک ہوں ،تو جس وقت وہ شریک ہوں اسی وقت یہ طے ہونا چاہییکہ اس کا روبار میں ان کی شرکت کس حیثیت سے ہے ؟ کیا وہ اس میں پارٹنر ہیں ؟ یا ان کی حیثیت ملازم کی ہے ؟ یاوہ محض اپنے والد کے معاون و مددگار ہیں؟ لیکن جس وقت لڑ کے والد کے خواہش پر کا روبار میں عملی طور پر شریک ہو جاتے ہیں، تو اس وقت معاملہ کو واضح کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ چناں چہ ہر شخص اپنی خواہش یا ضرورت کے مطابق کاروبار کی آمدنی استعمال کرتا رہا ہے۔ اگر کسی وقت کوئی شخص یہ تجویز پیش کرے کہ کاروبار میں حصہ یا تنخواہ وغیرہ متعین کر لینی چاہیے، تو اسے محبت، اتفاق اور غیرت کے خلاف سمجھا جاتا ہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے کاروبار کا انجام اکثر وبیشتر یہ ہوتا ہے کہ دل ہی دل میں ایک دوسرے کے خلاف نفرتیں اوررنجشیں پرورش پاتی رہتی ہیں ،خاص کر جب تقسیم کا مرحلہ آتا ہے، تو ہر شخص یہ سمجھتا ہے کہ میرے ساتھ ظلم ہوا ہے۔ دوسرے نے کاروبار سے زیادہ فائدہ اُٹھایا ہے ۔ اندر ہی اندر ان رنجشوں کا لاوا پکتارہتا ہے اور بالآخر جب رنجشیں بدگمانیوں کے ساتھ مل کر پہاڑ بن جاتی ہیں تو یہ آتش فشاں پھٹ پڑتا ہے۔محبت واتفاق کے سارے دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ زبانی تو تکار سے لے کر لڑائی ، جھگڑے اور مقدمہ بازی تک کسی کام سے دریغ نہیں ہوتا۔ بھائی بھائی کی بول چال بند ہو جاتی ہے۔ ایک بھائی دوسرے کی صورت دیکھنے کا روادار نہیں رہتا ۔ جس کے قابو میں کاروبار کاجتنا حصہ آتا ہے وہ اس پر قابض ہو کر عدل وانصاف کا جنازہ نکال لیتا ہے ۔ اپنی نجی مجلسوں میں ایک دوسرے کے خلاف ، الزامات ، بد زبانی اور بدگمانی جسے خطر ناک گناہوں کا سلسلہ چل رہا ہوتا ہے۔ چوں کہ سالہا سال مشترکہ کا روبارکا نہ کو ئی اصول طے تھا اور نہ حساب و کتاب کا خیال رکھا گیا ہو تا ہے۔ اس لیے بسا اوقات اختلاف کو ختم کرنے کے لیے افہام وتفہیم کی بھی کوشش کی جائے، تو بھی مصالحت کا کوئی ایسا فارمولاوضع کرنا بھی انتہائی دشوار ہوجاتا ہے،جو تمام متعلقہ فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
معاملہ کرتے وقت کن پہلوؤں کو واضح کرنا ضروری ہے؟
یہ سارا فتنہ وفساد اس وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ کاروبار کے آغاز میں معاملہ صاف اور واضح نہیں رکھا تھا۔اگرشروع ہی میں یہ بات واضح کی جائے کہ کس کی کیا حیثیت ہے؟ آیا وہ ملازمت کے طور پر کام کررہا ہے؟یاشرکت اور تعاون کے طورپر؟تو بعد میں پیش آنے والی پیچیدگیوں اورجھگڑوں کا سد باب ہوجائے، لہٰذا اگر کسی کاروبار میں ایک سے زیادہ افراد کام کررہے ہیں،توپہلے ہی مرحلے میں ان میں سے ہر شخص کی حیثیت کا تعین ضروری ہے کہ وہ تنخواہ پر کام کرے گا؟یا کاروبار میں باقاعدہ حصہ دار ہوگا؟یا محض اپنے والد کی معاونت کرے گا؟
پہلی صورت میں اس کی تنخواہ متعین ہونی چاہیے،نیز یہ وضاحت بھی کرلی جائے کہ وہ کاروبارکا حصہ دارنہیں ہوگا۔ دوسری صورت میں اگراسے ملکیت میں باقاعدہ حصہ داربنانا ہے تو اس کے لیے شرعایہ بھی ضروری ہے کہ اس کی طرف سے کاروبار میں کچھ سرمایہ شامل ہونا چاہیےجس کی صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ باپ اسے کچھ نقد رقم ہبہ کردے اوروہ اس رقم سے کاروبارکا فیصد کے اعتبار سے ایک متعین حصہ خریدلے اور فیصد کے اعتبارسے نفع کی تعیین بھی کرلے۔
یہ تمام تفصیلات تحریری طورپر ایک معاہدہ کی شکل میں محفوظ کرلینی چاہییں،تاکہ بعد میں کوئی الجھن پیدانہ ہو۔
اگر کسی ایک حصہ دارکو کاروبار میں وقت اور کام زیادہ کرنا پڑتا ہو،تویہ بات بھی طے کرلینی چاہیے کہ زیادہ کام وہ رضا کارانہ طورپر کرے گا؟یا اس کا کوئی معاوضہ اسے دیا جائے گا،اگرکوئی معاوضہ دیاجائے گاتووہ نفع کے فیصد حصے میں اضافہ کرکے دیاجائے گا یاالگ سے متعین تنخواہ کی صورت میں؟غرض ہر فریق کے تمام امور وحقوق اتنے واضح ہوں کہ ان میں کوئی ابہام واشتباہ باقی نہ رہے۔
معاملات کی صفائی کو محبت،اتفاق اورغیرت کے خلاف سمجھنا دھوکاہے
اگر بالفرض کسی کاروبار میں اب تک ان باتوں پر عمل نہ کیا گیاہو، تو جتنی جلدی ہوسکے ان امورکو واضح طور پر طے کرلیا جائے۔ اس میں کسی شرم،مروت اور طعن وتشنیع کو آڑے نہ آنے دیناچاہیے۔معاملات کے متعلق اس صفائی اوروضاحت کومحبت، اخوت،احترام اور اتحاد واتفاق کے خلاف سمجھنا بہت بڑا دھوکہ ہے،ورنہ آگے چل کریہ محبت واتحاد عداوت میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
والدکی تجارت میں شرکت کے متعلق اہم مسائل
آج کل دارالافتاؤں میں اس طرح کے مسائل کثرت سے آتے ہیں،خاص کر جب میراث کی تقسیم کا مرحلہ سامنے آتا ہے،تو اس وقت اس طرح کے تنازعات کثرت سے پیش آتے ہیں، چوں کہ میرا تعلق بھی دارالافتاء سے ہے اورفتوی کے کام سے منسلک ہوں، اس لیے میں نے مناسب سمجھا کہ شرعی نقطہ نظر سے ان مسائل کو تفصیل سے لکھ دوں،تاکہ ان مسائل سے آگاہ ہوکرہم سب ان پر عمل پیرا ہوسکیں۔چناں چہ اس سلسلے میں عرض یہ ہے کہ شریعت کا اصل حکم تو وہی ہے کہ کاروبار کے شروع ہی میں ہر ایک کی حیثیت کاتعین کرلینا چاہیے اور معاملہ ہر پہلو سے واضح کردیناچاہیے۔
کاروبار میں شریک اولادباپ کی زیرکفالت ہو
تاہم اگر معاملہ کوابتدا میں ویسی ہی چھوڑ دیا تھا، کسی چیز کی وضاحت نہیں ہوتی تھی ،تو اس پس منظر میں پہلے مسئلہ یہ ہے کہ اگر والد نے اپنے سرمائے سے کاروبار شروع کیا،بعد میں اس کے لڑکوں میں سے بعض والد کی خواہش پرکاروبارمیں شریک ہوگئے،مگر انہوں نے الگ سے اپنا کوئی سرمایہ نہیں لگایا اور والدنے بھی ایسے لڑکوں کی کوئی حیثیت متعین نہ کی ہو،تو اگر یہ لڑکے والد کے زیرِ کفالت ہوں ،تواس صورت میں لڑکے والد کے معاون شمارکیے جائیں گے اور ان کی طرف سے یہ عمل تبرع شمار کیاجائے گا۔ان کی حیثیت پارٹنریا ملازم کی نہیں ہوگی،ہمارے ہاں عرف بھی یہی ہے کہ اس طرح کاروبارکی کل آمدنی باپ کی ملکیت شمار ہوتی ہے اور اولاد محض معاون ومددگارہوتی ہے۔لہٰذا مذکورہ صورت میں کاروبارکی کل آمدنی باپ کی ملکیت ہوگی اور اس کے انتقال کے بعد معاونت کرنے والے لڑکوں کوالگ سے کچھ نہیں ملے گا،بلکہ دوسرے بیٹوں کے ساتھ ان کومیراث میں مساوی طورپرحصہ ملے گا۔(یعنی سب لڑکوں کو برابر حصہ ملے گا)
تجارت میں شریک بعض بیٹے زیرکفالت نہ ہوں
اگر بیٹے باپ کی کفالت میں نہ ہوں یعنی باپ ان کی جملہ ضروریات کے اخراجات برداشت نہ کرتاہو،توایسی صورت میں اگرمتعین اجرت سے کام کرنا طے ہواہوتو لڑکے اسی اجرت کے حق دارہوں گے،تاہم اگر اس صورت میں اجرت طے نہ ہوئی ہوتو جہالت کی وجہ سے یہ اجارہ فاسدہ ہوگا،جس کاحکم یہ ہے کہ کل سرمایہ بمع نفع باپ کاہوگا اوربیٹے اجرت مثل کے مستحق ہوں گے،خیال رہے کہ ان دوصورتوں میں اولادکی حیثیت ملازم کی ہوگی اور اگر اجرت کے متعلق بالکل بھی وضاحت نہ ہوئی ہو توایسے میں بیٹوں کا یہ عمل تبرع اوراحسان کے زمر ے میں آئے گااور وہ اُجرت کے حق دار نہیں ہوں گے،کیوں کہ اجرت کا استحقاق عقد ِاجارہ سے ثابت ہوتا ہے،جب کہ یہاں کوئی عقد نہیں ہوا ہے،لہٰذا اس صورت میں بیٹوں کی حیثیت محض معاون اور متبرع کی ہوگی ۔کل مال باپ کی ملکیت شمار ہوگا۔
علامہ شامی لکھتے ہیں
الأب وابنہ یکتسبان فی صنعة واحدة ولم یکن لہما شیء فالکسب کلہ للأب إن کان الابن فی عیالہ لکونہ معینا لہ، ألا تری لو غرس شجرة تکون للأب؟
( رد المحتار4/ 325)
ہندیہ میں ہے
أب وابن یکتسبان فی صنعة واحدة ولم یکن لھما شیء فالکسب کلہ للأب إن کان الابن فی عیالہ لکونہ معینا لہ، ألا تری أنہ لو غرس شجرة تکون للأب؟
(فتاوی ہندیہ2/ 329)
اولادنے مشترکہ کاروبارمیں کچھ سرمایہ بھی لگایاہو
اگریہی صورت ہو لیکن بیٹوں نے کاروبارمیں شریک ہوتے وقت اپنا کچھ سرمایہ بھی والدکی اجازت سے کاروبار میں لگایاہو، تو اس صورت میں اگر شرکت کی غرض سے سرمایہ لگایا گیا ہو ،توبیٹوں کی حیثیت شریک اور پارٹنر کی ہوگی اور بیٹے اپنے سرمایہ کے تناسب سے کاروباراوراس کے منافع میں شریک ہوں گے۔ اگر سرمایہ قرض کہہ کر دیا ہے تو قرض شمار ہوگا۔البتہ اگر زبانی طور پرشرکت یا قرض وغیرہ کی کوئی صراحت نہیں ،مگر لڑکے کا مقصود سرمایہ لگانے سے والد کی اعانت اور اس کے ساتھ حسن سلوک ہے توپھریہ اس کی طرف سے تبرع ہے،کل کاروبار والد کاشمارہوگا۔
تاہم اگر مذکورہ صورتوں میں سے کوئی بھی صورت نہیں ہے۔ یعنی نہ کوئی صراحت ہے اور نہ ہی مقصد اعانت ہے تو پھر حسب عرف فیصلہ کیا جائے ۔
فإذا خلطا المالین علی وجہ لا یمکن تمییز أحدہما عن الآخر؛ فقد ثبتت الشرکة فی الملک؛ فیبنی علیہ شرکة العقد
(المبسوط للسرخسی11/ 152)
وفی رد المحتار:یقع کثیرا فی الفلاحین ونحوہم أن أحدہم یموت فتقوم أولادہ علی ترکتہ بلا قسمة ویعملون فیہا من حرث وزراعة وبیع وشراء واستدانة ونحو ذلک، وتارة یکون کبیرہم ہو الذی یتولی مہماتہم ویعملون عندہ بأمرہ وکل ذلک علی وجہ الإطلاق والتفویض، لکن بلا تصریح بلفظ المفاوضة ولا بیان جمیع مقتضیاتہا مع کون الترکة أغلبہا أو کلہا عروض لا تصح فیہا شرکة العقد، ولا شک أن ہذہ لیست شرکة مفاوضة، خلافا لما أفتی بہ فی زماننا من لا خبرة لہ بل ہی شرکة ملک کما حررتہ فی تنقیح الحامدیة.
ثم رأیت التصریح بہ بعینہ فی فتاوی الحانوتی، فإذا کان سعیہم واحدا ولم یتمیز ما حصلہ کل واحد منہم بعملہ یکون ما جمعوہ مشترکا بینہم بالسویة، وإن اختلفوا فی العمل والرأی کثرة وصوابا کما أفتی بہ فی الخیریة
رد المحتار4/ 307
وفی البدائع:وأما حکم القرض فہو ثبوت الملک للمستقرض فی المقرض للحال، وثبوت مثلہ فی ذمة المستقرض للمقرض للحال، وہذا جواب ظاہر الروایة
( بدائع الصنائع7/ 396)
مشترک خاندان میں بعض بھائیوں نے کسب معاش کے دوسرے ذرائع اختیارکیے اوربعض نے والدکاہاتھ بٹھایا
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اگر ایک بھائی یا کچھ بھائیوں نے کاروبار میں والد کا ہاتھ بٹھا دیا ہے ، جب کہ دوسرے دیگر بھائیوں نے کسب معاش کے دوسرے ذرائع اختیار کیے ہیں اور آپس میں ابھی تک تقسیم نہیں ہوئی ہے ،اس صورت میں اگر سب کا کھانا پینا ایک ساتھ ہواور تمام بھائی کمائی والد کے پاس جمع کرتے ہوں تو کل مال باپ کی ملکیت شمار ہوگا ۔ والد کے انتقال کے بعد تمام لڑکے اس مال کے حق دار ہوں گے ۔
یہاں اس بات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ اگر بیٹے باپ کے عیال میں ہیں اور آپس میں تقسیم نہیں ہوئی ہے ،تو خواہ سب ایک ہی کاروبار میں مشغول ہوں یا مختلف قسم کے کاروبار میں مشغو ل ہوں ، یعنی ایک کا کاروبار دوسرے کے کاروبار سے مختلف ہو، مثلا :ایک سبزی کے کاروبار میں لگا ہو اور دوسرا مارکیٹ میں فرنیچر کے کاروبار میں مشغول ہو ، بہر صورت تمام مال کا مالک باپ ہوگا ، اس لیے کہ ہمارے عرف میں سب بھائیوں کو ایک مشترک خاندان کا فرد سمجھا جاتا ہے ، ان کو علیحدہ تصور نہیں کیا جاتا ۔ رہیں فقہاء کرام کی وہ عبارتیں جن میں لڑکے کے معاون ہونے کے لیے اتحاد صنعت کی صراحت ہے ، تو اس سلسلے میں عرض یہ ہے کہ بظاہر اتحاد ِصنعت کی وضاحت فقہائے کرام نے اپنے زمانے کے عرف کے اعتبار سے کی ہے ، لہٰذا وہ اپنے زمانے کے عرف پر مبنی ہے ۔
آج کل صورت حال یہ ہے کہ بعض اوقات اولاد کو دوسرے ذرائعِ معاش اختیار کرنے کا مشورہ باپ دیتا ہے ، اس سلسلے میں وہ اپنا مالی تعاون بھی کرتا ہے اور اپنے اثر و رسوخ کا استعمال بھی ، اس کے نفع و نقصان کی فکر بھی کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ میرے مختلف بیٹے مختلف ذرائع سے میرے معاون ہیں ، بلکہ بسا اوقات معاشی پریشانی کی وجہ سے باپ اپنے بعض لڑکوں کو دوسرے ملک بھیجتے ہیں اور اس کے لیے لمبا چوڑا خرچہ برداشت کرتا ہے ، اس کی ذمہ داری قبول کرتا ہے ، کھانا پینا سب مشترک ہی رہتا ہے ، ایسی صورت میں لڑکوں کی دوسرے ممالک کی کمائی پوری باپ کی ملک ہوگی ، ایسے لڑکے باپ کے معاون شمار ہوں گے ، وہ اپنی کمائی کے تنہا مالک نہ ہوں گے ، البتہ اس صورت میں اگر کوئی لڑکا اپنا کھانا پینا الگ کردے اور باقاعدہ الگ ہونے کا والد سے اظہار کردے ،تو اس کے بعد وہ الگ شمار ہوگا اور اپنی کمائی کا وہ خود مالک ہوگا ۔ لہٰذا آج کل کے عرف میں لڑکے کے معاون ہونے کے لیے اتحاد ِصنعت کی شرط قابل نظرہے۔
الگ ذرائع معاش اختیارکرنے والوں کی کمائی کاحکم
اگر الگ ذرائع معاش اختیار کرنے والے بھائیوں کا رہنا سہنا اور کھانا پینا الگ ہو اور انہوں نے اپنا سرمایہ علاحدہ جمع کر رکھا ہو تو پھر وہ کمائی ان کی ذاتی ملکیت ہوگی، دوسرے بھائی اس میں شریک نہ ہوں گے ۔
کما فی رد المحتار : زوج بنیہ الخمسة فی دارہ و کلہم فی عیالہ واختلفوا فی المتاع فہو للأب ، و للبنین الثیاب التی علیہم لا غیر
(فصل فی حکم القرض:7/396)
وأیضا فیہ:الأب وابنہ یکتسبان فی صنعة واحدة ولم یکن لہما شیء فالکسب کلہ للأب إن کان الابن فی عیالہ لکونہ معینا لہ ألا تری لو غرس شجرة تکون للأب؟
(ردالمحتار،فصل فی الشرکة، مطلب اجتمعافی دار واحدة، واکتسبا ولایعلم التفاوت:6/497)
وفی الہندیة:أب وابن یکتسبان فی صنعة واحدة ولم یکن لھما شیء فالکسب کلہ للأب إن کان الابن فی عیالہ لکونہ معینا لہ، ألا تری أنہ لو غرس شجرة تکون للأب؟
(الباب الرابع:فی شرکة الوجوہ وشرکة الأعمال:2/332، مکتبة دارالفکر)
وفی درر الحکام:فإذا کان الأب مزارعا والابن صانع أحذیة فکسب الأب من الزراعة والابن من صناعة الحذاء، فکسب کل واحد منہما لنفسہ و لیس للأب المداخلة فی کسب ابنہ لکونہ فی عیالہ
(3/445/مادة:1398)
کاروبارختم ہونے کے بعداولاد میں سے کسی نے اپنے سرمایہ سے دوبارہ کاروبارشروع کیا۔
اس سلسلے میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگر کسی وجہ سے والد کا کاروبار ختم ہوگیا ، لیکن کاروبار کی جگہ، خواہ مملوکہ ہو یا کرایہ پر حاصل کی گئی ہو ، موجود ہو ، اولاد میں سے کسی نے اپنا سرمایہ لگا کر اسی نام سے دوبارہ کاروبار شروع کیا ،اس صورت میں جس لڑکے نے سرمایہ لگاکرکاروبارشروع کیاہے،یہ کاروبار اسی کی ملکیت شمار ہوگی ، والد اور دیگر بھائیوں کی ملکیت شمار نہیں ہو گی ۔ البتہ وہ مملوکہ جگہ والد کی ہوگی یا اگر دوکان کرایہ پر تھی اور اس سلسلے میں کچھ رقم پیشگی والد کو ادا کردی تھی تو وہ رقم بھی والد کی ملکیت شمار ہوگی، اور تمام بھائی والد کے بعد اس میں شریک ہوں گے ۔
اعلم أن أسباب الملک ثلاثة: ناقل کبیع وہبة، وخلافة کإرث، وأصالة وہو الاستیلاء حقیقة بوضع الید أو حکما بالتہیئة کنصب الصید لا لجفاف علی المباح الخالی عن مالک․
( الدر المختار:کتاب الصید:6/463)
وفی رد المحتار:وما اشتراہ أحدہم لنفسہ یکون لہ ویضمن حصة شرکائہ من ثمنہ إذا دفعہ من المال المشترک․
(کتاب الشرکة:4/307)
اللہ جل وعلا نے اپنے حبیب کو جہاں مُعَلّمِ کائنات بنایا وہیں آپﷺ کے انداز و کردار کو بھی ہمارے لئے کامل نمونہ قرار دیا ہے، آپﷺ کی مبارک سیرت کا ایک بہت ہی شاندار پہلو امانت و دیانت بھی ہے۔حضور خاتم النبیین ﷺکی شانِ امانت و دیانت شروع سےمشہور تھی،اعلانِ نبوت سے پہلے بھی آپﷺ اِس خوبی سے جانےجاتے تھے۔ اور کفّار ومشرکین اِس کا اظہارو اعتراف کیاکرتے تھے۔ جب آپ کی مبارک عمر25 سال ہوئی تو مکّہ میں آپ کو ”امین (امانت دار)“ کے لقب سے جانا جانے لگا۔
آئیے !آپ کی شانِ امانت داری کی کچھ جھلکیاں پڑھیے
اعلانِ نبوت سے قبل اندازِ امانت داری
اعلانِ نبوت سے پہلےمکّہ کی معزّز،مال دار اور نہایت عقل مند خاتون حضرت خدیجہ
اپناسامانِ تجارت ملکِ شام بھیجنا چاہتی
تھیں اور ایک امانت دار آدمی کی تلاش میں تھیں۔بی بی خدیجہ رسولِ کریم ﷺکی سچائی وحسنِ اخلاق کے ساتھ ساتھ صفتِ امانت داری سے بھی خوب آگاہ تھیں، چنانچہ آپ نے رحمتِ عالم ﷺکو یوں پیغام بھیجا:میری جانب سے آپ کو(سامان ِ تجارت کے ساتھ شام) بھیجنےکی پیشکش کا سبب وہ بات ہے جومجھے آپ کی (سچی) گفتگو، امانت داری اور اعلیٰ اخلاق کے بارے میں پہنچی ہے، ( اگریہ پیشکش قبول فرمالیں تو) میں آپ کودیگر کے مقابلے میں دگنا مُعاوَضہ دوں گی۔ رسولِ اکرم ﷺنے اِسے قبول فرمایا اور پہلے سے کئی گنا زیادہ نفع ہوا۔حضرت خدیجہ نےدیگر اوصافِ نبوی کے ساتھ امانت داری کی خوبی ملاحظہ فرمائی تو رسول ِ اکرمﷺکونکاح کا پیغام بھیجا اور سفر شام سے واپسی کے دو مہینے 25دن بعد آخری نبی ﷺنے حضرت خدیجہ سے نکاح فرمایا۔
اعلانِ نبوت کے بعد اندازِ امانت داری
اعلانِ نبوت کے بعد کفارِمکہ رسولِ اکرم ﷺکےبدترین دشمن ہوگئے تھے مگر اس کے باوجود یہ لوگ آپﷺ کی
دیانت داری پر بھرپور اعتماد کرتےہوئے آپ کے پاس اپنی قیمتی چیزیں بطورِ امانت رکھوایا کرتے تھے۔جب کفّارِ مکّہ کو آخری نبی ﷺکے رات میں مدینہ ہجرت کرجانے کا علم ہوا تو انہوں نے آپ کو شہید کرنے کے ارادےسے آپ کے گھر کامُحاصرہ کرلیا، ایسا دشمن جوجان لینےپرتُلا ہے مگررحمتِ عالم ﷺاُس وقت بھی اِن امانتوں کو لوٹانے کی فکر فرما رہےہیں چنانچہ آپ نے حضرت علی المرتضی کو امانتیں سپرد کیں اور تمام امانتیں لوٹانے کے بعد مدینہ آنے کاحکم دیا۔
دینِ اسلام کو امّت تک پہنچانا بھی امانت داری میں شامل ہے رسول اللہ ﷺنے 23سال کے عرصے میں زندگی کے ہرشعبے سے متعلق امانتِ اسلام کو پوری طرح پہنچادیا، چنانچہ حجۃ الوداع کے موقع پر لوگوں سے پوچھا
اے لوگو! میں تمہارے درمیان ایسی چیز چھوڑے جارہا ہوں کہ اگر تم اُسے مضبوطی سے پکڑے رہو تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے اور وہ اللہ پاک کی کتاب ہے ۔
تم سے (قیامت کے دن) میرے بارے میں سوال ہوگا تو تم کیا جواب دو گے؟سب نے عرض کی:ہم گواہی دیں گے کہ آپﷺ نے اللہ پاک کا پیغام پہنچایا اور رسالت کا حق ادا کیا اور امّت کی بھلائی چاہی۔
یہ سُن کر آپ نے آسمان کی طرف اشارہ کرکے یہ الفاظ تین مرتبہ دہرائے:اے اللہ! گواہ رہنا۔
رسولُ اللہ ﷺنے اپنے انداز کے ساتھ الفاظ کے ذریعے بھی ہمیں امانت و دیانت کی تربیت دی ہے، اِس سلسلے میں چند احادیثِ مبارکہ ملاحظہ کیجئے
جب امانت ضائع کی جائے تو قیامت کا انتظار کر۔
منافق کی تین علامتیں ہیں:
(۱)جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔ (۲)جب وعدہ کرے تو پورا نہ کرے اور (۳)جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرے، اگرچہ وہ نماز پڑھتاہو، روزے رکھتا ہو اور اپنےآپ کو مسلمان سمجھتا ہو۔
عنقريب تم پرمشرق و مغرب کی زمينوں کے دروازے کھل جائيں گے لیکن ان کے عمال (یعنی حکمران) جہنمی ہوں گے
سوائے اس کے جو اللہ پاک سے ڈرے اور امانت ادا کرے۔
گفتگوتمہارے درمیان امانت ہے۔
جس میں امانت نہیں اس کا دین کامل نہیں۔
تین چیزیں ایسی ہیں جن میں کسی کو کوئی رخصت نہیں: (۱)والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا خواہ وہ مسلمان ہوں یاکافر
(۲)وعدہ پوراکرناخواہ مسلمان سے کیا ہو یا کافر سے (۳)امانت کی ادائیگی خواہ مسلمان کی ہو یا کافر کی۔
سچا اور امانت دار تاجر ؛انبیاء ،صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔
اللہ کریم ہمیں امانت داری کی سنّت پر عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے۔
السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، ص75([i]), السیرۃ النبویۃ لابن ہشام،ص79([ii]), دلائل النبوۃ للاصفہانی، ص99([iii]), دلائل النبوۃ للاصفہانی،ص110-99،دلائل النبوۃ للبیہقی، 2/6([iv]), مواہب لدنیہ، 1/101([v]), شرح الزرقانی علی المواھب ،2/95-96([vi]), مسلم،ص490،حدیث: 2950([vii]), بخاری،1/37،حدیث:59([viii]), مسلم،ص53، حدیث: 212-213([ix]), مسنداحمد،9/44،حدیث:23170([x]), موسوعۃ لابن ابی الدنیا،7/244([xi]), شعب الایمان ،4/320،حدیث:5254([xii]), شعب الایمان،4/82،حدیث: 4363([xiii]), ترمذی،3/5،حدیث:1213([xiv])
ظلم اور قتلِ مسلم کی مذمت قرآن و حدیث کی روشنی میں ایک نہایت اہم اور سنجیدہ موضوع ہے۔ تمہید کے طور پر یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اسلام میں ظلم کو سختی سے ممنوع قرار دیا گیا ہے اور ظالموں کے لیے دردناک عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔ ظلم حرامِ قطعی ہے اور جو شخص ظلم کا راستہ اختیار کرتا ہے وہ کبھی فلاح نہیں پا سکتا۔ بظاہر بعض اوقات ظالم کو ڈھیل دی جاتی ہے، مگر یہ مہلت اس کے انجام کو مزید سخت بنانے کے لیے ہوتی ہے، کیونکہ بالآخر ظالم کا انجام نہایت عبرتناک ہوتا ہے۔ ایسے لوگ قیامت کے دن بے یار و مددگار ہوں گے۔ خاص طور پر ایک مسلمان کا قتل بہت بڑا گناہ ہے جس کی سزا انتہائی سخت بیان کی گئی ہے۔ اسلام نہ صرف ظلم سے روکتا ہے بلکہ برائی کو روکنے کا حکم بھی دیتا ہے تاکہ معاشرہ فساد سے محفوظ رہے۔ اسی طرح برے حکمرانوں کی علامت بھی یہی ہے کہ وہ ظلم کو فروغ دیتے ہیں اور انصاف کا دامن چھوڑ دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔
اَلْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى سَيِّدِ الْمُرْسَلِيْنَ وَآلِهِ الْهَادِيْنَ الْمُهْتَدِيْنَ
اللہ سبحانہ وتعالی نے جتنے انبیائے کرام بھیجے ، جتنی کتابیں نازل فرمائیں ، جتنے رسولوں کو مبعوث فرمایا۔ ان کی بنیادی تعلیمات میں یہ بات ضرور شامل رہی کہ ظلم نہ کیا جائے۔
اور اگر یہ کہا جائے کہ انبیائے کرام کی بعثت کا بنیادی مقصد زمین سے ظلم کا خاتمہ ہے ، تو یقینا یہ کہنا بے جا نہ ہو گا۔
قرآنِ پاک نے جتنے جرائم کی مذمت فرمائی ، اور جتنے گناہوں کے برے انجام کو بیان کیا ، ان میں سے سب سے برا جرم اور زیادتی ظلم ہے۔ بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ: کفر وشرک کی مذمت کے بعد قرآنِ پاک کی جتنی آیات ظلم کی مذمت میں نازل ہوئی ، اتنی آیات کسی دوسرے جرم کی مذمت میں نازل نہ ہوئیں ، تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا۔
ظالموں کے لیے دردناک عذاب
اللہ سبحانہ وتعالی نے ظلم کی مذمت فرماتے ہوئے فرمایا
إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
راہ تو صرف ان پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں نا حق بغاوت کرتے ہیں یہ ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
(سورۃ الشوریٰ آیت 42)
اس آیہ مقدسہ میں ناحق ظلم کرنے والوں کو دردناک عذاب کی وعید سنائی جا رہی ہے۔
ظلم حرامِ قطعی
ظلم وہ بدترین برائی ہے کہ خالقِ کائنات نے قطعی حرام چیزوں کے ضمن میں ظلم کا تذکرہ فرمایا۔
قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ
آپ فرمائیں: میری پروردگار نے تو بے حیائیاں حرام فرمائیں جو ان سے ظاہر ہے اور وہ جو ان سے پوشیدہ ہے اور گناہ اور نا حق ظلم۔
(سورۃ الاعراف آیت33)
اس آیہ مقدسہ میں نا حق ظلم کو صریح حرام کاموں میں شمار کیا۔
ظالم فلاح نہیں پا سکتا
ظلم ایک ایسا جرم ہے کہ جس کا مرتکب کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اس کا تعلق دنیا کے کسی بھی شعبے سے ہو ، اگر وہ ظلم سے باز نہیں آتا تو تباہی اور بربادی اس کا مقدر ہے۔
قرآنِ پاک نے جا بجا فرمایا
إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ
بات یہ ہے کہ : ظالم کامیاب نہیں ہوتے۔
سورۃ الانعام میں دو بار یہ فرمان موجود ہے۔ سورہِ یوسف میں موجود ہے۔ سورہِ قصص میں موجود ہے۔
سامعینِ کرام اندازہ کیجیے
اللہ سبحانہ وتعالی قرآنِ پاک میں کسی بات کو صرف ایک بار بھی بیان فرما دے جب بھی اس پہ ایمان لانا ہر شخص کی ذمہ داری ہے۔ لیکن ظالم شخص کی ناکامی اور بربادی ایک ایسی اٹل حقیقت ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالی نے اپنی کلامِ پاک میں بار بار یہ بیان فرمایا اور جا بجا سمجھایا کہ ظالم کبھی بھی فلاح نہیں پا سکتا۔
ظالم کو ڈھیل
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ کسی کمزور پہ ظلم کر کے یہ سوچتے یا سمجھتے ہیں کہ انہوں نے کوئی بڑی فتح حاصل کر لی ، تو یقین جانیے کہ یہ خیال نہ صرف ان کی خام خیالی ہے بلکہ قرآنِ پاک کی تصریح کے بھی سراسر خلاف ہے۔ ظالم کو عارضی فتح تو مل سکتی ہے ، زورِ بازو پر کمزور کی آواز کو اس کے حلق میں دبا تو سکتا ہے لیکن در حقیقت بربادی اس کے تعاقب میں ہوتی ہے ، تباہی اس کا پیچھا کر رہی ہوتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمانِ گرامی ہے۔ فرمایا
إِنَّ اللهَ لَيُمْلِي لِلظَّالِمِ، حَتَّى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْهُ
بے شک اللہ سبحانہ وتعالی ظالم کو ڈھیل دیتا ہے۔ یہاں تک کہ جب اسے پکڑتا ہے تو پھر اسے نہیں چھوڑتا۔
یہ جملے فرمانے کے بعد یہ آیہ مقدسہ تلاوت فرمائی
وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ
اور یونہی تمہارے پروردگار کی پکڑ ہے جب وہ ظالم بستیوں کو پکڑتا ہے۔ بے شک اس کی پکڑ دردناک ، سخت ہے۔
(صحيح البخاري 4686 ، صحیح مسلم 2583)
دوسرے مقام پہ بھی ظلم کرنے والے گروہوں اور بستیوں کی ہلاکت کا بیان کرتے ہوئے فرمایا
فَكَأَيِّنْ مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَشِيدٍ
تو کتنی ہی بستیاں جو ظالم تھیں ، انہیں ہم نے ہلاک کیا تو وہ اپنے چھتوں پر ڈہی پڑی ہیں اور چُھٹے کنویں اور بلند محل۔
(سورۃ الحج آیت 45)
پھر فرمایا
وَكَأَيِّنْ مِنْ قَرْيَةٍ أَمْلَيْتُ لَهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ أَخَذْتُهَا وَإِلَيَّ الْمَصِيرُ
اور کتنی ہی بستیاں جو ظالم تھیں ، میں نے انہیں ڈھیل دی پھر میں نے انہیں پکڑ لیا اور میری ہی جانب لوٹنا ہے۔
(سورۃ الحج آیت48)
ظالم کو ڈھیل تو مل سکتی ہے لیکن ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا کہ ظالم تباہی اور بربادی سے بچ جائے۔
ظالم کا انجام
اللہ سبحانہ وتعالی نے فرمایا
وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ
اور ہرگز اللہ کو اس سے غافل نہ سمجھ جو ظالم کرتے ہیں۔
فرمایا
إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ مُهْطِعِينَ مُقْنِعِي رُءُوسِهِمْ لَا يَرْتَدُّ إِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ وَأَفْئِدَتُهُمْ هَوَاءٌ
انہیں صرف اس دن کے لیے مہلت دے رہا ہے جس میں آنکھیں کھلی کی کھلی ہوں گی۔ اپنے سروں کو اٹھائے بھاگتے ہوں گے ، ان کی جانب ان کی نگاہ نہ پلٹے گی ، اور ان کے دل خالی ہوں گے۔
( سورہِ ابراہیم آیت 42 ، 43)
مطلب یہ ہے کہ ظالم ظلم کر کے یہ نہ سمجھیں کہ اللہ سبحانہ وتعالی کی پکڑ سے بچ گئے ہیں۔ یا معاذ اللہ ان کے ظلم کی اللہ کو خبر نہ ہوئی۔ نہیں نہیں۔ ظالم کو ڈھیل دی جا رہی ہے اور جب پکڑا جائے گا تو پھر اسے بچانے والا کوئی نہ ہو گا۔
اللہ سبحانہ وتعالی نے فرمایا
وَلَوْ تَرَى إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ
اور اگر آپ دیکھتے: جب ظالم موت کی سختیوں میں ہوں اور فرشتے اپنے ہاتھوں کو پھیلائے ہوں : نکالو اپنی جانوں کو۔ آج تمہیں ذلت والے عذاب کا بدلہ دیا جائے گا ۔
(سورۃ الانعام آیت 93)
ظالم بے یار ومددگار
فرمایا
وَالظَّالِمُونَ مَا لَهُمْ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ
اور ظالموں کا نہ کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار۔
(سورۃ الشوری آیت 8)
آج ظالموں کو طاقت کا نشہ ہے۔ طاقت کے نشے میں کمزوروں پر ظلم ڈھانا فخر محسوس کیا جاتا ہے لیکن خالقِ کائنات نے فرمایا
وَالظَّالِمُونَ مَا لَهُمْ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ
یعنی جب بارگاہِ الہی میں ظالموں کی پیشی ہو گی تو ان ظالموں کا نہ کوئی دوست ہو گا اور نہ کوئی مدد گار۔
اور فرمایا
وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ
اور عنقریب جان لیں گے وہ جنہوں نے ظلم کیا کس کروٹ وہ پلٹتے ہیں۔
(سورہِ شعراء آیت227 )
مسلمان کا قتل
ظلم کوئی سا بھی ہو ، ظالم کا مقدر تباہی اور بربادی ہے۔ اللہ اور اس کے رسول کی ناراضی کے ساتھ آخرت کی ہلاکت ظالم کا مقدر ہے۔ لیکن اگر ظلم کسی مسلمان کے قتل تک پہنچ جائے تو پھر معاملے کے سنگینی مزید بڑھ جاتی ہے۔ کسی مسلمان کا جان بوجھ کر قتل کتنا بھیانک جرم اور کتنا بد ترین ظلم ہے ، اس کو قرآن ہی کی زبان میں سننے کی کوشش کیجیے۔
اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمانِ گرامی ہے
وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا
اور جو کوئی کسی ایماندار کو جان بوجھ کر مار ڈالے تو اس کا بدلہ جہنم ہے اس میں ہمیشہ رہتے ہوئے اور اس پہ اللہ غضب ناک ہے اور اس پہ لعنت کی اور اس کے لیے بڑا عذاب تیار کیا۔
(سورۃ النساء آیت 93)
سامعینِ کرام
مسلمان کا قتل کوئی معمولی بات نہیں بلکہ نہایت سنگین جرم ہے۔ قرآنِ مجید میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے، اس کے لیے سخت ترین سزائیں مقرر ہیں۔ اس کا بدلہ جہنم ہے، جہاں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوتا ہے، اس پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے، اور اللہ نے اس کے لیے بڑا دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ یہ وعید اس بات کی شدت کو ظاہر کرتی ہے کہ اسلام میں انسانی جان، خصوصاً ایک مسلمان کی جان، کتنی عظیم حرمت رکھتی ہے اور اس کا ناحق قتل کس قدر سنگین گناہ ہے۔
برادرانِ اسلام
طاقت ور اس دنیا میں ظلم کر سکتا ہے۔ کمزور کا گلا دبا سکتا ہے اور اسے صفحہِ ہستی سے متا بھی سکتا ہے۔ لیکن خالقِ کائنات نے اس کے لیے وہ در ناک عذاب تیار کر رکھا ہے جس کو برداشت کرنا کسی کے بس کی بات نہیں۔
حضرت عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ
جس شخص نے مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کیا تو اس کے سرے سے توبہ ہی نہیں ہے۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمانِ گرامی ہے کہ
قیامت کے روز مقتول قاتل کو ایک ہاتھ میں پکڑ کر دوسرے ہاتھ میں اپنا سر اٹھائے عرش کے پاس آ جائے گا۔ آ کر بارگاہِ الہی میں عرض گزار ہو گا
يَا رَبِّ، سَلْ عَبْدَكَ فِيمَ قَتَلَنِي؟
اے میرے پروردگار! اپنے بندے سے پوچھ ! اس نے مجھے کیوں قتل کیا؟
(مسند احمد 2142)
برادرانِ اسلام
اس وقت کون جواب دے گا اور کیا جواب دے گا؟
برائی کو روکیے
سامعینِ کرام
یہاں ہماری بھی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ اور وہ یہ کہ
ظالم کا ہاتھ روکنے کی کوشش کریں۔ کیونکہ جو لوگ ظالم کا ہاتھ پکڑنے کی طاقت ہونے کے باوجود اس کو ظلم سے نہ روکیں تو جیسے ظالم گرفتارِ عذاب ہوتا ہے ، یونہی خاموش تماشائی بننے والے بھی اس عذاب کا شکار ہوتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے
إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوُا الظَّالِمَ فَلَمْ يَأْخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ أَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللهُ بِعِقَابٍ
بے شک لوگ جب ظلم کرنے والے کو دیکھیں ، پھر اس کے ہاتھ نہ روکیں تو قریب ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالی ان سب پر عذاب لے آئے۔
(سنن ابي داود 4338 ، جامع ترمذی 2168 ،3057)
برادرانِ اسلام
ظالم کے ہاتھ پکڑنا ضروری ہیں۔ ظالم کو روکنا لازمی ہے۔ آج اگر ہم دوسرے پہ ظلم ہوتا دیکھ کر خاموش رہیں گے تو اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمانِ گرامی ہے
وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ
اور ان دنوں کو ہم لوگوں کے بیچ پھیرتے ہیں۔
(سورہ آلِ عمران آیت 140)
آج اگر ظالم کا چہرہ کسی ایک مظلوم کی جانب ہے اور ہم اس ظالم کو روکنے کی کوشش نہیں کرتے تو کل اس ظالم کا چہرہ ہماری جانب بھی ہو سکتا ہے۔ لہذا اخلاقی اور شرعی ذمہ داری ہے کہ ظالم کے ہاتھ پکڑے جائیں۔ اور اگر ظالم کے ہاتھ پکڑنے کی طاقت نہ ہو تو زبانی طور پرا س کو ضرور برا کہا جائے۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمانِ گرامی ہے
مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ
تم میں سے جو شخص کسی برائی کو دیکھے تو اسے چاہیے کہ اسے اپنے ہاتھ سے روکے۔ اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے۔ اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو اپنے دل سے۔ اور یہ کمزور تر ایمان ہے۔
(صحیح مسلم49 )
سامعینِ کرام
اگر ہاتھ سے برائی روکنے کی طاقت ہے تو ہاتھ سے روکنا ہی واجب ہے۔ اگر ظلم کو ہاتھ سے روکنے کی طاقت نہ ہو تو اب زبان سے روکنا ضروری ہے۔ جو شخص ظلم کے خلاف آواز بلند کر سکتا ہو اور پھر بھی وہ خاموش رہے تو یقینا وہ بھی مجرم ہے۔ اور جو شخص زبان سے بھی نہ بول سکتا ہو تو یہ شخص ایمان کے سب سے کمزور درجے پر ہے۔ لیکن ایمان کا کمزور درجہ بھی اسی وقت تک ہے جب تک وہ برائی کو کم از کم دل سے برا جانتا ہے۔ اگر برائی کو دل میں بھی برائی نہیں سمجھتا تو پھر اس میں اور برائی کے مرتکب میں کو خاص فرق باقی نہیں رہ جاتا۔
برے حکمرانوں کی علامت
برادرانِ اسلام
حکومتیں اچھی بھی ہوتی ہیں اور بری بھی ہوتی ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
وَشِرَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُبْغِضُونَهُمْ وَيُبْغِضُونَكُمْ، وَتَلْعَنُونَهُمْ وَيَلْعَنُونَكُمْ
تمہارے حکمرانوں میں سے بدترین وہ ہیں ، جن کو تم برا جانتے ہو اور وہ تمہیں برا جانتے ہیں۔ تم ان پہ لعنت کرتے ہو اور وہ تم پہ لعنت کرتے ہیں۔
(صحيح مسلم1855 )
سامعینِ کرام
جن حکمرانوں پہ رعایا لعنت کرے ، وہ بد ترین حکمران ہیں۔
اور یہ بات طے شدہ ہے کہ
کفر کی حکومت چل سکتی ہے لیکن ظلم کی حکومت نہیں چل سکتی۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمانِ گرامی ہے
الظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ظلم قیامت کے دن کی تاریکیوں (کا سبب) ہے۔
(صحيح البخاري 2447 ، صحیح مسلم 2579)
مالک کریم وطنِ عزیز کی حفاظت فرمائے۔ شر پسند عناصر کو نیست ونابود فرمائے۔ وطنِ عزیز کو ہر قسم کی اندرونی اور بیرونی سازشوں سے محفوظ فرمائے۔
آمین
بحرمۃ النبی الامین وآلہ الطاہرین
وصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم
اسلام معمولی سطح کی زیادتی اور ظلم کی بھی ممانعت کرتا ہے لیکن اس کے باوجود ایک معاشرے میں رہتے ہوئے دانستہ و غیر دانستہ طور بعض اوقات ایک دوسرے پر زیادتی کا ارتکاب ہوجانا بعید از قیاس نہیں ہے۔ بشری تقاضے کے تحت ایک دوسرے کی حق تلفی یا دوسرے پر زیادتی ہوسکتی ہے، ایسی صورت میں انتقام کی روش کو اپنانے سے معاشرہ انارکی کی طرف راغب ہوجاتا ہے اور معاشرت تباہ ہوجاتی ہے۔ یاد رہے کہ اسلام اپنے ماننے والوں کو قصاص کی بھی اجازت دیتا ہے جو عین عدل کے قرآنی تقاضوں کے مطابق ہے لیکن خاص بات یہ ہے کہ ساتھ ساتھ عفو و درگزر اور معافی کی ترغیب بھی دیتا ہے۔
خالق کائنات نے ارشاد فرمایا
یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰی ط اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْاُنْثٰی بِالْاُنْثٰی ط فَمَنْ عُفِیَ لَهٗ مِنْ اَخِیْهِ شَیْئٌ فَاتِّبَاعٌم بِالْمَعْرُوْفِ وَاَدَآءٌ اِلَیْهِ بِاِحْسَانٍ ط ذٰلِکَ تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَرَحْمَةٌ ط فَمَنِ اعْتَدٰی بَعْدَ ذٰلِکَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ.
اے ایمان والو! تم پر ان کے خون کا بدلہ (قصاص) فرض کیا گیا ہے جو ناحق قتل کیے جائیں، آزاد کے بدلے آزاد اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت، پھر اگر اس کو (یعنی قاتل کو) اس کے بھائی (یعنی مقتول کے وارث) کی طرف سے کچھ (یعنی قصاص) معاف کر دیا جائے تو چاہیے کہ بھلے دستور کے موافق پیروی کی جائے اور (خون بہا کو) اچھے طریقے سے اس (مقتول کے وارث) تک پہنچا دیا جائے، یہ تمہارے رب کی طرف سے رعایت اور مہربانی ہے، پس جو کوئی اس کے بعد زیادتی کرے تو اس کے لیے دردناک عذاب ہے۔
(البقرة، 2: 178)
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا
فَمَنْ عَفَا وَاَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَی اللهِ
پھر جِس نے معاف کر دیا اور (معافی کے ذریعہ) اصلاح کی تو اُس کا اجر اللہ کے ذمّہ ہے۔
(الشوریٰ، 42: 40 )
عفو و درگزر کا یہ جذبہ جب تک معاشرے کے ہر فرد اور ہر طبقہ میں رچ بس نہ جائے اُس وقت تک کوئی بھی معاشرہ مہذب معاشرہ نہیں کہلاسکتا۔
اسلام میں رواداری کا تصور
عفو و درگزر کے ساتھ ساتھ ایک اور خوبی جو معاشرے کو مہذب بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے وہ ’’رواداری‘‘ ہے۔ رواداری کا اصطلاحی مفہوم یہ ہے کہ کسی تعصب اور بغض کے بغیر تحمل اور صبر سے کسی دوسرے کی بات کو ٹھنڈے دل سے برداشت اور تسلیم کرنا۔
اسلام میں رواداری کا تصور یہ ہے کہ متضاد خیالات کے حامل لوگوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں۔ اس رواداری کا تقاضا یہ ہے کہ ان کے جذبات کا لحاظ کرتے ہوئے ان پر کسی قسم کی ایسی نکتہ چینی نہ کریں جو مدمقابل کو رنج پہنچائے۔ اسی طرح انھیں ان کے مذہبی عقائد و اعتقاد سے پھیرنے یا مذہبی عمل سے روکنے کے لیے جبر کا طریقہ کبھی اختیار نہ کریں۔
صبرو تحمل اور معاشرتی رواداری نہ صرف قومی ضرورت ہے بلکہ اس سے عالمگیر تعلقات کی بحالی میں مدد ملتی ہے اور بین المذاہب رواداری کو فروغ ملتا ہے۔ اس جذبہ سے معاشرتی رہن سہن خواہ وہ قومی و علاقائی سطح کا ہو یا بین الاقوامی نوعیت کا ہو، اس میں باہمی اختلافات اور رنجیدگی پیدا نہیں ہوتی بلکہ معاشرہ میں خوشحالی کی نئی نئی راہیں کھلتی ہیں اور ریاستی نظم ونسق بطریق احسن چلتا رہتا ہے۔ یوں تو رواداری اسلامی لحاظ سے معاشرے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے تاہم اس کا عالمگیر پرچار باہمی محبت اور مودت کا ماحول مہیا کرتا ہے اور یہ وقت کا اہم ترین تقاضا اور ضرورت ہے۔
اسلام کلیتاً تحمل و برداشت اور رواداری کا دین ہے، اس میں کسی قسم کا جبرو زبردستی نہ ہے اور نہ ہی پوری دنیا میں اسلام تلوار اور جبرو ظلم کے ساتھ پھیلا ہے۔ ارشاد فرمایا
لَآ اِکْرَاهَ فِی الدِّیْنِ
(البقرة، 2: 256 )
دین میں کوئی زبردستی نہیں۔
اس آیت مبارکہ پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید ہمیں عالمگیر کامیابی و کامرانی اور وقار و تشخص قائم رکھنے کے لیے اعتدال و توازن کا درس دے رہا ہے۔
اعتدال و توازن اور رواداری اسلام کی اساس ہیں
اسلام اعتدال و توازن کا دین ہے، اس میں افراط و تفریط کی قطعی گنجائش نہیں۔ حقیقی اسلامی تہذیب بے شک آقائے دو جہاں نبی اکرم ﷺ کے اسوہ حسنہ کی امین ہے۔ قرآن عظیم نے امت مسلمہ کے لیے ارشاد فرمایا
وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰـکُمْ اُمَّةً وَّسَطًا
اور (اے مسلمانو!) اسی طرح ہم نے تمہیں (اعتدال والی) بہتر امت بنایا ۔
قرآن مجید میں متعدد مقامات پر رواداری اور اعتدال و توازن کو مختلف پیرائے میں بیان کیا گیا ہے۔ ذیل میں چند ایک مقامات ملاحظہ ہوں
صلح و آشتی
قرآن مجید ہمیشہ امن، صلح و آشتی، رواداری، باہمی محبت، درگزر، برداشت اور معافی کی تلقین کرتا ہے۔ ارشاد فرمایا
وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ
اور (جو لوگ) غصہ ضبط کرنے والے ہیں اور لوگوں سے (ان کی غلطیوں پر) درگزر کرنے والے ہیں۔
(آل عمران، 3: 134)
ظلم و زیادتی کے بدلے میں اعتدال اور رواداری
اسلام میں اگرچہ دشمن کے ظلم اور زیادتی کا بدلہ لینے کی اجازت ہے تاہم یہ بھی تاکید ہے کہ کی گئی زیادتی کے مطابق بدلہ ہونا چاہیے، حد سے تجاوز کی اجازت ہرگز نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے معافی، صلح اور درگزر کی تلقین و ترغیب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا
وَجَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَا ج فَمَنْ عَفَا وَاَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَی اللهِ ط اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ
اور برائی کا بدلہ اسی برائی کی مِثل ہوتا ہے، پھر جِس نے معاف کر دیا اور (معافی کے ذریعہ) اصلاح کی تو اُسکا اجر اللہ کے ذمّہ ہے۔ بے شک وہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا۔
کسی کے ناروا سلوک اور رویہ پر اچھا رویہ اختیار کرنا
(الشوریٰ، 42: 40)
دینِ اسلام اور تعلیماتِ نبوی ﷺ ہمیں کسی کے ناروا رویہ اور سلوک پر برا سلوک کرنے کی قطعی اجازت نہیں دیتیں بلکہ ہر موقع پر رواداری اور برداشت کا درس دیا گیا ہے۔ اس حکمت عملی سے دشمن بھی دوست بن جاتا ہے۔ ارشاد فرمایا
وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَاالسَّیِّئَةُ ط اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ کَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ
اور نیکی اور بدی برابر نہیں ہو سکتی، اور برائی کو بہتر (طریقے) سے دور کیا کرو سو نتیجتاً وہ شخص کہ تمہارے اور جس کے درمیان دشمنی تھی گویا وہ گرم جوش دوست ہو جائے گا۔
(حم السجده، 41: 34)
ایک اور مقام پر حضور ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا
خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ
آپ درگزر فرمانا اختیار کریں، اور بھلائی کا حکم دیتے رہیں اور جاہلوں سے کنارہ کشی اختیار کرلیں۔
(الاعراف، 7: 199)
حضور اقدس ﷺ کی نرم طبعی پر نزولِ رحمت
رسول اللہ محبوب خدا ﷺ کی نرم طبعی پر رب کی رحمت جوش میں آگئی۔ فرمان خداوندی ہوا
فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللهِ لِنْتَ لَهُمْ ج وَلَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ
(اے حبیبِ والا صفات!) پس اللہ کی کیسی رحمت ہے کہ آپ ان کے لیے نرم طبع ہیں اور اگر آپ تُندخُو (اور) سخت دل ہوتے تو لوگ آپ کے گرد سے چھٹ کر بھاگ جاتے، سو آپ ان سے درگزر فرمایا کریں ۔
(آل عمران، 3: 159)
ان قرآنی احکامات سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں زندگی کے ہر قدم پر عفو و درگزر اور رواداری کا حکم دیا ہے اور ہمیشہ راہِ اعتدال پر چلنے کی تلقین کی ہے۔
نبی اکرم ﷺ کی عملی رواداری اور عفو و درگزر کی امثال
حضور نبی اکرم ﷺ کی پوری زندگی جہاں قیامت تک ہمارے لیے مشعلِ راہ اور کامل نمونۂ حیات ہے وہاں آپ ﷺ کی پوری زیست مقدس عفو و درگزر اور رواداری سے عبارت ہے اور اسوہ حسنہ کا جزو لاینفک بھی ہے۔
ذیل میں رسول اللہ ﷺ کے فرامین اور رواداری کے عملی نمونے اختصار کے ساتھ آپ کی بصارتوں کی نذر کررہا ہوں، اس سے یقینا حضور نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ نبوی کا خاکہ سمجھنے میں مدد ملے گی، آپ ﷺ کی شانِ اقدس اور مقام کا فہم میسر آئے گا اور ادب و توقیر مصطفی ﷺ کو صحیح معنوں میں بجا لائیں گے۔ عفو و درگزر اور رواداری کے اوصاف جو حضور اکرم ﷺ کی طبیعت و فطرت پاک اور تعلیمات سے متصل اور متصف ہیں، ملاحظہ ہوں
جنگی اصول و ضوابط میں رواداری کی تعلیمات
یہ حضور اکرم ﷺ کی تعلیمات اور اسوۂ حسنہ کا کمال عملی نمونہ ہے کہ میدان جنگ جیسی جگہ پر بھی رواداری، وضع داری اور عفو و درگزر کو ملحوظ رکھا گیاہے۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جنگ اور جہاد میں قواعد و ضوابط مقرر ہیں۔ جس کے تحت آقائے دو جہاں محمد رسول اللہ ﷺ نے عورتوں، بوڑھوں، بچوں اور معذوروں کو قتل کرنے کی ممانعت فرمائی ہے۔ اسی طرح درخت کاٹنے اور دشمن کی املاک جلانے اور تباہ کرنے سے روکا گیا ہے بلکہ کمال پہلو یہ ہے کہ اسلام میں خاص ہدایت ہے کہ دوران جنگ اگر دشمن صلح چاہے تو صلح کی طرف راغب ہوا کرو اور اگر دشمن پناہ چاہے تو اسے ہر صورت پناہ مہیا کرو۔ اسی طرح کے بہت سے اسلامی اصول و قواعدِ جنگ رواداری کے ضمن میں امتیازی حیثیت کے حامل ہیں۔
مفتوحہ اقوام اور ذمیوں سے رواداری کا عملی مظاہرہ
تاریخِ عالم گواہ ہے کہ پچھلے جتنے بھی فاتحینِ عالم گزرے ہیں ان کی افواج نے مفتوحہ اقوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے۔ خواتین، بوڑھوں اور بچوں کو کھلے عام قتل کیا گیا، یہاں تک کہ سرِ عام عورتوںکی تذلیل اور بے توقیری کی گئی۔ جبکہ دوسری طرف اسلامی تعلیمات اور عفو و درگزر اور نبوی فطرت کے مظاہر نبوت ہیں کہ مسلم افواج نے مفتوحہ عوام کے ساتھ نہایت بہترین سلوک روا رکھا اور اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہریوں کے مساوی حقوق مقرر کیے ہیں۔ ان میں مذہبی حقوق، معاشرتی حقوق، سیاسی حقوق، قانونی حقوق، معاشی حقوق، تہذیبی و ثقافتی حقوق وغیرہ سب شامل ہیں۔ اسلام میں رواداری کی حیران کُن مثال یہ ہے کہ اسلام میں شراب نوشی اور خنزیرکی شدید حرمت کے باوجود غیر مسلم شہریوں کو شراب اور خنزیر اپنی ملکیت میں رکھنے، نوش و تناول کرنے اور آپس میں ان کی خریدوفروخت کرنے کی اجازت اور آزادی ہے۔
اہلیانِ طائف کے لیے عفو و درگزر کا مظاہرہ
اہلیانِ مکہ کی طرف سے مسلسل مظالم اور ایذا رسانیاں جاری رہنے پر سن دس نبوی میں حضور نبی اکرم ﷺ نے حضرت زید بن حارث رضی اللہ عنہ کے ہمراہ طائف جانے کا فیصلہ کیا تاکہ وہاں کے لوگوں کو باقاعدہ دینِ اسلام کی دعوت دی جائے۔ اہلیانِ طائف نے آپ ﷺ کے ساتھ نہایت ناروا اور ناگفتہ بہ سلوک کیا، یہاں تک کہ طائف کے سرداروں نے چند اوباش نوجوانوں کو حضور ﷺ کے تعاقب میں لگادیا جنہوں نے آقائے دو جہاں محمد رسول اللہ ﷺ کو پتھر مارے۔ واپسی پر نبی مکرم ﷺ نے عقبہ بن ربیعہ اور شیبہ بن ربیعہ کے باغ میں پناہ لی اور پیدل چل کر قرن منازل (قرن الثعالب) پہنچے۔ اس موقع پر جبرائیل امینe پہاڑوںکے فرشتے کے ہمراہ حاضر ہوئے اور رسول اللہ ﷺ سے اجازت چاہی کہ آقا ﷺ اگر آپ فرمائیں تو ہم اہلِ طائف کو دو پہاڑوں کے درمیان پیس کر نشانِ عبرت بنادیں۔ محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جبرائیلؑ مجھے نظر آرہا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسل میں سے ایسے لوگ پیدا فرمانے والا ہے جو فقط ایک اللہ کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ آپ ﷺ کا یہ فرمان نہ صرف آپ ﷺ کے عفو و درگزر کا بیان ہے بلکہ آپ کو لہولہان کرنے اور پتھروں سے زدو کوب کرنے والوں کے ساتھ کمال عفو و درگزر اور رواداری کا یہ عمل آپ ﷺ کے رحمۃ للعالمین ہونے کی قوی دلیل بھی ہے۔
میثاقِ مدینہ: مذہبی آزادی اور رواداری کا امین
حضور نبی اکرم ﷺ نے ہجرتِ مدینہ کے فوری بعد پہلے سال ہی میثاقِ مدینہ کے نام سے ایک معاہدہ فرمایا جو تقریباً 63 دفعات پر محیط 750 الفاظ پر مشتمل تھا۔ معاہدہ دو حصوں پر مشتمل تھا: ایک حصہ ان دفعات پر مشتمل ہے جن کا تعلق مہاجرین اور انصار کے باہمی تعلقات یعنی کہ اہلِ اسلام کے باہمی تعلقات کے متعلق ہے۔ دوسرا حصہ ان دفعات پر مشتمل ہے جن کا تعلق اہلِ اسلام اور یہود کے باہمی تعلقات سے ہے۔ اس معاہدے میں یہود کی مذہبی آزادی اور ان کے دیگر حقوق کا جس انداز سے ذکر ہے، یہ رواداری کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ یہ معاہدہ دنیا کا پہلا باقاعدہ تحریری دستور ہے۔ اس معاہدہ میں محمد رسول اللہ ﷺ نے اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ سب سے پہلے بیان فرمایا ہے اور مابعد مسلمانوں کے باہمی معاملات تحریر کیے ہیں۔
رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی سے عفو و درگزر کا اظہار
رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کی منافقت کی شدت یہ تھی کہ وہ نبی اکرم ﷺ اور اسلام کے لیے شدید بغض رکھتا تھا اور اس کی طرف سے بغض و منافقت کا مظاہرہ بارہا دیکھنے میں آیا۔ غزوۂ اُحد میں تین سو منافقین کی سرپرستی کرتے ہوئے راستے سے ہی واپس لوٹ گیا جبکہ اس وقت اہلِ اسلام کو زیادہ افرادی قوت درکار تھی۔ علاوہ ازیں رئیس المنافقین نے صدیقہ کائنات اماں عائشہ صدیقہj پر تہمت لگائی۔ غزوہ مصطلق کے موقع پر نبی اکرم ﷺ اور مہاجر صحابہ کرامؓ کے متعلق اس قدر شدید گستاخانہ جملے استعمال کیے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تلواریں میان سے باہر آگئیں لیکن محمد رسول اللہ ﷺ کی کمال شفقت کہ آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اسے قتل کرنے سے روک دیا۔ دوسری طرف محمد رسول اللہ ﷺ کی رواداری کی معراج دیکھئے کہ اس کے مرنے پر آقائے دو جہاں رحمۃ للعالمین ﷺ نے اس کے کفن کے طور پر اپنا قمیص مبارک بھیجا اور کمال حسن سلوک اور رواداری کی معراج کہ جنازہ بھی پڑھایا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین حضور ﷺ کی اس درجہ عفو و درگزر، تحمل و برداشت اور رحمت دیکھ کر حیران رہ گئے۔
یہودی عالم زید بن سنعہؓ سے حلم و بردباری
قبولِ اسلام سے قبل حضرت زید بن سنعہؓ جو کہ یہودی عالم تھے، انھوں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ کھجوروں کا ایک معاملہ کیا اور معاہدہ کی مدت ختم ہونے سے دو روز پہلے ہی ادائیگی کا مطالبہ کیا جو اصولی اور اخلاقی لحاظ سے درست نہ تھا۔ اس نے آقائے دو جہاں ﷺ سے تلخ لہجے میں گفتگو شروع کردی۔ حضرت عمر فاروق نے جب یہ لہجہ اور بدکلامی سماعت کی تو برداشت نہ کرسکے اور میان سے تلوار نکال کر اس کی گردن قطع کرنا چاہی۔ آقائے کریم ﷺ نے حضرت عمر کو منع کر دیا اور فرمایا: عمر تمہیں یہ چاہیے تھا کہ مجھے بھی کچھ تلقین کرتے اور اسے بھی حسنِ طلب کی تعلیم دیتے۔ فوری اس یہودی کو غلطی کے باوجود اس کا مطلوبہ حق تول کر اس کے حوالے کرو اور کچھ کھجوریں زائد از حساب بھی دے دو۔ حضرت عمر نے حضور ﷺ کے حکم پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کے حق سے زائد کھجوریں دیں۔ یہودی عالم کمال رواداری اور حسنِ سلوک پر فوری مسلمان ہوگیا اور قدموں میں گر گیا اور مخاطب ہوا: اے محمد رسول اللہ! آپ کی کمال رواداری اور عفو و درگزر اور حضرت عمر فاروق کو میری گردن زدنی کرنے سے روکنے نے مجھے بے دام خرید لیا ہے۔
بددعاؤں کے بدلے میں نرم روی اختیار کرنا
ایک دفعہ یہود کے ایک گروہ نے نبی اکرم ﷺ کو السلام علیکم (تم پر سلامتی ہو) کی بجائے دانستہ لفظ بگاڑ کہا السام علیکم کہا۔ جس کا مفہوم ہے کہ تم پر ہلاکت آئے (معاذاللہ)۔
حضور اکرم ﷺ نے فقط وعلیکم فرمادیا جبکہ حضرت عائشہ صدیقہؓ جو قریب موجود تھیں، وہ یہود کی خیانت جانچ چکی تھیں، انہوں نے غصہ کے عالم میں کہا: بل علیکم السام واللعنۃ بلکہ تم پر ہلاکت اور لعنت آئے۔ معاملہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ گستاخی اور بے ادبی کا تھا اور حضرت عائشہ صدیقہؓ کے ایمان کا تقاضا یہی تھا۔ تاہم رحمۃ اللعالمین نبی ﷺ نے سیدہ عائشہؓ سے فرمایا: اے عائشہ! بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر معاملہ میں نرمی اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ تجھے درگزرکرنا ہوگا۔
بنو ثقیف کے لیے بھی دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا
غزوہ حنین بنو ہوازن اور بنو ثقیف کے ساتھ پیش آنے والا معرکہ ہے۔ دورانِ غزوہ بنو ثقیف کے تیر اندازوں نے مسلمانوں پر تیروں کی شدید بوچھاڑ کردی جس سے صحابہ کرامؓ کے قدم اکھڑ گئے، حضرت جابرؓ فرماتے ہیںکہ صحابہ کرامؓ نے رسول پاک ﷺ کو عرض کیا کہ دشمن نے اچانک ہمیں تیروں سے چھلنی کردیا ہے، ان کے لیے بدعا کیجئے۔ تاریخ شاہد ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دعاکے لیے ہاتھ اٹھائے اور لفظ تھے: اے رب! بنو ثقیف کو ہدایت دے۔
اہلیانِ مکہ کے مظالم کے باوجود حضور ﷺ کی دعا
بعثتِ نبوی ﷺ کے بعد اہلیانِ مکہ کی چیرہ دستیاں اور ریشہ دوانیاں حد سے بڑھ گئیں اور انھوں نے آقائے دو جہاں ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر مظالم کے پہاڑ توڑ دیئے۔ آقائے کریم ﷺ نے ان کے لیے ہمیشہ ہدایت کی دعا مانگی اور صبر و برداشت کا دامن کبھی نہ چھوڑا۔
حضور نبی اکرم ﷺ کے مدینہ ہجرت کر جانے کے بعد ایک دفعہ مکہ مکرمہ میں شدید قحط سالی ہوئی اور اہلیانِ مکہ تڑپ اٹھے۔ ابو سفیان نے ابھی اسلام قبول نہ کیا تھا، حضور اکرم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور قحط کے خاتمے اور خوشحالی کی دعا کے لیے عرض کیا: رسول اللہ ﷺ نے نہ صرف دعا فرمائی بلکہ مکہ والوں کے لیے غلہ بھی بھجوایا اور اردگرد کے قبائل کو بھی مکہ والوں کو غلہ دینے کی ہدایات فرمائیں۔
رحمۃ للعالمین ﷺ کا یہودی کے جنازے کے لیے قیام
ایک دفعہ نبی اکرم ﷺ تشریف فرما تھے کہ ایک جنازہ گزرا، رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوگئے۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: حضور ﷺ یہ تو یہودی ہے اور آپ کھڑے ہوگئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا یہ انسان نہیں؟ قربان جائیں! آپ ﷺ کی رحمۃ للعالمینی پر کہ رواداری کا اس قدر مظاہرہ فرمایا۔
عیسائیوں کے نجرانی وفد کا مسجد نبوی میں قیام
نجرانیوں کا ایک وفد 9 ہجری میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ملاقات اور مذاکرات کے لیے مدینہ منورہ آیا۔ آقائے دو جہاںمحمد رسول اللہ ﷺ نے انھیں مسجد نبوی کے اندر ٹھہرایا اور انہیں اپنے طریق پر عبادت کرنے کی اجازت فرمائی۔ یہ رواداری کی حد درجہ عظیم ترین مثال ہے اور یہی حقیقی تصورِ اسلام ہے۔
فتح مکہ کے وقت عفو و درگزر کی عظیم مثال
فتح مکہ کے موقع پر جب مسلمان حضور ﷺ کی قیادت میں مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آقا دو جہاں ﷺ کی طبیعت اور چہرہ پر عجز و انکساری کے باعث تمکنت اور وقار نمایاں تھا۔ تاہم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے جذبات دیدنی تھے۔ کتنی قربانیوں کے بعد یہ وقت آیا تھا، ان کے سامنے اہلیانِ مکہ کے مظالم تھے۔ اس موقع پر حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: الیوم یوم الملحمۃ آج کا دن خون ریزی کا دن ہے۔ یہ آواز سن کر آقا کریم ﷺ نے کھلے عام فرمادیا کہ الیوم یوم المرحمۃ آج رحم دلی کا دن ہے۔
لا تثریب علیکم الیوم اذهبوا فانتم الطلقاء
آج اہلیان مکہ تم پر کوئی ملامت نہیں ہے، جاؤ آج تم سب آزاد ہو۔
رسول اللہ ﷺ کا یہ عمل عالمگیر پیغام امن تھا، صلح و آشتی کی دعوتِ عام تھی اور رواداری کی عظیم مثال تھی۔
حضرت وحشیؓ کو معاف کرنا
ہندہ نے قبول سلام سے قبل حضرت وحشیؓ کے ذریعے سپہ سالار اسلام حضور ﷺ کے چہیتے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو بے دردی سے نہ صرف قتل کروایا بلکہ آپؓ کا کلیجہ چبایا، جو ایک نہایت ظالمانہ اور وحشیانہ قدم اور ناقابلِ معافی عمل تھا۔ رسول اللہ ﷺ کے لیے اسے انسانی حیثیت سے معاف کرنا بہت مشکل تھا۔ تاہم رسول اللہ رحمتِ دو عالم ﷺ نے فتح مکہ کے عالمی دن پر اس حبشی غلام کو بھی معاف کردیا جس نے ھندہ کی ایماء پر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا اور ہندہ کو بھی معاف کردیا۔ یہ شدتِ غم کے باوجود رواداری اور عفو و درگزر کی عظیم مثال ہے۔
آپ ﷺ کا اپنے اوپر مظالم اور زیادتی کا بدلہ نہ لینا
تاریخ شاہد ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پوری زندگی اپنے بدترین ذاتی دشمن اور زیادتی و مظالم کرنے والے دشمن سے کبھی بدلہ نہیں لیا۔ خیبر کی ایک یہودیہ عورت زینب بنت حارث نے رسول اللہ ﷺ کو کھانے میں زہر ملاکر دیا، آپ ﷺ کو معلوم ہوگیا کہ یہ زہر کس نے دیا ہے۔ آپ ﷺ نے اسے معاف فرمادیا اور رواداری کی انوکھی مثال قائم فرمائی۔
البتہ کسی نے اگر ریاست کو نقصان پہنچایا یا معاہدہ شکنی کی یا شہریوں کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا تو آپ ﷺ نے قطعی معاف نہیں فرمایا بلکہ مؤثر کارروائی فرمائی۔