ایمان امن سے بنا ہے جس کے لغوی معنی امنِ دینا ہے۔
اصطلاح شریعت میں ایمان عقائد کا نام ہے جن کے اختیار کرنے سے انسان دائمی عذاب سے بچ جاوے جیسے تو حید، رسالت ، حشر و نشر ، فرشتے ، جنت ، دو زخ اور تقدیر کو ماننا وغیرہ وغیرہ جس کا کچھ ذکر اس آیت میں ہے ۔
كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓىٕكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ۫-لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ
سب مومن اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور وہ کہتے ہیں کہ ہم خدا کے رسولوں میں فرق نہیں کرتے
(البقرۃ 285)
ایک اور مقام پر اللہ کریم فرماتا ہے:
مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ مَا هُمْ بِمُؤْمِنِیْنَۘ
لوگوں میں بعض وہ(منافق )بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور قیامت پر ایمان لائے مگر وہ مومن نہیں ۔
(البقرۃ 8)
ایمان اسے کہتے ہیں کہ سچے دل سے اُن سب باتوں کی تصدیق کرے جو ضروریاتِ دین ہیں اور کسی ایک ضرورتِ دینی کے انکار کو کفر کہتے ہیں ، اگرچہ باقی تمام ضروریات کی تصدیق کرتا ہو۔ ضروریاتِ دین وہ مسائلِ دین ہیں جن کو ہر خاص و عام جانتے ہوں ، جیسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی وحدانیت، انبیا کی نبوت، جنت و نار، حشر و نشر وغیرہا۔
’’شرح العقائد النسفیۃ‘‘، مبحث الإیمان، ص120۔
’’المسامرۃ‘‘ و’’المسایرۃ‘‘، الکلام فيمتعلق الإیمان، ص330
’’الأشباہ والنظائر‘‘، الفن الثاني، کتاب السیر، ص159۔
’’البحر الرائق‘‘، کتاب السیر، باب أحکام المرتدین، 5/ 202
’’الدر المختار‘‘ کتاب الجھاد، باب المرتد، 6/ 342
مثلاً یہ اعتقاد کہ آپﷺ خاتم النبیین ہیں۔ آپﷺ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں ہوسکتا۔
الہندیۃ‘‘، کتاب السیر، الباب في أحکام المرتدین، 2/ 263
’’الأشباہ والنظائر‘‘، الفن الثاني، کتاب السیر، ص161
عوام سے مراد وہ مسلمان ہیں جو طبقۂ علما میں نہ شمار کیے جاتے ہوں، مگر علما کی صحبت سے شرفیاب ہوں اور مسائلِ علمیہ سے ذوق رکھتے ہوں۔ نہ وہ کہ کوردہ (یعنی کم آباد اور چھوٹا گاؤں ، جسے کوئی نہ جانتا ہواور نہ ہی وہاں تعلیم کا کوئی سلسلہ ہو۔) اور جنگل اور پہاڑوں کے رہنے والے ہوں جو کلمہ بھی صحیح نہیں پڑھ سکتے، کہ ایسے لوگوں کا ضروریاتِ دین سے ناواقف ہونا اُس ضروری کو غیر ضروری نہ کر دے گا، البتہ ان کے مسلمان ہونے کے لیے یہ بات ضروری ہے کہ ضروریاتِ دین کے منکر نہ ہوں اور یہ اعتقاد رکھتے ہوں کہ اسلام میں جو کچھ ہے حق ہے، ان سب پر اِجمالاً ایما ن لائے ہوں ۔
الفتاوی الضویۃ‘‘، کتاب الطھارۃ، باب الوضوء، 1/ 181
اسلام:
اسلام “سلم” سے بناجن کے معنی ہیں صلح، جنگ کامقابل۔
اللہ جل وعلا فرماتا ہے:
وَ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا
اگر وہ صلح کی طر ف مائل ہوں توتم بھی اس طر ف جھک جاؤ۔
( الانفال61)
لہٰذا اسلام کے معنی ہوئے صلح کرنا ۔ مگر عرف میں اسلام کے معنی اطاعت وفرمانبرداری ہے۔
قرآن میں یہ لفظ کبھی تو ایمان کے معنی میں آتا ہے او رکبھی اطاعت وفرمانبرداری کرنے کے لئے ، ان آیات میں اسلام بمعنی ایمان ہے ۔
اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ۫
پسندیدہ دین اللہ کے نزدیک اسلام ہے۔
(اٰل عمرٰن 19)
هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِیْنَ
اس رب نے تمہارا نام مسلم رکھا۔
(الحج 78)
مَا كَانَ اِبْرٰهِیْمُ یَهُوْدِیًّا وَّ لَا نَصْرَانِیًّا وَّ لٰكِنْ كَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا
ابراہیم علیہ السلام نہ یہودی تھے نہ عیسائی لیکن وہ حنیف ایمان والے تھے۔
( اٰل عمرٰن 67)
قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَیَّ اِسْلَامَكُمْۚ-بَلِ اللّٰهُ یَمُنُّ عَلَیْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ لِلْاِیْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ
فرمادو کہ تم مجھ پر اپنے اسلام کا احسان نہ جتا ؤ بلکہ اللہ تم پر احسان فرماتا ہے کہ تمہیں ایمان کی ہدایت دی اگر تم سچے ہو ۔
(الحجرات 17)
تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ
مجھے مومن اٹھا اور صالحوں سے ملا۔
(یوسف 101)
وَ اَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَ مِنَّا الْقٰسِطُوْنَؕ-فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰٓىٕكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا
اورہم میں سے کچھ مسلمان ہیں اور کچھ ظالم جو اسلام لائے انہوں نے بھلائی تلاش کرلی ۔
(الجن 14)
ان آیات اور ان جیسی دو سری آیات میں اسلام ایمان کے معنی میں ہے۔
دینِ اسلام میں عقیدۂ توحید پہلا اور بنیادی رکن ہے۔ اسلامی نظریۂ حیات اسی تصور کو انسان کے رگ و پے میں اتارنے اور اس کے قلب و باطن میں جاگزیں کرنے سے متحقق ہوتا ہے۔ تصورِ توحید کی اساس تمام معبودانِ باطلہ کی نفی اور ایک خدائے لم یزل کے اثبات پر ہے۔ عقیدۂ توحید پر ہی ملتِ اسلامیہ کے قیام، بقا اور ارتقاء کا انحصار ہے۔ یہی توحید امتِ مسلمہ کی قوت اور تمکنت کا سرچشمہ اور اسلامی معاشرے کی روح رواں ہے۔ یہ توحید ہی تھی جس نے ملتِ اسلامیہ کو ایک لڑی میں پرو کر ناقابلِ تسخیر قوت بنا دیا تھا۔ یہی توحید سلطان و میرکی قوت و شوکت اور مردِ فقیر کی ہیبت و سطوت تھی۔ اس دورِ زوال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ ملتِ اسلامیہ جو سوزِ دروں سے خالی ہو چکی ہے اس کے دل میں عقیدئہ توحید کا صحیح تصور قرآن و سنت کی روشنی میں ازسرِ نو اجاگر کیا جائے۔ تاکہ مردِ مومن پھر لَا اور اِلَّا کی تیغِ دو دم سے مسلح ہو کر ہر باطل استعماری قوت کا مقابلہ کر سکے۔ بقول اقبال رحمۃ اللہ علیہ :
تا دو تیغِ لا و الاّ داشتیم
ما سِوَ اللہ را نشان نگذاشتیم
’’نفی واثبات کی تلوار جب تک ہمارے ہاتھ میں تھی ہم نے ما سو اللہ یعنی اللہ کے سوا ہر غیر اور باطل کا نام و نشان تک مٹا دیا تھا۔‘‘
الغرض عقیدۂ توحید دینِ اسلام کی اساس اور بنیاد ہے، اِس کی صحت کے بغیر انسان اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سچی محبت اور شفاعت کا مستحق نہیں ہو سکتا۔ توحید تمام عقائد کی جڑ اور اصل الاصول ہے اور اعمالِ صالحہ دین کی فرع ہیں۔ درخت کی بقا فروع سے نہیں اصل سے ہوتی ہے۔ شاخوں اور پتوں سے درخت قائم نہیں رہتا۔ جس طرح دل و دماغ انسان کی اصل ہے اور آنکھ، ناک، کان، زبان، ہاتھ اور پاؤں فروع ہیں اِسی طرح دین اِسلام کی اصل عقائد ہیں اور اعمالِ صالحہ اس کی شاخیں ہیں۔ دین اِسلام کا پہلا اور بنیادی رکن توحید ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی تمام صفاتِ اُلوھیت اور کمالاتِ حقیقیہ سے متصف ہے اور اپنی اُن صفات و کمالات میں یکتا اور واحد و لاشریک ہے۔
توحید کا لغوی معنی
توحید ’وحدت‘ سے بنا ہے جس کا معنی ہے : ایک کو ماننا اور ایک سے زیادہ ماننے سے انکار کرنا۔ ائمہ لغت نے توحید کی تعریف اس طرح کی ہے :
التوحيد تفعيل من الوحدة، وهو جعل الشيء واحداً، والمقصود بتوحيد اللہ تعالي اعتقاد أنه تعالي واحد في ذاته وفي صفاته وفي أفعاله، فلا يشارکه فيها أحد ولا يشبهه فيها أحد.
’’توحید ’الوحدۃ‘ سے باب تفعیل کا مصدر ہے۔ اس سے مراد کسی چیز کو ایک قرار دینا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی توحید سے مراد ہے اس چیز کا اعتقاد رکھنا کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات، صفات اور افعال میں واحد و یکتا ہے ان میں اس کا کوئی شریک ہے نہ کوئی اس کا مشابہ۔‘‘
توحید کا شرعی و اصطلاحی مفہوم
شریعت کی اصطلاح میں یہ عقیدہ رکھنا توحید ہے کہ’’ اللہ تعالیٰ اپنی ذات، صفات اور جملہ اوصاف و کمالات میں یکتا و بے مثال ہے، اس کا کوئی ساجھی یا شریک نہیں، کوئی اس کا ہم پلہ یا ہم مرتبہ نہیں۔‘‘
1۔ امام ابو جعفر الطحاوی رحمۃ اللہ علیہ ( 321ھ) عقیدۂ توحید کی تشریح کرتے ہوئے اس کے شرعی و اصطلاحی مفہوم کو درج ذیل الفاظ میں بیان کرتے ہیں :
نقول في توحيد اللہ معتقدين بتوفيق اللہ : اِن اللہ وَاحِدٌ لا شريک له. ولا شيئ مثله ولا شيئ يعجزه، ولا الٰه غيره، قديم بلا اِبتداءٍ، دائم بلا انتهاءٍ. لا يفني ولا يبيد. ولا يکون إلا ما يريد. لا تبلغه الأوهام ولا تدرکه الأفهام. ولا يشبهه الأنام، حَيّ لا يموت، قيوم لا ينام. خالق بلا حاجة. رازق بلا مؤنة، مميت بلا مخافةٍ، باعث بلا مشقةٍ. مازال بصفاته قديمًا قبل خلقه لم يزدد بکونهم شيئًا لم يکن قبلهم من صفته. وکما کان بصفاته ازلياً کذالک لا يزال عليها أبديًا، ليس بعد خلقِِ الخلق استفادَ اِسم الخالق، ولا بأحداثه البرية استفاد اِسم البارئ. له معنٰي الربوبية ولا مربوب، و معني الخالق ولا مخلوق. وکما انه محي الموتٰي بعد ما احيا استحق هذا الإسم قبل احيائهم کذالک استحق اسم الخالق قبل انشائهم. ذالک بأنه علي کل شيئٍ قدير، وکل شيئٍ إليه فقيره، وکل أمر عَليه يسير لا يحتاج إلٰي شيئٍ، ليس کمثله شيئ وهو السميع البصير. خلق الخلق بعلمه وقدر لهم اقدارًا وضرب لهم اٰجالاً. ولم يخف عليه شيء قبل أن يخلقهم. وعلم ما هم عاملونَ قبل أن يخلقهم. وأمرهم بطاعته ونهاهم عن معصيته. وکل شيئٍ يجري بتقديره ومشيئته، و مشيئته تنفذ. لا مشيئة للعباد اِلاَّ مَا شاءَ لهم، فما شاء لهم کان وما لم يشأ لم يکن. يهدي من يشآءُ ويعصم ويعافي فضلًا، ويضل من يشآءُ ويخذلُ ويبتلي عدلا. وکلهم يتقلبون في مشيئته بين فضله وعدله. وهو متعال عن الأضدادِ والاندادِ، لارادّ لقضاءِ ه ولا معقب لحکمه ولا غالب لامره. اٰمنا بذالک کله وايقنا ان کلا من عنده.
’’ہم اللہ رب العزت کی توحید پر اعتقاد رکھتے ہوئے اُسی کی توفیق سے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات یکتا و یگانہ ہے اُس کے ساتھ کوئی شریک نہیں، کوئی شے اُس کی مثل نہیں اور کوئی چیز اللہ تعالیٰ کو کمزور اور عاجز نہیں کر سکتی، اُس کے سواء کوئی لائقِ عبادت نہیں۔ وہ قدیم ہے جس کے وجود کے لئے کوئی ابتداء نہیں، وہ زندۂ جاوید ہے جس کے وجود کے لئے کوئی انتہاء نہیں۔ اُس کی ذات کو فنا اور زوال نہیں۔ اُس کے ارادہ کے بغیر کچھ نہیںہو سکتا۔ اُس کی حقیقت فکرِ اِنسانی کی رسائی سے بلند ہے اور اِنسانی عقل و فہم اُس کے ادراک سے قاصر ہے۔ اس کی مخلوق کے ساتھ کوئی مشابہت نہیں ہے۔ وہ ازل سے زندہ ہے جس پر کبھی موت وارد نہیں ہوگی اور ہمیشہ سے قائم رہنے والا ہے جو نیند سے پاک ہے۔ وہ بغیر کسی حاجت کے خالق ہے، وہ بغیر کسی محنت کے رازق ہے۔ بغیر کسی خوف و خطر کے وہ موت دینے والا ہے۔ وہ بغیر کسی مشقت کے دوبارہ زندہ کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ مخلوق کو پیدا کرنے سے قبل ہی اپنی صفاتِ کاملہ سے متصف تھا۔ اُس نے مخلوق کے وجود سے کوئی ایسی صفت حاصل نہیں کی جو اُسے پہلے سے حاصل نہ تھی۔ جس طرح ازل میں وہ صفاتِ اُلوہیت سے متصف تھا اُسی طرح ابد تک بلاکم و کاست اِن سے متصف رہے گا۔ اُس نے اپنے لئے خالق اور باری کا نام مخلوقات اور کائنات کی پیدائش کے بعد حاصل نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ کو ربوبیت کی صفت اُس وقت بھی حاصل تھی جب کوئی مربوب یعنی پرورش پانے والا نہ تھا اور اُسے خالق کی صفت اُس وقت بھی حاصل تھی جب کسی مخلوق کا وجود ہی نہ تھا۔ جس طرح وہ مُردوں کو زندہ کرنے والا انہیں زندہ کرنے کے بعد کہلایا حالانکہ وہ انہیں زندہ کرنے سے پہلے بھی اِس نام کا مستحق تھا اِسی طرح مخلوق کی ایجاد سے پہلے بھی وہ خالق کے نام کا مستحق تھا۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، ہر چیز اُس کی محتاج ہے، ہر امر کا کرنا اس پر آسان ہے اور وہ خود کسی کا محتاج نہیں، اُس کی مثل کوئی چیز نہیں ہے اور وہی سننے والا دیکھنے والا ہے۔ اُس نے مخلوق کو اپنے علم کے مطابق پیدا کیا ہے، اُس نے مخلوق کے لئے ہر ضروری چیز کا اندازہ اور مقدار پہلے سے مقرر اور متعین کر دی ہے اور اُس نے اُن کی موت کے اوقات مقرر کر دئیے ہیں۔ مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے بھی اُس سے کوئی شے پوشیدہ نہیں تھی، اُسے ان کی تخلیق سے قبل ہی علم تھا کہ یہ لوگ (پیدا ہونے کے بعد) کیا کریں گے۔ اُس نے انہیں اپنی اطاعت کا حکم دیا اور اپنی نافرمانی و سرکشی سے منع کیا۔ ہر چیز اُس کی مشیت اور تقدیر کے مطابق چلتی ہے اور اسی کی مشیت و ارادہ نافذ ہوتا ہے۔ بندوں کی (اپنی) کوئی مشیت و ارادہ نہیں ہوتا مگر جو وہ ان کے لئے چاہے پس جو وہ ان کے لئے چاہے وہی ہوتا ہے اور جو وہ نہ چاہے نہیں ہوتا۔ وہ جسے چاہے اپنے فضل سے ہدایت کی توفیق دیتا ہے، نافرمانی سے بچاتا ہے اور معاف کرتا ہے، اور وہ جسے چاہے اپنے عدل کی بناء پر گمراہ کرتا ہے، رسوا ٹھہراتا ہے اور عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ تمام لوگ اُس کی مشیت کے اندر اُس کے فضل اور عدل کے درمیان گردش کرتے رہتے ہیں۔ نہ کوئی اُس کا مدِّمقابل ہے اور نہ کوئی شریک۔ اُس کے فیصلہ کو کوئی رد کرنے والا نہیں، اُس کے حکم کے آگے کوئی پس و پیش کرنے والا نہیں اور کوئی اس کے امر پر غالب آنے والا نہیں۔ ہم اِن تمام باتوں پر ایمان لا چکے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ یہ سب کچھ اُس کی طرف سے ہے۔‘‘
ابو جعفر الطحاوي، العقيدة الطحاوية : 9 – 11
2۔ امام ابوالحسن الاشعری رحمۃ اللہ علیہ ( 324ھ) توحید کی تشریح ان الفاظ میں کرتے ہیں :
المتفرد بالتوحيد، المتَمَجِّد بالتمجيد، الذي لا تَبْلُغُه صفاتُ العبيد، وليس له مثل ولا نَديد، وهو المبدي المعيد، الفعَّالُ لما يريد، جلَّ عن اتخاذ الصاحبة والأبناء، و تقدس عن ملامسة النساء، فليست له عَثَرةٌ تُقال، ولا حَدٌّ يضْرَب له فيه المثالُ، لم يَزَل بصفاته أولًا قديرًا، ولا يَزَال عالمًا خبيرًا، سبق الأشياء عِلْمُهُ، و نفذت فيها إرادتهُ، ولم تعزُب عنه خفيَات الأمور، ولم تغيِّره سوالفُ صروف الدهور، وَلَمْ يَلْحَقْه في خَلقِ شيئٍ مما خلق کَلال ولا تعبٌ، وَلا مَسَّهُ لُغوبٌ ولا نَصَبٌ، خَلَقَ الأشياءَ بقدرته، و دبَّرها بمشيئته، وقهرها بجبروته، وذلّلها بعزته، فذلَّ لعظمته المتکبِّرون، واستکان لعز ربوبيته المتعظِّمون، وانقطع دون الرسوخ في علمه الممترون، و ذلَّت له الرقاب، و حارت في ملکوته فِطَنُ ذوي الألباب، وقامت بکلمته السمٰوات السبع، واستقرت الأرض المهاد، وثبتت الجبال الرواسي، وجرت الرياحُ اللواقحُ، وسار في جو السماء السحابُ، وقامت علي حدودها البحارُ، وهو اللہ الواحد القَهَّار يخضعُ له المتعزَّزون، و يخشع له المترفِّعون، ويدين طوعًا و کرهًا له العالمون.
’’اللہ تبارک وتعالیٰ وہ ذات ہے جو توحید کے اعتبار سے یکتاہے، تمجید کے اعتبار سے قابلِ تعریف ہے، اس ذات کو بندوں کی صفات نہیں پا سکتیں، اس کا کوئی مثل اور نظیر نہیں، وہی ہر چیز کی ابتداء کرنے والا ہے اور اس کو اصل حالت پر لوٹانے والا ہے، وہ جو ارادہ فرمائے اسے کر دینے والا ہے، وہ بیوی اور بیٹے رکھنے سے بلند و برتر ہے، وہ عورتوں کے میل ملاپ سے پاک ہے، اس کی کوئی ایسی لغزش نہیں جسے ختم کیا جا سکے (یعنی اس کے تمام افعال لغزشوں سے پاک ہیں) اور نہ ہی اس کی کوئی ایسی حد ہے جس کی مثال دی جا سکے، وہ اپنی صفات کے ساتھ اوّل سے ہی قادر ہے، وہ ہمیشہ عالم اور خبیر رہا ہے، اس کا علم کل اشیاء سے پہلے ہے اور اس کا ارادہ اُن میں نافذ ہے، پوشیدہ امور میں سے کچھ بھی اس سے مخفی نہیں، گردشِ زمانہ نے ان میں کچھ تغیر نہیں کیا، کسی چیز کو بھی تخلیق کرنے میں اسے مشقت اور تھکان نہیں ہوئی، نہ ہی اسے کوئی کمزوری اور تکلیف پہنچی، اس نے تمام اشیاء کو اپنی قدرت سے تخلیق کیا، اپنی مشیت سے ان کی تدبیر کی، اپنی طاقت سے ان پر غالب رہا۔ اپنی قوت سے ان کو تابع کیا، پس متکبرین اس کی عظمت کے سامنے جھک گئے، اس کی ربوبیت کی عزت کے سامنے بڑے بڑے عاجز ہوئے، اس کے علمِ راسخ کے آگے شک کرنے والے ختم ہوگئے، اس کے لئے گردنیں خم ہوگئیں، عقلمندوں کی عقل و دانش اس کی بادشاہی میں متحیر ہوگئیں، اس کے کلمہ کے سبب ساتوں آسمان قائم ہوئے، فرشِ زمین نے قرار پایا، بلند و بالا پہاڑ وجود میں آئے، آندھیاں چلیں، آسمانی فضا میں بادل چلنے لگے، سمندر اپنی حدود میں قائم ہوئے، وہی اللہ واحد و یکتا ہے، زبردست ہے جس کے سامنے طاقتور جھکتے اور بلند رتبہ رکھنے والے انکساری کرتے ہیں اور عالم طوعاً و کرہاً (پسند و ناپسند سے) اس کی اطاعت اختیار کرتے ہیں۔‘‘
ابو الحسن الاشعري، الابانة عن أصول الديانة : 7
3۔ امام غزالی ( 505ھ) عقیدۂ توحید کی وضاحت میں فرماتے ہیں :
إنه في ذاته واحدٌ لا شريکَ له، فَردٌ لا مَثِيلَ له، صَمَدٌ لا ضِدَّ له، منفرد لا نِدَّ له، وأنه واحدٌ قديمٌ لا أوَّلَ لهُ، أزليٌّ لا بِدايَةَ له، مُسْتَمِرُّ الوجُود لا آخرَ له، أبَديٌّ لا نِهايَةَ له، قَيُومٌ لا انقِطَاعَ له، دَائِمٌ لا انصِرامَ له، لم يزل موصوفًا بنعُوت الجلال، لا يُقْضَي عليه بالانقِضَاء، والانْفِصَال، بتَصَرُّم الآباد وانقِرَاض الآجال، بل هو الأوَّلُ والآخِرُ، والظاهِرُ والباطنُ، وهو بکل شيء عَلِيْمٌ.
التنزيه :
وأنه ليس بِجِسْمٍ مُصَوَّر، ولا جَوْهَر محدود مقدر، و أنه لا يُماثِل الأجسامَ، لا في التقدير ولا في قبول الانقِسام، و أنه ليس بجوهر ولا تَحلُّه الجواهرُ، ولا بِعَرَضٍ ولا تحله الأعراضُ، بل لا يُماثِلُ موجُوْدًا ولا يماثله موجودٌ، ليس کمثله شيءٌ ولا هو مِثْلُ شيئٍ، و أنه لا يحده المقدارُ، ولا تَحْوِيه الأقطارُ، ولا تُحِيْطُ به الجِهاتُ، ولا تَکتَنِفُه الأرضُوْن ولا السمواتُ، و أنه مُستَوي علي العرش علي الوجه الذي قَالَه، وبالمعني الذي أرادَهُ، استواءً منزها عن المُمَاسَّة والاستِقْرَار، والتَّمَکُّن والْحُلُول والانتِقَال، لا يَحملُه العَرشُ، بل العرشُ و حَمْلتُه مَحمُولُون بِلُطف قُدرتِه، و مَقهُورون في قبضته، وهو فوقَ العرش والسَّماءِ، وفوقَ کُلِّ شيئٍ إلي تَخُومِ الثَّرَي، فَوقيةٌ لا تزيده قُرْبًا إلي العرشِ والسماءِ، کما لا تزيده بُعدًا عن الأرض والثري، بل هو رَفِيعُ الدرجات عن العرش والسماء، کما أنه رَفِيعُ الدرجات عن الأرض والثري، وهو مع ذلک قَرِيبٌ من کل مَوْجُوْدٍ، وهو أقربُ إلي العبد من حَبْلِ الْوَرِيْدِ، وهو علي کُلِّ شَيئٍ شَهِيْدٌ، إذا لا يماثل قُربُه قُربَ الأجسام، کما لا تُماثِل ذَاتُهُ ذاتَ الأَجْسام، و أنه لا يَحُلُّ في شيئٍ ولا يَحُلُّ فيه شيءٌ، تَعالَي عن أن يَحْوِيه مکانٌ، کما تَقَدَّس عن أن يَحُدَّه زمانٌ، بل کان قَبْلَ أن خُلِقَ الزمانُ والمکانُ، وهو الآن علي ما عَلَيه کَانَ، و أنه بائِنٌ عن خَلْقِه بصفاته، ليس في ذاته سِوَاه، ولا في سِوَاه ذاتُه، و أنه مُقَدَّسٌ عن التَّغييْرِ والانتقال، لا تُحِلُّه الحوادثُ، ولا تَعْتَرِيه العَوَارِضُ، بل لا يزال في نَعُوْتِ جلاله مُنَزَّهًا عن الزوال، و في صفات کَمَالِهِ مُسْتَغْنِياً عن زيادة الاستکمال، و أنه في ذاته معلومُ الوجود بالعقول، مَرئِي الذات بالأبصار، نِعمَةً منه وَلُطفًا بالأبرار في دارِ القَرار، واتماما منه للنَّعِيمِ بالنظر إلي وَجْهِه الکريم.
’’بے شک اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں واحد ہے جس کا کوئی شریک نہیں، یکتا ہے جس کی مثل کوئی نہیں، بے نیاز ہے جس کی ضد نہیں، منفرد ہے جس کی مانند کوئی نہیں، وہ ایسا واحد اور قدیم ہے جس کا اوّل کوئی نہیں، وہ ازل سے ہے جس کی کوئی ابتداء نہیں، اس کا وجود ہمیشہ باقی رہنے والا ہے جس کا کوئی آخر نہیں، وہ ابدی ہے جس کی کوئی انتہاء نہیں، ہمیشہ قائم اور باقی رہنے والا ہے جس میں کوئی انقطاع نہیں، وہ جلالت کی صفت سے متصف رہا ہے، مدتوں کے خاتمہ اور زمانوں کی ہلاکت کے باعث اس فنائیت اور انجام کے سبب اس کے خلاف فیصلہ نہیں ہو سکتا، بلکہ وہی اوّل ہے، وہی آخر ہے، وہی ظاہر ہے اور وہی باطن ہے، وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔
غزالي، قواعد العقائد : 50 – 54
ہر عیب اور نقص سے پاک ذات
بیشک وہ کوئی جسم نہیں جس کی تصویر کشی کی جائے (وہ جسم سے پاک ہے)، نہ ہی وہ محدود جوہر ہے، جس کا اندازہ کیا جاسکے۔ وہ اجسام سے مماثلت نہیں رکھتا نہ ہی مقدار میں اور نہ ہی قبولِ تقسیم میں، وہ جوہر نہیں ہے اور نہ ہی جواہر اس میں حلول کرسکتے ہیں۔ اور وہ عرض نہیں ہے نہ ہی اعراض اس میں حلول کرسکتے ہیں (وہ جوہر و عرض سے پاک ہے)، بلکہ وہ کسی موجود کے مماثل نہیں ہوسکتا اور نہ ہی کوئی موجود اس کے مماثل ہو سکتا ہے۔ کوئی چیز اس کی مثل نہیں ہے اور نہ ہی وہ کسی چیز کے مثل ہے، مقدار اس کی حدبندی نہیں کر سکتی، اطراف اسے سمیٹ نہیں سکتے، جہات اس کا احاطہ نہیں کر سکتیں، سب آسمان اور زمینیں اس کو گھیر نہیں سکتے (وہ مکان و جہت سے پاک ہے)، وہ اسی طرح اپنے عرش پر مستوی ہے جیسا اس نے فرمایا، اس معنی کے ساتھ جس کا اس نے ارادہ کیا، اس کا یہ استواء فرمانا چھونے سے، قرار پکڑنے سے، تمکن و حلول اور انتقال سے منزہ ہے، عرش اس کو نہیں اٹھاتا، بلکہ عرش اور اس کو اٹھانے والے اس کی لطفِ قدرت کے سبب اٹھے ہوئے ہیں اور اس کے قبضۂ قدرت میں بے بس ہیں، وہ عرش و سماء سے بلند ہے اور تحت الثریٰ تک ہر چیز پر فوق اور برتر ہے، یہ بلندی اس کے عرش اور آسمان تک کے قرب میں کچھ اضافہ نہیں کرتی جس طرح کہ وہ زمین و پاتال تک سے اُسے دور نہیں کرتی۔ بلکہ وہ عرش و سماء سے بلند مرتبہ ہے جس طرح کہ وہ زمین و ثریٰ سے بلند مرتبہ ہے، اس کے ساتھ ساتھ وہ ہر موجود سے قریب ہے، وہ بندے کی شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے، وہ ہر چیز پر نگہبان ہے، کیونکہ اس کا قرب اجسام کے قرب جیسا نہیں ہے جس طرح کہ اس کی ذات اجسام کی ذاتوں جیسی نہیں ہے، بے شک وہ کسی چیز میں حلول نہیں کرتا اور نہ کوئی چیز اس میں حلول کر سکتی ہے وہ اس سے بلند ہے کہ مکان اسے گھیر سکے، جس طرح وہ اس سے پاک ہے کہ زمانہ اس کا احاطہ کر سکے، بلکہ وہ زمان و مکان کی تخلیق سے پہلے تھا، وہ اب بھی اپنی اسی ازلی صفت پر قائم ہے، وہ اپنی مخلوق سے اپنی صفات کے اعتبار سے جدا ہے، اس کی ذات میں اس کے علاوہ کوئی نہیں اور نہ اس کے غیر میں اس کی ذات ہے، وہ تغییر و انتقال سے پاک ہے، حوادث اس میں داخل اور عوارض اس کو لاحق نہیں ہوسکتے، بلکہ وہ اپنی صفاتِ جلال میں پاک رہے گا اور اپنی کمال کی صفات میں وہ قبولِ اضافہ سے مستغنی ہے، عقل و دانش کے سبب وہ اپنی ذات میں وجودِ معلوم ہے، آنکھوں سے دکھائی دینے والی ذات ہے، دارِ آخرت میں یہ اس کی طرف سے نعمت اور نیکوکاروں کے لئے انعام ہوگا اور اس کی طرف سے اس نعمت کا اتمام و کمال اس کے حسین و جمیل چہرے کی زیارت پر ہوگا۔‘‘
4۔ امام عمر بن محمد النسفی( 537ھ) مفہومِ توحید کے بیان میں لکھتے ہیں :
والمحدِث للعالم هو اللہ تعالي الواحد القديم الحيُّ القادر العليم السميع البصير الشائي المريد ليس بعرض، ولا جسم، ولا جوهر ولا مصوَّر، ولا محدود، ولا معدود، ولا متبعِّض، ولا متجزٍّ، ولا مترکب، ولا متناه، ولا يُوصف بالمَاهية، ولا بالکيفية، ولا يتمکن في مکان، ولا يجري عليه زمان ولا يشبهه شيء، ولا يخرج عن علمه و قدرته شيء.
وله صفات أزلية قائمة بذاته وهي لا هو ولا غيره.
’’عالم کو سب سے پہلے وجود عطا کرنے والی ذات اللہ تبارک و تعالیٰ کی ہے، جو کہ واحد ہے، قدیم ہے، ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے، قدرت رکھنے والا ہے، جاننے والا ہے، سننے والا ہے، دیکھنے والا ہے، چاہنے والا ہے، ارادہ کرنے والا ہے، وہ عرض نہیں ہے نہ جسم، نہ جوہر ہے نہ اسکی شکل و صورت، نہ محدود ہے نہ معدود (جس کو شمار کیا جا سکے)، نہ حصوں کی شکل میں ہے نہ جزء کی صورت میں، نہ مرکب ہے نہ متناہی، نہ اسے ماہیت کے ساتھ بیان کیا جا سکتا ہے نہ ہی کیفیت کے ساتھ، وہ نہ کسی مکان میں متمکن ہے نہ ہی کوئی زمانہ اس پر جاری ہے، کوئی چیز بھی اس سے مشابہت نہیں رکھتی، اور کوئی چیز بھی اس کی قدرت اور اس کے علم سے خارج نہیں (ہر چیز اس کے احاطے میں ہے لیکن اس کی ذات ہر چیز سے ما ورا ہے)۔
’’اس کی صفات ازلی ہیں جو اس کی ذات سے قائم ہیں اور یہ صفات نہ ہی وہ (ذاتِ باری تعالیٰ) ہے اور نہ ہی اس کا غیر ہیں۔‘‘
نسفي، العقيدة النسفية : 2
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے متعلق منقول ہے کہ ان کے سامنے کسی شخص کے زُہد و تقویٰ کی تعریف اِن الفاظ میں کی گئی کہ ’’وہ جانتا تک نہیں ہے کہ گناہ کیا ہے‘‘ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’ایسے آدمی کے گناہ میں مبتلا ہونے کا امکان بہت زیادہ ہے۔
یہ ایک فطری سوال ہے کہ جب کوئی غیر مسلم دین اسلام قبول کرلے تو اب اسے اپنی زندگی میں کیا کچھ امور میر انجام دینے ہوں گے، اگر چہ یوں تو اس کے لیے اسلام لمحہ بہ لحد راہنمائی کرتا ہے جس کے لیے تفصیلی مطالعہ کی ضرورت ہے، مگر ذیل میں چند ایسے امور ذکر کیے جاتے ہیں، جنہیں اسلام میں بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
چھ بنیادی عقائد :
اللہ تعالی پر ایمان۔ فرشتوں پر ایمان ۔ آسمانی کتابوں پر ایمان ۔ تمام رسولوں پرایمان – تقدیر پر ایمان ۔ آخرت پر ایمان۔
(1) اللہ تعالی پر ایمان سے مراد یہ ہے کہ اسے اکیلا خدا مانا جائے، اس کے علاوہ کسی میں ذرہ برابر بھی خدائی نہ مانی جائے ، نہ انسانوں میں، نہ بتوں میں، نہ سورج چاند میں اور نہ ہی دنیا کی کسی شے میں۔ یہ عقیدہ رکھا جائے کہ وہ اپنی ذات اور صفات میں بے مثل ہے۔ عبادت یعنی خدا سمجھ کر ہر طرح کی تعظیم کی مستحق صرف اور صرف اس کی ذات ہے۔ الہ کا نام اکیلا بھی لیا جاسکتا ہے مگر بہتر یہ ہے کہ اس کے نام کے ساتھ تعظیمی الفاظ بھی بولے جائیں، مثلا : اللہ تعالی، اللہ جل جلالہ ، اللہ عز و جل ۔ اگر اس عقیدے میں تھوڑی سی بھی گڑ بڑ ہوئی تو آدمی دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے گا۔
(2) فرشتوں پر ایمان سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی نے ایک ایسی نوری مخلوق بھی بنائی ہے جو ہمیں نظر نہیں آتی ہگر وہ زمین و آسمان میں ہر جگہ موجود ہے۔ اس مخلوق کو فرشتوں کا نام دیا جاتا ہے۔ فرشتے مختلف ڈیوٹیاں سرانجام دیتے ہیں، اللہ تعالی کی ذرہ برابر بھی نافرمانی نہیں کرتے ۔ وہ ہمہ وقت ذکر الہی میں مصروف رہتے ہیں۔ تمام فرشتوں کا ادب کرنا بے حد ضروری ہے۔ فرشتوں کے نام کے ساتھ ادب کے لیے علیہ السلام کے الفاظ بولنے چاہیں۔
چار بڑےمشہور فرشتوں کے نام اور کام حسب ذیل ہیں:
حضرت جبریل علیہ السلام : یہ رسولوں کے پاس وحی لاتے تھے۔
حضرت میکائیل علیہ السلام: یہ مخلوق کے رزق کا انتظام کرتے ہیں۔
حضرت عزرائیل علیہ السلام : یہ موت کے وقت مخلوق کی روح قبض کرتے ہیں۔
حضرت اسرافیل علیہ السلام: یہ قیامت لانے کے لیے صور پھونکیں گے۔
جنت کے نگران فرشتے کا نام رضوان ہے، دوزخ کے نگران فرشتے کا نام مالک ہے۔ انسان کے دائیں اور بائیں کندھے پر دوفرشتے اس کی نیکیاں اور برائیاں لکھنے پر مامور ہیں، انہیں کراما کا تین کہتے ہیں۔ قبر میں مردے سے سوالات کے لیے آنے والے دو فرشتوں کومنکر نکیر کہا جاتا ہے۔
(3) آسمانی کتابوں پر ایمان سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنی مخلوق کی ہدایت کے لیے اپنے رسولوں پر جو کتا ہیں اور صحیفے نازل فرمائے انہیں حق مانا جائے ۔ صحیفے 100 ہیں اور بڑی کتا بیں چار ہیں:
تو رات: یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی۔
زبور : یہ حضرت داؤد علیہ السلام پر نازل ہوئی۔
انجیل : یہ حضرت عیسی علیہ السلام پر نازل ہوئی ۔
قرآن حکیم : یہ حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوا۔
ان سب کتابوں پر ایمان رکھنا ضروری ہے، البتہ ایک مسلمان کے لیے عمل صرف قرآن حکیم پہ کرنا ضروری ہے کیونکہ قرآن حکیم نے پہلی کتابوں پر عمل کو منسوخ کر دیا ہے۔
حضور ﷺ پر قرآن حکیم نازل ہونے کے عمل کو ”وحی“ کہا جاتا ہے، پہلی وحی مکہ مکرمہ میں جبل نور کے غار حرا میں نازل ہوئی ۔ یہ عربی زبان میں نازل ہوا۔
عربی زبان کے حروف تہجی 29 ہیں، قرآن حکیم میں کل 30 پارے ہیں، 114 سورتیں ہیں، 558 رکوع ہیں، 7 منزلیں ہیں قرائتیں ہیں، 6236 آیات ہیں۔ اس میں 14 آیات سجدہ ہیں جن کی تلاوت سے سجدہ واجب ہو جاتا ہے۔ یہ حضور ﷺ پر 23 برس کے عرصے میں آہستہ آہستہ نازل ہوا۔ کچھ سورتیں حضورﷺ پر ہجرت مدینہ سے پہلے مکہ مکرمہ کے 13 سالہ عرصے میں نازل ہوئیں انہیں مکی سورتیں“ کہا جاتا ہے ، ان کی تعداد 86 ہے۔ کچھ سورتیں ہجرت کے بعد مدینہ منورہ کے 10 سالہ عرصے میں نازل ہوئیں، انہیں مدنی سورتیں“ کہا جاتا ہے، ان کی تعداد 28 ہے۔ تدوین قرآن کے تین دور ہیں: دور نبوی ۔ دور صدیقی ۔ دور عثمانی ۔ ۔ یہ جس ترتیب سے نازل ہوا اسے ترتیب نزولی اور جس ترتیب سے حضور علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے اس کو مرتب فرمایا اسے ترتیب توقیفی“ کہا جاتا ہے۔ اس کی ابتداء سورۃ الفاتحہ سے ہوتی ہے اور انتقام “سورۃ الناس پہ ہوتا ہے۔ اس میں لفظ اللہ 2697 مرتبہ آیا ہے اور لفظ محمد چار مرتبہ آیا ہے۔ قرآن حکیم درست تلفظ کے ساتھ پڑھنے کو تجوید و قرات کہا جاتا ہے۔ اس کی آیات کا لفظی معنی بیان کرنے کو ترجمہ اور تشریح کرنے کو تفسیر کہا جاتا ہے۔
(4) رسولوں پر ایمان سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنی مخلوق کی ہدایت کے لیے کچھ بلند پایہ انسانوں کو منتخب فرمایا اور انہیں غیبی ہدایات سے نوازا، ایک مسلمان کے لیے ان سب کو ماننا بھی ضروری ہے۔ رسول اور نبی میں فرق ہے ، رسول اس پیغمبر کو کہتے ہیں جس پر کتاب بھی نازل ہوئی ہو اور نبی اس پیغمبر کو کہتے ہیں جس پر کتاب نازل نہیں ہوتی ۔ ہر رسول نبی ہوتا ہے مگر ہر نبی رسول نہیں ہوتا ۔ کل انبیاء کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار ہیں، سب سے پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور آخری نبی حضرت محمد ﷺ ہیں۔ بعض نبیوں کو اللہ تعالی نے بعض نبیوں پر فضیلت عطا فرمائی ۔ حضرت محمد ﷺ تمام نبیوں اور رسولوں سے افضل ہیں ۔ ان کے بعد حضرت ابراہیم ، پھر حضرت موسیٰ، پھر حضرت عیسیٰ اور پھر حضرت نوح میھم السلام کا مرتبہ ہے۔ نبوت ذاتی محنت سے حاصل نہیں کی جاسکتی، یہ خالصتا اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ نبی کو عقل کامل عطا کی جاتی ہے، تمام دانش وروں کی عقلیں مل کر اس کے عقل کے لاکھویں حصے کو بھی نہیں پہنچ سکتیں۔ نبی معصوم ہوتے ہیں ، ان سے صغیرہ و کبیرہ کسی بھی قسم کے گناہ کا صدور محال ہوتا ہے۔ نبی مرد ہوتے ہیں، کبھی کوئی عورت نبی بن کر نہیں آئی۔ امت کے لیے نبی کی اطاعت اور تعظیم فرض ہوتی ہے، کسی نبی کی ذرہ برابر گستاخی بھی انسان کو کافر بنا دیتی ہے۔ نبی اپنی نبوت کی سچائی کے لیے کچھ ایسی چیزوں کا اظہار فرماتے ہیں جو عام لوگوں کے لیے محال ہوتی ہیں انہیں معجزات کہا جاتا ہے۔ مثلا مردوں کو زندہ کر دینا، مادر زاد اندھوں کو ٹھیک کر دینا اور چاند کو دوٹکڑے کر دینا۔ تمام انبیاء اپنی قبروں میں زندہ ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمتوں سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ ہمارے نبی حضرت محمدیہ کل کائنات کے رسول ہیں، کائنات کے ذرے ذرے کے لیے حضور ﷺ کی اطاعت فرض ہے، آپ زمین و آسمان کی ہر ہر مخلوق کے لیے رحمت ہیں، باقی تمام انبیاء کرام کو جو کمالات عطا کیے گئے وہ سب کے سب بھی حضور کو عطا کیے گئے اور مزید بھی وہ کمالات عطا کیے گئے جن کی کوئی حد نہیں ۔ دنیا کو جو کچھ بھی ملتا ہے آپ ﷺ کے وسیلے سے ملتا ہے۔ آپ کی مثل اللہ تعالیٰ نے کوئی بھی مخلوق نہیں بنائی ۔ آپ اللہ تعالیٰ کے محبوب ہیں ، آپ کو اللہ تعالی نے ساتوں آسمانوں سے اوپر مع جسم اپنی بارگاہ میں بلایا اور اپنے کلام و دیدار سے نوازا۔ آپ قیامت کے دن تمام مخلوقات کی شفاعت فرمائیں گے۔
کائنات کی ہر ہر چیز سے بڑھ کر آپ سے محبت فرض ہے اور یہی ایمان کی حقیقت ہے۔ آپ کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے ، آپ کا نام مبارک سنتے ہی درود شریف پڑھنا لازم ہے، ایمان کے ساتھ آپ کی زیارت کرنے والوں کو صحابہ کرام ، آپ کی آل اولاد کو اہل بیت اور آپ کی بیویوں کو ازواج مطہرات اور امہات المؤمنین کہا جاتا ہے۔ آپ کے لیے ایک ایک لفظ سوچ سمجھ کر نہایت ادب کے ساتھ بولنا چاہیے۔ آپ کے کسی بھی قول و فعل کو حقارت سے دیکھنا کفر ہے، آپ دنیا میں اللہ تعالی کے نائب مطلق ہیں۔ کل جہاں کے اختیارات آپ کے اختیارات آپ کے ہاتھ میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے آپ کے نور کو پیدا فرمایا اور اسی سے سارے جہاں کو منور فرمایا۔
قرآن حکیم میں درج ذیل 26 انبیاء کرام کا ذکر آیا ہے: حضرت آدم ، حضرت نوح ، حضرت اور لیس، حضرت ہود، حضرت صالح ، حضرت ابراہیم ، حضرت اسماعیل ، حضرت اسحاق، حضرت لوط ، حضرت یعقوب ، حضرت یوسف، حضرت شعیب ، حضرت سلیمان ، حضرت داؤد حضرت یونس، حضرت الیاس ، حضرت ایوب ، حضرت الیسع ، حضرت عزیر ، حضرت موسیٰ ، حضرت بارون، حضرت ذوالکفل ، حضرت زکریا، حضرت علی، حضرت عیسی ، حضرت سید نا محمد رسول اللہ میهم السلام ۔ جب بھی کسی نبی کا نام لیا جائے تو ساتھ علیہ السلام کہا جائے اور جب حضور پاک کا نام لیا جائے تو صلی اللہ علیہ وسلم کہا جائے۔
(5) تقدیر پر ایمان سے مراد یہ ہے کہ یہ ساری کائنات اللہ تعالیٰ ایک با قاعدہ مکمل پروگرام ز بر دست قوانین اور بہترین نظم کے ساتھ چلا رہا ہے، کائنات کا کوئی بھی ذرہ اس کے قوانین قدرت سے باہر نہیں ہے، ہر خیر وشر اس کی قدرت کے عین مطابق رونما ہوتا ہے، کسی بھی شخص سے نہ تو وہ زبر دستی اچھا کام کرواتا ہے اور نہ ہی برا، ہاں ! اس کے علم میں سب کچھ ہے، اسی لیے اگر کسی نے اپنی ذاتی مرضی سے اچھائی کرنی تھی تو اس نے لکھ دیا کہ یہ اچھائی کرے گا اور اگر کسی نے برائی کرنی تھی تو اس نے لکھ دیا کہ یہ برائی کرے گا۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ اگر اس نے اپنے علم سے یہ سب کچھ لکھ دیا تو اس سے قطعا یہ لازم نہیں آتا کہ کوئی شخص اس کے لکھے کی وجہ سے مجبور ہوکر اچھا یا برا کر رہا ہے۔ ہاں ! ادب کا تقاضا یہ ہے کہ اگر اس سے اچھے کام سرزد ہوں تو ان کی نسبت اللہ تعالی کی طرف کرے اور برے کام سرزدہوں تو ان کی نسبت اپنے نفس اور شیطان کی طرف کرے۔
دنیا میں بے شمار امور ایسے ہیں جن میں انسان کا کوئی بس نہیں چلتا، وہ ان میں بے اختیار ہے۔ مثلاً جس گھرانے ، جس علاقے اور جس زمانے میں وہ پیدا ہوا، اس کا رنگ و روپ، شکل و صورت، قد کاٹھ، آواز وانداز ، سورج، چاند، ستاروں کا وجود ستاروں سیاروں کے درمیان فاصلوں کی پیائیں ، سائنس کے بنیادی اصولی فارمولے وغیرہ امور ایسے ہیں جن میں انسان کا کوئی عمل دخل نہیں ہے، انہیں ” تکوینی امور کہا جاتا ہے۔ جبکہ بہت سے امور ایسے ہیں جن میں انسان کو اللہ تعالی نے ایک گونہ اختیار عطا کیا ہے مثلاً کافر رہنا یا مسلمان ہونا، عبادات بجالانا یا نہ بجالانا، حقوق و فرائض پورے کرنا یا نہ کرنا، نیکیاں کرنا یا گناہ کرنا علم حاصل کرنا یا جاہل رہنا وغیرہ امور ایسے ہیں جو انسان اپنی مرضی سے سرانجام دیتا ہے، البتہ جب وہ انہیں سر انجام دینے کا ارادہ کر لیتا ہے تو انہیں وجود اللہ تعالی ہی عطا کرتا ہے، انہیں ” تشریعی امور کہا جاتا ہے۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ انسان نہ تو مکمل طور پر با اختیار ہے اور نہ ہی بالکل مجبور محض ۔
بعض معاملات ایسے ہوتے ہیں جن کا ہونا اللہ تعالی کے پروگرام میں یقینی ہوتا ہے، وہ ائل ہوتے ہیں اور کسی بھی صورت ان میں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی ، ایسے معاملات کو تقدیر مبرم کہتے ہیں۔ جبکہ بعض معاملات ایسے ہوتے ہیں جن کا ہونا یا نہ ہونا اللہ تعالیٰ کچھ امور کے ساتھ منسلک فرما دیتا ہے، یعنی اگر کوئی شخص اس طرح کرے گا تو اس کا یہ نتیجہ برآمد ہوگا اور اگر دوسری طرح کرے گا تو دوسرا نتیجہ برآمد ہو گا، ایسے معاملات کو تقدیر معلق کہتے ہیں۔ جیسا کہ حدیث پاک میں آتا ہے کہ دعا تقدیر کو ٹال دیتی ہے اور یہ کہ صلہ رحمی کرنے سے رزق میں اضافہ ہوتا ہے اور عمر دراز ہوتی ہے۔
یہاں یہ ذہن میں رہے کہ جب کہا جاتا ہے کہ دنیا کا کوئی ذرہ بھی اللہ تعالیٰ کی مرضی کے بغیر حرکت میں نہیں آسکتا اور درختوں کا کوئی پتہ بھی اس کے حکم کے بغیر نہیں ہل سکتا تو اس سے مراد تکوینی امور ہوتے ہیں۔ اس سے یہ ہرگز نہیں سمجھنا چاہیے کہ بندہ نیکی یا برائی اللہ تعالیٰ کے جبر سے کرتا ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی کام کا ارادہ بندہ اپنی مرضی اور اختیار سے کرتا ہے جبکہ اس کے اسباب کو اللہ تعالیٰ وجود میں لے آتا ہے۔
نظام کائنات اتنا سخت پیچیدہ اور زبردست گہرا ہے کہ اس کو مکمل طور پر سجھنا کسی بھی انسان کے بس کی بات نہیں ، وہ جس حد تک سمجھ آ جائے اس پر اللہ تعالی کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ باقی اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اسے خالق کا ئنات کی تقدیر کاہر ہر پہلو پورا پورا مجھ میں آ جائے تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔ بعض لوگوں کا ذہن بہت اعلیٰ ہوتا ہے جس کی وجہ سے انہیں تقدیر کے بارے میں کافی کچھ سمجھ آجاتا ہے، جبکہ بعض لوگوں کا ذہن اتنا اعلیٰ نہیں ہوتا جس کی وجہ سے انہیں تقدیر کی تھوڑی سی بات کا سمجھنا بھی دشوار ہو جاتا ہے، اس لیے تقدیر کے معاملے میں بہت زیادہ خبط مارنا آدمی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ تاریخ میں فلسفیوں کے ایسے کئی گروہ وجود میں آئے جو تقدیر کے معاملے میں بھٹک کر کفر وگم راہی کی گہری وادیوں میں جا پڑے۔ لہذا القدیر پر مطلقاً ایمان لے آنا ہی ایمان کی سلامتی کا سبب ہے۔
(6) آخرت پر ایمان سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی اپنے فرشتے اسرائیل علیہ السلام کو صور پھونکنے کا حکم دیں گے، اس کی آواز سے آہستہ آہستہ زمین و آسمان اور ان کی ہر ہر چیز فنا ہو جائے گی حتی کہ آخر میں خود اسرائیل علیہ السلام بھی ۔ پھر کئی عرصے بعد اللہ تعالی اسرائیل علیہ السلام کو زندہ فرمائے گا اور دوبارہ صور پھونکنے کا حکم دے گا ، اب کی بار سب فرشتے ، انسان ، جن اور حیوانات زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوں گے۔ یہ قیامت کے دن کا آغاز ہوگا جو پچاس ہزار سال کا ہوگا، اللہ تعالی ساری مخلوق کو ایک وسیع و عریض بے سایہ میدان میں جمع فرمائے گا جسے میدان حشر کہتے ہیں ، لوگ نے خوفناک حد تک شدید پریشانی کے عالم میں ہوں گے کوئی کسی کا پرسان حال نہ ہوگا ، ہر شخص نے اس کے اعمال کا حساب لیا جائے گا اور اس کے ہاتھ میں اس کا نامہ اعمال دیا جائے گا۔ نیکوں کو دائیں ہاتھ میں اور بروں کو بائیں ہاتھ میں ، کافر کا سینہ تو ڑ کر اس کا بایاں ہاتھ پیٹھ کی طرف سے نکال کر دیا جائے گا۔ میدان حشر میں کھانے پینے کے لیے کچھ نہ ہوگا۔ ہر نبی کا پانی کا ایک حوض ہوگا، بالخصوص ہمارے نبی ﷺ کا حوض سب سے بڑا ہو گا جس سے وہ اپنی امت کو پانی پلائیں گئے، اس دن اچھے اور برے اعمال تولنے کے لیے میزان یعنی ایک عددتر از دبھی موجود ہوگا۔ جن لوگوں کی نیکیاں زیادہ ہوں گی انہیں انعام میں جنت عطا کی جائے گی اور جن کے گناہ زیادہ ہوں گے انہیں دوزخ میں بھیجا جائے گا۔ جنت میں جانے کا راستہ دوزخ کے اوپر سے ہو کر جاتا ہے، دوزخ کے اوپر ایک خطر ناک پل ہے جسے صراط کہتے ہیں، یہ بال سے زیادہ بار یک اور تلوار سے زیادہ تیز ہے ، سب لوگوں کو اس پر سے گزرنا ہوگا ، اچھے اعمال والے ہی اسے پار کر سکیں گے جبکہ باقی سب جہنم میں جا گریں گے۔ جنت و دوزخ برحق ہیں، ان کا انکار کرنے والا کافر ہے یہ ہزاروں سال سے بنے ہوئے موجود ہیں، ان کا وجود ہمیشہ رہے گا یہ کبھی بھی فنا نہیں ہوں گے۔
ایمان باللہ اسلامی عقائد کی بنیاد اور سب سے پہلا رکن ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان دل سے اللہ کی موجودگی اور اس کی ربوبیت پر یقین رکھے، زبان سے اس کا اقرار کرے اور اپنے اعمال کے ذریعے اس کی اطاعت بجا لائے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالنُّورِ الَّذِي أَنْزَلْنَا(التغابن: 8)
پس اللہ پر، اس کے رسول پر اور اس نور پر ایمان لاؤ جو ہم نے نازل فرمایا ہے۔
علماء کرام کے مطابق ایمان باللہ کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کو ہر اعتبار سے یکتا مانا جائے، اس کی ذات، صفات، افعال اور حقوق میں کسی کو شریک نہ کیا جائے۔ ایمان باللہ وہ روشنی ہے جو تاریک دلوں کو منور کرتی ہے، وہ سکون ہے جو پریشان روح کو قرار بخشتا ہے اور وہ قوت ہے جو انسان کو کائنات کے طوفانوں کے مقابلے میں مضبوطی عطا کرتی ہے۔ یہ ایمان صرف ایک نظریہ نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں میں بسنے والا ایسا یقین ہے جو انسان کے ہر عمل، ہر سوچ اور ہر احساس پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ایمان باللہ کا تقاضا ہے کہ اللہ کی وحدانیت کو مانا جائے (توحید) اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے ۔ اللہ کی صفاتِ کمالیہ کو تسلیم کیا جائے۔
قرآن میں فرمایا گیا ہے۔
قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، اللَّهُ الصَّمَدُ(الإخلاص: 1-2)
اے حبیب! آپ فرماؤ وہ اللہ ایک ہے ، اللہ بے نیاز ہے۔
توحید کا یہ تصور اسلام کو دیگر مذاہب سے ممتاز کرتا ہے۔ اسلام میں اللہ کو کسی مخلوق سے تشبیہ نہیں دی جاتی۔ وہ اپنی ذات اور صفات میں منفرد ہے۔
اللہ کی وحدانیت (توحید)
توحیدِ ربوبیت
اللہ ہی اس کائنات کا خالق، مالک اور مدبر ہے۔ کوئی پتہ بھی اس کی اجازت کے بغیر زمین پر نہیں گِرتا۔
قرآن میں فرمایا گیا ہے۔
اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ
(الزمر: 62)
اللہ ہر چیز کا خالق ہے اور وہی ہر چیز پر نگہبان ہے۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ غارِ ثور میں جب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے تو کافروں کے قدم غار کے دہانے پر آ گئے۔ اس وقت آپ ﷺ نے فرمایا
lang=”ar”>لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا (التوبہ: 40)
غم نہ کرو، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔
یہی یقین تھا کہ دشمن سر پر ہونے کے باوجود دل سکون میں رہا۔ یہ ہے ایمان باللہ کا عملی مظاہرہ۔
توحیدِ الوہیت
عبادت صرف اللہ کے لیے ہے۔ نہ دعا کسی اور سے، نہ سجدہ کسی اور کے آگے۔
إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحہ: 5)
حضرت بلالؓ کا ایمان
جب مکہ کے کافروں نے ان پتھروں کا بوجھ رکھا تو وہ صرف “اَحَد! اَحَد!” پکارتے رہے۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ میرا دل صرف ایک اللہ کے سامنے جھکتا ہے، چاہے جسم کتنی ہی تکلیف کیوں نہ اٹھائے۔
توحیدِ اسماء و صفات
اللہ کی صفات انسان کو رب کی عظمت کا احساس دلاتی ہیں۔
وہ” الرحمن” ہے جو ماں سے زیادہ شفیق ہے۔
وہ “القدیر “ہے جو ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے۔
وہ “السمیع” ہے جو دل کی خاموش آہیں سنتا ہے۔
شرک کی نفی
شرک انسان کو اللہ کی رحمت سے دور کر دیتا ہے۔
قرآن میں فرمایا گیا
إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ(المائدہ: 72)
جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا، اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی۔
حضرت ابراہیمؑ کی دعوت
جب قوم نے بتوں کی پرستش کی تو حضرت ابراہیمؑ نے فرمایا
إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ (الانعام: 79)
میں نے اپنا رخ اس کی طرف کر لیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔
یہی اعلان شرک کے خلاف توحید کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
شرک، توحید کی ضد اور ایمان کے چراغ کو بجھا دینے والا زہر ہے۔
قرآنِ کریم میں ہے
اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغۡفِرُ اَنۡ یُّشۡرَکَ بِہٖ وَ یَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَ مَنۡ یُّشۡرِکۡ بِاللّٰہِ فَقَدِ افۡتَرٰۤی اِثۡمًا عَظِیۡمًا ﴿۴۸)
شرک صرف بتوں کے سامنے جھکنے کا نام نہیں، بلکہ ہر وہ رویہ شرک ہے جب انسان مخلوق کو خالق کی صفات میں شریک سمجھنے لگے۔ خواہ وہ رزق کا مالک ماننا ہو، تقدیر بدلنے والا ماننا ہو ۔ ایمان باللہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ حقیقی سہارا صرف اللہ ہے۔
اللہ کی صفاتِ کمالیہ
اللہ کی صفات وہ آئینہ ہیں جس میں انسان، رب کی عظمت کو پہچانتا ہے اور اپنی بندگی کو سمجھتا ہے۔
بندوں پر شفقت
قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللهِ
(الزمر: 53)
آپ فرما دیجئے: اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کر لی ہے! تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا۔
العلیم
اللہ دلوں کے راز جانتا ہے۔
اِنَّ اللّٰهَ عٰلِمُ غَیْبِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ
بیشک اللہ آسمانوں اور زمین کی ہر چھپی بات کوجاننے والا ہے ، بیشک وہ دلوں کی بات جانتا ہے۔
( الفاطر38)
القدیر
غزوۂ بدر میں تین سو تیرہ مسلمانوں کے مقابل ہزار کا لشکر تھا۔ مگر ایمان باللہ نے مسلمانوں کو یقین دلایا کہ اللہ قادر ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کمزور لشکر غالب آ گیا۔
الحی القیوم
اللہ ہمیشہ زندہ ہے، سب کو سہارا دینے والا۔
اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم
حضرت علیؓ فرمایا کرتے تھے
میں نے اللہ کو اپنے ارادوں کے ٹوٹ جانے سے پہچانا۔ یعنی انسان کا ارادہ ناکام ہو سکتا ہے مگر اللہ ہمیشہ قائم اور باقی ہے۔ یہ صفات ہمیں صرف اللہ سے مانگنے، اسی پر بھروسہ کرنے اور اسی کی عبادت کرنے کی دعوت دیتی ہیں۔
ایمان باللہ کے عملی اثرات
حوصلہ
حضرت خبابؓ کو دہکتے کوئلوں پر لٹایا گیا، مگر ایمان نے انہیں ثابت قدم رکھا۔
عدل
حضرت عمر کا عدل و انصاف معروف ہے۔ اور یہ اللہ پر ایمان نے انہیں عدل سکھایا۔
محبت
ایمان باللہ نے صحابہ کو اس مقام پر پہنچایا کہ وہ اللہ کی راہ میں کچھ سوچے بغیر ہی اپنی جان کی قربانی دیتے تھے۔
وَاِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰٓئِکَةِ اِنِّيْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِيْفَةً ط قَالُوٓا اَتَجْعَلُ فِيْهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيْهَا وَيَسْفِکُ الدِّمَـآءَ ج وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ ط قَالَ اِنِّیٓ اَعْلَمُ مَا لاَ تَعْلَمُوْنَo
اور (وہ وقت یاد کریں) جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں، انہوں نے عرض کیا: کیا تُو زمین میں کسی ایسے شخص کو (نائب) بنائے گا جو اس میں فساد انگیزی کرے گا اور خونریزی کرے گا؟ حالاں کہ ہم تیری حمد کے ساتھ تسبیح کرتے رہتے ہیں اور (ہمہ وقت) پاکیزگی بیان کرتے ہیں، (اللہ نے) فرمایا: میں وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔
(البقرة 30)
مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَمَلٰٓئِکَتِهِ وَرُسُلِهِ وَجِبْرِيْلَ وَمِيْکٰلَ فَاِنَّ اللہَ عَدُوٌّ لِّلْکٰفِرِيْنَo
جو شخص اللہ کا اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں کا اور جبریل اور میکائیل کا دشمن ہوا تو یقینا اللہ (بھی ان) کافروں کا دشمن ہے۔
(البقرة98)
اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ط کُلٌّ اٰمَنَ بِاللہِ وَمَلٰٓـئِکَتِهِ وَکُتُبِهِ وَرُسُلِهِ قف لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهِ قف وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَاِلَيْکَ الْمَصِيْرُo
(وہ) رسول اس پر ایمان لائے (یعنی اس کی تصدیق کی) جو کچھ ان پر ان کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا اور اہلِ ایمان نے بھی، سب ہی (دل سے) اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے، (نیز کہتے ہیں: ) ہم اس کے پیغمبروں میں سے کسی کے درمیان بھی (ایمان لانے میں) فرق نہیں کرتے، اور (اللہ کے حضور) عرض کرتے ہیں: ہم نے (تیرا حکم) سنا اور اطاعت (قبول) کی، اے ہمارے رب! ہم تیری بخشش کے طلبگار ہیں اور (ہم سب کو) تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔
(البقرة 285)
شَهِدَ اللہُ اَنَّهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ وَالْمَلٰٓئِکَةُ وَاُولُوا الْعِلْمِ قَآئِمًام بِالْقِسْطِ ط لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَکِيْمُo
اللہ نے اس بات پر گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں اور فرشتوں نے اور علم والوں نے بھی (اور ساتھ یہ بھی) کہ وہ ہر تدبیر عدل کے ساتھ فرمانے والا ہے، اس کے سوا کوئی لائقِ پرستش نہیں وہی غالب حکمت والا ہے۔
(آل عمران18)
اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِيْنَ اَلَنْ يَّکْفِيَکُمْ اَنْ يُمِدَّکُمْ رَبُّکُمْ بِثَلٰـثَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰئِکَةِ مُنْزَلِيْنَo بَلٰٓی لا اِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا وَيَاْتُوْکُمْ مِّنْ فَوْرِهِمْ هٰذَا يُمْدِدْکُمْ رَبُّکُمْ بِخَمْسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِکَةِ مُسَوِّمِيْنَo
جب آپ مسلمانوں سے فرما رہے تھے کہ کیا تمہارے لیے یہ کافی نہیں کہ تمہارا رب تین ہزار اتارے ہوئے فرشتوں کے ذریعے تمہاری مدد فرمائے۔ ہاں اگر تم صبر کرتے رہو اور پرہیزگاری قائم رکھو اور وہ (کفّار) تم پر اسی وقت (پورے) جوش سے حملہ آور ہو جائیں تو تمہارا رب پانچ ہزار نشان والے فرشتوں کے ذریعے تمہاری مدد فرمائے گا۔
(آل عمران124-125)
يٰٓـاَيُهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اٰمِنُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِهِ وَالْکِتٰبِ الَّذِيْ نَزَّلَ عَلٰی رَسُوْلِهِ وَالْکِتٰبِ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ ط وَمَنْ يَّکْفُرْ بِاللہِ وَمَلٰٓئِکَتِهِ وَکُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلاًم بَعِيْدًاo
اے ایمان والو! تم اللہ پر اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل فرمائی ہے اور اس کتاب پر جواس نے (اس سے) پہلے اتاری تھی ایمان لاؤ اور جو کوئی اللہ کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کی کتابوں کا اور اس کے رسولوں کا اور آخرت کے دن کا انکار کرے تو بے شک وہ دور دراز کی گمراہی میں بھٹک گیا۔
(النساء136)
وَهُوَ الْقَهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْکُمْ حَفَظَةً ط حَتّٰی اِذَا جَآءَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُوْنَo
اور وہی اپنے بندوں پر غالب ہے اور وہ تم پر (فرشتوں کو بطور) نگہبان بھیجتا ہے، یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کو موت آتی ہے (تو) ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) اس کی روح قبض کرلیتے ہیں اور وہ خطا (یا کوتاہی) نہیں کرتے۔
(الأنعام61)
وَلَوْ تَرٰٓی اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِيْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَالْمَلٰٓئِکَةُ بَاسِطُوْٓا اَيْدِيْهِمْ ج اَخْرِجُوْٓا اَنْفُسَکُمْ ط اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا کُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَی اللہ غَيْرَ الْحَقِّ وَکُنْتُمْ عَنْ اٰيٰـتِهِ تَسْتَکْبِرُوْنَo
اور اگر آپ (اس وقت کا منظر) دیکھیں جب ظالم لوگ موت کی سختیوں میں (مبتلا) ہوں گے اور فرشتے (ان کی طرف) اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے ہوں گے اور (ان سے کہتے ہونگے)تم اپنی جانیں جسموں سے نکالو۔ آج تمہیں سزا میں ذلّت کا عذاب دیا جائے گا۔ اس وجہ سے کہ تم اللہ پر ناحق باتیں کیا کرتے تھے اور تم اس کی آیتوں سے سرکشی کیا کرتے تھے۔
(الأنعام93)
اِنَّ الَّذِيْنَ عِنْدَ رَبِّکَ لَا يَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيُسَبِّحُوْنَهُ وَلَهُ يَسْجُدُوْنَo
بے شک جو (ملائکہ مقربین) تمہارے رب کے حضور میں ہیں وہ (کبھی بھی) اس کی عبادت سے سرکشی نہیں کرتے اور (ہمہ وقت) اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں اور اس کی بارگاہ میں سجدہ ریز رہتے ہیں۔
(الأعراف206)
اِذْ تَسْتَغِيْثُوْنَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ اَنِّيْ مُمِدُّ کُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓـئِکَةِ مُرْدِفِيْنَo
(وہ وقت یاد کرو) جب تم اپنے رب سے (مدد کے لیے) فریاد کر رہے تھے تو اس نے تمہاری فریاد قبول فرمالی (اور فرمایا) کہ میں ایک ہزار پے در پے آنے والے فرشتوں کے ذریعے تمہاری مدد کرنے والا ہوں۔
(الأنفال9)
وَلَوْ تَرٰٓی اِذْ يَتَوَفَّی الَّذِيْنَ کَفَرُوا الْمَلٰٓئِکَةُ يَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَاَدْبَارَهُمْ ج وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِo
اور اگر آپ (وہ منظر) دیکھیں (تو بڑا تعجب کریں) جب فرشتے کافروں کی جان قبض کرتے ہیں وہ ان کے چہروں اور ان کی پشتوں پر (ہتھوڑے) مارتے جاتے ہیں اور (کہتے ہیں کہ دوزخ کی) آگ کا عذاب چکھ لو۔
(الأنفال50)
لَهُ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْم بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُوْنَهُ مِنْ اَمْرِ اللہ ط اِنَّ اللہَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ ط وَاِذَآ اَرَادَ اللہُ بِقَوْمٍ سُوْٓءً ا فَـلَا مَرَدَّ لَهُ ج وَمَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهِ مِنْ وَّالٍo
(ہر) انسان کے لیے یکے بعد دیگرے آنے والے (فرشتے) ہیں جو اس کے آگے اور اس کے پیچھے اللہ کے حکم سے اس کی نگہبانی کرتے ہیں۔ بے شک اللہ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا یہاں تک کہ وہ لوگ اپنے آپ میں خود تبدیلی پیدا کر ڈالیں، اور جب اللہ کسی قوم کے ساتھ (اس کی اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے) عذاب کا ارادہ فرما لیتا ہے تو اسے کوئی ٹال نہیں سکتا، اور نہ ہی ان کے لیے اللہ کے مقابلہ میں کوئی مددگار ہوتا ہے۔
(الرعد 11)
وَيُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ وَالْمَلٰٓـئِکَةُ مِنْ خِيْفَتِهِ ج وَيُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَيُصِيْبُ بِهَا مَنْ يَّشَآءُ وَهُمْ يُجَادِلُوْنَ فِی ﷲِ ج وَهُوَ شَدِيْدُ الْمِحَالِo
(بجلیوں اور بادلوں کی) گرج (یا اس پر متعین فرشتہ) اور تمام فرشتے اس کے خوف سے اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں، اور وہ کڑکتی بجلیاں بھیجتا ہے پھر جس پر چاہتا ہے اسے گرا دیتا ہے، اور وہ (کفار قدرت کی ان نشانیوں کے باوجود) اللہ کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں، اور وہ سخت تدبیر و گرفت والا ہے۔
(الرعد13)
الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰهُمُ الْمَلٰٓئِکَةُ طَيِّبِيْنَ يَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَيْکُمُ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَo
جن کی روحیں فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وہ (نیکی و طاعت کے باعث) پاکیزہ اور خوش و خرم ہوں، (ان سے فرشتے قبضِ روح کے وقت ہی کہہ دیتے ہیں: ) تم پر سلامتی ہو، تم جنت میں داخل ہو جاؤ اُن (اَعمالِ صالحہ) کے باعث جو تم کیا کرتے تھے۔
(النحل32)
وَ ِﷲِ يَسْجُدُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ مِنْ دَآبَّةٍ وَّالْمَلٰٓئِکَةُ وَهُمْ لَا يَسْتَکْبِرُوْنَo يَخَافُوْنَ رَبَّهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَo
اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے جملہ اور فرشتے، اللہ (ہی) کو سجدہ کرتے ہیں اور وہ (ذرا بھی) غرور و تکبر نہیں کرتےo وہ اپنے رب سے جو ان کے اوپر ہے ڈرتے رہتے ہیں اور جو حکم انہیں دیا جاتا ہے (اسے) بجا لاتے ہیں۔
(النحل 49-50)
اللہُ يَصْطَفِيْ مِنَ الْمَلٰٓئِکَةِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ ط اِنَّ اللہَ سَمِيْعٌ م بَصِيْرٌo
اللہ فرشتوں میں سے (بھی) اور انسانوں میں سے (بھی اپنا) پیغام پہنچانے والوں کو منتخب فرما لیتا ہے۔ بے شک اللہ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے۔
(الحج 75)
وَاِنَّهُ لَتَنْزِيْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَo نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُo عَلٰی قَلْبِکَ لِتَکُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِيْنَo
اور بے شک یہ (قرآن) سارے جہانوں کے رب کا نازل کردہ ہے۔ اسے روح الامین (جبرائیل علیہ السلام) لے کر اترا ہے۔ آپ کے قلبِ (انور) پر تاکہ آپ (نافرمانوں کو) ڈر سنانے والوں میں سے ہو جائیں۔
(الشعراء192-194)
هُوَ الَّذِيْ يُصَلِّيْ عَلَيْکُمْ وَمَلٰٓئِکَتُهُ لِيُخْرِجَکُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ ط وَکَانَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَحِيْمًاo
وہی ہے جو تم پر درود بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی، تاکہ تمہیں اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لے جائے، اور وہ مومنوں پر بڑی مہربانی فرمانے والا ہے۔
(الأحزاب، 33/ 43)
اِنَّ اللہَ وَمَلٰٓئِکَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِيِّ ط يٰٓـاَيُهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًاo
بے شک اللہ اور ا س کے (سب) فرشتے نبیِ (مکرمّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پر درود بھیجتے رہتے ہیں، اے ایمان والو! تم (بھی) اُن پر درود بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو۔
(الأحزاب56)
اَلْحَمْدُ ِﷲِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ جَاعِلِ الْمَلٰٓئِکَةِ رُسُلًا اُولِيْٓ اَجْنِحَةٍ مَّثْنٰی وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ ط يَزِيْدُ فِی الْخَلْقِ مَا يَشَآءُ ط اِنَّ اللہَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيْرٌo
تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو آسمانوں اور زمین (کی تمام وسعتوں) کا پیدا فرمانے والا ہے، فرشتوں کو جو دو دو اور تین تین اور چار چار پَروں والے ہیں، قاصد بنانے والا ہے، اور تخلیق میں جس قدر چاہتا ہے اضافہ (اور توسیع) فرماتا رہتا ہے، بے شک اللہ ہر چیز پر بڑا قادر ہے۔
(فاطر 1)
وَالصّٰفّٰتِ صَفًّاo فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًاo فَالتّٰلِیٰتِ ذِکْرًاo
قسم ہے قطار در قطار صف بستہ جماعتوں کی۔ پھر بادلوں کو کھینچ کرلے جانے والی یا برائیوں پر سختی سے جھڑکنے والی جماعتوں کی۔ پھر ذکر الٰہی (یا قرآن مجید) کی تلاوت کرنے والی جماعتوں کی۔
(الصافات 1-3)
وَ تَرَی الْمَلٰٓئِکَةَ حَآفِّيْنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ ج وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَقِيْلَ الْحَمْدُ ِﷲِ رَبِّ الْعٰـلَمِيْنَo
اور (اے حبیب!) آپ فرشتوں کو عرش کے اردگرد حلقہ باندھے ہوئے دیکھیں گے جو اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہوں گے، اور (سب) لوگوں کے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ کُل حمد اللہ ہی کے لائق ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔
(الزمر 75)
اَلَّذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُوْنَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْاج رَبَّنَا وَسِعْتَ کُلَّ شَيْئٍ رَّحْمَةً وَّعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِيْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِيْلَکَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيْمِo
جو (فرشتے) عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو اُس کے اِرد گِرد ہیں وہ (سب) اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور اہلِ ایمان کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں (یہ عرض کرتے ہیں کہ) اے ہمارے رب! تو (اپنی) رحمت اور علم سے ہر شے کا احاطہ فرمائے ہوئے ہے، پس اُن لوگوں کو بخش دے جنہوں نے توبہ کی اور تیرے راستہ کی پیروی کی اور انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔
(المؤمن 7)
اِذْ يَتَلَقَّی الْمُتَلَقِّيٰنِ عَنِ الْيَمِيْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيْدٌo مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَيْهِ رَقِيْبٌ عَتِيْدٌo
جب دولینے والے (فرشتے اس کے ہر قول و فعل کو تحریر میں) لے لیتے ہیں (جو) دائیں طرف اور بائیں طرف بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہ مُنہ سے کوئی بات نہیںکہنے پاتا مگر اس کے پاس ایک نگہبان (لکھنے کے لیے) تیار رہتا ہے۔
(قٓ 17-18)
تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِکَةُ وَالرُّوْحُ اِلَيْهِ فِيْ يَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِيْنَ اَلْفَ سَنَةٍo
اس (کے عرش) کی طرف فرشتے اور روح الامین عروج کرتے ہیں ایک دن میں، جس کا اندازہ (دنیوی حساب سے) پچاس ہزار برس کا ہے۔
(المعارج 4)
وَالنّٰزِعٰتِ غَرْقًاo وَّ النّٰشِطٰتِ نَشْطًاo وَّ السّٰبِحٰتِ سَبْحًاo فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًاo فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًاo
ان (فرشتوں) کی قَسم جو (کافروں کی جان ان کے جسموں کے ایک ایک انگ میں سے) نہایت سختی سے کھینچ لاتے ہیں۔ اور ان (فرشتوں) کی قَسم جو (مومنوں کی جان کے) بند نہایت نرمی سے کھول دیتے ہیں۔ اور ان (فرشتوں) کی قَسم جو (زمین و آسمان کے درمیان) تیزی سے تیرتے پھرتے ہیں۔ پھر ان (فرشتوں) کی قَسم جو لپک کر (دوسروں سے) آگے بڑھ جاتے ہیں۔ پھر ان (فرشتوں) کی قَسم جو مختلف امور کی تدبیر کرتے ہیں۔
(النازعات 1-5)
اِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِيْمٍo ذِيْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَکِيْنٍo مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِيْنٍo
بے شک یہ (قرآن) بڑی عزت و بزرگی والے رسول کا (پڑھا ہوا) کلام ہے۔ جو (دعوتِ حق، تبلیغِ رسالت اور روحانی استعداد میں) قوت و ہمت والے ہیں (اور) مالکِ عرش کے حضور بڑی قدر و منزلت (اور جاہ و عظمت) والے ہیں۔ (تمام جہانوں کے لیے) واجب الاطاعت ہیں (کیوں کہ ان کی اطاعت ہی اللہ کی اطاعت ہے)، امانت دار ہیں (وحی اور زمین و آسمان کے سب اُلوہی رازوں کے حامل ہیں)۔
(التکوير 19-21)
کَلَّا بَلْ تُکَذِّبُوْنَ بِالدِّيْنِo وَ اِنَّ عَلَيْکُمْ لَحٰفِظِيْنَo کِرَامًا کَاتِبِيْنَo يَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَo
حقیقت تو یہ ہے (اور) تم اِس کے برعکس روزِ جزا کو جھٹلاتے ہو۔ حالانکہ تم پر نگہبان فرشتے مقرر ہیں۔ (جو) بہت معزز ہیں (تمہارے اعمال نامے) لکھنے والے ہیں۔ وہ ان (تمام کاموں) کو جانتے ہیں جو تم کرتے ہو۔
(الانفطار، 9-12)
کَلَّآ اِنَّ کِتٰبَ الْاَبْرَارِ لَفِيْ عِلِّيِّيْنَo وَ مَآ اَدْرٰ کَ مَا عِلِّيُوْنَo کِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌo يَّشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَo
یہ (بھی) حق ہے کہ بے شک نیکوکاروں کا نوشتۂ اعمال علّیین (یعنی دیوان خانۂِ جنت) میں ہے۔ اور آپ نے کیا جانا کہ علّیین کیا ہے؟ (یہ جنت کے اعلیٰ درجہ میں اس بڑے دیوان کے اندر) لکھی ہوئی (ایک) کتاب ہے (جس میں ان جنتیوں کے نام اور اعمال درج ہیں جنہیں اعلیٰ مقامات دیے جائیں گے)۔ اس جگہ (اللہ کے) مقرب فرشتے حاضر رہتے ہیں۔
(المطففین،18-21)
لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍo تَنَزَّلُ الْمَلٰٓئِکَةُ وَالرُّوْحُ فِيْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ ج مِّنْ کُلِّ اَمْرٍo
شبِ قدر (فضیلت و برکت اور اَجر و ثواب میں) ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس (رات) میں فرشتے اور روح الامین (جبرائیل) اپنے رب کے حکم سے (خیر و برکت کے) ہر امر کے ساتھ اترتے ہیں۔
(القدر3-4)
حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ طویل حدیثِ جبرائیل میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔
أَخْبِرْنِي عَنِ الإِيْمَانِ۔ قَالَ: أَنْ تُؤْمِنَ بِاللہِ، وَمَـلَائِکَتِهِ، وَکُتُبِهِ، وَرُسُلِهِ، وَالْيَوْمِ الآخِرِ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ.
حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا: مجھے ایمان کے بارے میں بیان فرمائیں؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر اور قیامت کے دن پر ایمان لائے اور اچھی بری تقدیر پر ایمان رکھے (کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے)۔
أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب الإيمان، باب سؤال جبريل النبي صلی الله عليه وآله وسلم عن الإيمان والإسلام والإحسانِ وعلم الساعة، 1/ 27، الرقم/ 50، ومسلم في الصحيح، کتاب الإيمان، باب بيان الإيمان والإسلام والإحسان، 1/ 36، الرقم/ 8-9، وأحمد بن حنبل في المسند، 1/ 51، الرقم/ 367، والترمذي في السنن، کتاب الإيمان، باب ما جاء في وصف جبريل للنبي صلی الله عليه وآله وسلم الإيمان والإسلام، 5/ 6، الرقم/ 2610، وأبو داود في السنن، کتاب السنة، باب في القدر، 4/ 223، الرقم/ 4695، والنسائي في السنن، کتاب الإيمان وشرائعه، باب نعت الإسلام، 8/ 97-98، الرقم/ 4990.
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
خُلِقَتِ الْمَلَائِکَةُ مِنْ نُوْرٍ، وَخُلِقَ الْجَانُّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ، وَخُلِقَ آدَمُ مِمَّا وُصِفَ لَکُمْ.
فرشتوں کی تخلیق نور سے، جنوں کی آگ کے شعلہ سے اور آدم علیہ السلام کی تخلیق اُس شے سے ہوئی جس کے بارے میں تمہیں پہلے بتایا جاچکا ہے (یعنی سُلٰـلَةٌ مِّنْ طِيْنٍ ’مٹی کے کیمیائی اجزاء کے خلاصہ سے‘)۔
أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الزهد والرقائق، باب في أحاديث متفرقة، 4/ 2294، الرقم/ 2996، وأحمد بن حنبل في المسند، 6/ 153، الرقم/ 25235، وأيضًا، 6/ 168، الرقم/ 25393، وابن حبان في الصحيح، 14/ 25، الرقم/ 6155، وعبد الرزاق في المصنف، 11/ 425، الرقم/ 20904، وابن راهويه في المسند، 2/ 277، الرقم/ 786، وعبد بن حميد في المسند، 1/ 430، الرقم/ 1479، والبيهقي في السنن الکبری، 9/ 3، الرقم/ 17487، وأيضًا في شعب الإيمان، 1/ 168، الرقم/ 143.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
يَتَعَاقَبُوْنَ فِيْکُمْ مَـلَائِکَةٌ بِاللَّيْلِ، وَمَـلَائِکَةٌ بِالنَّهَارِ، وَيَجْتَمِعُوْنَ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ، وَصَلَاةِ الْفَجْرِ، ثُمَّ يَعْرُجُ الَّذِيْنَ بَاتُوْا فِيْکُمْ، فَيَسْأَلُهُمْ – وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ – کَيْفَ تَرَکْتُمْ عِبَادِي؟ فَيَقُوْلُوْنَ: تَرَکْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّوْنَ، وَأَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّوْنَ.
رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے تمہارے پاس باری باری آتے ہیں اور نمازِ عصر اور نمازِ فجرکے وقت اکٹھے ہوتے ہیں۔ پھر جنہوں نے تمہارے ساتھ رات گزاری تھی وہ آسمان کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ اللہ رب العزت اُن سے دریافت فرماتا ہے حالانکہ وہ بہتر جانتا ہ تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا؟ وہ عرض کرتے ہیں: ہم نے اُنہیں نماز پڑھتے چھوڑا اور جب ہم اُن کے پاس گئے تب بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔
أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب التوحید، باب کلام الرب مع جبريل ونداء اللہ الملائکة، 6/ 2721، الرقم/ 7048، والنسائي في السنن الکبری، 1/ 175، الرقم/ 459، ومالک في الموطأ، 1/ 170، الرقم/ 411، وأبو عوانة في المسند، 1/ 315، الرقم/ 1119، والبيهقي في شعب الإيمان، 3/ 50، الرقم/ 2836.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
إِنَّ ﷲِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی مَـلَائِکَةً سَيَّارَةً فُضُلًا، يَتَتَبَّعُوْنَ مَجَالِسَ الذِّکْرِ، فَإِذَا وَجَدُوْا مَجْلِسًا فِيْهِ ذِکْرٌ، قَعَدُوْا مَعَهُمْ، وَحَفَّ بَعْضُهُمْ بَعْضًا بِأَجْنِحَتِهِمْ، حَتّٰی يَمْلَئُوْا مَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ السَّمَاءِ الدُّنْيَا۔ فَإِذَا تَفَرَّقُوْا عَرَجُوْا وَصَعِدُوْا إِلَی السَّمَاءِ.
بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو گشت کرتے رہتے ہیں اور (متعین کردہ فرشتوں سے) زائد ہیں۔ وہ مجالسِ ذکر کو ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ جب وہ ذکر کی کوئی مجلس دیکھتے ہیں تو ان (ذاکرین) کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں اور اپنے پروں سے ایک دوسرے کو (اوپر تلے) ڈھانپ لیتے ہیں۔ حتیٰ کہ زمین سے لے کر آسمانِ دنیا تک کی جگہ (ان کے نورانی وجود سے) بھر جاتی ہے۔ پھر جب ذاکرین مجلس سے اٹھ جاتے ہیں تو یہ فرشتے بھی آسمان کی طرف واپس چلے جاتے ہیں۔
أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الذکر والدعا والتوبة والاستغفار، باب فضل مجالس الذکر، 4/ 2069، الرقم/ 2689، وأحمد بن حنبل في المسند، 2/ 252، الرقم/ 7420، وأيضًا، 2/ 382، الرقم/ 8960، وذکره المنذري في الترغيب والترهيب، 2/ 259، الرقم/ 2316، وأيضًا، 4/ 244، الرقم/ 5523.
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ
رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللہِ ﷺ يَوْمَ أُحُدٍ، وَمَعَهُ رَجُـلَانِ يُقَاتِـلَانِ عَنْهُ، عَلَيْهِمَا ثِيَابٌ بِيْضٌ، کَأَشَدِّ الْقِتَالِ۔ مَا رَأَيْتُهُمَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ.
غزوہ اُحد کے روز میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دو ایسے آدمی دیکھے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب سے لڑ رہے تھے۔ اُنہوں نے سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے اور جرات و بہادری سے بر سرِ پیکار تھے۔ میں نے اُنہیں اِس سے پہلے کبھی دیکھا تھا نہ بعد میں۔
أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب المغازي، باب {إِذَ هَمَّتْ طَائِفَتَانِِ مِنْکُمْ أَنْ تَفْشَلاَ وَاللّٰهُ وَلِيُهُمَا وَعَلَی اللہ فَلْيَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ}، (آل عمران، 3/ 122)، 4/ 1489، الرقم/ 3828، وأیضًا في کتاب اللباس، باب الثیاب البیض، 5/ 2192، الرقم/ 5488، ومسلم في الصحيح، کتاب الفضائل، باب في قتال جبریل ومیکائیل عن النبي صلی الله عليه وآله وسلم یوم أحد، 4/ 1802، الرقم/ 2306، وأحمد بن حنبل في المسند، 1/ 171، الرقم/ 1468، والشاشي في المسند، 1/ 185، الرقم/ 133.
ایک روایت میں حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ – جو کہ بدری صحابہ میں سے ہیں – بیان فرماتے ہیں کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر دریافت کیا:
مَا تَعُدُّوْنَ أَهْلَ بَدْرٍ فِيْکُمْ؟ قَالَ: مِنْ أَفْضَلِ الْمُسْلِمِيْنَ أَوْ کَلِمَةً نَحْوَهَا. قَالَ: وَکَذٰلِکَ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْمَـلَائِکَةِ.
(یا رسول اللہ!) آپ غزوئہ بدر میں شرکت کرنے والے (صحابہ) کو کیسا سمجھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اُنہیں مسلمانوں میں سب سے افضل شمار کرتا ہوں یا ایسا ہی کوئی دوسرا کلمہ ارشاد فرمایا۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا: غزوئہ بدر میں شمولیت کرنے والے فرشتے بھی (فضیلت کے اعتبار سے) دوسرے فرشتوں میں اِسی طرح ہیں۔
أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب المغازي، باب شهود الملائکة بدرا، 4/ 1467، الرقم/ 3771، وأحمد بن حنبل في المسند عن رافع بن خديج، 3/ 465، الرقم/ 15858، وابن ماجه في السنن عن رافع بن خديج، المقدمة، باب فضل أهل بدر، 1/ 56، الرقم/ 160، وابن أبي شيبة في المصنف، 7/ 364، الرقم/ 36725، 36731، وذکره ابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 2/ 291، والکناني في مصباح الزجاجة، 1/ 24، الرقم/ 58.
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
کَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم يَمْشُوْنَ أَمَامَهُ إِذَا خَرَجَ وَيَدَعُوْنَ ظَهْرَهُ لِلْمَـلَائِکَةِ.
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب باہر تشریف لے جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ آپ کے سامنے چلتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت مبارک کو فرشتوں کے لیے چھوڑ دیتے تھے، (فرشتے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے پیچھے چلتے تھے)۔
أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 3/ 302، الرقم/ 14274، ابن ماجه في السن، المقدمة، باب من کره أن یوطأ عقباه، 1/ 90، الرقم/ 246، وابن حبان في الصحيح، 14/ 218، الرقم/ 6312، وذکره ابن الجوزي في صفة الصفوة، 1/ 186، والهيثمي في موارد الظمآن، 1/ 514، الرقم/ 2099، والمناوي في فيض القدير، 5/ 161، والکناني في مصباح الزجاجة، 1/ 36، الرقم/ 97، والسیوطي في شرحه علی سنن ابن ماجه، 1/ 22، الرقم/ 244.
حضرت نُبَیہ بن وہب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت کعب احبار رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ صدیقہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اہلِ مجلس نے حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کیا۔
حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے کہا:
مَا مِنْ يَوْمٍ يَطْلُعُ إِلَّا نَزَلَ سَبْعُوْنَ أَلْفًا مِنَ الْمَـلَائِکَةِ حَتّٰی يَحُفُّوْا بِقَبْرِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم يَضْرِبُوْنَ بِأَجْنِحَتِهِمْ، وَيُصَلُّوْنَ عَلٰی رَسُوْلِ اللہِ ﷺ ، حَتّٰی إِذَا أَمْسَوْا عَرَجُوْا وَهَبَطَ مِثْلُهُمْ فَصَنَعُوْا مِثْلَ ذٰلِکَ، حَتّٰی إِذَا انْشَقَّتْ عَنْهُ الْأَرْضُ خَرَجَ فِي سَبْعِيْنَ أَلْفًا مِنَ الْمَـلَائِکَةِ يَزِفُّوْنَهُ.
جب بھی دن نکلتا ہے (یعنی ہر روز) ستر ہزار فرشتے اُترتے ہیں یہاں تک کہ وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ انور کو (اپنے نورانی وجود سے) گھیر لیتے ہیں، (حصولِ برکت و توسل کے لیے) قبرِ اقدس سے اپنے پَر مس کرتے ہیں، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود (و سلام) بھیجتے ہیں اور شام ہوتے ہی آسمانوں پر چلے جاتے ہیں۔ اسی طرح شام کے وقت بھی اتنے ہی فرشتے مزید اُترتے ہیں اور وہ بھی دن والے فرشتوں کی طرح کا عمل دہراتے ہیں۔ حتیٰ کہ جب (روزِ قیامت) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ مبارک شق ہو گی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ستر ہزار فرشتوں کے جھرمٹ میں (میدانِ حشر میں) تشریف لائیں گے۔
أخرجه الدارمي في السنن، باب ما أکرم اللہ تعالی نبيه بعد موته، 1/ 57، الرقم/ 94، وذکره ابن القيّم في جلاء الأفهام/ 135، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، في قول اللہ تعالی: هو الذي يصلي عليکم وملائکته، 3/ 518، والسمهودي في وفاء الوفاء، 2/ 559، والقسطلاني في المواهب اللدنية، 4/ 625، والزرقاني في شرح المواهب اللدينية، 12/ 283-284، والصالحي في سبل الهدی والرشاد، 12/ 452-453.
ایک اور روایت میں حضرت نبیہ بن وہب ہی بیان کرتے ہیں کہ حضرت کعب الاحبار نے فرمایا:
مَا مِنْ فَجْرٍ يَطْلُعُ إِلَّا نَزَلَ سَبْعُوْنَ أَلْفَ مَلَکٍ مِنَ الْمَـلَائِکَةِ حَتّٰی يَحُفُّوْا بِالْقَبْرِ يَضْرِبُوْنَ بِأَجْنِحَتِهِمْ وَيُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم حَتّٰی إِذَا أَمْسَوْا عَرَجُوْا وَهَبَطَ مِثْلُهُمْ فَصَنَعُوْا مِثْلَ ذٰلِکَ حَتّٰی إِذَا انْشَقَّتِ الْأَرْضُ خَرَجَ فِي سَبْعِيْنَ أَلْفًا مِنَ الْمَـلَائِکَةِ يُوَقِّرُوْنَهُ صلی الله عليه وآله وسلم تَسْلِيْمًا کَثِيْرًا.
کوئی صبح ایسی طلوع نہیں ہوتی جس میں ستر ہزار فرشتے نہ اُترتے ہوں، یہاں تک کہ وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ انور کو اپنے پروں سے گھیر لیتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب شام ہو جاتی ہے۔ تو وہ آسمانوں کی طرف پرواز کر جاتے ہیں اور اُن جیسے دوسرے فرشتے اُتر کر یہی عمل دہراتے ہیں، یہاں تک کہ (قیامت کے دن) جب (آپ کی قبرِ انور) کی زمین کھُلے گی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ستر ہزار فرشتوں کے جھرمٹ میں (میدانِ حشر کی طرف) تشریف لے جائیں گے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے سلام پیش کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم و توقیر بجا لائیں گے۔
أخرجه ابن حيان في العظمة، 3/ 1018-1019، الرقم/ 537، والبيهقي في شعب الإيمان، 3/ 492-493، الرقم/ 4170، وأبو نعيم في حلية الأولياء، 5/ 390، وابن النجاد في الرد علی من يقول القرآن مخلوق/ 63، الرقم/ 89، وابن الجوزي في الوفا/ 833، الرقم/ 1578.
حضرت عبد اللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
إِنَّ ِﷲِ مَـلَائِکَةً سَيَّاحِيْنَ فِي الْأَرْضِ، يُبَلِّغُوْنِي مِنْ أُمَّتِي السَّـلَامَ.
بلا شبہ اللہ تعالیٰ کی زمین میں بعض گشت کرنے والے فرشتے ہیں (جن کا کام یہی ہے کہ) وہ مجھے میری اُمت کا سلام پہنچاتے ہیں۔
أخرجه النسائي في السنن کتاب السهو، باب السلام علی النبي صلی الله عليه وآله وسلم، 3/ 43، الرقم/ 1282، وأيضًا في السنن الکبری، 1/ 380، الرقم/ 1205، وأيضًا، 6/ 22، الرقم/ 9894، والدارمي في السنن، 2/ 409، الرقم/ 2774، والحاکم في المستدرک، 2/ 456، الرقم/ 3576، وابن حبان في الصحيح، 3/ 195، الرقم/ 914، وعبد الرزاق في المصنف، 2/ 215، الرقم/ 3116، وابن أبي شيبة في المصنف، 2/ 253، 6/ 316، الرقم/ 8705، 31721.
ایک روایت میں حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
إِنَّ اللہَ وَکَّلَ بِقَبْرِي مَلَکًا أَعْطَاهُ أَسْمَاعَ الْخَـلَائِقِ، فَـلَا يُصَلِّي عَلَيَّ أَحَدٌ إِلٰی يَوْمِ الْقِيَامَةِ، إِلَّا بَلَغَنِي بِاسْمِهِ وَاسْمِ أَبِيْهِ، هٰذَا فُـلَانُ بْنُ فُـلَانٍ قَدْ صَلّٰی عَلَيْکَ.
بے شک اللہ تعالیٰ نے میری قبر پر ایک فرشتہ مقرر کیا ہوا ہے، جسے اس نے تمام مخلوقات کی آوازیں سننے (اور سمجھنے)کی قوت عطا فرمائی ہے چنانچہ قیامت کے دن تک جو بھی مجھ پر درود پڑھے گا، وہ فرشتہ اس درود پڑھنے والے کا نام اور اس کے والد کا نام مجھے پہنچائے گا اور عرض کرے گا: (یا رسول اللہ!) یہ فلاں بن فلاں ہے جس نے آپ پر درود پیش کیا ہے۔
أخرجه البزار في المسند، (ابن الحِمْيَرِي)، 4/ 254-255، الرقم/ 1425، 1426، والبخاري في التاريخ الکبير، 6/ 416، الرقم/ 2831، وذکرہ الهيثمي في مجمع الزوائد، 10/ 162.
ایک روایت میں حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
مَنْ صَلّٰی عَلَيَّ، صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ عَشَرًا بِهَا، مَلَکٌ مُوَکَّلٌ بِهَا حَتّٰی يُبَلِّغَنِيْهَا.
جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے عوض میں اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ ایک فرشتہ کے ذمہ یہ کام لگا دیا گیا ہے کہ وہ اس ہدیۂ درود کو میری خدمت میں پیش کیا کرے۔
أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، باب الصاد، ما أسند أبو أمامة رضی الله عنه، 8/ 134، الرقم/ 7611، وأيضًا في مسند الشاميين، 4/ 324، الرقم/ 3445، وذکره المنذري في الترغيب والترہيب، 2/ 326، الرقم/ 2569.
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
إِنَّ ِﷲِ فِي سَمَاءِ الدُّنْيَا مَـلَائِکَةً خُشُوْعًا لَا يَرْفَعُوْنَ رُؤُوْسَهُمْ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَةُ، فَإِذَا قَامَتِ السَّاعَةُ، رَفَعُوْا رُؤُوْسَهُمْ، قَالُوْا: رَبَّنَا مَا عَبَدْنَاکَ حَقَّ عِبَادَتِکَ، وَإِنَّ ِﷲِ فِي السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ مَـلَائِکَةً سُجُوْدًا، لَا يَرْفَعُوْنَ رُؤُوْسَهُمْ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَةُ، فَإِذَا قَامَتِ السَّاعَةُ، رَفَعُوْا رُؤُوْسَهُمْ. ثُمَّ قَالُوْا: رَبَّنَا مَا عَبَدْنَاکَ حَقَّ عِبَادَتِکَ.
بے شک آسمانِ دنیا پر اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو بطورِ عبادت ہر وقت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے سروں کو جھکائے رکھتے ہیں۔ وہ اپنے سر صرف روزِ قیامت ہی اُٹھائیں گے اور (اللہ کی بارگاہ میں) عرض کریں گے: اے ہمارے رب! ہم تیری عبادت کا حق ادا نہیں کر سکے۔ اور دوسرے آسمان پر اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جن کے سر سجدے میں ہیں اور وہ سجدے سے اپنے سر روزِ قیامت ہی اُٹھائیں گے اور عرض کریں گے: اے ہمارے رب! ہم تیری عبادت کا حق ادا نہیں کر سکے۔
أخرجه الحاکم في المستدرک، کتاب معرفة الصحابة، باب ومن مناقب أمير المؤمنين عمر بن الخطاب رضی الله عنه، 3/ 93، الرقم/ 4502، وابن حيان في العظمة، 3/ 1015، الرقم/ 534، والبيهقي في شعب الإيمان، 1/ 183، الرقم/ 166، وذکره ابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 4/ 446.
ایک روایت میں حضرت عبد الرحمن بن ساب ط رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دنیا کے اُمور کا انتظام چار فرشتوں کے ذمہ ہے۔
جِبْرِيْلُ وَمِکَائِيْلُ وَمَلَکُ الْمَوْتِ وَإِسْرَافِيْلُ. فَأَمَّا جِبْرِيْلُ: فَوُکِّلَ بِالرِّيَاحِ وَالْجُنُوْدِ، وَأَمَّا مِيْکَائِيْلُ: فَوُکِّلَ بِالْقَطْرِ وَالنَّبَاتِ، وَأَمَّا مَلَکُ الْمَوْتِ: فَوُکِّلَ بِقَبْضِ الأَرْوَاحِ، وَأَمَّا إِسْرَافِيْلُ: فَهُوَ يَنْزِلُ بِالأَمْرِ عَلَيْهِمْ.
رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَالْبَيْهَقِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ.
حضرت جبرائیل، حضرت میکائیل، ملک الموت اور اسرافیل۔ حضرت جبرائیل ہواؤں اور لشکروں پر مقرر ہیں۔ حضرت میکائیل بارش اور نباتات پر اور ملک الموت روحیں قبض کرنے پر مقرر ہیں جبکہ اسرافیل لوگوں پر عذاب نازل کرنے پر مقرر ہیں۔
أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف، 7/ 159، الرقم/ 34969، والبيهقي في شعب الإيمان، 1/ 176-177، الرقم/ 158، وابن حيان في العظمة، 3/ 808، 810، الرقم/ 376، 378، وذکره السيوطي في الدر المنثور، 8/ 405.
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
مَا فِي السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ مَوضِعُ قَدَمٍ وَلَا شِبْرٍ وَلَا کَفٍّ إِلَّا وَفِيْهِ مَلَکٌ قَائِمٌ أَوْ مَلَکٌ رَاکِعٌ أَوْ مَلَکٌ سَاجِدٌ، فَإِذَا کَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ قَالُوْا جَمِيْعًا: سُبْحَانَکَ مَا عَبَدْنَاکَ حَقَّ عِبَادَتِکَ إِلَّا أَنَّا لَمْ نُشْرِکْ بِکَ شَيْئًا.
سات آسمانوں میں ایک قدم برابر، بالشت برابر اور ہتھیلی برابر بھی کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ حالتِ قیام یا حالتِ رکوع یا حالتِ سجدہ میں نہ ہو۔ جب قیامت کا دن ہوگا تو وہ تمام فرشتے عرض کریں گے: اے اللہ! تو پاک ہے، ہم تیری عبادت کا حق ادا نہیں کر سکے مگر (اتنا عرض ہے کہ) بے شک ہم نے کبھی کسی کو تیرے ساتھ شریک نہیں ٹھہرایا۔
أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 2/ 184، الرقم/ 1751، وأيضًا في المعجم الأوسط، 4/ 44، الرقم/ 3568، وذکرہ الھيثمي في مجمع الزوائد، 1/ 51-52، وأيضًا، 10/ 358، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 4/ 446.
حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
إِنَّ أَعْظَمَ أَيَّامِ الدُّنْيَا يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيْهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيْهِ تَقُوْمُ السَّاعَةُ، وَإِنَّ أَکْرَمَ خَلِيْقَةِ اللہ عَلَی اللہ أَبُو الْقَاسِمِ صلی الله عليه وآله وسلم۔ قَالَ: قُلْتُ: يَرْحَمُکَ اللہُ فَأَيْنَ الْمَـلَائِکَةُ؟ قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيَّ وَضَحِکَ وَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، هَلْ تَدْرِي مَا الْمَـلَائِکَةُ؟ إِنَّمَا الْمَـلَائِکَةُ خَلْقٌ کَخَلْقِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَالرِّيَاحِ وَالسَّحَابِ وَسَائِرِ الْخَلْقِ الَّذِي لَا يَعْصِي اللہَ شَيْئًا.
ایامِ دنیا میں سے افضل ترین دن جمعہ کا ہے، اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کو تخلیق کیا گیا اور اِسی روز قیامت قائم ہو گی۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام مخلوق میں سب سے معزز ابو القاسم (حضرت محمد) صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ (راوی بِشر) بیان کرتے ہیں: میں نے (حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کی خدمت میں) عرض کیا: اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے، فرشتوں کا مقام کیا ہے؟ (راوی بِشر) بیان کرتے ہیں: اُنہوں نے میری طرف دیکھا اور مسکرائے۔ پھر فرمایا: اے بھتیجے! کیا تم جانتے ہو کہ فرشتے کون ہیں؟ فرشتے صرف زمین، آسمان، ہوا، بادل اور دیگر تمام مخلوقات کی طرح (اللہ تعالیٰ کی) ایک مخلوق ہیں جو کسی معاملے میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتے۔
أخرجه الحاکم في المستدرک، 4/ 612، الرقم/ 8698، والبيهقي في شعب الإيمان، 1/ 172، الرقم/ 149.
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
يُحْمَلُ النَّاسُ عَلَی الصِّرَاطِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَتَقَادَعُ بِهِمْ جَنَبَةُ الصِّرَاطِ تَقَادُعَ الْفَرَاشِ فِي النَّارِ. قَالَ: فَيُنْجِي اللہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ. قَالَ: ثُمَّ يُؤْذَنُ لِلْمَلَائِکَةِ وَالنَّبِيِّيْنَ وَالشُّهَدَاءِ أَنْ يَشْفَعُوْا، فَيَشْفَعُوْنَ وَيُخْرِجُوْنَ، وَيَشْفَعُوْنَ وَيُخْرِجُوْنَ، وَيَشْفَعُوْنَ وَيُخْرِجُوْنَ، وَزَادَ عَفَّانُ مَرَّةً، فَقَالَ أَيْضًا: وَيَشْفَعُوْنَ وَيُخْرِجُوْنَ مَنْ کَانَ فِي قَلْبِهِ مَا يَزِنُ ذَرَّةً مِنْ إِيْمَانٍ.
قیامت کے دن لوگ پل صراط پر چلیں گے تو پل صراط کا کنارہ ان کو پتنگوں کے آگ میں گرنے کی طرح اس میں گرائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر اللہ اپنی رحمت سے جسے چاہے گا نجات دے گا۔ پھر فرشتوں، نبیوں، اور شہداء کو اجازت دی جائے گی کہ وہ شفاعت کریں۔ چنانچہ وہ شفاعت کریں گے اور لوگوں کو (دوزخ سے) نکالیں گے، پھر وہ شفاعت کریں گے اور (دوزخیوں) کو نکالیں گے، پھر وہ شفاعت کریں گے اور (دوزخیوں) کو نکالیں گے۔ عفان نے اس میں ایک مرتبہ کا اضافہ کیا ہے اور یہ بھی کہا ہے: وہ شفاعت کریں گے اور جس کے دل میں ذرہ بھر بھی ایمان ہو گا اس کو بھی (دوزخ سے) نکال لیں گے۔
20: أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 5/ 43، الرقم/ 20457، والبزار في المسند، 9/ 122-123، الرقم/ 3671، والطبراني في المعجم الصغير، 2/ 142، الرقم/ 929، وابن أبي عاصم في السنة، 2/ 403، الرقم/ 837، وذکره الهيثمي في مجمع الزوائد، 10/ 359، وقال الألباني: إسناده حسن أو متحمل للتحسين رجاله کلهم ثقات.
ایک روایت میں حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
أَوَّلُ شَافِعٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، جِبْرَائِيْلُ عليه السلام رُوْحُ الْقُدُسِ، ثُمَّ إِبْرَاهِيْمُ خَلِيْلُ الرَّحْمٰنِ عليه السلام، ثُمَّ مُوْسٰی أَوْ عِيْسٰی. قَالَ أَبُوالزَّعْرَاءِ: لَا أَدْرِي أَيُهُمَا قَالَ، قَالَ: ثُمَّ يَقُوْمُ نَبِيُکُمْ صلی الله عليه وآله وسلم رَابِعًا، فَـلَا يَشْفَعُ أَحَدٌ بِمِثْلِ شَفَاعَتِهِ وَهُوَ وَعْدُهُ الْمَحْمُوْدُ الَّذِي وَعَدَهُ.
قیامت کے دن سب سے پہلے حضرت جبرائیل علیہ السلام، پھر خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام، پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام شفاعت کریں گے۔ ابو زَعراء کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ ان دونوں میں سے کون شفاعت کرے گا، (راوی) کہتے ہیں: آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر چوتھے (اور آخری مرحلے پر) آپ کے نبی مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (حتمی شفاعت کے لیے) قیام فرمائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت جیسی کوئی بھی شفاعت نہیں کر سکے گا اور یہی اللہ تعالیٰ کا کیا ہوا وہ وعدۂ مقام محمود ہے جو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کر رکھا ہے۔
أخرجه النسائي في السنن الکبری، 6/ 382، الرقم/ 11296، والحاکم في المستدرک، 4/ 641، الرقم/ 8772، وابن أبي شيبة في المصنف، 7/ 271، الرقم/ 36001، والطبراني في المعجم الکبير، 9/ 356، الرقم/ 9761
وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕo
اور وہ لوگ جو آپ کی طرف نازل کیا گیا اور جو آپ سے پہلے نازل کیا گیا (سب) پر ایمان لاتے ہیں، اور وہ آخرت پر بھی (کامل) یقین رکھتے ہیں۔
(البقرة، 4)
قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلٰۤی اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰی وَ عِیْسٰی وَ مَاۤ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ ۚ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ ۖؗ وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَo
(اے مسلمانو!) تم کہہ دو ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس (کتاب) پر جو ہماری طرف اتاری گئی اور اس پر (بھی) جو ابراہیم اور اسماعیل اور اسحق اور یعقوب (علیہم السلام) اور ان کی اولاد کی طرف اتاری گئی اور ان (کتابوں) پر بھی جو موسیٰ اور عیسیٰ (علیہا السلام) کو عطا کی گئیں اور (اسی طرح) جو دوسرے انبیاء (علیہم السلام) کو ان کے رب کی طرف سے عطا کی گئیں، ہم ان میں سے کسی ایک (پر بھی ایمان) میں فرق نہیں کرتے، اور ہم اسی (معبودِ واحد) کے فرمانبردار ہیں۔
(البقرة136)
الٓمَّo اَللهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْحَيُ الْقَيُوْمُo نَزَّلَ عَلَيْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقاً لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَاَنْزَلَ التَّوْرٰةَ وَالْاِنْجِيْلَo مِنْ قَبْلُ هُدًی لِّلنَّاسِ وَ اَنْزَلَ الْفُرْقَانَ ؕ۬ اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍo
الف لام میم (حقیقی معنٰی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)۔ اللہ، اس کے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں (وہ) ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے (سارے عالم کو اپنی تدبیر سے) قائم رکھنے والا ہے۔ (اے حبیب!) اسی نے (یہ) کتاب آپ پر حق کے ساتھ نازل فرمائی ہے (یہ) ان (سب کتابوں) کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے اتری ہیں اور اسی نے تورات اور انجیل نازل فرمائی ہے۔(جیسے) اس سے قبل لوگوں کی رہنمائی کے لیے (کتابیں اتاری گئیں) اور (اب اسی طرح) اس نے حق اور باطل میں امتیاز کرنے والا (قرآن) نازل فرمایا ہے، بے شک جو لوگ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں ان کے لیے سنگین عذاب ہے، اور اللہ بڑا غالب انتقام لینے والا ہے۔
(آل عمران1-4)
قُلْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلٰۤی اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰی وَ عِیْسٰی وَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ ۪ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ ؗ وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَo
آپ فرمائیں: ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں اور جو کچھ ہم پر اتارا گیا ہے اور جو کچھ ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) اور ان کی اولاد پر اتارا گیا ہے اور جو کچھ موسیٰ اور عیسیٰ اور جملہ انبیاء (علیہم السلام) کو ان کے رب کی طرف سے عطا کیا گیا ہے (سب پر ایمان لائے ہیں)، ہم ان میں سے کسی پر بھی ایمان میں فرق نہیں کرتے اور ہم اسی کے تابع فرمان ہیں۔
(آل عمران84)
هٰۤاَنْتُمْ اُولَآءِ تُحِبُّوْنَهُمْ وَ لَا یُحِبُّوْنَكُمْ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِالْكِتٰبِ كُلِّهٖ ۚ .
آگاہ ہو جاؤ! تم وہ لوگ ہو کہ ان سے محبت رکھتے ہو اور وہ تمہیں پسند (تک) نہیں کرتے حالاں کہ تم سب کتابوں پر ایمان رکھتے ہو۔
(آل عمران119)
اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ ؕ وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِیْهِ اخْتِلَافًا كَثِیْرًاo
تو کیا وہ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے اور اگر یہ (قرآن) غیرِ خدا کی طرف سے (آیا) ہوتا تو یہ لوگ اس میں بہت سا اختلاف پاتے۔
(النساء82)
قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰی شَیْءٍ حَتّٰی تُقِیْمُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا ۚ فَلَا تَاْسَ عَلَی الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَo
فرما دیجیے: اے اہلِ کتاب! تم (دین میں سے) کسی شے پر بھی نہیں ہو، یہاں تک کہ تم تورات اور انجیل اور جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے (نافذ اور) قائم کر دو، اور (اے حبیب!) جو (کتاب) آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کی گئی ہے یقینا ان میں سے اکثر لوگوں کو (حسداً) سرکشی اور کفر میں بڑھا دے گی، سو آپ گروہِ کفار (کی حالت) پر افسوس نہ کیا کریں۔
(المائدة68)
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ ۙ۬ وَ هُدًی وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَo
اے لوگو! بے شک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت اور ان (بیماریوں) کی شفاء آگئی ہے جو سینوں میں (پوشیدہ) ہیں اور ہدایت اور اہلِ ایمان کے لیے رحمت (بھی)۔
(یونس57)
الٓرٰ ۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ۫o اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَo
الف لام را (حقیقی معنٰی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)، یہ روشن کتاب کی آیتیں ہیں۔ بے شک ہم نے اس کتاب کو قرآن کی صورت میں بزبانِ عربی اتارا تاکہ تم (اسے براہِ راست) سمجھ سکو۔
(يوسف1-2)
وَ لَقَدْ كَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُهَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَo
اور بلا شبہ ہم نے زبور میں نصیحت کے (بیان کے) بعد یہ لکھ دیا تھا کہ (عالمِ آخرت کی) زمین کے وارث صرف میرے نیکو کار بندے ہوں گے۔
(الأنبياء 105)
وَاِنَّهُ لَتَنْزِيْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَo نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُo عَلٰی قَلْبِکَ لِتَکُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِيْنَo بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِيْنٍo وَاِنَّهُ لَفِيْ زُبُرِ الْاَوَّلِيْنَo
اور بے شک یہ (قرآن) سارے جہانوں کے رب کا نازل کردہ ہے۔ اسے روح الامین (جبرائیل علیہ السلام) لے کر اترا ہے۔ آپ کے قلبِ (انور) پر تاکہ آپ (نافرمانوں کو) ڈر سنانے والوں میں سے ہو جائیں۔ (اس کا نزول) فصیح عربی زبان میں (ہوا) ہے۔ اوربے شک یہ پہلی امتوں کے صحیفوں میں (بھی مذکور) ہے۔
(الشعراء192-196)
اِنَّ الَّذِيْنَ کَفَرُوْا بِالذِّکْرِ لَمَّا جَآءَهُمْ ج وَاِنَّهُ لَـکِتٰبٌ عَزِيْزٌo لَّا یَاْتِیْهِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ لَا مِنْ خَلْفِهٖ ؕ تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَكِیْمٍ حَمِیْدٍo
بے شک جنہوں نے قرآن کے ساتھ کفر کیا جب کہ وہ اُن کے پاس آچکا تھا (تویہ اُن کی بد نصیبی ہے) اور بے شک وہ (قرآن) بڑی باعزت کتاب ہے۔ باطل اِس (قرآن) کے پاس نہ اس کے سامنے سے آسکتا ہے اور نہ ہی اس کے پیچھے سے، (یہ) بڑی حکمت والے، بڑی حمد والے (رب) کی طرف سے اتارا ہوا ہے۔
(حم السجدة41-42)
قَالُوْا یٰقَوْمَنَاۤ اِنَّا سَمِعْنَا كِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰی مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ یَهْدِیْۤ اِلَی الْحَقِّ وَ اِلٰی طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍo
انہوں نے کہا: اے ہماری قوم! (یعنی اے قومِ جنّات) بے شک ہم نے ایک (ایسی) کتاب سنی ہے جو موسیٰ (علیہ السلام کی تورات) کے بعد اتاری گئی ہے (جو) اپنے سے پہلے (کی کتابوں) کی تصدیق کرنے والی ہے (وہ) سچّے (دین) اور سیدھے راستے کی طرف ہدایت کرتی ہے۔
(الأحقاف 30)
وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ ۙ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ اَصْلَحَ بَالَهُمْo
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور اس (کتاب) پر ایمان لائے جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کی گئی ہے اور وہی ان کے رب کی جانب سے حق ہے اللہ نے ان کے گناہ ان (کے نامۂِ اعمال) سے مٹا دیے اور ان کا حال سنوار دیا۔
(محمد 2)
اَمْ لَمْ يُنَبَّاْ بِمَا فِيْ صُحُفِ مُوْسٰیo وَاِبْرٰهِيْمَ الَّذِيْ وَفّٰیo اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰیo
کیا اُسے اُن (باتوں) کی خبر نہیں دی گئی جو موسیٰ (علیہ السلام) کے صحیفوں میں (مذکور) تھیں؟ اور ابراہیم (علیہ السلام) کے (صحیفوں میں تھیں) جنہوں نے (اللہ کے ہر امر کو) بتمام و کمال پورا کیا۔ کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے (کے گناہوں) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
(النجم36-38)
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکیّٰo وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلّٰیo بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْيَاo وَالْاٰخِرَةُ خَيْرٌ وَّاَبْقٰیo اِنَّ هٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰیo صُحُفِ اِبْرٰهِيْمَ وَمُوْسٰیo
بے شک وہی بامراد ہوا جو (نفس کی آفتوں اور گناہ کی آلودگیوں سے) پاک ہوگیا۔ اور وہ اپنے رب کے نام کا ذکر کرتا رہا اور (کثرت و پابندی سے) نماز پڑھتا رہا۔ بلکہ تم (اللہ کی طرف رجوع کرنے کی بجائے) دنیاوی زندگی (کی لذتوں) کو اختیار کرتے ہو۔ حالاں کہ آخرت (کی لذت و راحت) بہتر اور ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ بے شک یہ (تعلیم) اگلے صحیفوں میں (بھی مذکور) ہے۔(جو) ابراہیم اور موسیٰ (علیہما السلام) کے صحائف ہیں۔
(الأعلی14-19)
رَسُوْلٌ مِّنَ اللهِ يَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَهَرَةًo فِيْهَا کُتُبٌ قَيِّمَةٌo
(وہ دلیل) اللہ کی طرف سے رسول (آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ہیں جو (ان پر) پاکیزہ اوراقِ (قرآن) کی تلاوت فرماتے ہیں۔ جن میں درست اور مستحکم احکام (درج) ہیں۔
(البينة 2-3)
حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کیا:
يَا رَسُوْلَ اللهِ، مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: أَنْ يُسْلِمَ قَلْبُکَ لِلّٰہِ وَأَنْ يَسْلَمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِکَ وَيَدِکَ. قَالَ: فَأَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: الإيمان. قَالَ: وَمَا الإيمان؟ قَالَ: تُؤْمِنُ بِاللهِ وَمَـلَائِکَتِهِ وَکُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ.
یا رسول اللہ! اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (اسلام یہ ہے کہ) تمہارا دل اللہ تعالیٰ کے لیے سراپا تسلیم ہو جائے اور تمام مسلمان تمہاری زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہیں۔ اُس نے عرض کیا: کون سا اِسلام افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (جس میں) ایمان کامل ہو۔ اُس نے عرض کیا: ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (ایمان یہ ہے کہ) تم اللہ تعالیٰ پر، اُس کے فرشتوں، اُس کی کتب، اُس کے رسولوں پر اور موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر ایمان رکھو۔
أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 4/ 114، الرقم/ 17068، وعبد الرزاق في المصنف، 11/ 127، الرقم/ 20107، وعبد بن حميد في المسند، 1/ 124، الرقم/ 301، والأزدي في الجامع، 11/ 127، الرقم/ 20107، وذکره العسقلاني في المطالب العالية، 12/ 294، الرقم/ 2874، والهيثمي في مجمع الزوائد، 3/ 207.
ایک روایت میں حضرت (عبد اللہ) بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت جبریل علیہ السلام نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا:
مَا الْإِيْمَانُ؟ قَالَ: أَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ وَمَـلَائِکَتِهِ وَکُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَبِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ، فَقَالَ لَهُ جِبْرِيْلُ عليه السلام: صَدَقْتَ، قَالَ: فَتَعَجَّبْنَا مِنْهُ يَسْأَلُهُ وَيُصَدِّقُهُ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : ذَاکَ جِبْرِيْلُ أَتَاکُمْ يُعَلِّمُکُمْ مَعَالِمَ دِيْنِکُمْ.
ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (ایمان) یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ پر، اُس کے فرشتوں پر، اُس کی کتابوں پر، اُس کے رسولوں پر، یومِ آخرت اور تقدیر کے اچھا بُرا ہونے پر ایمان رکھو۔ حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا: آپ نے سچ فرمایا۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم اُس کے خود ہی سوال کرنے اور پھر تصدیق کرنے پر حیران ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (ان کے جانے کے بعد) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جبریل تھے جو تمہیں تمہارے دین کے نمایاں پہلو سکھانے آئے تھے۔
أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 1/ 28، الرقم/ 191، وأبو يعلی في المسند، 1/ 208، الرقم/ 242، والبيهقي في شعب الإيمان، 1/ 235.
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہی بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
اَلدِّيْنُ خَمْسٌ لَا يَقْبَلُ اللهُ مِنْهُنَّ شَيْئًا دُوْنَ شَيئٍ، شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ، وَالْإِيْمَانُ بِاللهِ، وَمَـلَائِکَتِهِ، وَکُتُبِهِ، وَرُسُلِهِ.
دین پانچ باتوں پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ اِن میں سے کسی ایک کو بھی چھوڑنے پر ایمان قبول نہیں کرتا۔ (وہ پانچ باتیں یہ ہیں: ) اِس بات کی شہادت دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ پر، اُس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لانا۔
أخرجه أبو نعيم في حلية الأولياء، 5/ 201، وذکره ابن رجب الحنبلي في جامع العلوم والحکم، 1/ 45، والهندي في کنز العمال، 1/ 151، الرقم/ 1380.
اللہ تعالیٰ نے متقین کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’’جو غیب پر ایمان لاتے ہیں ، نماز (باقاعدگی سے )قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ (باقاعدگی سے) ادا کرتے ہیں اور جونعمتیں ہم نے ان کو عطا کی ہیں، ان میں سے (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں اور جو اُس (قرآن) پر ایمان لاتے ہیں جو آپ پر نازل کیا گیا اوراُن( سماوی کتب )پرجو آپ سے پہلے (انبیائے کرام پر )اتاری گئیں اور آخرت پر بھی ایمان لاتے ہیں، (البقرہ: 3-4)‘‘۔اس آیت میں متقین کی پہلی صفت ’’ایمان بالغیب‘‘ بتائی گئی ہے، غیب کی بابت علماء نے کہا: ’’اُن امور پر ایمان جو ہم سے غائب ہیں یا جن کو ہم حواسّ اور بداہتِ عقل سے نہیں جان سکتے، جیسے: اللہ کی ذات، ملائک، جنت، جہنم، قیامِ قیامت ، کتبِ الٰہی ، انبیائے کرام علیہم السلام کی نبوت ، تقدیر ، بعث بعدالموت اور اُخروی جزا وسزا کا نظام وغیرہ‘‘۔
امام فخر الدین رازی لکھتے ہیں: ’’ابومسلم اصفہانی نے لکھا: ’’یُؤْمِنُونَ بِالْغَیْب‘‘کے معنی ہیں: جس طرح وہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایمان کا اظہار کرتے ہیں ، اسی طرح آپ کے پسِ پشت بھی ایمان رکھتے ہیں، اُن کا حال اُن منافقوں سے مختلف ہے جن کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اور جب وہ ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم ایمان لائے اور جب وہ اپنے شیطانوں کے پاس خَلوت میں ہوتے ہیں تو کہتے ہیں:درحقیقت ہم تمہارے ساتھ ہیں، مسلمانوں کا تو ہم صرف مذاق اڑاتے ہیں۔
(البقرہ:14)
اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ’’یوسف نے کہا: میں نے یہ اس لیے کہا تھا کہ وہ (عزیزِمصر) جان لے کہ میں نے اُس کے پسِ پشت (اس کی بیوی سے متعلق )کوئی خیانت نہیں کی اور یہ کہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کی چالوں کو کامیاب ہونے نہیں دیتا۔
(یوسف:52)
عربی کا مقولہ ہے:’’تمہارا بہترین دوست وہ ہے جو پسِ پشت تمہارے لیے مخلص ہو‘‘۔یہ اہلِ ایمان کی مدح ہے کہ اُن کا ظاہر باطن کے موافق ہوتا ہے اور منافقوں کا باطن اُن کے ظاہر کے برعکس ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’وہ اپنے مونہوں سے وہ بات کہتے ہیں جو اُن کے دل میں نہیں ہوتی۔
(آل عمران:167)
جمہور مفسرین کا قول یہ ہے :’’غیب وہ ہوتا ہے جس کا حواسّ سے ادراک نہ کیا جاسکے‘‘، پھر اس غیب کی دو قسمیں ہیں: ایک وہ جس پر کوئی دلیل نہیں ہے اور دوسرا وہ جس پر دلیل ہے ، یہ آیت متقین کی مدح میں ہے :’’وہ دونوں قسم کے غیب پر ایمان لاتے ہیں ، یعنی اس غیب پر بھی ایمان لاتے ہیں جس کے بارے میں تفکر کریں اور دلیل سے اس پر ایمان لائیں ، اس میں اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات ، آخرت ، نبوت ، احکامِ شرائع کا علم ہے۔
(تفسیر کبیر۔ ( البقرہ:3-4)
صحابۂ کرام اپنے ایمان کا خود جائزہ لیتے رہتے تھے ، وہ نہ صرف قول وفعل کی مطابقت میں اعلیٰ معیار پر تھے، بلکہ وہ اپنی قلبی کیفیات اور ذہن میں وارد ہونے والے خیالات کے بارے میں بھی سوچتے رہتے تھے کہ کمالِ ایمان یہ ہے کہ قول وفعل میں بھی مطابقت ہو اور ظاہر وباطن میں بھی یکسانیت ہو، ایسا نہ ہو کہ ظاہر تو شریعت کے مطابق ہو ، لیکن دل ودماغ شیطانی افکار وخیالات کی آماجگاہ بن جائیں، اس کی وضاحت اس حدیث سے ہوتی ہے:
حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :’’ہم رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں موجود تھے ،آپ ﷺ نے ہمارے سامنے جنت اور جہنم کا ذکر کیا ،یہاں تک کہ ہمیں ایسا لگا جیسے جنت وجہنم ہماری نگاہوں کے سامنے ہیں،وہاں سے میں اٹھ کر اپنی بیوی بچوں کے پاس گیااوراُن کے ساتھ دل لگی میں مشغول ہوگیا ۔وہ بیان کرتے ہیں :(اچانک )مجھے اُس کیفیت کا خیال آیا جو رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں مجھ پر طاری تھی ۔ میں (فوراً) نکلا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملااور اُن سے تکرار کے ساتھ کہا:میں تو منافق ہوگیا ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے میرے اس اضطراب کوجان کر کہا:اس کیفیت میں تو ہم بھی مبتلا ہوجاتے ہیں،پھرحنظلہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضرہوئے اور اپنی پریشانی بیان کی، آپ ﷺ نے فرمایا: اے حنظلہ! قلبی حضور ی کی وہ کیفیت جو تمہیں میری مجلس میں نصیب ہوتی ہے ،اگر مسلسل رہے ،تو تمہارے بستروں پر اور تمہاری راہوں میں آکر فرشتے تم سے مصافحہ کریں، اے حنظلہ!ایسی پُرنور کیفیات ہر وقت نہیں رہتیں۔
(ابن ماجہ: 4239)
امام المتکلمین علامہ حافظ محمد ایوب دہلوی رحمہ اللہ تعالیٰ لکھتے ہیں: ’’ یُؤْمِنُونَ بِالْغَیْب‘‘کے معنی ہیں:’’ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ کَمَا یُؤْمِنُوْنَ بِالشَّھَادَۃِ‘‘،یعنی متقی لوگ غیبی امور پر اُسی قطعیت اور یقین کے ساتھ ایمان لاتے ہیں ، جیسے حاضر اشیاء اورحقیقتوں پر اُن کا یقین ہوتا ہے، جبکہ عام لوگوں کی کیفیت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر کوئی بھی شخص لوہے کے گرم توے پر ہاتھ نہیں رکھے گا، شعلوں کی صورت میں جلتی ہوئی آگ میں ہاتھ نہیں ڈالے گا، زہریلے سانپ اور بپھرے ہوئے شیر کے قریب نہیں جائے گا، کیونکہ اُسے ان کی ضرر رسانی کا کامل یقین ہے، اُسے پتا ہے آگ جلا ڈالے گی ، سانپ کاٹے گا، شیر چیر پھاڑ ے گا، لیکن وہ حرام امور جو جہنم کی آگ میں جھونکے جانے کا سبب ہیں، جیسے :قتلِ ناحق ، زنا ، شراب نوشی، سودخوری، چوری، ڈاکہ زنی ، اکلِ حرام اور اس جیسے تمام محرّمات جو قرآن اور حدیث کی رو سے اپنے مرتکبین کو نارِ جہنم کا ایندھن بنانے کا سبب بنتے ہیں ، اُن پر بھی اگر اسی درجے کا یقین ہو تو کوئی ان قبیح اعمال کے قریب نہ جائے، لیکن لوگ جاتے ہیں ، ان کا ارتکاب کرتے ہیں اور اس میں انھیں ذرّہ بھر بھی تردُّد یا اضطراب نہیں ہوتا،اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
بے شک جو لوگ ظالمانہ طریقے سے یتیموں کا مال کھاتے ہیں، وہ اپنے پیٹوں میں صرف آگ بھر رہے ہیں اور وہ عنقریب شعلہ بار آگ میں داخل ہوں گے۔
(النسآء:10)
اسی طرح کی وعیدیںقتلِ ناحق ، رِبا اور دیگر محرّمات کے بارے میں آئی ہیں، لیکن کئی لوگوں پر ان کا اثر نہیں ہوتا ، کیونکہ انھیں غائب اشیاء پر وہ یقین نہیں ہوتا جو حاضر پر ہوتا ہے، جبکہ اس کے برعکس مومنینِ متقین کا ایمان حاضر وموجود سے زیادہ رُسوخ ، قطعیت اور یقین کے ساتھ غیبی امور پر ہوتا ہے، اس کی مثال ان احادیث سے ملتی ہے:
حارث بن مالک انصاری بیان کرتے ہیں: اُن کا رسول اللہ ﷺ کے پاس گزر ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا:حارث! تم نے کیسے صبح کی،انھوں نے عرض کی: میں نے اس حال میں صبح کی کہ میں پکا مؤمن تھا، آپ ﷺ نے فرمایا:ذرا سوچو !تم کیا کہہ رہے ہو، کیونکہ ہر چیز کی ایک حقیقت ہے ،پس تمہارے ایمان کی حقیقت کیا ہے،انھوں نے عرض کی: میں نے دنیا میں دل لگانا چھوڑ دیا ہے، میں اپنی راتوں کو بیدار رکھتا ہوں (یعنی عبادت میںمصروف رہتا ہوں)اور میرا دن پرسکون گزرتا ہے، (میری حضوریِ قلب کا عالَم یہ ہے کہ)گویا میں اپنے رب کے عرش کو اپنے سامنے واضح طور پر دیکھ رہا ہوںاور میں اہلِ جنت کو دیکھ رہا ہوں جو ایک دوسرے سے ملاقاتیں کر رہے ہیں اورمیں اہلِ جہنّم کو دیکھ رہا ہوں کہ اُن کی چیخیں نکل رہی ہیں، آپ ﷺ نے تین بارفرمایا:حارث! تونے ایمان کی حقیقت کو جان لیا، پس اسے لازم پکڑو۔
(المعجم الکبیر للطبرانی:3367)
دوسری روایت میں ہے:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اے حارثہ! تو نے کیسے صبح کی، انہوں نے عرض کی:’’ میں نے اس حال میں صبح کی کہ میرا ایمان یقینِ کامل کے درجے میں تھا‘‘، آپ ﷺ نے فرمایا:’’ ہر چیز کی ایک حقیقت ہوتی ہے ، تو تمہارے اِس دعوے کی حقیقت کیا ہے‘‘، انہوں نے عرض کی:’’میں نے اپنے نفس کو دنیا (کی محبت کے غلبے ) سے لاتعلق کرلیا، تو (اب) میرے نزدیک اس دنیاکا پتھر اور سونا، چاندی اور ڈھیلا(بے توقیری میں) برابر ہوگئے ہیں، میں نے اپنی راتیں بیدار رہ کر (اللہ کی عبادت میں) گزاریںاور دن میں (روزہ رکھ کر )اپنے اوقات پیاس میں گزارے ،تو اب مجھے ایسا محسوس ہوتاہے کہ میںعرشِ الٰہی کو اپنی نظروں کے سامنے دیکھ رہا ہوں اور میں اہلِ جنت کو (خوش وخرم) ایک دوسرے کے ساتھ ملاقاتیں کرتے ہوئے اور اہلِ جہنم کو (شدتِ عذاب کے باعث ) فریادیں کرتے ہوئے سن رہاہوں(یعنی غیبی حقائق مجھ پر منکشف ہونے لگے ہیں)
(مجمع الزوائد للہیثمی1/ 57)
پتھر اور سونا ،چاندی اور ڈھیلا کے برابر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ میں نے سیم وزَر(یعنی مال ودولتِ دنیا) کو اپنا مطلوب ومقصود نہیں بنایا ، بلکہ ان کے ساتھ تعلق ضرورت اور حاجت کی حد تک رکھا ہے، انھیںضرورت کی حد تک برتا ہے، انھیں نہ اپنے دل میں جگہ دی ہے اور نہ انھیں اپنا معبود بنایا ہے، جیساکہ احادیث مبارکہ میں ہے:
(۱) ’’نبی ﷺ نے فرمایا:درہم ودینار اور زیب وزینت والے ریشمی لباس کا بندہ ہلاک ہوگیا کہ جب اُسے عطا کیا جائے تو راضی ہوتا ہے اور عطا نہ کیا جائے تو راضی نہیں ہوتا۔
(بخاری: 2886)
(۲) حضرت عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا: دنیا میں اس طرح رہو جیسے تم مسافر ہویا سرِ راہ گزرنے والے اور عبداللہ بن عمر کہا کرتے تھے: جب شام ہوجائے تو صبح کا انتظار نہ کرو اور جب صبح ہوجائے تو شام کا انتظار نہ کرو (یعنی کچھ خبر نہیں کہ فرشتۂ اجل کب آجائے) اور اپنی صحت کے زمانے میں اپنی (ممکنہ)بیماری کے لیے تیار رہو اور اپنی زندگی میں اپنی موت (اورمابعدالموت)کے لیے (کوئی ذخیرۂ عمل )جمع رکھو۔
(بخاری:6416)
عالی شان مکانات ومحلات میں بیت الخلاء اس شان کے بنے ہوتے ہیں کہ دیکھ کر انسان حیرت زدہ رہ جاتا ہے، لیکن اُن میں کوئی بھی مستقل قیام نہیں کرتا ، ضرورت کی حد تک اُن میں وقت گزارتا ہے ، سو دنیا کی ساری نعمتوں اور عیش وعشرت کو یہی درجہ دینا مومن کی شان ہے، میر انیس نے کہا ہے:
دنیا بھی عجب سرائے فانی دیکھی
ہر چیز یہاں کی آنی جانی دیکھی
جو آکے نہ جائے ، وہ بڑھاپا دیکھا
جو جاکے نہ آئے، وہ جوانی دیکھی
غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ تعالیٰ دنیا کو اپنا مطلوب اور محبوب بنانے کی نفی کرتے ہوئے بتاتے ہیں : اس جہانِ فانی کے ساتھ مومن کا تعلق صرف بقدر حاجت ہونا چاہیے :’’دولتِ دنیا ہاتھ اورجیب میں رکھنی جائز ،کسی اچھی نیت سے اس کو جمع کرنا جائز،خبردار!مگر اُسے اپنے قلب پر اس طرح مسلّط کرنا کہ اُس کی محبت دل پر حاوی ہوجائے ،ہرگز جائز نہیں ہے ۔اُسے درِ دل پر کھڑا کرنا جائز مگر خانۂ دل میں بسانا اور سجاناناجائز ہے اوراس میں تیرے لیے کوئی عزت نہیں ہے۔
وَ عِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَ ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ ؕ وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا یَعْلَمُهَا وَ لَا حَبَّةٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍo
اور غیب کی کُنجیاں (یعنی وہ راستے جن سے غیب کسی پر آشکار کیا جاتا ہے) اسی کے پاس (اس کی قدرت و ملکیت میں) ہیں انہیں اس کے سوا (اَز خود) کوئی نہیں جانتا، اور وہ ہر اس چیز کو (بلاواسطہ) جانتا ہے جو خشکی میں اور دریاؤں میں ہے، اور کوئی پتا نہیں گرتا مگر (یہ کہ) وہ اسے جانتا ہے اور نہ زمین کی تاریکیوں میں کوئی (ایسا) دانہ ہے اور نہ کوئی تر چیز ہے اور نہ کوئی خشک چیز مگر روشن کتاب میں (سب کچھ لکھ دیا گیا ہے)۔
(الأنعام59)
یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ ۖۚ وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِo
اللہ جس (لکھے ہوئے) کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور (جسے چاہتا ہے) ثبت فرما دیتا ہے، اور اسی کے پاس اصل کتاب (لوحِ محفوظ) ہے۔
(الرعد39)
تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِهٖ لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَاۙo نِ الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِیْرًاo
(وہ اللہ) بڑی برکت والا ہے جس نے (حق و باطل میں فرق اور) فیصلہ کرنے والا (قرآن) اپنے (محبوب و مقرب) بندہ پر نازل فرمایا تاکہ وہ تمام جہانوں کے لیے ڈر سنانے والا ہو جائے۔ وہ (اللہ) کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اسی کے لیے ہے اور جس نے نہ (اپنے لیے) کوئی اولاد بنائی ہے اور نہ بادشاہی میں اس کا کوئی شریک ہے اور اسی نے ہر چیز کو پیدا فرمایا ہے پھر اس (کی بقا و ارتقاء کے ہر مرحلہ پر اس کے خواص، افعال اور مدت، الغرض ہر چیز) کو ایک مقررہ اندازے پر ٹھہرایا ہے۔
(الفرقان 1-2)
اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ ۚ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًا ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۠o
بے شک اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے، اور وہی بارش اتارتا ہے، اور جو کچھ رحموں میں ہے وہ جانتا ہے اور کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ وہ کل کیا (عمل) کمائے گا اور نہ کوئی شخص یہ جانتا ہے کہ وہ کِس سرزمین پر مرے گا بے شک اللہ خوب جاننے والا ہے، خبر رکھنے والا ہے، (یعنی علیم بالذّات ہے اور خبیر للغیر ہے، اَز خود ہر شے کا علم رکھتا ہے اور جسے پسند فرمائے باخبر بھی کر دیتا ہے)۔
(لقمان 34)
اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰی وَ نَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَهُمْ ؔؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ۠o
بے شک ہم ہی تو مُردوں کو زندہ کرتے ہیں اور ہم وہ سب کچھ لکھ رہے ہیں جو (اعمال) وہ آگے بھیج چکے ہیں، اور اُن کے اثرات (جو پیچھے رہ گئے ہیں) اور ہر چیز کو ہم نے روشن کتاب (لوحِ محفوظ) میں احاطہ کر رکھا ہے۔
(يٰس 12)
فَقَضٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ اَوْحٰی فِیْ كُلِّ سَمَآءٍ اَمْرَهَا ؕ وَ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ ۖۗ وَ حِفْظًا ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِo
پھر دو دِنوں (یعنی دو مرحلوں) میں سات آسمان بنا دیئے اور ہر سماوی کائنات میں اس کا نظام ودیعت کر دیا اور آسمانِ دنیا کو ہم نے چراغوں (یعنی ستاروں اور سیّاروں) سے آراستہ کر دیا اور محفوظ بھی (تاکہ ایک کا نظام دوسرے میں مداخلت نہ کر سکے)، یہ زبر دست غلبہ (و قوت) والے، بڑے علم والے (رب) کا مقرر کردہ نظام ہے۔
(فصلت12)
اِنَّا کُلَّ شَيْئٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍo وَ مَاۤ اَمْرُنَاۤ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۭ بِالْبَصَرِo
بے شک ہم نے ہر چیز کو ایک مقرّرہ اندازے کے مطابق بنایا ہے۔ اور ہمارا حکم تو فقط یکبارگی واقع ہو جاتا ہے جیسے آنکھ کا جھپکنا ہے۔
(القمر 49-50)
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم بقیع غرقد (جنت البقیع) میں ایک جنازے کے ساتھ تھے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گرد بیٹھ گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک چھڑی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سرجھکا لیا اور چھڑی سے زمین کریدنے لگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی زندہ شخص ایسا نہیں کہ اُس کا ٹھکانہ جنت یا جہنم میں لکھ نہ دیا گیا ہو اور یہ بھی لکھ دیا گیا ہے کہ وہ شقی ہے یا سعید۔ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیوں نہ ہم اپنے لکھے ہوئے (یعنی مقدر) پر بھروسہ کرلیں اور عمل کرنا چھوڑ دیں، اس طرح جو ہم میں سے سعادت مند ہوگا وہ سعادت مندوں جیسے کام کرے گا اور جو ہم میں سے بدبخت ہوگا وہ بدبختوں جیسے کام کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سعادت مندوں کے لیے سعادت کے کام آسان کر دیے جاتے ہیں اور بدبختوں کے لیے بدبختی والے اَعمال آسان کر دیے جاتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیات پڑھیں: {فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰی وَاتَّقٰیo وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰٰیo} ’پس جس نے (اپنا مال اللہ کی راہ میں) دیا اور پرہیزگاری اختیار کی۔ اور اُس نے (اِنفاق و تقویٰ کے ذریعے) اچھائی (یعنی دینِ حق اور آخرت) کی تصدیق کی۔
اخرجه البخاري في الصحيح، کتاب الجنائز، باب موعظة المحدث عند القبر وقعود أصحابه حوله، 1/ 458، الرقم/ 1296، وأيضًا في کتاب تفسیر القرآن، باب وقوله: وکذب بالحسنی، 4/ 1891، الرقم/ 4665، ومسلم في الصحيح، کتاب القدر، باب کیفیة خلق آدمي في بطن أمه وکتابة رزقه وأجله، 4/ 2039، الرقم/ 2647
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَی اللهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيْفِ، وَفِي کُلٍّ خَيْرٌ. اِحْرِصْ عَلٰی مَا يَنْفَعُکَ وَاسْتَعِنْ بِاللهِ وَلَا تَعْجَزْ وَإِنْ أَصَابَکَ شَيئٌ فَـلَا تَقُلْ لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ کَانَ کَذَا وَکَذَا. وَلٰـکِنْ قُلْ: قَدَرُ اللهِ وَمَا شَاءَ فَعَلَ فَإِنَّ ’لَوْ‘ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ
اللہ تعالیٰ کے نزدیک طاقتور مومن، کمزور مومن سے بہتر اور زیادہ پسندیدہ ہے اور تمام میں خیر ہے۔ جو چیز تم کو نفع دے اُس کے حصول میں حرص (پوری کوشش) کرو، اللہ کی مدد چاہو اور تھک کر نہ بیٹھے رہو، اگر تم پر کوئی مصیبت آئے تو یہ نہ کہو کہ اگر میں ایسا کر لیتا تو یوں ہو جاتا۔ البتہ یہ کہو یہ اللہ کی تقدیر ہے، اُس نے جو چاہا کر دیا، یہ ’اگر‘ کا لفظ (مومن کے عقیدہ اور عمل میں) شیطان کی مداخلت کا دروازہ کھول دیتا ہے۔
أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب القدر، باب في الأمر بالقوة وترک العجز والاستعانة باللہ، 4/ 2052، الرقم/ 2664، وابن ماجه في السنن، المقدمة، باب في القدر، 1/ 31، الرقم/ 79، وأيضًا في کتاب الزھد، باب التوکل واليقين، 2/ 1395، الرقم/ 4168، والنسائي في السنن الکبری، 6/ 159، الرقم/ 10458، وابن حبان في الصحيح، 13/ 28، الرقم/ 5721، وأبو يعلی في المسند، 11/ 124، الرقم/ 6251، وابن أبي عاصم في السنة، 1/ 157، الرقم/ 356.
ایک روایت میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:
خَدِمْتُ رَسُوْلَ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم عَشْرَ سِنِيْنَ فَمَا أَرْسَلَنِي فِي حَاجَةٍ قَطُّ فَلَمْ تَتَهَيَّأْ إِلَّا قَالَ: لَوْ قَضَی اللهُ کَانَ وَلَوْ قَدَّرَ کَانَ.
میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دس سال تک خدمت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب بھی مجھے کسی ضروری کام سے بھیجا اور وہ نہیں ہو سکا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہوتا تو کام ہو جاتا، اگر اللہ تعالیٰ مقدر کرتا تو ضرور ہو جاتا۔
أخرجه البيهقي في شعب الإيمان، 1/ 216، الرقم/ 194.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ (ایک دن) مشرکین قریش آکر تقدیر کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بحث کرنے لگے، اُس وقت یہ آیت نازل ہوئی: {يَوْمَ يُسْحَبُوْنَ فِي النَّارِ عَلٰی وُجُوْهِهِمْ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَo اِنَّا کُلَّ شَيْئٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍo} ’جس دن وہ لوگ اپنے مُنہ کے بل دوزخ میں گھسیٹے جائیںگے (تو اُن سے کہا جائے گا: ) آگ میں جلنے کا مزہ چکھو۔ بے شک ہم نے ہر چیز کو ایک مقرّرہ اندازے کے مطابق بنایا ہے۔
أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب القدر، باب کل شيء بقدر، 4/ 2046، الرقم/ 2656، وابن حبان في الصحيح، 14/ 6، الرقم/ 6139، والبيهقي في شعب الإيمان، 1/ 204، الرقم/ 183.
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
إِنَّ اللهَ وَکَّلَ بِالرَّحِمِ مَلَکًا يَقُوْلُ: يَا رَبِّ، نُطْفَةٌ، يَا رَبِّ، عَلَقَةٌ، يَا رَبِّ، مُضْغَةٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَقْضِيَ خَلْقَهُ قَالَ: أَذَکَرٌ أَمْ أُنْثٰی، شَقِيٌّ أَمْ سَعِيْدٌ، فَمَا الرِّزْقُ وَالْأَجَلُ؟ فَيُکْتَبُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ.
اللہ تعالیٰ نے (ماں کے) رحم پر ایک فرشتہ مقرر کردیا ہے جو (رحم میں بچے کے تخلیقی مراحل میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں) عرض کرتا ہے: اے رب! اب یہ نطفہ ہے؛ اے رب! اب یہ معلق وجود ہے؛ اے رب! اب یہ گوشت کے لوتھڑے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ اُس کی تخلیق مکمل کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو وہ (فرشتہ) عرض کرتا ہے: (اے رب!) کیا یہ بیٹا ہوگا یا بیٹی، بدبخت ہوگا یا سعادت مند؟ اِس کا رزق کتنا ہے اور عمر کتنی ہے؟ یہ سب کچھ (اللہ تعالیٰ کے حکم سے) شکم مادر میں ہی لکھ دیا جاتا ہے۔
أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب الحيض، باب قول اللہ: مخلقة وغير مخلقة (الحج، 22/ 5)، 1/ 121، الرقم/ 312، وأيضًا في کتاب الأنبياء، باب خلق آدم وذريته، 3/ 1213، الرقم/ 3155، والطيالسي في المسند، 1/ 276، الرقم/ 2073، والديلمي في مسند الفردوس، 1/ 179، الرقم/ 670.
ایک اور روایت میں حضرت حذیفہ بن اَسِید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
يَدْخُلُ الْمَلَکُ عَلَی النُّطْفَةِ بَعْدَ مَا تَسْتَقِرُّ فِي الرَّحِمِ … فَيَقُوْلُ: يَا رَبِّ، أَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيْدٌ، فَيُکْتَبَانِ فَيَقُوْلُ: أَي رَبِّ، أَذَکَرٌ أَوْ أُنْثٰی فَيُکْتَبَانِ وَيُکْتَبُ عَمَلُهُ وَأَثَرُهُ وَأَجَلُهُ وَرِزْقُهُ ثُمَّ تُطْوَی الصُّحُفُ فَـلَا يُزَادُ فِيْهَا وَلَا يُنْقَصُ.
جب نطفہ رحم میں ٹھہر جاتا ہے … تو فرشتہ (رحم میں) داخل ہوتا ہے اور عرض کرتا ہے: اے رب! یہ شقی ہے یا سعید ہے؟ پھر یہ دونوں اُمور لکھ دیے جاتے ہیں۔ پھر فرشتہ عرض کرتا ہے: (اے رب!) یہ مذکر ہے یا مؤنث؟ پھر یہ دونوں اُمور لکھ دیے جاتے ہیں۔ پھر اُس کے اَعمال، نقوش، مدتِ حیات اور اُس کا رزق لکھ دیا جاتا ہے۔ پھر دستاویزات لپیٹ دی جاتی ہیں اور اُن میں نہ کوئی اَضافہ کیا جاتا ہے نہ کمی۔
أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب القدر، باب کیفیة خلق آدمي في بطن أمه وکتابة رزقه وأجله وعمله وشقاوته وسعادته، 4/ 2037، الرقم/ 2644، وذکره ابن رجب الحنبلي في جامع العلوم والحکم، 1/ 53، وأبو المحاسن في معتصر المختصر، 1/ 23، وابن کثیر في تفسیر القرآن العظیم، 3/ 208، والسیوطي في الدر المنثور، 6/ 10.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ الزَّمَنَ الطَّوِيْلَ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ثُمَّ يُخْتَمُ لَهُ عَمَلُهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ الزَّمَنَ الطَّوِيْلَ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ ثُمَّ يُخْتَمُ لَهُ عَمَلُهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ.
ایک شخص مدتِ طویل تک اہلِ جنت کے عمل کرتا رہتا ہے، پھر اُس کا اہلِ دوزخ کے اعمال پر خاتمہ ہوتا ہے اور ایک شخص زمانہ دراز تک اہلِ دوزخ کے عمل کرتا رہتا ہے اور بالآخر اُس کا خاتمہ اہلِ جنت کے اعمال پر ہوجاتا ہے۔
أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب القدر، باب کيفية خلق آدمي في بطن أمه وکتابة رزقه وأجله وعمله وشقاوته وسعادته، 4/ 2042، الرقم/ 2651، والخطيب البغدادي في تاريخ بغداد، 11/ 356، وذکره المناوي في فيض القدير، 2/ 331.
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
کَتَبَ اللهُ مَقَادِيْرَ الْخَلَائِقِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِخَمْسِيْنَ أَلْفَ سَنَةٍ، قَالَ: وَعَرْشُهُ عَلَی الْمَاءِ.
اللہ تعالیٰ نے انسانوں اور زمین کو پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے مخلوقات کی تقدیروں کو لکھ دیا تھا (یعنی طے کردیا تھا)۔ فرمایا: (اُس وقت) اُس کا عرش پانی پر تھا۔
أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب القدر، باب حجاج آدم وموسٰی، 4/ 2044، الرقم/ 2653، والخطيب البغدادي في تاريخ بغداد، 2/ 252، وذکره العسقلاني في فتح الباري، 6/ 289، وابن رجب الحنبلي في جامع العلوم والحکم، 1/ 55، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 2/ 438، والسيوطي في الدر المنثور، 4/ 403.
اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ط کُلٌّ اٰمَنَ بِاللہِ وَمَلٰٓـئِکَتِهِ وَکُتُبِهِ وَرُسُلِهِ قف لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهِ قف وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَاِلَيْکَ الْمَصِيْرُ
(وہ) رسول اس پر ایمان لائے (یعنی اس کی تصدیق کی) جو کچھ ان پر ان کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا اور اہلِ ایمان نے بھی، سب ہی (دل سے) اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے، (نیز کہتے ہیں: ) ہم اس کے پیغمبروں میں سے کسی کے درمیان بھی (ایمان لانے میں) فرق نہیں کرتے، اور (اللہ کے حضور) عرض کرتے ہیں: ہم نے (تیرا حکم) سنا اور اطاعت (قبول) کی، اے ہمارے رب! ہم تیری بخشش کے طلب گار ہیں اور (ہم سب کو) تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔
(البقرة285)
اِنَّ اللہَ اصْطَفٰٓی اٰدَمَ وَنُوْحًا وَّاٰلَ اِبْرٰهِيْمَ وَاٰلَ عِمْرٰنَ عَلَی الْعٰـلَمِيْنَo ذُرِّيَّةً م بَعْضُهَا مِنْم بَعْضٍ ط وَاللہُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌo
بے شک اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو اور نوح (علیہ السلام) کو اور آلِ ابراہیم کو اور آلِ عمران کو سب جہان والوں پر (بزرگی میں) منتخب فرما لیا۔ یہ ایک ہی نسل ہے ان میں سے بعض بعض کی اولاد ہیں، اور اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے۔
(آل عمران/ 33-34)
وَ اِذْ اَخَذَ اللہُ مِيْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَآ اٰتَيْتُکُمْ مِّنْ کِتٰبٍ وَّحِکْمَةٍ ثُمَّ جَآءَ کُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنْصُرُنَّهُ ط قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلٰی ذٰلِکُمْ اِصْرِيْ ط قَالُوْٓا اَقْرَرْنَا ط قَالَ فَاشْهَدُوْا وَاَنَا مَعَکُمْ مِّنَ الشّٰهِدِيْنَo
اور (اے محبوب! وہ وقت یاد کریں) جب اللہ نے انبیاء سے پختہ عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب اور حکمت عطا کر دوں پھر تمہارے پاس وہ (سب پر عظمت والا) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے جو ان کتابوں کی تصدیق فرمانے والا ہو جو تمہارے ساتھ ہوں گی تو ضرور بالضرور ان پر ایمان لاؤ گے اور ضرور بالضرور ان کی مدد کرو گے، فرمایا: کیا تم نے اقرار کیا اور اس (شرط) پر میرا بھاری عہد مضبوطی سے تھام لیا؟ سب نے عرض کیا: ہم نے اِقرار کر لیا، فرمایا کہ تم گواہ ہو جاؤ اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں۔
(آل عمران81)
فَـاٰمِنُوْا بِاللہِ وَرُسُلِهِ ج وَاِنْ تُؤْمِنُوْا وَتَتَّقُوْا فَلَکُمْ اَجْرٌ عَظِيْمٌo
سو تم اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور اگر تم ایمان لے آؤ، اور تقویٰ اختیار کرو تو تمہارے لیے بڑا ثواب ہے۔
(آل عمران179)
يٰٓـاَيُهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اٰمِنُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِهِ وَالْکِتٰبِ الَّذِيْ نَزَّلَ عَلٰی رَسُوْلِهِ وَالْکِتٰبِ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ ط وَمَنْ يَّکْفُرْ باللہِ وَمَلٰٓئِکَتِهِ وَکُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلاًم بَعِيْدًاo
اے ایمان والو! تم اللہ پر اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل فرمائی ہے اور اس کتاب پر جواس نے (اس سے) پہلے اتاری تھی ایمان لاؤ اور جو کوئی اللہ کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کی کتابوں کا اور اس کے رسولوں کا اور آخرت کے دن کا انکار کرے تو بے شک وہ دور دراز کی گمراہی میں بھٹک گیا۔
(النساء136)
وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّا مُبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ ج فَمَنْ اٰمَنَ وَاَصْلَحَ فَـلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَاهُمْ يَحْزَنُوْنَo
اور ہم پیغمبروں کو نہیں بھیجتے مگر خوش خبری سنانے والے اور ڈر سنانے والے بنا کر، سو جو شخص ایمان لے آیا اور (عملاً) درست ہوگیا تو ان پرنہ کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔
وَتِلْکَ حُجَّتُنَآ اٰتَيْنٰهَآ اِبْرٰهِيْمَ عَلٰی قَوْمِهِ ط نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ ط اِنَّ رَبَّکَ حَکِيْمٌ عَلِيْمٌo وَوَهَبْنَا لَهُٓ اِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ ط کُلاًّ هَدَيْنَاج وَنُوْحًا هَدَيْنَا مِنْ قَبْلُ وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاؤدَ وَسُلَيْمٰنَ وَاَيُوْبَ وَيُوْسُفَ وَمُوْسٰی وَهٰرُوْنَ ط وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِيْنَo وَزَکَرِيَّا وَيَحْيٰی وَعِيْسٰی وَاِلْيَاسَ ط کُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِيْنَo وَاِسْمٰعِيْلَ وَالْيَسَعَ وَيُوْنُسَ وَلُوْطًا ط وَکُلاًّ فَضَّلْنَا عَلَی الْعٰـلَمِيْنَo وَمِنْ اٰبَآئِهِمْ وَذُرِّيّٰتِهِمْ وَاِخْوَانِهِمْ ج وَاجْتَبَيْنٰهُمْ وَهَدَيْنٰهُمْ اِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍo ذٰلِکَ هُدَی اللہ يَهْدِيْ بِهِ مَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهِ ط وَلَوْ اَشْرَکُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا کَانُوْا يَعْمَلُوْنَo اُولٰٓـئِکَ الَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْکِتٰبَ وَالْحُکْمَ وَالنُّبُوَّةَج فَاِنْ يَّکْفُرْ بِهَا ھٰٓؤُلَآءِ فَقَدْ وَکَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّيْسُوْا بِهَا بِکٰـفِرِيْنَo اُولٰٓئِکَ الَّذِيْنَ هَدَی اللہُ فَبِهُدٰهُمُ اقْتَدِهْ ط قُلْ لَّآ اَسْئَلُکُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا ط اِنْ هُوَ اِلاَّ ذِکْرٰی لِلْعٰلَمِيْنَo
اور یہی ہماری (توحید کی) دلیل تھی جو ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کی (مخالف) قوم کے مقابلہ میں دی تھی۔ ہم جس کے چاہتے ہیں درجات بلند کر دیتے ہیں۔ بے شک آپ کا رب بڑی حکمت والا خوب جاننے والا ہے۔ اور ہم نے ان (ابراہیم علیہ السلام) کو اسحاق اور یعقوب (بیٹا اور پوتا عليهما السلام) عطا کیے، ہم نے (ان) سب کو ہدایت سے نوازا اور ہم نے (ان سے) پہلے نوح (علیہ السلام) کو (بھی) ہدایت سے نوازا تھا اور ان کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون (عليهم السلام کو بھی ہدایت عطافرمائی تھی)، اور ہم اسی طرح نیکوکاروں کو جزا دیا کرتے ہیں۔ اور زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس (عليهم السلام کو بھی ہدایت بخشی)۔ یہ سب نیکو کار (قربت اور حضوری والے) لوگ تھے۔ اور اسمٰعیل اور الیسع اور یونس اور لوط (عليهم السلام کوبھی ہدایت سے شرف یاب فرمایا)، اور ہم نے ان سب کو (اپنے زمانے کے)تمام جہان والوں پر فضیلت بخشی۔ اور ان کے آباء (و اجداد) اور ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے بھی (بعض کو ایسی فضیلت عطا فرمائی) اور ہم نے انہیں (اپنے لطفِ خاص اور بزرگی کے لیے) چن لیا تھا اور انہیں سیدھی راہ کی طرف ہدایت فرمادی تھی۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کے ذریعے رہنمائی فرماتا ہے، اور اگر (بالفرض) یہ لوگ شرک کرتے تو ان سے وہ سارے اعمالِ (خیر) ضب ط (یعنی نیست و نابود) ہوجاتے جو وہ انجام دیتے تھے۔ (یہی) وہ لوگ ہیں جنہیں ہم نے کتاب اور حکمِ (شریعت) اور نبوّت عطا فرمائی تھی۔ پھر اگر یہ لوگ (یعنی کفّار) ان باتوں سے انکار کردیں تو بے شک ہم نے ان (باتوں) پر (ایمان لانے کے لیے) ایسی قوم کو مقرر کردیا ہے جو ان سے انکار کرنے والے نہیں (ہوں گے)۔ (یہی) وہ لوگ (یعنی پیغمبرانِ خدا) ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت فرمائی ہے پس (اے رسولِ آخر الزمان!) آپ ان کے (فضیلت والے سب) طریقوں (کو اپنی سیرت میں جمع کرکے ان) کی پیروی کریں (تاکہ آپ کی ذات میں ان تمام انبیاء و رسل کے فضائل و کمالات یکجا ہوجائیں)، آپ فرما دیجیے: (اے لوگو!) میں تم سے اس (ہدایت کی فراہمی) پر کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ یہ توصرف جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔
(الأنعام83-90)
قَالَ يٰـمُوْسٰٓی اِنِّی اصْطَفَيْتُکَ عَلَی النَّاسِ بِرِسٰلٰتِيْ وَبِکَلَامِيْ صل فَخُذْ مَآ اٰتَيْتُکَ وَکُنْ مِّنَ الشّٰکِرِيْنَo
ارشاد ہوا: اے موسیٰ! بے شک میں نے تمہیں لوگوں پر اپنے پیغامات اور اپنے کلام کے ذریعے برگزیدہ و منتخب فرما لیا۔ سو میں نے تمہیں جو کچھ عطا فرمایا ہے اسے تھام لو اور شکر گزاروں میں سے ہو جاؤ۔
(الأعراف144)
يٰٓاَيُهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَاٰمِنُوْا بِرَسُوْلِهِ يُؤْتِکُمْ کِفْلَيْنِ مِنْ رَّحْمَتِهِ وَيَجْعَلْ لَّکُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِهِ وَيَغْفِرْ لَکُمْ ط وَاللہُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌo
اے ایمان والو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اُس کے رسولِ (مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پر ایمان لے آؤ وہ تمہیں اپنی رحمت کے دو حصّے عطا فرمائے گا اور تمہارے لیے نور پیدا فرما دے گا جس میں تم (دنیا اور آخرت میں) چلا کرو گے اور تمہاری مغفرت فرما دے گا، اور اللہ بہت بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے۔
(الحديد 28)
حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ
بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللہِ ﷺ ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ شَدِيْدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ … وفيه:
قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الإِيْمَانِ. قَالَ: أَنْ تُؤْمِنَ بِاللہِ، وَمَـلَائِکَتِهِ، وَکُتُبِهِ، وَرُسُلِهِ، وَالْيَوْمِ الآخِرِ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ۔ قَالَ: صَدَقْتَ.
مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ.
ایک روز ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے۔ اچانک ایک شخص آیا، جس کے کپڑے نہایت سفید تھے۔ اِس حدیث میں ہے کہ:
اس نے عرض کیا: مجھے (حقیقتِ) ایمان کے بارے میں بیان فرمائیں؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر اور قیامت کے دن پر ایمان لائے اور اچھی بری تقدیر پر ایمان رکھے۔ وہ (سائل) عرض گزار ہوا: آپ نے سچ فرمایا۔
أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب الإيمان، باب سؤال جبريل النبيّ صلی الله عليه وآله وسلم عن الإيمان والإسلام والإحسان وعلم السّاعة، 1/ 27، الرقم/ 50، وأيضًا في کتاب التفسير/ لقمان، باب إنّ اللہ عنده علم السّاعة، 4/ 1793، الرقم/ 4499، ومسلم في الصحيح، کتاب الإيمان، باب بيان الإيمان والإسلام والإحسان، 1/ 36، الرقم/ 8۔9، والترمذي في السنن، کتاب الإيمان، باب ما جاء في وصف جبريل للنبي صلی الله عليه وآله وسلم الإيمان والإسلام، 5/ 6، الرقم/ 2601، وأبو داود في السنن، کتاب السنة، باب في القدر، 4/ 222، الرقم/ 4695، والنسائي في السنن، کتاب الإيمان وشرائعه، باب نعت الإسلام، 8/ 97، الرقم/ 4990، وابن ماجه في السنن، المقدمة، باب في الإيمان، 1/ 24، الرقم/ 63، وأحمد بن حنبل في المسند، 1/ 51، الرقم/ 367، وابن خزيمة في الصحيح، 4/ 127، الرقم/ 2504، وابن حبان في الصحيح، 1/ 389، الرقم/ 168.
ایک روایت میں ہے:
قَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم أَسْلِمْ تُسْلَمْ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللہ، وَمَا الإِسْلَامُ؟ قَالَ: أَنْ تُسْلِمَ ِﷲِ وَيُسْلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِکَ وَيَدِکَ، قَالَ: فَأَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: اَلْإِيْمَانُ قَالَ: وَمَا الْإِيْمَانُ؟ قَالَ: أَنْ تُؤْمِنَ بِاللہِ وَمَـلَائِکَتِهِ وَکُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَبِالْبَعْثِ مِنْ بَعْدَ الْمَوْتِ.
رَوَاهُ اللَّالَکَائِيُّ.
رسول اللہﷺنے فرمایا: اسلام قبول کر لو، تم سلامتی پا جاؤ گے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ تعالیٰ کے آگے اپنا سرِ تسلیم خم کر دو اور تمام مسلمان تمہاری زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہیں۔ اس شخص نے پوچھا: کون سا اسلام افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (دل سے) ایمان (لانا)، اس نے پوچھا: ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تم اللہ تعالیٰ پر، اُس کے فرشتوں، اُس کی کتابوں، اُس کے رسولوں پر اور موت کے بعد دوبارہ زندہ اُٹھائے جانے پر ایمان لاؤ۔
أخرجه اللالکائي في شرح أصول اعتقاد أهل السنة، 5/ 931، الرقم/ 1683.
ایک طویل روایت میں حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا:
يَا رَسُوْلَ اللہ، کَمِ الْأَنْبِيَاءُ؟ قَالَ: مِائَةَ أَلْفٍ وَعِشْرُوْنَ أَلْفًا، قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللہ، کَمِ الرُّسُلُ مِنْ ذٰلِکَ؟ قَالَ: ثَـلَاثَ مِائَةٍ وَثَـلَاثَةَ عَشَرَ جَمًّا غَفِيْرًا. قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہ، مَنْ کَانَ أَوَّلُهُمْ قَالَ: آدَمُ قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللہ، أَنَبِيٌّ مُرْسَلٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، خَلَقَهُ اللہُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيْهِ مِنْ رُوْحِهِ وَکَلَّمَهُ قَبْـلًا ثُمَّ قَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ، أَرْبَعَةٌ سَرْيَانِيُوْنَ: آدَمُ، وَشِيْثُ، وَأَخْنُوْخُ. وَهُوَ إِدْرِيْسُ وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ خَطَّ بِالْقَلَمِ. وَنُوْحٌ، وَأَرْبَعَةٌ مِنَ الْعَرَبِ: هُوْدٌ، وَشُعَيْبٌ، وَصَالِحٌ، وَنَبِيُکَ مُحَمَّدٌ ( صلی الله عليه وآله وسلم).
یا رسول اللہ، انبیاء کرام علیہم السلام کتنے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک لاکھ بیس ہزار۔ میں نے عرض کیا: ان میں سے رسول کتنے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین سو تیرہ (افراد) کا ایک جم غفیر ہے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، ان میں سے سب سے پہلے نبی کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدم علیہ السلام۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا وہ نبی مرسل ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے دستِ قدرت سے پیدا فرمایا، ان میں اپنی روح پھونکی اور (سب) انسانوں سے پہلے ان سے کلام فرمایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر، چار نبی سریانی تھے، آدم علیہ السلام، شیث علیہ السلام، اخنوخ یعنی ادریس علیہ السلام اور یہ (ادریس علیہ السلام) پہلے نبی تھے جنہوں نے قلم کے ساتھ لکھا اور (چوتھے) نوح علیہ السلام۔ اور چار نبی عربی ہیں: ہود علیہ السلام، شعیب علیہ السلام، صالح علیہ السلام اور تمہارے نبی محمد (مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)۔
أخرجه ابن حبان في الصحيح، 2/ 76-77، الرقم/ 361، وأيضًا في الثقات، 2/ 119، وأبو نعيم في حلية الأولياء، 1/ 167، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 23/ 275، 277، وذکرہ ابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 1/ 586- 587، والهيثمي في موارد الظمآن، 1/ 53.
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ
کَانَ بَيْنَ آدَمَ وَنُوْحٍ عَشْرَةُ قُرُوْنٍ، کُلُّهُمْ عَلٰی شَرِيْعَةٍ مِنَ الْحَقِّ، فَلَمَّا اخْتَلَفُوْا، بَعَثَ اللہُ النَّبِيِّيْنَ وَالْمُرْسَلِيْنَ وَأَنْزَلَ کِتَابَهُ، فَکَانُوْا أُمَّةً وَاحِدَةً.
حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کے درمیان دس نسلوں کا (ایک طویل) عرصہ ہے۔ (اس دوران) وہ (تمام لوگ) شریعتِ حق پر تھے، جب ان میں اختلافات پیدا ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے انبیاء و مرسلین علیہم السلام کو مبعوث فرمایا اور اپنی کتاب نازل فرمائی، پھر وہ ایک امت ہو گئے۔
أخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 480، الرقم/ 3654، وذکره الهيثمي في مجمع الزوائد، 6/ 318-319.
ایک روایت میں ہے
کَانَ بَيْنَ آدَمَ وَنُوْحٍ عَشْرَةُ أَقْرُنٍ، کُلُّهَا عَلَی الإْسْلَامِ.
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدم علیہ السلام اور نوح علیہ السلام کے درمیان دس نسلوں کا وقفہ ہے اور یہ تمام زمانے اسلام پر تھے۔
أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف، 7/ 19، الرقم/ 33928.
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان
– {وَاذْ کُرْ فِی الْکِتٰبِ اِبْرٰهِيْمَ ط اِنَّهُ کَانَ صِدِّيْقًا نَّبِيًّاo}
فرمایا
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی الله عنهما فِي قَوْلِهِ: {وَاذْ کُرْ فِی الْکِتٰبِ اِبْرٰهِيْمَ ط اِنَّهُ کَانَ صِدِّيْقًا نَّبِيًّاo}
(مریم، 19/ 41)
، قَالَ: کَانَ الْأَنْبِيَاءُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيْلَ إِلَّا عَشْرَةٌ: نُوْحٌ، وَصَالِحٌ، وَهُوْدٌ، وَلُوْطٌ، وَشُعَيْبٌ، وَإِبْرَهِيْمُ، وَإِسْمَاعِيْلُ، وَإِسْحَاقُ، وَيَعْقُوْبُ وَمُحَمَّدٌ عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، وَلَمْ يَکُنْ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ مَنْ لَهُ اسْمَانِ إِلَّا إِسْرَائِيْلَ وَعِيْسٰی فَإِسْرَائِيْلُ يَعْقُوْبُ وَعِيْسَی الْمَسِيْحُ.
اور آپ کتاب (قرآن مجید) میں ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر کیجیے، بے شک وہ بڑے صاحبِ صدق نبی تھے‘ – کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام بنی اسرائیل میں سے تھے سوائے دس انبیاء کرام علیہم السلام کے اور وہ یہ ہیں: حضرت نوح علیہ السلام، حضرت صالح علیہ السلام، حضرت ہود علیہ السلام، حضرت لوط علیہ السلام، حضرت شعیب علیہ السلام، حضرت اِبراہیم علیہ السلام، حضرت اِسماعیل علیہ السلام، حضرت اِسحاق علیہ السلام، حضرت یعقوب علیہ السلام اور سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ اَنبیاءِ کرام علیہم السلام میں سے سوائے حضرت اسرائیل علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کسی کے دو نام نہیں تھے۔ اسرائیل علیہ السلام کا دوسرا نام یعقوب تھا اور عیسیٰ علیہ السلام کا دوسرا نام مسیح تھا۔
أخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 405، الرقم/ 3415، والطبراني في المعجم الکبير، 11/ 276، الرقم/ 11723، والبيهقي في شعب الإيمان، 1/ 150، وذکره الهيثمي في مجمع الزوائد، 8/ 210، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 1/ 188.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
قَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ : صَلُّوْا عَلٰی أَنْبِيَاءِ اللہ وَرُسُلِهِ فَإِنَّ اللہَ بَعَثَهُمْ کَمَا بَعَثَنِي.
رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ وَالْخَطِيْبُ وَالدَّيْلَمِيُّ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نبیوں اور رسولوں پر درود بھیجا کرو۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی اسی طرح رسول بنا کر بھیجا تھا جس طرح اس نے مجھے مبعوث فرمایا ہے۔
اسے امام بیہقی، خطیب بغدادی اور دیلمی نے روایت کیا ہے۔
أخرجه البيهقي في شعب الإيمان، 1/ 148-149، الرقم/ 131، وأيضًا في الدعوات الکبير/ 121، الرقم/ 160، والخطيب البغدادي عن أنس رضی الله عنه في تاريخ بغداد، 7/ 380، الرقم/ 3909، والديلمي في مسند الفردوس، 2/ 385، الرقم/ 3710، والعسقلاني في المطالب العالية، 13/ 810، الرقم/ 3334.
ارکان اسلام میں تصورِ توحید بلاشبہ بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔ اسلامی نظریہ حیات اس تصویر کو انسان کے رگ وپے میں اتارنے اور اس کے قلب و باطن میں جاگزیں کرنے سے متحقق ہوتا ہے۔ تصورِ توحید کی اساس تمام معبودان باطلہ کے بطلان و نفی اور ایک خدائے بے ہمتا کی الوہیت کے محقق واثبات پر ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی کہا: رسول اللہﷺنے فرمایا:
بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ، شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَحَجِّ الْبَيْتِ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ
( صحیح البخاری8، مسلم16)
اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد الله کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، حج ادا کرنا اور رمضان المبارک کے روزے رکھنا ۔
اس حدیث مبارکہ میں جن پانچ چیزوں کو بنیادِ اسلام قرار دیا گیا ہے اصطلاحِ شریعت میں انہیں اسلام کے ارکان خمسہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہی ارکانِ خمسہ حدیث جبرئیل میں بھی مذکور ہیں ۔
شہادت توحید
اسلام کا رکن اول شہادتِ توحید و رسالت ہے۔
اسلام کا رکن اول کلمہ شہادت ہے جو بایں الفاظ مذکور ہے:
اشهد ان لا اله الا الله و اشهد ان محمدا عبده و رسوله
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمدﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔
شہادت توحید و رسالت کے لئے محض کلمہ طیبہ کا رسمی اعلان اور زبانی اقرار ہی کافی نہیں کیونکہ کسی شخص کا اپنی زبان سے کلمہ طیبہ ادا کرنا اور بات ہے اور دل و زبان کی ہم آہنگی سے اس کی شہادت دینا اور بات ۔ ایمان فی الحقیقت ” اقرارٌ باللسان “ اور ” تصديقٌ بالقلب” کا نام ہے۔ دلی تصدیق کے بغیر محض زبانی اقرار کوئی معنی نہیں رکھتا۔
بقول اقبال
زباں نے کہہ بھی دیا لا اله تو کیا حاصل؟دل و نگاہ مسلمان نہیں تو کچھ بھی نہیں
شہادت توحید کا مفہوم
بندہ دل کی گہرائیوں سے یہ شہادت دے کہ اس پوری کائنات میں ایک ہی ہستی ایسی ہے جس سے بڑھ کر عظمت و رفعت اور شان کبریائی کا تصور بھی محال ہے۔ اس سے بڑھ کر کسی کو قدرت و طاقت حاصل نہیں اور اس سے بڑھ کر کوئی علیم وخبیر نہیں۔ اس کے سوا کوئی سزاوار پر پرستش نہیں ۔ اس کا ارادہ اتنا قوی اور غالب ہے کہ اسے تمام دنیا اور کائنات میں سب مل کر بھی مغلوب نہیں کر سکتے ۔ اس کی قدرتیں اور تصرفات حدود و قیود سے باہر اور حیطۂ شعور سے ماوراء ہیں۔
اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ
میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری ہی عبادت کرو۔
(ا انبیاء25)
اِنَّنِیْۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدْنِیْ
بیشک میں ہی اللہ ہوں ،میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری عبادت کر۔
( طہ 14)
قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ(1)اَللّٰهُ الصَّمَدُ(2)لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْ (3)
وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ(4)
تم فرماؤ: وہ اللہ ایک ہے۔اللہ بے نیاز ہے۔نہ اس نے کسی کو جنم دیا اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔اور کوئی اس کے برابر نہیں ۔
ہمارے ہاں عام طور پر ایک خاص نقطہ نظر رکھنے والے طبقے کی طرف سے شرک اور بدعت کی دو اصطلاحات کو بہت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے، بغیر سوچے سمجھے ہر قسم کے امور پر لفظ شرک اور بدعت کو چسپاں کر کے اُمت کی بھاری اکثریت کو مشرک ،بدعتی اور گمراہ قرار دے دیا جاتا ہے اور وہ آیات اور احادیث مبارکہ جو کفار ومشرکین کے بارے میں نازل ہوئیں انہیں بڑی بے باکی سے امت مسلمہ پر چسپاں کر دیا جاتا ہے جو کہ ایک نہایت غلط طرزعمل ہے ۔ اس مضمون میں بدعت کے حوالے سے پائے جانے والی غلط فہمیوں کا ازالہ کیا گیا ہے۔
بدعت کا مفہوم
لفظ بدعت کے معنی ہیں نیا کام ،اس لیے لُغت کے اعتبار سے ہر نئے کام کو اچھا ہو یا بُرا بدعت کہہ دیا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ علماء نے
اس ابہام سے بچنے کے لیے بدعت کی تقسیم کی ہے اور اسے بدعت حسنہ (یعنی اچھی بدعت)اور بدعت سیئہ (یعنی وہ بدعت جو گناہ ہے) میں تقسیم کیا ہے اور صرف بدعت سیئہ کو ہی حرام قرار دیا ہے۔ اس تقسیم کو بیان کرنے والوں میں امام شافعی ؒ (وفات 204 ہجری) ،امام قرطبیؒؒ(وفات 380 ہجری) ،امام بیہقیؒ( وفات 458 ہجری)، امام غزالی ؒ(وفات 505 ہجری) ،امام نووی ؒ (وفات 676 ہجری), ابن تیمیہؒ (وفات 728 ہجری)، ابن کثیرؒ( وفات 774 ہجری)، ابن رجب حنبلیؒ( وفات 795 ہجری)، علامہ شوکانی ؒ(وفات 1255 ہجری) اور علامہ بھوپالیؒ( 1307 ہجری )وغیرہ شامل ہیں۔
علامہ ابن تیمیہ ؒبدعت کی تعریف کرتے ہوئے “مجموع الفتاویٰ” میں لکھتے ہیں کہ بدعت (یعنی بدعت سیئہ ) سے مراد ایسا کام ہے جو کتاب و سنت اور اُمت کے نیک افرادکے اجماع کی مخالفت کرے،جیسے خوارج، روافض، قدریہ اور جہمیہ کے عقائد۔امام ابن تیمیہؒ اپنی کتاب منہاج السنة میں حضرت عمرفاروقؓ کی جانب سے نماز تراویح کو باجماعت ادا کرنے کے اہتمام کو بدعت حسنہ ( بدعت لغوی) قرار دیتے ہیں۔
اسی طرح ابن کثیر ؒبھی اپنی تفسیر میں بدعت کی تقسیم بیان کرتے ہوئے نماز تراویح کی جماعت کو بدعت حسنہ (بدعت لغوی) قرار دیتے ہیں
امام غزالی ؒکے نزدیک بھی ہر بدعت ممنوع نہیں ہوتی بلکہ ممنوع صرف وہ بدعت ہوتی ہے جو سنت سے متضاد ہو
امام نوویؒ فرماتے ہیں کہ بنیادی طور پر بدعت کی دو اقسام ہیں۔ وہ لکھتے ہیں شریعت میں بدعت سے مراد وہ نئے امور ہیں جو حضور نبی اکرم ﷺکے زمانے میں نہ تھے اور یہ بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ (بدعت قبیحہ) میں تقسیم ہوتے ہیں
بدعت کی اقسام
بدعت حسنہ
اگر کوئی عمل نہ قرآن میں ذکر ہو نہ ہی رسول ﷺنے ایسا کرنے کا حکم دیا ہو اور بعد اذاں امت کے صالحین اور علماء از خود کسی نئے عمل کو وقت کی ضرورت سمجھ کر اپنا لیں اور اس کا مقصد اللہ تعالی کی رضا کا حصول ہو تو انما الاعمال باالنیات کے تحت یہ بدعت مقبول اور باعث اجر و ثواب ہوگی اسی کو بدعت حسنہ کہتے ہیں۔
رہبانیت کی بدعت
سورہ الحدید میں اللہ تعالیٰ نے عیسائیوں کے متعلق اذن الہٰی کے بغیر کسی بدعت کو ایجاد کرنے اور اس کی مقبولیت اور اس پر اجر و ثواب کے حوالے سے ارشاد فرمایا کہ:”ہم نے اُن کے پیچھے عیسیؑ ابن مریم ؑکو بھیجا اور ہم نے انہیں انجیل عطا کی اور ہم
نے اُن لوگوں کے دلوں میں جو اُن کی پیروی کر رہے تھے شفقت اور رحمت پیدا کر دی اور رہبانیت (یعنی عبادت الہٰی کے لیے دنیا کو
ترک کرنا) کی بدعت انہوں نے خود ایجاد کر لی تھی ۔اُسے ہم نے اُن پر فرض نہیں کیا تھا مگر (انہوں نے رہبانیت کی یہ بدعت) محض اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے شروع کی تھی۔ پھر اُس کی عملی نگہداشت کا جو حق تھا وہ اس کی ویسی نگہداشت نہ کر سکے (یعنی اُسے اُسی جذبے اور پابندی سے جاری نہ رکھ سکے) لہذا ہم نے اُن لوگوں کو جو اُن میں سے ایمان لائے (اور رہبانیت کی بدعت کو رضائے الہی کے لیے جاری رکھے ہوئے تھے) اجر و ثواب عطا کیا۔”
غور طلب بات یہ ہے کہ حضور ﷺنے فرمایا کہ:” اسلام میں رہبانیت نہیں ہے
اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ پہلی شریعت میں رہبانیت موجود تھی۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ پہلی شریعت میں رہبانیت کہاں سے آئی جبکہ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ میں نے تو اُسے کسی شریعت میں نازل نہیں کیا۔ اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ ہر وہ حکم جو اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کی طرف سے نہ ہو اور اُس کی ممانعت پر کوئی حکم بھی نہ ہو تو وہ نیک مقصد اور نیک نیتی کی وجہ سے مستحسن اُمور (ایسے اچھے اور پسندیدہ کام جو دین میں اخلاقی اور پسندیدہ سمجھے جاتے ہیں، مگر لازم یا واجب نہیں ہوتے) میں داخل ہو گیا اور اُسے شریعت میں جگہ مل گئی۔ اسی طرح رہبانیت بھی اللہ تعالیٰ کا حکم نہ ہونے کے باوجود بدعت حسنہ ہونے کی وجہ سے شریعت میں داخل ہو گئی اور اس کا م کا کرنا باعث اجر و ثواب بن گیا۔
خیر کے کاموں کی ترغیب: امام مسلم (وفات 261 ہجری) کتاب الزکوۃ میں روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے خیر کے کاموں اور امور حسنہ کے اجرا کی ترغیب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ:”جس شخص نے اسلام میں کسی نیک کام کی ابتدا کی اُس کو اپنے عمل کا بھی
اجر ملے گا اور بعد میں عمل کرنے والوں کے عمل کا بھی اجر ملے گا اور ان عمل کرنےوالوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوگی اور جس نے اسلام میں کسی بُرے عمل کی ابتدا کی اُسے اپنے عمل کا بھی گناہ ہوگا اور بعد میں عمل کرنے والوں کے عمل کا بھی گناہ ہوگا اور اُن عمل کرنے والوں کے گناہ میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔
معاذؓنےتمہارے لیے یہ اچھا طریقہ نکالا ہے تم بھی اب یوں ہی کیا کرو: آغاز اسلام میں یہ دستور تھا کہ اگر حضور ﷺنماز کی امامت کرا رہے ہوتے اور دوران نماز کوئی ا ٓجاتا تو وہ دوسرےصحابی سے پوچھ کر کہ کتنی رکعتیں ہو چکی ہیں اتنی رکعتیں پہلے پڑھ کر پھر حضور ﷺ کے ساتھ جماعت میں مل جاتا۔ ایک دن حضرت معاذؓ آئے اورکہنے لگے میں تو حضور ﷺکو (دوران نماز) جس حال میں
پاؤں گا اسی میں مل جاؤں گا اور جو نماز چھوٹ گئی ہے اسے حضور ﷺ کے سلام پھیرنے کے بعد ادا کر لوں گا
چنانچہ حضرت معاذ بن جبلؓ نے ایسا ہی کیا اور حضورﷺکے سلام پھیرنے کے بعد اپنی باقی رکعتیں ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے۔ نبی کریم ﷺ نے اُنہیں دیکھ کر فرمایا کہ: “معاذ ؓنے تمہارے لیے یہ اچھا طریقہ نکالا ہے تم بھی اب یوں ہی کیا کرو۔”
اس مقام پر غور طلب بات یہ ہے کہ حضرت معاذ بن جبل ؓنے اپنی رائے اور اجتہاد سے اس طریقے کو ترک کیا جس پر تمام صحابہ عمل پیرا تھے۔لیکن چونکہ حضرت معاذؓ کا عمل مبنی بر خلوص اور ادب تھا لہذا حضور اکرم ﷺنے اُن کے اس عمل کو پسند کیا اور اس کی تحسین فرماتے ہوئے صحابہ کو اس نئے عمل کو اپنانے کا حکم دیا۔
اس سے یہ ثابت ہوا کہ سنت رسول اللہ ﷺ کی روشنی میں صحابہ کرام ؓ چھوٹے چھوٹے خیرکے کاموں اورنیک اعمال کو محض نیا ہونے
کی وجہ سے رد کرنے کی بجائے “من سن فی الاسلام سنة حسنة
(ترجمہ: جس نے اسلام میں کوئی اچھی روایت شروع کی) کے تحت دین میں جگہ دیتے تھے۔ صحابہ کی اس روش سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ہر وہ کام جو مصلحت اور حکمت پر مبنی ہو اور احکام شریعت سے متصادم نہ ہو وہ بلا شک و شبہ مباح اور جائز ہے۔
بدعت سیئہ
ارشاد نبوی ہے کہ: “وہ نیا کام (احداث)مردود ہوگا جو اس دین میں اصلا” نہ ہو۔ “
اس حدیث کو ایک مثال سے سمجھتے ہیں۔حضرت عمر ؓنے تراویح کو باجماعت ادا کرنے کا اہتمام کیا۔بظاہر یہ ایک نیا کام (یعنی بدعت) ہے جس کو حضرت عمر ؓنے ایجاد کیا اور دین میں داخل کیاکیونکہ باجماعت نماز تراویح نبی کریم ﷺ کے دور میں نہیں پڑھی جاتی تھی۔اس عمل کو بدعت ضلالة اسلئے نہیں کہا گیا کہ یہ کوئی نیا حکم یا دین میں اضافہ نہیں تھا بلکہ پہلے سے موجود ایک مستحب عمل یعنی نماز تراویح کو باجماعت شکل دینا تھا۔ لہذا اب ہم یہ باآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ نبی کریم ﷺکا یہ فرمانا کہ “وہ نیا کام مردود ہوگا جو اس دین میں اصلا” نہ ہو” کا کیا مطلب ہے۔
لہٰذا اس حدیث کا اطلاق اس طرح کے اقدامات پر نہیں ہوتا کیونکہ نماز تراویح اصلا” پہلے سے دین میں موجود تھی اور حضرت عمرؓ نے
صرف اُس کے باجماعت ادا کرنے کا اہتمام کیا۔، یعنی یہ عمل پہلے سے موجود ایک سنت کے مطابق تھا ۔اسی طرح حضرت ابوبکر صدیقؓ نے قرآن مجیدکو جمع کروایا اور ایک نسخے میں اکٹھا کیا،حضرت عثمان غنیؓ نے جمعے کی نماز میں دوسری اذان کو جاری کیا۔یہ سب بدعتیں تھیں لیکن انکی اصل موجود تھی یعنی قرآن موجود تھا اُسےصرف اکٹھا کیا گیا، نماز جمعہ ادا کی جا رہی تھی اور ضرورت کے تحت دوسری اذان کو جاری کیا گیا۔
دوسری حدیث مبارکہ میں فرمایا کہ “ہر نیا کام (محدثة) بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔
اوپر ذکر کی گئی دونوں احادیث کو ملا کر سمجھیں تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ صرف وہ نیا کام بدعت ضلالة (یعنی گمراہی) ہوگا جو نیا ہونے کے ساتھ ساتھ دین میں اصلا” بھی موجود نہ ہو۔
امام قرطبی ؒکہتے ہیں کہ وہ بدعت جسے گمراہی کہا گیا ہے اُس سے مراد وہ کام ہے جو کتاب و سنت اور عمل صحابہ کے مطابق نہ ہو۔اسکے
بعد امام قرطبیؒ اس حدیث کا حوالہ دیتے ہیں جس میں آپ ﷺ نے کسی اچھےکام کی ابتدا کرنے پر اجر کی خوشخبری اور بُرے کام کی ابتدا کرنے والے پر وبال کی خبر دی ہے۔آیئے بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ کو مثالوں سے سمجھتے ہیں۔
بدعتِ حسنہ و بدعتِ سیئہ: عملی مثالیں
چاشت کی نماز: امام ابن ابی شیبہ ؒ(وفات 235 ہجری) نے حضرت اعرج ؓسے روایت کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرؓ سے نمازچاشت کے متعلق سوال کیا جب وہ حضور نبی اکرم ﷺکے حجرہ مبارک کے ساتھ پشت سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے تو انہوں نے فرمایا کہ “بدعت ہے اور بہت اچھی بدعت ہے۔
یہاں سے پتہ چلا کہ صحابہ کرام کسی بھی نئے کام کے لیے بغیر تکلف کے لفظ بدعت استعمال کر لیتے تھے اور کسی کام کو بدعت کہنے سے نہ وہ آپس میں جھگڑتے تھے اور نہ ہی کفر کے فتوے صادر کرتے تھے۔ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ اُن کے ہاں لفظ بدعت اس معنی میں استعمال ہی نہیں ہوتا تھا جس معنی میں آج بعض لوگ کرتے ہیں ۔اگر ایسی بات ہوتی تو حضرت عبداللہ بن عمر ؓکے اس قول پر کہ مسجد میں نماز چاشت کی ادائیگی بدعت ہے فورا “دوسرے صحابہ اور تابعین حضور ﷺکی یہ حدیث پیش کرتے کہ کل بد عة ضلالة یعنی ہر نیا کام گمراہی ہے، لیکن ایسا نہیں ہوا کیونکہ اُن صحابہ کو شریعت کا صحیح فہم اور معرفت تھی اور وہ ہر بدعت کو گمراہی نہیں کہتے تھے بلکہ صرف اُس عمل کو بدعت ضلالة کہتے تھے جو قرآن اور سنت کے مخالف ہو۔ اسی واقعے کو امام بخاریؒ( وفات 256 ہجری) نے بھی بیان کیا ہے جس میں حضرت مجاہدؓ اور عروہ بن زبیر ؓنے حضرت عبداللہ بن عمر ؓسے سوال کئے۔
صلاۃ التراویح : امام بخاری اپنی صحیح میں کتابصلاۃ التراویح میں عبدالرحمن بن عبدالقاریؓ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر ؓکے ساتھ رمضان کی ایک رات مسجد کی طرف نکلا تو لوگ علیحدہ علیحدہ نماز تراویح پڑھ رہے تھے۔ایک
آدمی تنہا نماز پڑھ رہا تھا اور ایک آدمی گروہ کے ساتھ۔حضرت عمر ؓنے فرمایا کہ میرے خیال میں انہیں ایک قاری کے پیچھے جمع کر دیا جائے تو اچھا ہوگا ۔پس آپ ؓنے حضرت ابی بن کعبؓ کے پیچھے سب کو جمع کر دیا ۔پھر میں دوسری رات کو اُن کے ساتھ نکلا تو دیکھا کہ لوگ قاری کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے۔حضرت عمر ؓنے فرمایا:”نعمت البدعة ھذا” یعنی “یہ کتنی اچھی بدعت ہے۔
قرآن کی جمع اور تدوین: امام شاطبی(وفات 790 ہجری) اپنی مشہور کتاب الاعتصام میں قرآن کی جمع اور تدوین کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ قرآن کریم کو ایک نسخے میں جمع کرنے پر متفق ہو گئے، حالانکہ قرآن کریم کو جمع کرنے اور لکھنے کے بارے میں ان کے پاس کوئی واضح حکم نہیں تھا۔
نبی کریم ﷺکے وصال کے بعد جب صدیق اکبرؓ منصب خلافت پر فائز ہوئے تو اُس وقت جھوٹی نبوت کے دعویدار مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ یمامہ میں تقریبا 700 حفاظ قرآن صحابہ کرام شہید ہوئے ۔سیدنا فاروق اعظم ؓنے محسوس کیا کہ اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا اور وہ صحابہ جن کے سینوں میں قرآن محفوظ ہے شہید ہوتے رہے تو عین ممکن ہے کہ آگے چل کر حفاظت قرآن میں خاصی دشواری پیش آئے۔ لہٰذا آپؓ سیدنا صدیق اکبرؓ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ حفاظ صحابہ جنگوں میں شہید ہوتے جا رہے ہیں، کہیں حفاظت قرآن مسلمانوں کے لیے ایک مسئلہ نہ بن جائے، اس لیے میری یہ تجویز ہے کہ قرآن کو فوری طور پر ایک کتابی صورت میں اکٹھا کر دیا جائے اس طرح اس کی حفاظت کا بہتر اہتمام ہو سکے گا ۔سیدنا صدیق اکبرؓ کا ذہن فورا “اس طرف گیا کہ جو کام حضور ﷺ نےاپنی زندگی میں نہیں کیا وہ میں کیوں کروں۔ لہٰذا انہوں نے فرمایا کہ:”میں ایسا کام کیسے کر سکتا ہوں جسے رسول اللہﷺ نے نہیں کیا۔
حضرت عمر فاروقؓ کی بصیرت افروز نگاہیں اس حکمت اور مصلحت اور بھلائی کا مشاہدہ کر رہی تھیں جو جمع قرآن میں مضمر تھی لہٰذا اُنہوں نے جواب دیا کہ اے امیر المومنین درست ہے کہ یہ کام ہمارے آقا ﷺنے اپنی حیات مقدسہ میں نہیں کیا لیکن اللہ کی قسم ہے بہت اچھا اور بھلائی پر مبنی لہٰذا ہمیں اسے ضرور کرنا چاہیے۔اس بحث کے دوران سیدنا ابوبکر ؓنےفرمایا اے عمرؓ اللہ تیری قبر کو روشن کرے تو نے اپنی گفتگو سے میرے سینے کو روشن کر دیا ۔
اس حدیث کے راوی حضرت زید بن ثابت انصاریؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ مجھ سے فرمانے لگے کہ آپ نوجوان اور سمجھدار شخص ہیں اس کے علاوہ آپ چونکہ کاتب وحی رہے ہیں اسلئے ہم آپ کو ہی اس کام پر مامور کرتے ہیں کہ آپ قرآن کو مختلف
مقامات سے تلاش کر کے ایک جگہ جمع کر دیں۔
جمعے کی پہلی اذان : امام ابن ابی شیبہؒ (وفات 235 ہجری) نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت کیا ہے کہ:” جمعے کی پہلی اذان بدعت ہے(یعنی بدعت حسنہ) نماز جمعہ میں یہ اذان عہد عثمانی میں شروع کی گئی۔امام بخاریؒ نے اس کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے
کہ جمعے کے دن دوسری اذان کا حکم حضرت عثمان ؓنے دیا جب مسجد میں آنے والوں کی تعداد زیادہ ہو گئی۔ابتدائی دورِ اسلام میں جمعہ کے دن صرف ایک ہی اذان ہوا کرتی تھی، جو کہ منبر پر امام کے بیٹھنے کے بعد دی جاتی تھی، اور اسی کے فوراً بعد خطبہ شروع کر دیا جاتا تھا۔ اُس زمانے میں مدینہ منورہ کی آبادی کم تھی اور لوگ مسجدِ نبوی میں آسانی سے جمع ہو جاتے تھے۔لیکن حضرت عثمان غنی ؓکے دورِ خلافت میں مسلمانوں کی تعداد بڑھ گئی، شہر وسیع ہو گیا اور بازاروں میں مصروفیت بھی زیادہ ہونے لگی۔ اس وجہ سے لوگوں کو مسجد کی طرف متوجہ کرنے اور نمازِ جمعہ کی تیاری کے لیے آپؓ نے مسجدِ نبوی سے کچھ فاصلے پر ایک اضافی اذان دینے کا حکم فرمایا، جو خطبے سے پہلے دی جانے والی اذان سے بھی پہلے دی جاتی تھی۔یہ اضافی اذان دراصل ایک اعلامیہ یا اطلاع تھی تاکہ لوگ خرید و فروخت چھوڑ کر نمازِ جمعہ کے لیے مسجد کی طرف روانہ ہو جائیں۔
تالیف قلب کیلئے زکوٰة: تالیف قلب (یعنی کمزور ایمان والوں کیلئے مالی مدد)کے لیے زکوۃ دینے کا ثبوت قرآن پاک میں موجود ہے۔ سورة توبہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ” بے شک صدقات ایسے لوگوں کے لیے بھی ہیں جن کے دلوں میں اسلام کی محبت پیدا کرنا
کمزور ایمان والوں کو زکوٰۃ کی مد سے دینا خود نبی کریم ﷺسے ثابت ہے۔ سیدنا عمر فاروقؓ نے عینیہ بن حسنؓ مقصود ہو”
اور اقراء بن حبس ؓکو زکوۃ کا مال بطور تالیف قلب دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ “رسول اللہ ﷺتم دونوں کی تالیف (یعنی مالی مدد) اُس وقت کیا کرتے تھے جب کہ اسلام کمزور تھا اور مسلمان تعداد میں کم تھے۔ اب اللہ نے اسلام کو غنی کر دیا ہے تو تم لوگ جاؤ اور اپنی مالی جدوجہد کرو۔
تالیف قلب کے لیے زکوٰۃ دینے کے بارے میں حضرت عمر ؓکی رائے یہ تھی کہ زکوٰۃ کی رقم سے مدد کرنا اس وقت ضروری تھا جب مسلمان کمزور تھے اور اس کا مقصد یہ تھا کہ اُن کے شر سے بچا جائے اور اُن کے دلوں کو مانوس کیا جائے ،اس لئے اب جب کہ مسلمان کثیر تعداد میں ہیں اور انہیں قوت و عزت حاصل ہے تو اب کسی شخص کو تالیف قلب کی غرض سے مال زکوٰۃ میں سے دینا جائز نہیں ہے۔
پختہ اور خوبصورت مسجدوں کی تعمیر اور مسجدوں کے محراب بنوانا: اسلام کے شروع کے دور میں پکے مکانات بنانا ناپسند کیا جاتا تھا لہذا مسجد کو بھی پختہ کرنا ناجائز تصور کیا جاتا رہا۔ اسی طرح دور نبوی میں مسجد کے محراب کا بھی رواج نہیں تھا ،علامہ نور الدین سمہودیؒ
(وفات 911 ہجری) وفاء الوفاء میں ذکر کرتے ہیں کہ مسجدوں کےمحراب حضور ﷺاور خلفائے راشدین کے دور میں نہیں تھے اور
سب سے پہلے اسے حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ(وفات 101 ہجری)) نے بنوایا
اگر مسجدوں کی تعمیر میں تبدیلی پر غور کیا جائےتو اس کی مصلحت یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اُس وقت لوگوں کےاپنے گھر کچے ہوتے تھے لہٰذااللہ کے گھر کا کچا ہونا باعث شرم نہ تھا ،لیکن جب لوگوں کے اپنے مکانات پختہ ہو گئے تو اللہ تعالیٰ کے گھر کی شان کےپیش نظر پختہ اور خوبصورت مسجدوں کی تعمیر کا فتوی دے دیا گیا۔
علامہ ابن اثیر جزریؒ کا نقطہ نظر
علامہ ابن اثیر جزریؒ (وفات ۶۰۶ہجری) بدعت کی اقسام اور ان کا شرعی مفہوم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: “بدعت کی دو قسمیں ہیں بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ۔ جو کام اللہ اور اس کے رسول ﷺکے احکام کے خلاف ہو وہ مذمت کے قابل ہے اور منع ہے اور جس کام کو اللہ تعالی ٰنے مستحب قرار دیا ہو یا اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺنے اُس کا شوق دلایا ہو، اُس کام کا کرنا قابل ستائش ہے ۔اور جو کام نئے ہیں ، وہ اچھے کام ہیں بشرطیکہ وہ خلاف شرع نہ ہوں کیونکہ رسول اللہ ﷺ نےایسے کاموں پر ثواب کی بشارت دی ہے۔ آپ ﷺنے فرمایاکہ جس شخص نے اچھے کام کی ابتدا کی اس کو اپنا اجر بھی ملے گا اور جو لوگ اس کام کو کریں گے اُن کے عمل کا اجر بھی ملے گا۔اور اس کے برعکس جو بُرے کام کی ابتدا کرے گا اس کے بارے میں آپ ﷺنے فرمایا کہ اُس پر اپنی برائی کا وبال بھی ہوگا اور جو اس برائی کو کریں گے اُن کا وبال بھی اُس پر ہوگا ۔
بدعت حسنہ کے بارے میں سیدنا عمر فاروقؓ کا یہ قول “نعمت البدعة ھذا” یعنی یہ کتنی اچھی بدعت ہے (یہ الفاظ آپؓ نے نماز تراویح کا با جماعت اہتمام کرنے کے بعد کہے) موجودہے۔ پس جب نیا کام خیر میں سے ہو تو اُس کی تعریف کی جائے گی ۔ حضور ﷺنے باجماعت نماز تراویح کو چند راتیں پڑھ کر باجماعت پڑھنا ترک کر دیا، بعد میں صدیق اکبر ؓکے دور میں بھی اس کو با جماعت
نہیں پڑھا گیا۔ پھر سیدنا عمر فاروقؓ کا دور آیا تو آپؓ نے لوگوں کو اس پر جمع کیا، اُن کو اس کی طرف متوجہ کیا ،پس اس وجہ سے اس کو بدعت کہا گیا۔
علامہ ابن اثیر جزریؒ جیسے خیالات کا اظہار مختلف ادوار میں مختلف علماء، فقہاء اور آئمہ کرام کی جانب سے کیا جاتا رہاہے۔مضمون کی طوالت سے بچنے کیلئے اُن کے صرف نام نیچے بیان کئے جا رہے ہیں
شمس الدین محمد بن یوسف بن علی الکرمانیؒ (وفات 796 ہجری)[29], علامہ ابو عبداللہ محمد بن خلفہ الوشتانی المالکیؒ(وفات 828 ہجری)[30], علامہ ابن حجر عسقلانیؒ(وفات 852 ہجری)[31], امام بدرالدین عینیؒ(وفات 855 ہجری)[32], علامہ شمس الدین سخاویؒ ( وفات 902 ہجری)[33], امام جلال الدین سیوطیؒ(وفات 911 ہجری)[34], علامہ شہاب الدین احمد قسطلانیؒ(وفات 911 ہجری)[35]], امام محمد بن یوسف صالحیؒ شامیؒ (وفات 942 ہجری)[36], امام عبدالوہاب بن احمد علی الشعرانیؒ (وفات 973 ہجری)[37]، ملا علی قاریؒ کے استاد امام ابن حجر مکی البیہقی ؒ(وفات 974 ہجری)[38], شیخ محمد شمس الدین الشربینی الخطیب ؒ(وفات 977 ہجری)[39],ملا علی قاریؒ ؒ(وفات 1014 ہجری)[40]، امام محمد عبدالرؤف المناوی ؒ(وفات 1031 ہجری)[41], علامہ حلبیؒ (وفات 1044 ہجری)[42] , شیخ عبدالحق محدث دہلوی ؒ(وفات 1052 ہجری)[43], یمن کے معروف غیر مقلد عالم شیخ شوکانیؒ (وفات 1255 ہجری)[44], علامہ شہاب الدین سید محمود آلوسیؒ (وفات 1270 ہجری)[45]، مولانا احمد علی سہارنپوریؒ (وفات 1297 ہجری)[46], نامور غیر مقلد عالم دین نواب صدیق حسن خان بھوپالیؒ (وفات 1307 ہجری)[47], مولانا عبدالرحمن مبارکپوریؒ (وفات 1353 ہجری)[48], مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ(وفات 1369 ہجری)[49], مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ (وفات 1402 ہجری)[50], سعودی عرب کے معروف مفتی شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن بازؒ (وفات 1421 ہجری)[51]اور مکہ مکرمہ کے معروف عالم دین شیخ سید محمد بن علوی المالکی الحسنیؒ (وفات 1425 ہجری)۔[52]
بدعتوں کا آغاز حضورﷺ کے وصال کےفورا “بعد ہوا
امام ابو داؤد ؒ(وفات 275 ہجری) نے کتاب و سنہ کے ذیل میں “باب فی الروم السنۃ” میں ایک حدیث بیان کی ہے جس کے راوی حضرت عرباض بن ساریہ ؓہیں۔ اسی حدیث کو امام طبرانیؒ (وفات 360 ہجری) [53]نے بھی تقریبا انہی الفاظ میں اپنی کتاب المعجم الکبیر میں حضرت عرباض بن ساریہ ؓسے ہی روایت کیا ہے،بیان کرتے ہیں کہ ایک روز حضور نبی اکرم ﷺنے ہمیں نماز پڑھائی پھر ہماری جانب متوجہ ہو کر دل میں اتر جانے والی نصیحتیں فرمائیں جن سے آنکھیں بہنے لگیں اور دل کانپ اٹھے، ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺیہ تو الوداعی نصیحت معلوم ہوتی ہے لہذا ہمیں کوئی وصیت فرمائیے۔آپﷺ نے ارشاد فرمایا:” میں تمہیں تقویٰ اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں اور امیر کے فرمانبردار رہنے کی،خواہ وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو کیونکہ جو تم میں سے میرے بعد زندہ رہا تو وہ عنقریب بہت زیادہ اختلاف دیکھے گا۔ پس تم پر میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت پر قائم رہنا لازم ہے۔ اس کو تھامے رہنا اور اسے دانتوں کے ساتھ مضبوطی سے پکڑے رکھنا، دین میں جو نئے کام (محدثات الامور) داخل کیے جائیں اُن سے بچتے رہنا کیونکہ ہر نیا کام بدعت ہے (کل محدثہ بدعتہ) اور ہر بدعت گمراہی ہے
(کل بدعتہ ضلالہ)
اس حدیث مبارکہ میں چند اہم امور ترتیب سے سمجھنے کی ضرورت ہے
پہلی بات: جب صحابہ کرام نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ!ہمیں کوئی وصیت فرمائیں تو آپ ﷺنے فرمایا میں تمہیں تقویٰ اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں۔
دوسری بات:فرمایا کہ اگر تم پر حبشی غلام بھی خلیفہ یا سربراہ مقرر کر دیا جائے تب بھی اس کی بات سننا اور اطاعت کرنا۔
تیسری بات: ا آپﷺ نے دور فتن کے تعین کا اشارہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے میرے صحابہ! میرے وصال کے بعد تم میں سے جو بھی زندہ رہا تو وہ عنقریب کثرت کے ساتھ اختلاف دیکھے گا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اختلاف کثیر، گروہ بندیاں اور فتنے جن کا ذکر حضور ﷺفرما رہے ہیں اُن کا تعلق صدیوں بعد کے فتنوں سے نہیں ہے بلکہ یہ حضور ﷺکے وصال فرمانے کے فورا “بعد، دور صحابہ اور دور خلفائے راشدین میں رُونما ہوں گے۔ یعنی اُن اختلافات اور فتنوں کی زد میں براہ راست خلفائے راشدین آئیں گے۔ اُن مشکل حالات میں حضور ﷺنے اُمت کی رہنمائی کے لیے ضابطے کا اعلان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ میرے فوری بعد دور فتن میں جب دھڑے بندیاں اور گروہ بندیاں شروع ہو جائیں اور لوگ پریشان ہونے لگیں کہ کس کی مانیں اور کس کی نہ مانیں تو تذبذب اور تردد کا شکار ہونے کی بجائے میری اور میرے خلفائے راشدین کی سنت کو تھامے رکھنا۔
حضور ﷺنے بدعت کا سارا زمانہ اور اُن کی نوعیت متعین فرمانے کے بعد پھرارشاد فرمایا کہ ان نئے کاموں (محدثات الامور) سے بچتے رہنا کیونکہ ہر نیا کام بدعت ہے(کل محدثہ بدعتہ) اور ہر بدعت گمراہی ہے(کل بدعتہ ضلالہ)۔
اس حدیث مبارکہ پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ محدثات الامور وہ فتنے ہیں جو حضورﷺ کے وصال کے فورا “بعد خلفائے راشدین کے زمانے میں ظاہر ہوئے جیسے زکوٰۃ دینے سے انکار، جھوٹی نبوت کے دعوے، فتنہ ارتداد(ارتداد سے مراد کسی مسلمان کا اسلام چھوڑ کر کفر اختیار کر لینا ہے) اور فتنہ خوارج وغیرہ۔
لہٰذا آپ ﷺکے وصال کے بعد بعض لوگوں نے نبی ہونے کا دعوی کر دیا ،کئی قبیلے مرتد ہو گئے اور بعض قبائل نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا۔اُن کی سرکوبی کے لیے سیدنا صدیق اکبر ؓنے افواج بھیجیں۔سرور دو عالم ﷺکے وصال کے فورا بعد خلفائے راشدین کے زمانے میں جو بڑے بڑے فتنے رُونما ہوئے وہ یہ ہیں
جھوٹی نبوت کے دعوےداروں کا فتنہ: حضور ﷺکے وصال کے فورا بعد جھوٹے نبیوں کے فتنے نے سر اٹھایا ۔ اُن میں اسود عنسی، طلیحہ اسدی، مسیلمہ کذاب، سجاح بنت حارثہ تمیمہ شامل ہیں۔
فتنہ ارتداد: حضور ﷺکے وصال فرمانے کے ساتھ ہی ایک اور فتنہ رُونما ہوا جسے فتنہ ارتداد کہتے ہیں۔ عرب کے کئی نو مسلم قبائل اسلام سے پھر گئے اور دوبارہ اپنی پرانی روش پر چل نکلے۔ اس پر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے جرات کے ساتھ اس فتنے کا خاتمہ کیا۔ امام طبریؒ (وفات 310 ہجری) آپ ﷺکے وصال کے بعد قبائل عرب میں فتنہ ارتداد کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ حضرت اسامہ ؓ لشکر لے کر روانہ ہوئے تو اُن کے بعد سرزمین عرب اسلام سے بغاوت پر اُتر آئی اور تمام قبائل میں سے لوگ چاہے عام ہوں یا خاص سوائے قریش اور ثقیف کے سرکش اور مرتد ہو گئے۔ اس کی تفصیل کو امام جلال الدین سیوطیؒ (وفات 911 ہجری) نے اپنی کتاب تاریخ الخلفاء میں بیان کیا ہے۔
فتنہ منکرین زکوٰۃ
آپ ﷺکے وصال کے بعد پے در پہ سر اُٹھانے والے فتنوں میں تیسرا اہم فتنہ منکرین زکوٰۃ کا تھا ۔یہ گروہ چونکہ اپنے آپ کو مسلمان کہتا تھا اور صرف زکوٰۃ ادا کرنے سے انکار کر رہا تھا اس لیے ان کے خلاف تلوار اٹھانے کے متعلق خود صحابہ کرام میں اختلاف رائے پایا جاتا تھا ۔امام بخاریؒ (وفات 256 ہجری) بیان کرتے ہیں کہ اس موقع پر حضرت عمر ؓجیسے صحابی نے خلیفہ وقت حضرت ابوبکر صدیق ؓکو ان کے خلاف قتال سے روکنا چاہا ۔حضرت عمر فاروقؓ کا موقف تھا کہ آپ ایک ایسی جماعت کے خلاف کس طرح جنگ کر سکتے ہیں جو توحید اور رسالت کا اقرار کرتی ہے اور صرف زکوٰۃ کی منکر ہے۔ لیکن خلیفہ اول حضرت ابوبکرصدیقؓ کا ارادہ اس اختلاف رائے سے متاثر نہ ہوا ۔اس جرات مندانہ اور فیصلہ کن اقدام کا نتیجہ یہ ہوا کہ تھوڑی سی تنبیہ اور کاروائی کے بعد تمام منکرین خود زکوٰۃ لے کر بارگاہ خلافت میں حاضر ہوئے اور پھر حضرت عمر فاروقؓ کو بھی حضرت ابوبکر صدیق ؓکی پختہ رائے اور درست فیصلے کا اعتراف کرنا پڑا۔
اسلام کو درپیش چوتھا بڑا فتنہ خوارج کا تھا، جو حضرت علیؓ کے دورِ خلافت میں صفین کی جنگ کے بعد ظاہر ہوا۔ انہوں فتنہ خوارج
نے “لاحکم الا للہ” کا نعرہ لگا کر مسلمانوں، خصوصاً حضرت علیؓ اور ان کے پیروکاروں کو بدعتی اور مشرک کہنا شروع کیا۔ نہروان میں ان کا مقابلہ حضرت علیؓ سے ہوا اور یہ فتنہ اپنے انجام کو پہنچا۔ خوارج کی پہچان یہ تھی کہ وہ دوسرے مسلمانوں کو کافر قرار دیتے اور اُن کا خون حلال سمجھتے۔ یہ سارا زور توحید پر صرف کرتے اور جمہور اُمت مسلمہ (مسلمانوں کے بڑےگروہ) کو مشرک اور بدعتی قرار دیتے ۔ امام بخاری ؒکہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ خوارج کو اللہ تعالی کی بدترین مخلوق سمجھتے تھے کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی وہ آیات جو کفار کے حق میں نازل ہوئیں تھیں اُن کا اطلاق مومنین پر کرنا شروع کر دیا تھا۔
لہٰذا یہ چاروں گروہ یعنی مدعیانِ نبوت، منکرینِ زکوٰۃ، مرتدین اور خوارج ، صحیح روایات کے مطابق وہی بڑے اختلافات اور فتنےتھے جن کی خبر نبی کریم ﷺ نے پہلے ہی دے دی تھی۔
کیا ہر بدعت “بدعة ضلالة “ہے
کوئی شخص یہاں پر اعتراض کر سکتا ہے کہ نبی کریم ﷺنے تو فرمایا ہے: کل بدعة ضلالة یعنی ہر بدعت کو ضلالة (یعنی گمراہی) فرمایا ہے ،پھر بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ کی تقسیم کہاں سے نکل آئی۔ اس اعتراض کا مختصر جواب یہ ہے کہ یہ تقسیم نئی نہیں بلکہ شروع سے لے کر آج تک تمام اکابر آئمہ اور محدثین نے حدیث نبوی کی روشنی میں بدعت کی یہی تقسیم بیان کی ہے۔
یہاں پرامام مسلم ؒ (وفات 261 ہجری) کی بیان کردہ وہ حدیث مبارکہ وضاحت کے لیے پیش کی جاتی ہےجس کا ذکر پہلے آ چکا ہے کہ “جس شخص نے مسلمانوں میں کسی نیک طریقے کی ابتدا کی اور اس کے بعد اُس طریقے پر عمل کیا گیا تو اُس طریقے پر عمل کرنے والوں کا اجر بھی اُس کے نامہ اعمال میں لکھا جائے گا اور عمل کرنے والوں کے اجر میں کمی نہیں ہوگی اور جس شخص نے مسلمانوں میں کسی برے طریقے کی ابتدا کی اور اس کے بعد اس طریقے پر عمل کیا گیا تو اُس طریقے پر عمل کرنے والوں کا گناہ بھی اُس شخص کے نامہ اعمال میں لکھا جائے گا اور عمل کرنے والوں کے گناہ میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔
دوسرے لفظوں میں اسے بدعت خیر اور بدعت شر بھی کہہ سکتے ہیں کہ جس کے متعلق حضور ﷺنے اس حدیث مبارکہ میں بات کی ہے کہ جس نے کوئی نیا کام کیا جو میری سنت میں نہیں تھا ،یعنی بدعت تھا مگر خیر اور بھلائی کا کام تھا تو اُس کے لیے اجر ہے۔اسی طرح اگر شر اور برائی کی بدعت کا آغاز کیا تو اُس پر گناہ ہے۔ بدعت سے مراد ارتداد کی سطح کے فتنے ہیں بیان کی گئی احادیث مبارکہ سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ وہ فتنے جنھیں بدعت کہا گیا اُس سے مراد ارتداد یعنی کفر کا باعث بننے والے اختلافات تھےجن کا ارتکاب کرنے والے وہ لوگ تھے جو حضور ﷺکی حیات طیبہ میں ہی دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے اور بعد میں مرتدین، منکرین زکو ٰة، جھوٹے نبوت کے دعوے داروں اور خوارج کے حامی ہو گئے۔ یعنی اگر کوئی نئی نبوت کا اعلان کرے ،نئی کتاب یا نیا دین گھڑ دے، نیا کعبہ بنا دے، ارکان دین کو پانچ کی بجائے سات کر دے، نمازیں پانچ کی بجائے چھ یا تین کر دے، اساس دین(وہ بنیادی اصول جن پر پورا دین قائم ہے) میں کمی یا زیادتی کر دے، الغرض دین میں ایسی کمی یا اضافہ جو ارتداد کا باعث ہو ،چاہے وہ کسی وقت اور کسی بھی زمانے میں ہو وہ بدعت ، ضلالت اور گمراہی ہوگا ۔
لہذا اب قیامت تک بھی اگر کسی دور میں اس نوعیت کے عقیدے اور عمل کو دین کی طرف منسوب کیا جائے تو وہ بدعتہ ضلالہ میں شمار ہوں گے جیسے فتنہ قادیانیت، فتنہ بہائیت وغیرہ اور اس کے ماننے والوں کا گروہ بدعتہ ضلالہکا مرتکب ہوگا۔اُن کے لیے وہی حکم ہوگا جو خلفائے راشدین کے دور میں بدعتہ ضلالہکے مرتکب افراد کیلئے تھا۔
مزید وضاحت کے لیے صحیح بخاری کی کتاب التفسیر سے ایک بہت اہم حدیث پیش کرتے ہیں جسے امام بخاریؒ (وفات256 ہجری) کے علاوہ امام مسلمؒ(وفات 201 ہجری)) نے کتاب الجنةمیں امام ترمذی ؒ(وفات 279 ہجری) نے کتاب التفسیر میں اور امام نسائیؒ (وفات 303 ہجری) نے کتاب الجنائز میں بیان کیا ہے۔ان کے علاوہ اکثر و بیشتر محدثین نےاس حدیث کو اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ( وفات 68 ہجری) سے روایت ہے کہ ایک روز حضور نبی اکرم ﷺنے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا “اے لوگو! تم اللہ کے پاس ننگے پیر ننگے بدن اور بغیر ختنے کے جمع کیے جاؤ گے”۔پھر سورة الانبیاء ٕ ٕ کی یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی
جس طرح ہم نے کائنات کو پہلی بار پیدا کیا تھا ہم اس کے ختم ہو جانے کے بعد اسی عمل تخلیق کو دہرائیں گے یہ وعدہ پورا کرنا ہم نے لازم کر لیا ہے ہم ضرور کرنے والے ہیں۔
پھر فرمایا “سنو !مخلوق میں سب سے پہلے ابراہیم ؑ کو لباس پہنایا جائے گا ،سنو بے شک میری امت میں سے کچھ لوگوں کو لایا جائے گا، ان کو بائیں جانب سے پکڑ لیا جائے گا،میں کہوں گا اے میرے رب !یہ میرے اصحاب ہیں، کہا جائے گا کیا آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا کیا فتنے نکالے تھے۔ بس میں وہی کہوں گا جو اللہ کے ایک نیک بندے عیسی ؑنے کہا: اور میں ان کے عقائد و اعمال پر اُس وقت تک خبردار رہا جب تک میں ان لوگوں میں موجود رہا۔پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان کے حالات پر نگہبان تھا اور تو ہر چیز پر گواہ ہے ۔اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے ہی بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو بے شک تو ہی بڑا غالب حکمت والا ہے۔ پھر مجھ سے کہا جائے گا کہ جیسے ہی آپﷺ ان سے جدا ہوئے یہ اُسی وقت مرتد ہو گئے تھے۔
اس حدیث مبارکہ میں بھی جن فتنوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ حضورﷺ کے وصال کے فورا بعد خُلفائے راشدین کے زمانے میں رونما ہوئے اور یہ وہی ارتداد کی سطح کے فتنے ہیں جن کا ذکر اوپر گزر چکا ہے ۔ بعض قبائل اور لوگ کثرت سے فتوحات دیکھ کر اسلام میں داخل ہو گئے تھے لیکن ابھی ایمان پورے طور پر اُن کے دلوں میں نہیں اترا تھا،دنیاوی مال و دولت کی محبت غالب تھی۔ جونہی نبی کریم ﷺ کا وصال ہوا تو اُن میں سے کچھ لوگ مرتد ہو گئے، کسی نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا اور کسی نے جھوٹی نبوت کا دعوی کر دیا۔
اس بیان سے واضح ہو گیا کہ دین میں ایسا فتنہ پیدا کرنا جو کفر کا باعث ہو ،بدعت اور گمراہی ہے۔ مختلف احادیث میں فتنہ و فسادکے مرتکب افراد کو واضح طور پر مرتدین (یعنی جو مسلمان ہونے کے بعد کسی اور دین کو اختیار کر لیں) قرار دیا گیا ہے۔اسی بدعت کی مختلف شکلیں وہ ہیں جو حضور ﷺکے زمانے کے فوری بعد پیدا ہوئیں جیسے فتنہ خوارج ،اور انہی کی طرح دیگر فتنے بعد کے دور میں بھی پیدا ہو سکتے ہیں جیسے فتنہ قادیانیت وغیرہ۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ بدعت کا اطلاق صرف ارتداد کی سطح کے اُمور پر ہوگا نہ کہ دین کے چھوٹے چھوٹےبھلائی اور نیکی کے کاموں پر۔
بدعتوں کا تعلق دور خلفائے راشدین سے ہے
یہ بات طے ہو گئی ہے کہ جن فتنوں یا بدعتوں کا ذکر حضور ﷺفرما رہے ہیں اُن کا تعلق صرف اور صرف خلفائے راشدین کے زمانے کے ساتھ ہے، باقی اُمت کے نیک اعمال اوربھلائی کے کاموں کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں۔ ہاں اُن نئے نیکی اور بھلائی کے کاموں کی حیثیت کے بارے میں اختلاف ہو سکتا ہے کہ یہ مستحب ہیں (مستحب وہ نیکی یا عمل ہوتا ہےجسے کرنا ثواب ہے، لیکن نہ کرنے پر گناہ نہیں ہوتا جیسے مسواک کرنا،سلام میں پہل کرنا،نفل پڑھنا وغیرہ) یا غیر مستحب، مباح ہیں (یعنی وہ جائز اورحلال کام جس پر نہ ثواب ہے اور نہ ہی گناہ ،جیسے پانی پینا، کرسی پر بیٹھنا، گاڑی میں سفر کرنا وغیرہ ) یا مکروہ، افضل ہیں یا غیر افضل۔ علمی اختلاف جو چاہیں کریں مگر انہیں بدعت (یعنی گمراہی) کہنا صحیح نہیں ۔
بدعتوں کا آغاز اُن لوگوں کی طرف سے ہوا جو پہلے آپ ﷺکے ساتھ تھے ، مگر آپ ﷺکے وصال کے بعد خلفائے راشدین کے ساتھ اُن کا اختلاف ہوا اور اس کی وجہ سے وہ گمراہ ہو گئے۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں ہے کہ جب انہیں دوزخ کی طرف دھکیلا جا رہا ہوگا تو حضورﷺ اللہ کی بارگاہ میں عرض کریں گے کہ یارب اصحابی یعنی یا اللہ! یہ تو میرے اصحاب ہیں، جواب ملے گا کہ جب آپ ان سے جدا ہوئے تویہ اپنی ایڑیوں کے بل دین سے پھر گئے۔
قابل غور بات یہ ہے کہ اگر احادیث کی تمام کتابوں میں اس حدیث کو دیکھا جائے تو سب میں دو باتیں مشترک نظر آتی ہیں۔ پہلا لفظ اصحابی یعنی میرے اصحاب اور دوسرا یہ کہ ان بدعتوں کا تعلق اُن لوگوں سے ہے جو پہلے آپ ﷺکے ساتھ تھے مگر خلفائے راشدین کے دور میں یہ لوگ گمراہ ہو گئے۔
اس موقف کی تائید صحیح بخاری میں ہی امام بخاری ؒ(وفات 256 ہجری) کے شاگرد محمد بن یوسف الفربری ؒکی اس روایت سے ہوتی ہے۔
مبتلا افراد سے محمد بن یوسف الفربری ؒکہتے ہیں کہ امام بخاریؒ، قبیصہ سے روایت کرتے ہیں کہ فتنوں (یعنی احداث اوربدعتوں) میں
مرادوہ مرتدین ہیں جو حضرت ابوبکرصدیق ؓکے عہد میں دین سے پھر گئے تھے تو حضرت ابوبکر صدیق ؓنے اُن سے قتال کیا۔
بدعتہ ضلالة اختیار کرنے سے ایک سنت اُٹھا لی جاتی ہے امام ترمذی ؒ،حضرت بلال بن حارثؓ کی روایت کو بیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺنے فرمایا
جس نے میرے بعد کوئی ایسی سنت زندہ کی جو مردہ ہو چکی تھی تو اُس کے لیے بھی اتنا ہی اجر ہوگا جتنا اُس پر دیگر عمل کرنے والوں کے لیے، اس کے باوجود ان کے اجر اور ثواب میں کوئی کمی نہیں آئے گی اور جس نے گمراہی کی بدعت (حدیث میں “بدعتہ ضلالة” کے الفاظ ہیں) نکالی جسے اللہ اور اس کا رسول پسند نہیں کرتے تو اُس پر اُتنا ہی گناہ ہے جتنا اُس برائی کا ارتکاب کرنے دیگر لوگوں پر ہے اور اُس سے اُن کے گناہوں کے بوجھ میں بالکل کمی نہیں آئے گی۔
اس حدیث مبارکہ میں مردہ سنت کو بدعتہ ضلالة کے مقابلے میں ذکر کیا گیا ہے۔ جس حدیث مبارکہ میں خصوصی طور پرسنت کوبدعت (بدعتہ ضلالة) کے مقابلے میں ذکر کیا جائے وہ ایسی بدعت (بدعتہ ضلالة) ہوتی ہے کہ جس کے کرنے سے کوئی نہ کوئی سنت ترک ہوتی ہے۔اس موقف کی تائید مسند احمد کی اس حدیث سے ہوتی ہے جس میں حضور نبی کریم ﷺنے فرمایاکہ: “جب کوئی قوم دین میں بدعت کا آغاز کرتی ہے تو اُس کے مثل ایک سنت اُٹھا لی جاتی ہے لہٰذا سنت کو مضبوطی سے پکڑنا ۔
اسی لیے اس حدیث مبارکہ میں بدعتہ ضلالة کے لیے فرمایا گیا کہ جس نے اس کے مقابلے میں سنت کو زندہ کیا اُس کے لیے اجر ہے اور جس نے ایسی بدعت کی راہ نکالی جو سنت کے ترک کا باعث ہو تو وہ گمراہی ہے۔
دوسرا اہم نقطہ یہ ہے کہ اس حدیث مبارکہ میں آپ ﷺنے “بدعتہ ضلالة” کے الفاظ ادا فرمائے ہیں لہٰذا آپ ﷺنے واضح کر دیا کہ میری مراد یہاں نیکی اور بھلائی کے نیک کام نہیں بلکہ برائی اور گمراہی کے کام ہیں اور آپ ﷺنے اس بات کو متعین فرما دیا کہ ہر بدعت گمراہی نہیں بلکہ صرف وہ بدعت گمراہی ہوگی جو مبنی بر ضلالت ہوگی ۔
لہذا اب اگر کوئی یہ کہے کہ دین میں ہر نیا کام بدعت ہوتا ہے تو اس کے مقابلے میں کہا جائے گا کہ نہیں بلکہ صرف بدعتہ ضلالة ہی باعث ضلالت ہوگی۔ کیونکہ حضور ﷺنےبدعتہ ضلالةکے معنی کو خود متعین فرما دیا ہے کہ کوئی عمل اُس وقت تک بدعتہ ضلالة نہیں ہو گا جب تک وہ کسی خاص سنت کے ترک ہو جانے کا سبب نہ بنے۔
معروف اہل حدیث عالم مولانا صدیق حسن خان بھوپالی (وفات 1307 ہجری) بھی واضح طور پر لکھتے ہیں کہ ہر نئے کام کو بدعت کہہ کر مطعون (یعنی بُرا بھلا)نہیں کہا جائے گا بلکہ بدعت (یعنی بدعتہ ضلالة) صرف اُس کام کو کہا جائے گا جس سے کوئی سنت ترک ہو اور جو نیا کام شریعت کے خلاف نہ ہو وہ بدعت نہیں بلکہ مباح اور جائز ہے۔
کوئی بھی نیا کام اس وقت ناجائز اور حرام قرار پاتا ہے جب وہ شریعت کے کسی حکم کی مخالفت کر رہا ہو اور اسے دین کی ضرورت سمجھ کر پیروی کے لائق ٹھہرا لیا جائے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کسی بھی بدعت حسنہ کو ضروریات دین شمار کرتے ہوئے اس کے نہ کرنے والے کو گناہ گار اور کرنے والے کو ہی مسلمان سمجھا جائے تو اس صورت میں بدعت حسنہ بھی ناجائز بن جاتی ہے۔مثلا مقلد یا اہل حدیث حضرات نعت خوانی کے اجتماعات کو جائزنہیں سمجھتے اور میلاد النبی ﷺکو نہیں مناتے۔لہٰذا ان اُمور کو ضروریات دین شمار کرتے ہوئے انھیں نہ کرنےوالوں کو گناہ گار سمجھنا غلط اور غیر شرعی تصورہو گا۔
لہٰذا بدعت سے مراد ہرگز ہرگز چھوٹےہلکی نوعیت کے اختلافات نہیں بلکہ ان سے مراد اُس سطح کے فتنے ہیں کہ اُن میں سے ہر فتنہ ارتداد کا باعث بنے،آپ ﷺکی سنت کو منقطع کرے اور دین کے بنیادی عقائد اور تعلیمات کو بگاڑنے کا سبب ہو،یا ارکان اسلام میں کمی یا زیادتی کرے، ختم نبوت کا انکار کرے ،قرآن میں تحریف کرے ،جہاد کو منسوخ کرے، سود کو جائز قرار دینے کے لیے کوئی عقیدہ گھڑلے تو ان فتنوں کو قیامت تک کے لیے دین میں بدعت ضلالة کہیں گے اور یہی وہ فتنے ہیں جن کے ماننے والوں اور عمل کرنے والوں کو جہنم کا ایندھن قرار دیا گیا ہے۔
قرون اولٰی میں بدعتہ ضلالةکن اُمورکو کہا جاتا تھا
اسلامی تاریخ میں قرونِ اُولیٰ سے مراد اسلام کے وہ ابتدائی تین بہترین دور ہیں (یعنی صحابہؓ، تابعین اور تبع تابعین کا زمانہ)جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
“خیرُ النّاسِ قَرني، ثُمَّ الّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الّذِينَ يَلُونَهُمْ”
ترجمہ: سب سے بہترین زمانہ میرا زمانہ ہے، پھر اس کے بعد والا، پھر اس کے بعد والا۔
قُرون اولی ٰمیں گستاخان رسولﷺ، مخالفین صحابہ اور کفریہ عقائد کے حاملین کو بدعتہ ضلالة کا مرتکب کہا جاتا تھا۔متعدد احادیث مبارکہ اس بات پر شاہد ہیں کہ دور نبویﷺ اور عہد صحابہ میں خیر کے کاموں کا آغاز کرنے والوں کو تحسین کی نظر سے دیکھا جاتا تھا
بدعتہ ضلالة کے مرتکب مشہور طبقے یہ ہیں جیسے خوارج، مرجعہ، معتزلہ، جہمیہ، روافض و باطنیہ اور قدریہ وغیرہ۔ آیئےان طبقوں کے کفریہ عقائد کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں جن کیوجہ سے انھیں بدعتہ ضلالة کا مرتکب کہا گیا ۔
خوارج: ان کا ذکر پہلے کیا جا چکا ہے ،یہ وہ گروہ ہے جو گناہوں کی وجہ سے مسلمانوں کو کافر قرار دیتا ہے اور مسلمانوں کا قتل اور اُن کے مال کو لوٹ لینا جائز سمجھتے ہیں۔ علامہ ابن تیمیہؒ نے خوارج اور شیعہ کو اسلام کی پہلی بدعت قرار دیا۔ ابن تیمیہؒ خوارج کے عقائد کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے مسلمانوں کا خون بہانا جائز سمجھا اور جن کی صفت حضورﷺ نے یہ بیان کی تھی کہ وہ اہل اسلام سے لڑیں گے اور بت پرستوں سے صلح رکھیں گے۔ انہوں نے حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ اور دیگر صحابہؓ کو بھی کافر کہا، حتیٰ کہ ایک خارجی نے حضرت علیؓ کو شہید کر دیا۔
مرجعہ: مسلمانوں کا ایک ایسا فرقہ ہے جو یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ ایمان کا تعلق محض قول اور زبان سے ہے عمل کا اس میں دخل نہیں۔
شاگرد معتزلہ:معتزلہ فرقہ بنو اُمیہ کے دور میں واصل بن عطاء کے ذریعے وجود میں آیا، جو حضرت حسن بصریؒ (وفات 110 ہجری) کا تھا۔ ایک علمی بحث کے دوران واصل نے کہا کہ کبیرہ گناہ کرنے والا نہ مومن ہے نہ کافر بلکہ درمیانی درجے میں ہے۔ پھر وہ کھڑا ہوا اور مسجد میں ایک طرف الگ ہو کر حضرت حسن بصری ؒکے شاگردوں میں اس عقیدے کی تلقین بھی شروع کر دی۔حضرت حسن بصریؒ نے کہا “اعتزل عنا واصل” یعنی واصل ہم سے الگ ہو گیا، اسی نسبت سے اس کے ماننے والوں کو معتزلہ کہا گیا۔
معتزلہ کا دوسرا بڑا عقیدہ یہ تھا کہ قرآن مخلوق ہے، جس نے طویل عرصہ تک امت میں شدید اختلاف اور مناظروں کو جنم دیا۔
جہمیہ:اس فرقے کا بانی ابو مہر جہم بن صفوان (وفات 128 ہجری) تھا۔اس فرقے کا عقیدہ تھا کہ قرآن مخلوق ہے اور اُن کے نزدیک دنیا میں جو بھی واقعات ہوتے ہیں اس کا علم اللہ تعالیٰ کو اُن کے ظہور کے بعد ہوتا ہے۔ ایمان کے بارے میں اُن کے عقائد مرجعہ کے عقائد سے ملتے جلتے تھے۔
(وفات 597 ہجری) اپنی کتاب تلبیس ابلیس میں روافض کے بارے میں لکھتے ہیں کہ جس طرح روافض و باطنیہ:علامہ ابن جوزیؒ ابلیس نے خوارج کو گمراہ کیا حتی کہ انہوں نے حضرت علیؓ سے جھگڑا شروع کر دیا اسی طرح اُس نے بعض دوسرے لوگوں کو حضرت علؓی کی محبت میں غُلو (یعنی اصل درجے سے بڑھا کر غیر شرعی مقام دینا)کی وجہ سے راہ ہدایت سے دور کر دیا۔چنانچہ یہ لوگ حب علیؓ میں حد سے بڑھ گئے اور اُن میں سے بعض لوگوں نے حضرت علیؓ کو الٰہ یعنی خدا اور بعض نے خیر من الانبیاء (یعنی انبیاء سے بہتر) اور بعض دوسروں نے حضرت ابوبکر ؓاور حضرت عمر ؓکو سب و شتم (یعنی گالیاں دینا) شروع کر دیں۔
یہ لوگ تقدیر کے بارے میں جھگڑا کرتے تھے۔تقدیر کو عربی میں قدر کہتے ہیں۔تقدیر پر بحث کا آغاز صحابہ کے آخری دور قدریہ
میں ہوا اور پہلا شخص جس نے تقدیر پر بحث شروع کی وہ معبد الجہنی تھا۔ اُس کے نظریات کو قریش مکہ کے عقائد سے تقویت ملتی تھی جو اپنے شرک کو جواز فراہم کرنے کے لیے تقدیر کا سہارا لیتے تھے۔ ایسے لوگوں کے عقائد کو اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں بیان کرتے ہیں کہ یہ لوگ کہتے تھے کہ:اگر اللہ چاہتا تو ہم اُس کے سوا کسی بھی چیز کی پرستش نہ کرتے ،نہ ہی ہم اور نہ ہی ہمارے باپ دادا اور نہ ہم
اس کے حکم کے بغیر کسی چیزکو حرام قرار دیتے۔
قرون اولیٰ میں نیکی اور بھلائی کے کاموں پر بدعتہ ضلالة کا اطلاق نہیں ہوتا تھا
قرون اولیٰ میں اجتہادی نوعیت کے نئے امور پر بدعتہ ضلالة (یعنی گمراہی) کا اطلاق نہیں ہوتا تھا بلکہ ایسے اجتہاد کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ اس حوالے سے جمع و تدوین قرآن کے لیے حضرت عمر فاروقؓ کا خلیفہ وقت سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے بات کرنا، حضرت عمرؓ کا اپنے دور خلافت میں جماعت تراویح کا اہتمام کرنا، حضرت عثمان غنیؓ کا جمعہ کی نماز میں دوسری اذان کا اضافہ کرنا یہ وہ امور ہیں جو نبی کریم ﷺکی حیات مبارکہ میں موجودہ صورت میں رواج پذیر نہیں تھے لیکن چونکہ مبنی خیر و حکمت تھے لہذا صحابہ اور تابعین سے لے کر آج تک امت کے افراد ان پر عمل کرتے چلے آ رہے ہیں اور ان امور حسنہ پر کسی نے بھی کبھی بدعتہ ضلالة یعنی گمراہی کا اطلاق نہیں کیا۔
بدعتہ ضلالة کا اطلاق صرف کفریہ عقائد پر ہوتا تھا اور اس سے مراد ایسے فتنے تھے جو دین کی بنیادی تعلیمات کو مسخ کر دیں یا ان کا انکار کر دیں ۔ اس سے مراد فقط فتنہ ارتداد اور اس کی مختلف شکلیں ہیں جو حضور ﷺکے وصال کے فورا بعد پیدا ہوئیں یا بعد میں پیدا ہوں گی۔ آج بھی کسی معاملے میں بدعت ضلالة کا اطلاق کرنے کے لیے ارتداد ہی ایسا قاعدہ اور کُلیہ ہے جس پر کسی بھی کام کو پرکھ کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ بدعت ضلالة میں شمار ہوتی ہے یا نہیں۔
اجتہادکی ترغیب
اگر کسی مسئلے کا کوئی حل قرآن مجید اور سنت نبویﷺ دونوں سے نہ ملے تو اجتہاد کرنا نہ صرف جائز بلکہ حکم نبویﷺ ہے ۔یہ حکم از خود نئے کام کو جو قرآن و سنت میں نہ تھا محض خیر اور دینی ضرورت اور مصلحت کی بنا پر نہ صرف جواز فراہم کر رہا ہے بلکہ خود اس عمل اجتہاد کو بھی سنت بنا رہا ہے۔
امام ابو داؤد (وفات 275 ہجری) اپنی سنن میں کتاب الأقضِیةمیں روایت کرتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل ؓکو یمن کا قاضی بنا کربھیجتے وقت حضور نبی اکرم ﷺنے ان سے پوچھا: ” (اے معاذ!) جب تمہارے سامنے کوئی مسئلہ پیش کیا جائے گا تو کس طرح اس کا فیصلہ کرو گے۔انہوں نے عرض کیا میں اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا۔آپ ﷺنے فرمایا کہ اگر تم اس معاملے کو اللہ کی کتاب میں نہ پاؤ تو، اُس پر حضرت معاذؓ نے جواب دیا کہ پھر میں سنت رسول کے مطابق فیصلہ کروں گا، پھر حضور ﷺنے فرمایا اگر تم اس معاملے کا حل سنت رسول اور کتاب اللہ میں بھی نہ پاؤ، تو انہوں نے عرض کیا کہ پھر میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا اور کوئی کوتاہی نہیں کروں گا۔ حضرت معاذ ؓکہتے ہیں کہ آپ ﷺنے (اپنا دست شفقت) میرے سینے پر مارا اور فرمایا کہ تمام تعریفیں اُس خدا کی ہیں جس نے اپنے رسول ﷺکے نمائندے کو ایسی توفیق بخشی جو اُس کے رسول کی رضا کا سبب ہے۔
اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جو کام قرآن و سنت میں نہ ہو اور وہ اجتہاد اور اچھی رائےکی بنیاد پر طے کیا جائے تو یہ نہ صرف مستحسن ہے
بلکہ بارگاہ رسالت مآب ﷺکا منظور شدہ طریقہ ہے۔ یہی اصول بدعت حسنہ میں کار فرما ہے جو اس حدیث مبارکہ سے ثابت ہے۔
اجتہاد ہی وہ دائمی اصول ہے جو اس دین فطرت کی تعلیمات کو زمانوں اور معاشروں کے بدلتے ہوئے حالات اور زندگی کے نئے تقاضوں کی تکمیل کے لیے تسلسل دیتا ہے اور جمود پیدا نہیں ہونے پاتا۔ اسی اصول کی وجہ سے اسلامی نظام حیات کی تازگی اور کشش ہمیشہ قائم اور برقرار رہتی ہے۔ اگر ہر نئے کام کو تجزیہ کیے بغیر بدعت قرار دے کر گمراہی تصور کر لیا جائے تو ہمیشہ کے لیے دینی معاملات میں اجتہاد کا دروازہ بند ہوجاتا جس سے بدلتے ہوئے حالات میں اسلام کا قابل عمل ہونا بھی ناممکن ہو جاتا۔
نیکی اور بھلائی کے چھوٹے چھوٹے کاموں پر بدعت کا اطلاق کرنا بذات خود بدعت ضلالة ہے۔ اسی طرح دین کے نیک کام، نفلی عبادات اور خیرات و صدقات یہ سب نہ دین کی ضروریات میں سے ہیں اور نہ ہی ضروریات دین میں اضافہ ہیں۔ لہٰذا ایسے امور کو بدعت ضلالة یا گمراہی کہنا حکمت دین کے خلاف ہے۔ کیونکہ حضورﷺ اور خلفائے راشدین نے دین میںبدعت ضلالة صرف ارتداد، انکار زکوٰۃ اور دعوی ٰنبوت کی سطح کے فتنوں کو کہا ہے اور اس کے علاوہ دیگر تمام کام جو مستحب و حسنات ہیں اور صالحات ہیں ان کی تحسین کی ہے۔
اگر ہر نیا کام جو عہد رسالتﷺ اور عہد صحابہ میں نہ تھا صرف اپنے نئے ہونے کی وجہ سے بدعت اور گمراہی قرار پائے تو دین کی تعلیمات اور فقہ کا بیشتر حصہ گمراہی کے زمرے میں آ جائے گا اور اجتہاد کی ساری صورتیں قیاس ،استدلال وغیرہ ناجائز کہلائیں گی۔ اسی طرح سے دینی علوم مثلا اصول تفسیر، اصول حدیث، اصول فقہ ،اُن کی تدوین اور اُن کو سمجھنے کے لیے مختلف علوم جیسے صرف و نحو، منطق، فلسفہ وغیرہ جو فہم دین کے لیے ضروری ہیں، ان کا سیکھنا سکھانا بھی حرام قرار پائے گا۔کیونکہ یہ سب علوم اپنی موجودہ شکل میں نہ عہد رسالتﷺ میں موجود تھے اور نہ ہی عہد صحابہ کرام میں، اُنہیں تو بعد میں ضرورت کے پیش نظر مرتب کیا گیا۔
اگر ہر نیا کام بدعت اور گمراہی قرار پائے تو دینی مدرسوں کی تعلیم و تدریس اور اُن کے نصاب کا بیشتر حصہ بھی گمراہی قرار پائے گا کیونکہ موجودہ درس نظامی کا نصاب اور درس و تدریس نہ تو حضور ﷺکے زمانہ اقدس میں تھا اور نہ ہی اس طرح کسی صحابی نے تعلیم حاصل کی تھی۔ اُن کا طریقہ نہایت سادہ تھا اورحافظے نہایت قوی تھے، وہ قرآن اور حدیث کو سنتے تھے اور اُسے آگے روایت کرتے تھے۔اسلام کے ساتھ یہ المیہ رہا ہے کہ گہرائی سے مطالعہ نہ کرنے والے چھوٹی چھوٹی باتوں کو کفر و ایمان کا مسئلہ بنا لیتے ہیں اور دین کی بنیادی روح اور حکمت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ جن امورکےحلال یا حرام ہونے کے بارے میں کتاب و سنت خاموش ہیں وہ جائز ہیں
انسانی زندگی میں ہزاروں اشیاء ایسی ہیں جن کےحلال یا حرام ہونے کے بارے میں کتاب و سنت خاموش ہے، اس لیے جب تک اُ ن کے منع ہونے کا شرعی حکم موجود نہ ہو وہ مباح اور جائز ہیں۔ علماء و محدثین کا اس اصول پر اتفاق ہے کہ حضور ﷺکا کوئی کام کرنا اس کے جائز ہونے کی دلیل ہے جبکہ کسی کام کا نہ کرنا اس کے حرام ہونے کی دلیل نہیں ہے۔ اسی اصول کی بنا پر امت کے علماء نے اسلامی شریعت کا متفقہ اصول طے کیا ہے کہ اصلا” ہر چیز جائز اور حلال ہے
کسی کام کے جائز یا حرام ہونے کا اصولی ضابطہ یہ ہے کہ ہم اس کام کو جو عہد رسالت ﷺاور عہد صحابہ میں نہ تھا اور بعد میں کسی ضرورت کے تحت وجود میں آیا، کو قرآن و سنت پر پیش کریں گے، اگر قرآن و سنت کا اس کے ساتھ کسی اعتبار سے بھی ٹکراؤ ثابت ہو جائے تو وہ بلا شبہ ناجائز حرام اور گمراہی تصور ہوگا ،لیکن اگر اُس کا قرآن و سنت کے کسی بھی حکم کے ساتھ کوئی تضاد یا ٹکراؤ ثابت نہ ہو تو اسے گمراہی یا حرام تصور کرنا حکمت دین کے منافی اور اسلام کے متعین کردہ نظام حلال و حرام سے ہٹ کر چلنا اور حد سے تجاوز کرنے کے برابر ہوگا۔
اگر کوئی شخص یہ دعوی ٰکرے کہ فلاں شخص نے مجھ سے قرض لیا ہے تو اب دعویٰ کرنے والا خود ہی گواہی پیش کرے گا اور ثابت کرے گا کہ فلاں میرا مقروض ہے اور مقروض سے یہ تقاضا نہیں کیا جائے کہ وہ اپنے مقروض نہ ہونے کا ثبوت پیش کرے۔ امام ابو بکر بیہقیؒ(وفات 458 ہجری ) سنن الکبریٰ میں روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺنے فرمایا کہ: “گواہی مدعی پر اور قسم انکار کرنے والے پر ہے۔
نعت خوانی کے اسی طرح اگرکسی نے کوئی نیک عمل کیا اور کسی دوسرے شخص نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ میلاد منانا،
اجتماعات منعقد کرنا، تلاوت قرآن کا ایصال ثواب کرنا،ذکر و درود کے اجتماعات منعقد کرنا وغیرہ یہ سب کام بدعت ضلالة ہیں اور حرام ہیں تو اب آپ کو ان اعمال کے حلال اور جائز ہونے پر دلائل تلاش کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ اُس اعتراض کرنے والے سے آپ کہیں گے کہ وہ اُوپر روایت کی گئی حدیث کے تحت اپنے دعوے کے ثبوت میں اس عمل کے حرام اور ناجائز ہونے پر گواہی لائے کیونکہ اصلا کوئی چیز حرام نہیں ہوتی بلکہ مباح ہوتی ہے، جب تک کہ اللہ اور اس کا رسول ﷺاس کو حرام قرار نہ دے دیں۔
مذکورہ شخص نے چونکہ اس چیز کے ناجائز اور حرام ہونے کا دعوی کیا ہے لہذا اسے دلیل لانا پڑے گی کہ یہ چیز حرام کس بنیاد پر ہے۔
اگر وہ کہے کہ اس کا کہیں قرآن و حدیث میں ذکر نہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ جس عمل کا کتاب و سنت میں ذکر نہ ہو وہ حلال اور مباح ہوتا ہے یعنی جن اعمال کے حلال یا حرام ہونے کے بارے میں کتاب و سنت خاموش ہوں وہ حلال اور مباح ہوتے ہیں۔
اللہ تعالی اپنے بندوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا چاہتا ہے اسی لیے اس نے صرف حرام اور ممنوع اشیاء اور کاموں کی فہرست بیان فرمائی ہے جو کہ محدود ہیں اور باقی سب کچھ جائز اور مباح کے طور پر ذکر کیے بغیر چھوڑ دیا ہے۔اس بات کو ہم اس واقعہ سے سمجھیں گے کہ
جب اللہ تعالی نے حج کے احکامات نازل کرتے ہوئے فرمایا
اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج فرض ہے جو بھی اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو
اُس پر ایک صحابی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ !کیا ہر سال حج فرض ہے۔ حضور ﷺنے چہرہ مبارک دوسری طرف پھیر لیا اور خاموش رہے، صحابی نے پھر پوچھا حضور ﷺپھر خاموش رہے، اس نے تیسری مرتبہ بھی جب یہی سوال دہرایا تو آپ ﷺنے فرمایا کہ: اگر میں ہاں کہہ دیتا تو حج ہر سال فرض ہو جاتا اور تم اس کی استطاعت نہ رکھتے،جن چیزوں کا بیان چھوڑ دیا کروں تم ان کا سوال مت کیا کرو۔
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ (وفات 55 ہجری) سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺنے فرمایا:بے شک مسلمانوں میں سب سے بڑا جرم اُس مسلمان کا ہے جو ایسی چیز کے بارے میں سوال کرے جو کہ مسلمانوں پر حرام نہ تھی مگراس کے سوال کرنے کی وجہ سےحرام کر دی گئی۔
دین کے اس بنیادی فلسفے اور حلال و حرام کے اصول کو سمجھنے کے بعد اب بدعت کے تصور کو سمجھنا ہمارے لیے قدرے آسان ہو جائے گا کہ ہر وہ نیا کام جس کے بارے میں کتاب و سنت خاموش ہو وہ ہمارے لیے جائز اور مباح ہے تا وقتیکہ اس کام کے حرام ہونے کا ذکر قرآن و سنت یا پھر صحابہ سے ثابت ہو جائے۔
کسی بھی کام کا پرانا یا نیا ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا اس کا معنی تب متعین ہوتا ہے جب وہ کام کتاب و سنت کی کسوٹی پر پرکھا جائے، جو چیز قرآن و سنت اور اجماع صحابہ کی مخالف ہو تو ایسی چیز بہرحال ناجائز اور مردود ہوگی چاہے اسے کرنے والے کوئی بڑے معتبر افراد ہی کیوں نہ ہوں، اور اگر کوئی کام قرآن و سنت اور اجماع صحابہ کی مخالف نہیں ہے اور اس کو ناجائز قرار نہیں دیا گیا تو وہ عمل جائز ہوگا، اس لیے کہ کسی چیز یا عمل کو حرام کرنے کا اختیار اللہ اور اس کے رسول ﷺکو ہی ہے کسی اور کو نہیں۔
حضور ﷺاور صحابہ کرام کا کسی کام کو ترک کر دینا اس کے منع ہونے کی دلیل نہیں ہو سکتا ورنہ ہر وہ عمل جس کو خوداللہ تعالی نے
علامہ ابن حجر عسقلانی ؒ(وفات 852 ہجری ) فتح الباری قرآن میں بیان نہیں کیا اور اُس کا ذکر مناسب نہیں سمجھا وہ بھی حرام ہو جاتا۔
حقیقت یہ ہے میں نقل کرتے ہیں کہ: کسی کام کا کرنا اس کے جواز (یعنی جائز ہونے)کی دلیل ہے اور نہ کرنا منع کی دلیل نہیں۔
کہ قرآن نے حرام چیزیں بیان کر دی ہیں اور جن چیزوں کے بارے میں خاموش ہے وہ جائز ہیں جیسا کہ قرٓان پاک میں ذکر ہے کہ
اُس نے تمہارے لیے ان تمام چیزوں کو تفصیلا بیان کر دیا ہے جو اُس نے تم پر حرام کی ہیں۔
اس آیت سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ جن کا ذکر نہیں کیا گیا وہ حلال ہیں کیونکہ ذکر نہ کرنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ وہ مباح ،جائز اور حلال ہیں۔شریعت اگر اس چیز کا نام ہو کہ جسے خُدا اور اس کے رسول ﷺنے جائز اور حلال فرمایا ہے اس کو جائز اور جس پر شریعت خاموش ہے اس کو ناجائز اور حرام ٹھہرا لیا جائے تو پھر روز مرہ زندگی میں صبح شام ہزاروں کام ایسے ہیں جن کا حکم نہ اللہ نے دیا ہے اور نہ حضور ﷺنے اُن کے متعلق بظاہر کچھ فرمایا ہے ،مثلا ہمارے کھانے پینے، اوڑھنے اور بچھونے کی اشیاء غرض یہ کہ ہمارا ہر لمحہ ایسی چیزوں سے وابستہ ہے جو عہد نبوی اور دور صحابہ میں موجود نہیں تھیں تو وہ بھی حرام ٹھہریں گی۔ اس حوالے سے چند احادیث ملاحظہ کریں ۔ حضرت ابو ثعلبہ ؓسے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺنے فرمایا کہ بے شک اللہ تعالی نے کچھ باتیں فرض کی ہیں انہیں ہاتھ سے نہ جانے دو اور کچھ حرام فرمائی ہیں ان کی حرمت نہ توڑو اور کچھ حدیں باندھی ہیں آگے نہ بڑھو، اور کچھ چیزوں سے بغیر بھُولے خاموشی فرمائی ہے اُن کی کھوج نہ لگاؤ۔
ان شرعی قوانین و ضوابط کو ذہن میں رکھتے ہوئے اگر ہم بریلوی حضرات کے اُن اعمال کا جائزہ لیتے ہیں کہ جو ضروریات دین میں سے نہیں ہیں جیسے شب رات(۱۵ شعبان ) اور شب معراج کی عبادت ،نفلی روزوں اور میلاد النبی ﷺ پر خوشی منانا وغیرہ ۔ یہ وہ اعمال ہیں جنھیں کچھ لوگ بدعت ضلالة قرار دیتے ہیں جو کہ ایک انتہائی قدم ہے ۔نبی کریمﷺ کی میزبانی کا شرف ملنے پر تو انصار مدینہ نے بھی ہجرت کے موقع پرخوشی منائی تھی ۔ لہٰذا اگر مولود النبی ﷺ کے موقع پر خوشی منائی جاتی ہے تو اُنھیں گناہگار اور بدعتی قرار دینا ایک غیر شرعی قدم ہی تصور ہو گا۔ورنہ ان اعمال کی ممانعت پر قرآن و سنت سے سند لانا پڑے گی اور اس کو ثابت کرنے کی ذمہ داری اُنھیں پر ہے جنھیں ان اعمال پر اعتراض ہے۔کیونکہ جن امور پر پر قرآن و سنت خاموش ہیں وہ اعمال جائز اور مباح ہیں۔
ان آیات اور احادیث کی روشنی میں شریعت کا یہ اصول اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ تمام اشیاء اصل میں جائز ہیں، جن اشیاء کو شریعت نے حلال قرار دیا وہ حلال ہیں اور جنہیں حرام قرار دیا وہ حرام ہیں اور جن اشیاء کے بارے میں خاموشی اختیار کی گئی اور اُن کے بارے میں کوئی بھی حکم حلال اور حرام کا نہیں دیا گیا وہ مباح اور جائز ہیں۔ کسی چیز کا ذکر نہ ہونے کی وجہ سے اُسے ناجائز یا حرام تصور کرنا شریعت کے خلاف ہے اور اسلام کے متعین کردہ نظام حلت وحرمت (یعنی کسی چیز کا حلال اور حرام ہونا) سے انحراف کے مترادف ہے۔
ابن تیمیہؒ، منہاج السنہ، ۲۲۴:۴
ابن کثیرؒ، تفسیر القرآن العظیم، ۱۶۱:۱
غزالیؒ، احیا ٕالعلوم، ۳:۲
نوویؒ، شرح صحیح مسلم، ۲۸۶:۱
بخاری، الصحیح،۲۷۲:۱، کتاب بد ٕ الوحی، باب کیف کان بد ٕالوحی الی رسول اللہ ﷺ، رقم:۱:::ابوداود،السنن،۲۷۲:۲:::ابن ماجہ،السنن،۱۴۱۳:۲
القرآن، الحدید،۲۷:۵۷
ابن حجر عسقلانیؒ، فتح الباری،۱۱۱:۹:::سیوطی، شرح سنن ابن ماجہ،۲۸۹:۱،رقم:۴۰۱۰
مسلم، الصحیح،۷۰۵:۲،کتاب الزکوۃ، باب الحث علی الصدقہ،رقم:۱۰۱۷:::نسائی، السنن،۵۵:۵،کتاب الزکوۃ، باب التحریض علی الصدقہ،رقم:۲۵۵۴
احمد بن حنبل، المسند، ۲۴۶:۵، رقم:۲۲۴۷۵
ایضا”، ابوداود، السنن، کتاب الصلوۃ، باب کیف الاذان،۱۳۹:۱،رقم:۵۰۶
مسلم، الصحیح،۷۰۵:۲،کتاب الزکوۃ، باب الحث علی الصدقہ، رقم:۱۰۱۷
بخاری، الصحیح، ۹۵۹:۲، کتاب الصلح، باب اذا اصلحوا علی صلح جور، رقم:۲۵۵۰
ابوداود، السنن، کتاب السنه، باب فی لزوم السنه، ۲۰۰:۴، رقم:۴۶۰۷
ابن ابی شیبہ، المصنف، ۱۷۲:۲:::عسقلانی، فتح الباری،۵۲:۳ ، رقم:۱۱۲۱
بخاری، الصحیح،کتاب الصلوۃ التراویح، باب فضل من قیام رمضان، ۷۰۷:۲، رقم:۱۹۰۶
شاطبی، الاعتصام، ۱۱۵:۲
بخاری، الصحیح، کتاب التفسیر، باب قوله لقد جا ٕکم رسول، ۱۷۲۰:۴، رقم:۴۴۰۲
ابن ابی شیبہؒ، المصنف، ۴۷۰:۱، رقم: ۵۴۳۷:::ابن حجر عسقلانیؒ، فتح الباری، ۳۹۴:۲
القرآن، التوبه، ۶۰:۹
ابوبکر جصاص، احکام القرآن، ۲۴:۳
سمہودیؒ، وفا ٕالوفا ٕ،۳۷۲:۱۰
مسلم، الصحیح، ۷۰۵:۲، کتاب الزکوٰة، باب الحث علی الصدقہ، رقم:۱۰۱۷،:::مالک، الموطا ٕ، باب ما جا ٕ فی قیام رمضان، ۱۱۴:۱، رقم:۲۵۰،:::ابوداود السنن، ۲۰۰:۴،کتاب السنه، باب فی لزوم السنه، رقم: ۴۶۰۷
امام نوویؒ، تھذیب الاسما ٕ وللغات
امام شہاب الدینؒ،انوارالبروق فی انوارالفروق
ابن تیمیہؒ، منھاج السنه، ۲۲۴:۴،:::ابن تیمیہؒ، کتب و رسائل و فتاویٰ ابن تیمیہ فی الفقہ،۱۶:۲۰
ابن کثیرؒ، تفسیرالقرآن العظیم، ۱۶۱:۱
شاطبیؒ، الاعتصام، ۱۱۱:۲
زرکشیؒ، المنشور فی القواعد، ۲۱۷:۱
الکرمانیؒ، الکواکب الدراری فی شرح صحیح البخاری
وشتانیؒ، اکمال اکمال المعلم، ۱۰۹:۷
عسقلانیؒ، فتح الباری شرح صحیح البخاری، ۲۵۳:۴
عینیؒ، عمدہ القاری شرح صحیح البخاری، ۱۲۶:۱۱
سخاویؒ، القول البدیع فی الصلاۃ علی الحبیب الشفیع:۱۹۳
سیوطیؒ، الحاوی للفتاویٰ، ۱۹۲:۱،:::سیوطیؒ، شرح سنن ابن ماجہ،۶:۱:::سیوطیؒ، الدیباج علی صحیح مسلم بن الحجاج،۴۴۵:۲
قسطلانیؒ، ارشاد الساری لشرح صحیح البخاری، ۴۴۶:۳
صالحیؒ، سبل الھدیٰ والرشاد، ۳۷۰:۱
شعرانیؒ، الیواقیت والجواھر فی بیان عقائد الاکبر، ۲۸۸:۲
ابن حجر مکیؒ، الفتاویٰ الحدیثیه، ۱۳۰
شربینیؒ، مغنی المحتاج الی معرفه معانی الفاظ المنھاج، ۴۳۶:۴
ملا علی قاریؒ، مرقاة المفاتیج شرح مشکاة المصابیح،۲۱۶:۱
مناویؒ، فیض القدیر شرح الجامع الصغیر، ۴۳۹:۱
حلبیؒ، السیرة الحلبیة، ۸۳:۱
عبدالحق محدث دہلویؒ، اشعه اللمعات، باب الاعتصام بالکتاب والسنه، ۱۲۵:۱
شوکانیؒ، نیل الاوطار شرح منتقی الاخبار، ۶۳:۳
آلوسیؒ، روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم والسبع المثانی، ۱۹۲:۱۴
سہارنپوریؒ، حاشیہ بخاری، ۲۶۹:۱
شیخ وحیدالزمانؒ، ہدیه المہدی:۱۱۷
مبارکپوریؒ، جامع الترمذی مع شرح تحفه الاحوذی، ۳۷۸:۳
عثمانیؒ، فتح الملہم شرح صحیح مسلم، ۴۰۶:۲
کاندھلویؒ، اوجز المسالک الی موطا مالک، ۲۹۷:۲
ابن بازؒ، فتاویٰ اللجنة الدائمة للبحوث العلمیة والافتا ٕ،۳۲۵:۲
علوی المالکیؒ، مفاھیم یجب ان تصحح:۱۰۲
طبرانیؒ، المعجم الکبیر، ۲۴۸:۱۸
ابوداودؒ، السنن، کتاب السنة، باب فی لزوم السنة، ۲۰۰:۴، رقم:۴۶۰۷
مسلم، الصحیح، کتاب العلم، باب من سن سنة حسنة او سیئة، ۲۰۵۹:۴، رقم: ۲۶۷۴
الانبیاء، ۱۰۴:۲۱
بخاری، الصحیح، ۱۶۹۱:۴، کتاب التفسیر، باب و کنت علیھم شہیدا، رقم: ۴۳۴۹ ::: مسلم، الصحیح، ۲۱۹۴:۴، کتاب الجنة، باب فناء الدنیا، رقم:۲۸۶۰ ::: ترمذی، السنن، ۳۲۱:۵، کتاب التفسیر، باب من سورة الانبیاء، رقم:۳۱۶۷
بخاری، الصحیح، کتاب الدنیا، باب قول اللہ تعالیٰ و اذکر فی الکتاب مریم، ۱۲۷۱:۳، رقم:۳۲۶۳
ترمذی، السنن، کتاب العلم، باب ما جاء فی الاخذ بالسنة الجتناب البدع، ۴۵:۵، رقم:۲۶۷۷
احمد بن حنبلؒ، المسند، ۱۰۵:۴، رقم:۱۷۰۹۵
وحیدالزمان، ہدیة المہدی:۱۱۷
طاہرالقادری، کتاب البدعة، رقم:۱۳۸
بخاری، الصحیح، رقم:۳۶۵۰ ::: مسلم، الصحیح، رقم:۲۵۳۳
طاہرالقادری، کتاب البدعة، رقم:۲۱۷
ابن تیمیہؒ، مجموع الفتاویٰ، ۴۷۰:۱۲
طبری، تہذیب الآثار:۶۹۵
ذھبی، سیراعلام النبلاء،۴۶۴:۵
احمد بن حنبل، الرد علی الزنادقة والجہمیة، ۳۱۳:۵ ::: عبدالقاھر بغدادی، الفرق بین القرق:۲۰۲
علامہ ابن جوزی، تلبیس ابلیس:۹۷
ابن کثیرؒ، البدایة والنہایة، ۳۴:۹
ابوداود، السنن، کتاب القضاء، باب اجتہاد الرائی فی القضاء، ۳۰۳:۳، رقم:۳۵۹۲
ابن حجر عسقلانیؒ، فتح الباری، ۶۵۶:۹ ::: سیوطیؒ، الاشیاءوالنظائر، ۶۰:۱
بخاری، الصحیح، کتاب الشہادات، باب البینة علی المدعی، ۹۳۱:۲ ::: بیھقی، السنن الکبریٰ، ۱۲۳:۸
القرآن، آل عمران، ۹۷:۳
مسلم، الصحیح، ۹۷۵:۲، کتاب الحج، باب فرض الحج مرة فی العمر، رقم:۱۳۳۷
بخاری، الصحیح، ۲۶۵۸:۶، کتاب الاعتصام بالکتاب والسنة، باب مایکرہ من کثرہ، رقم:۶۸۵۹ ::: مسلم، الصحیح، ۱۸۳۱:۴، کتاب الفضائل، رقم:۲۳۵۸
ابن حجر عسقلانیؒ، فتح الباری، ۱۵۵:۱۰
القرآن، الانعام، ۱۱۹:۶
بیہقی، السنن الکبریٰ، ۱۲:۱۰ ::: دارقطنی، السنن، ۱۸۴:۴، رقم: ۴۲ ::: طبری، جامع البیان، ۸۵:۷۷