اللہ کے آخری نبی، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ، جنہیں اللہ تعالیٰ نے “رحمۃ للعالمین کے لقب سے نوازا
آپ کی حیاتِ مبارکہ ہر لحاظ سے مثالی اور رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ آپ کی شفقت، محبت اور عاجزی نہ صرف آپ کے ساتھیوں بلکہ آپ کے خدمت گزاروں کے لیے بھی عظیم تربیتی درس تھی۔ پاکستان کی تاریخ اور معاشرتی رویوں میں بھی ہمیں اس تعلیم کی جھلک نظر آتی ہے۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ جیسے عظیم رہنما بھی نبی کریم ﷺ کی اس تعلیم سے متاثر نظر آتے ہیں، جنہوں نے اپنی زندگی میں ماتحتوں کے ساتھ عزت و محبت کا برتاؤ کیا۔
اسی طرح علامہ اقبالؒ کی شاعری میں بھی ہمیں آپ ﷺکے اخلاقِ حسنہ کو اپنانے کا درس ملتا ہے۔ آج، جب ہم اپنے معاشرتی تعلقات کا جائزہ لیتے ہیں تو اکثر ماتحتوں اور خدمت گزاروں کے ساتھ غیر مناسب سلوک دیکھنے کو ملتا ہے۔ ایسے میں نبی کریم ﷺکی زندگی سے رہنمائی لینا نہ صرف ضروری بلکہ ہماری کامیابی کا راز ہے۔ آئیے! اس مضمون میں ہم آپ ﷺکے خادمین کے ساتھ حسنِ سلوک اور شفقت کے حیرت انگیز واقعات پر ایک نظر ڈالتے ہیں، جو ہمیں سکھاتے ہیں کہ حقیقی عظمت اور انسانیت کیا ہے۔
چند خادمینِ مصطفیٰﷺ
حضرت انس بن مالک آپ نے دس سال رسولِ کریم ﷺکی خدمت کی۔
حضرت انس بن مالک سے مروی ہے، کہا
خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ
میں نے نبی کریمﷺ کی دس برس تک خدمت کی۔
( مسند احمد13418)
ضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ : یہ حضورِ اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم کے سب سے زیادہ مشہور و ممتاز خادم ہیں ۔ انہوں نے دس برس مسلسل ہر سفرو حضر میں آپ کی وفادارانہ خدمت گزاری کا شرف حاصل کیاہے۔ ان کے لیے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم نے خاص طور پر یہ دعا فرمائی تھی کہ ’’ اَللّٰھُمَّ اَکْثِرْ مَالَہٗ وَوَلَدَہٗ وَاَدْخِلْہُ الْجَنَّۃَ‘‘ یعنی اے اﷲ! اس کے مال اور اولاد میں کثرت عطا فرما اور اس کو جنت میں داخل فرما۔ حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم کی ان تین دعاؤں میں سے دو دعاؤں کی مقبولیت کا جلوہ تو میں نے دیکھ لیا کہ ہر شخص کا باغ سال میں ایک مرتبہ پھلتا ہے اور میرا باغ سال میں دو مرتبہ پھلتا ہے۔ اور پھلوں میں مشک کی خوشبو آتی ہے۔ اور میری اولاد کی تعداد ایک سو چھ ہے جن میں ستر لڑکے اور باقی لڑکیاں ہیں ۔ اور میں امید رکھتا ہوں کہ میں تیسری دعا کا جلوہ بھی ضرور دیکھوں گا۔ یعنی جنت میں داخل ہو جاؤں گا۔ انہوں نے دو ہزار دو سو چھیاسی حدیثیں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم سے روایت کی ہیں اور حدیث میں ان کے شاگردوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ان کی عمر سو برس سے زائد ہوئی۔ بصرہ میں ۹۱ھ یا ۹۲ھ یا ۹۳ ھ میں وفات پائی۔
( شرح الزرقانی4/ 506، 507)
حضرت اسلع بن شریک رسولِ کریم ﷺکے کجاوے پر سامان رکھا کرتے تھے۔
المعجم الکبیر میں ہے
كُنْتُ أَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَرْحَلُ لَهُ، فَقَالَ لِي ذَاتَ لَيْلَةٍ: «يَا أَسْلَعُ، قُمْ فَارْحَلْ
میں نبی کریم ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا اور آپ کے لیے سواری کا سامان تیار کرتا تھا۔ ایک رات آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: اے اسلع! اٹھو اور (سواری پر) کجاوہ وغیرہ باندھو (یعنی سفر کی تیاری کرو)
( المعجم الکبیر 875، شرح الزرقانی4/ 512)
حضرت ایمن بن عبید پاکیزگی کے برتن کی ذمہ داری لے رکھی تھی، جو ضرورت کے وقت پیش کرتے تھے۔
أيمن ابن أم أيمن، صاحب مطهرته عليه الصلاة والسلام، استشهد يوم حنين
حضرت ایمن بن ام ایمن رضی اللہ تعالٰی عنہ رحمت کونینﷺ کی ایک چھوٹی مشک جس سے آپ استنجا اوروضو فرمایا کرتے تھے ہمیشہ آپ ہی کی تحویل میں رہا کرتی تھی۔ آپ جنگ حنین کے دن شہادت سے سرفراز ہوئیں۔
( شرح الزرقانی4/ 508)
حضرت بلال اذان دینے کے علاوہ اہل و عیال کے اخراجات کے نگران تھے۔
حضرت حسان اسلمی نبی کریم ﷺکی سواری کو ہانکتے تھے۔
حضرت ذو مِخْمَر شاہِ حبشہ نجاشی ؒؒنے اپنے بھتیجے یا بھانجے حضرت ذُو مِخْمَر رضی اللہُ عنہ کو اپنی جگہ ﷺ کی خدمت کے لئے بھیجا تھا۔
حضرت ربیعہ اسلمی
وضو کے برتن پیش کرنے کی ڈیوٹی داری نبھاتے تھے۔
حضرت ربیعہ بن کعب (بن مالک) اسلمی رضی اللہ عنہ نے کہا
كُنْتُ أَبِيتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ بِوَضُوئِهِ وَحَاجَتِهِ فَقَالَ لِي: «سَلْ» فَقُلْتُ: أَسْأَلُكَ مُرَافَقَتَكَ فِي الْجَنَّةِ. قَالَ: «أَوْ غَيْرَ ذَلِكَ» قُلْتُ: هُوَ ذَاكَ. قَالَ: «فَأَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ
میں (خدمت کے لیے) رسول اللہ ﷺکے ساتھ (صفہ میں آپ کے قریب) رات گزارا کرتا تھا، (جب آپ تہجد کے لیے اٹھتے تو) میں وضو کا پانی اور دوسری ضروریات لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا۔ (ایک مرتبہ) آپ نے مجھے فرمایا: ”(کچھ) مانگو۔“ تو میں نے عرض کی: میں آپ سے یہ چاہتا ہوں کہ جنت میں بھی آپ کی رفاقت نصیب ہو۔ آپ نے فرمایا: ”یا اس کے سوا کچھ اور؟“ میں نے عرض کی: بس یہی۔ تو آپ نے فرمایا: ”تم اپنے معاملے میں سجدوں کی کثرت سے میری مدد کرو۔
( صحیح مسلم 489)
حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ تعالٰی عنہ رحمرِ کونینﷺ کے لیے وضو کرانے کی خدمت انجام دیتے تھے۔ یعنی پانی اور مسواک وغیرہ کا انتظام کرتے تھے۔ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم نے ان کو جنت کی بشارت دی تھی۔ ۶۳ھ میں وفات پائی۔
( شرح الزرقانی4/ 508)
حضرت عبد اللہ بن رواحہ
عمرہ کے موقع پر اونٹنی چلانے کی خدمت انجام دی۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود
جوتے پہنانے کی خدمت انجام دیتے تھے۔
وكان صاحب الوسادة والسواك والنعلين والطهور، وكان يلي ذلك من النبي صلى الله عليه وسلم، وكان إذا قام النبي صلى الله عليه وسلم ألبسه نعليه، وإذا جلس جعلهما في ذراعيه حتى يقوم، وتوفي بالمدينة وقيل بالكوفة سنة اثنتين وثلاثين، وقيل سنة ثلاث
حضرت عبداﷲ ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نعلین شریفین اور وضو کا برتن اور مسند و مسواک اپنے پاس رکھتے تھے۔ اور سفر و حضر میں ہمیشہ یہ خدمت انجام دیا کرتے تھے۔ ساٹھ برس سے زیادہ عمر پاکر ۳۲ ھ یا ۳۳ ھ میں بعض کا قول ہے کہ مدینہ میں اور بعض کے نزدیک کوفہ میں وصال فرمایا۔
( شرح الزرقانی4/ 509)
حضرت عقبہ بن عامر
دورانِ سفر دراز گوش کو ہانکنے کی خدمت کرتے تھے۔
وكان صاحب بغلته يقود به في الأسفار
وكان عالما بكتاب الله وبالفرائض فصيحا شاعرا مفوها ولي مصر لمعاوية سنة أربع وأربعين ثم صرفه بمسلمة بن مخلد، وتوفي بها سنة ثمان وخمسين
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ تعالٰی عنہرحمرِ کونینﷺ کی سواری کے خچر کی لگام تھامے رہتے تھے۔ قرآن مجیداور فرائض کے علوم میں بہت ہی ماہر تھے اور اعلیٰ درجہ کے فصیح خطیب اور شعلہ بیان شاعر تھے۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنی حکومت کے دور میں ان کو مصر کا گورنر بنادیا تھا۔ ۵۸ھ میں مصر کے اندر ہی ان کا وصال ہوا۔
( شرح الزرقانی4/ 510، 511)
حضرت مغیرہ بن شعبہ
اسلحہ برداری کی خدمت انجام دیتے تھے۔
سبل الہدیٰ و الرشاد، 11/414
خدمت گزاروں کے ساتھ حسنِ سلوک کی مثالیں
نبی کریم ﷺنے خدمت کرنے والوں کے ساتھ ہمیشہ شفقت اور محبت کا مظاہرہ کیا۔ ان کے ساتھ آپ کے حسنِ سلوک کی چند جھلکیاں درج ذیل ہیں
عظمت کا اعلیٰ نمونہ
عظمت کا اعلیٰ نمونہ وہ ہے جس میں انسان اپنی طاقت، حیثیت، اور مرتبے کے باوجود عاجزی، انکساری، اور دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک کا مظاہرہ کرے۔ نبی کریم ﷺکی حیاتِ طیبہ اس کی بہترین مثال ہے، جہاں آپ نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ حقیقی عظمت دوسروں کو عزت دینے، خدمت گزاروں سے محبت و شفقت کرنے، اور ہر قسم کے غرور و تکبر سے پاک ہونے میں پوشیدہ ہے۔
آپ ﷺ کا معمول تھا کہ مدینہ کے چھوٹے بچوں سے لے کر خدمت گزاروں تک، ہر فرد کو وہ اہمیت اور محبت دیتے جو ان کے دلوں کو سکون اور عزت کا احساس بخشتی۔ یہ رویہ نہ صرف آپ کی عاجزی کا مظہر تھا بلکہ عظمت کے اُس معیار کو ظاہر کرتا ہے جس کا درس دینِ اسلام ہمیں دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺکے ان اعمال میں ہمارے لیے ایک روشن مثال ہے کہ عظمت کا اعلیٰ نمونہ وہی ہے جو دوسروں کے دلوں میں محبت، احترام اور شفقت کے بیج بوتا ہے۔نبی کریم ﷺنے اپنے عملی کردار سے یہ ثابت کیا کہ خدمت کرنے والوں کو عزت دینا حقیقی عظمت کی علامت ہے۔ آپ ﷺنے نہ صرف انہیں اپنے قریب رکھا بلکہ ان کی حوصلہ افزائی اور عزت افزائی کرتے ہوئے ان کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
روایت کے مطابق، جب نبی کریم ﷺنمازِ فجر سے فارغ ہوتے تو مدینے کے خدمت گزار اپنے برتن لے آتے، جن میں پانی ہوتا۔ جو بھی برتن آپ ﷺکے سامنے لایا جاتا، آپ اس میں اپنا دستِ مبارک ڈبو دیتے۔ یہاں تک کہ سرد صبح کے وقت بھی، آپ ﷺان کی خواہش کا احترام کرتے اور ان کے برتن میں اپنا ہاتھ مبارک رکھ دیتے۔
حضرت انس سے مروی ہے، کہا
كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْغَدَاةَ جَاءَ خَدَمُ الْمَدِينَةِ بِآنِيَتِهِمْ فِيهَا الْمَاءُ، فَمَا يُؤْتَى بِإِنَاءٍ إِلَّا غَمَسَ يَدَهُ فِيهَا، فَرُبَّمَا جَاءُوهُ فِي الْغَدَاةِ الْبَارِدَةِ، فَيَغْمِسُ يَدَهُ فِيهَا
رسول اللہ ﷺ جب صبح فجر کی نماز پڑھ کر فارغ ہوتے تو مدینہ کے گھروں کے خدمت گار (غلام یا باندیاں) اپنے اپنے برتن لے کر آ جاتے جن میں پانی ہوتا (تا کہ آپ برکت کے لئے یا بیماری سے شفا جیسے مقاصد کے لئے اس پانی میں اپنا دست مبارک ڈال دیں) تو آپ ہر برتن میں اپنا دست مبارک ڈال دیتے تو بسا اوقات ایسا بھی ہوتا کہ (سخت سردی کے موسم میں) ٹھنڈی صبح کے وقت (برتن میں بہت ٹھنڈا پانی لے کر آپ کے) پاس آ جاتے تو آپ ﷺ اس میں بھی اپنا دست مبارک ڈال دیتے۔
( صحیح مسلم 2324 )
اسی طرح، مدینے کی کوئی باندی یا چھوٹی بچی بھی اگر کسی ضرورت یا کام کے لیے آپ ﷺسے رجوع کرتی تو آپ اس کے ساتھ چلے جاتے، بغیر کسی جھجک یا تکلف کے۔ یہ عمل نبی کریم ﷺکے کمالِ عاجزی اور ہر قسم کے تکبر سے پاک ہونے کی روشن دلیل ہے۔
حضرت انس سے مروی ہے، کہا
إِنْ كَانَتِ الأَمَةُ مِنْ إِمَاءِ أَهْلِ المَدِينَةِ، لَتَأْخُذُ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَنْطَلِقُ بِهِ حَيْثُ شَاءَتْ
رسول اللہ ﷺ کے اخلاق فاضلہ کا یہ حال تھا کہ ایک لونڈی مدینہ کی لونڈیوں میں سے آپ کا ہاتھ پکڑ لیتی اور اپنے کسی بھی کام کے لیے جہاں چاہتی آپ کو لے جاتی تھی۔
( صحیح البخاری6072، سنن ابن ماجہ 4177)
روک ٹوک سے گریز
عام طور پر خدمت گزاروں کو ہر چھوٹی بات پر ٹوکنا اور ان پر تنقید کرنا عام سمجھا جاتا ہے۔ اکثر اوقات زبان سے سخت الفاظ اور ہاتھ سے ناروا سلوک ان پر مسلط کیا جاتا ہے، جس کا مقصد انہیں کمتر ثابت کرنا ہوتا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف خدمت گزاروں کی تذلیل کا باعث بنتا ہے بلکہ ان کے عزتِ نفس کو بھی مجروح کرتا ہے۔
اس کے برعکس، نبی کریم ﷺکا کردار ان تمام عیوب سے پاک تھا۔
حضرت عائشہ فرماتی ہیں
مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَادِمًا وَلَا امْرَأَةً قَطُّ
اللہ کے رسول ﷺ نے کبھی کسی خادم یا عورت کو نہ ڈانٹا اور نہ ہی مارا۔
( سنن ابو داؤد4786)
مشہور صحابی حضرت انس جنہیں بچپن ہی سے بارگاہِ رسالت میں خدمت کا شرف حاصل ہوا، نبی کریم ﷺکے حسنِ سلوک کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں
فَخَدَمْتُهُ فِي السَّفَرِ وَالحَضَرِ، مَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا هَكَذَا؟ وَلاَ لِشَيْءٍ لَمْ أَصْنَعْهُ لِمَ لَمْ تَصْنَعْ هَذَا هَكَذَا؟
میں نے سفر و حضر میں نبی کریم ﷺ کی خدمت کی، لیکن آپ نے کبھی مجھ سے یہ نہیں فرمایا کہ تم نے یہ کام کیوں اس طرح کیا؟ اور نہ ہی کبھی میرے کسی کام نہ کرنے پر یہ کہا کہ تم نے یہ کام کیوں نہیں کیا؟
( صحیح البخاری2768)
یہ اخلاقِ کریمانہ نہ صرف نبی کریم ﷺکے اعلیٰ کردار کی عکاسی کرتا ہے بلکہ ہمارے لیے ایک بہترین نمونہ بھی پیش کرتا ہے کہ خدمت گزاروں کے ساتھ محبت، صبر، اور شفقت سے پیش آنا ایک حقیقی مسلمان کا شیوہ ہونا چاہیے۔
شفقت و محبت کا عملی اظہار
حضرت انس رضی اللہُ عنہ مزید فرماتے ہیں: “ایک دن مجھے نبی کریم ﷺ نے کسی کام کے لیے بھیجا۔ راستے میں بچوں کے ساتھ کھیلنے لگا۔ اچانک نبی کریم ﷺنے پیچھے سے میری گردن پکڑی اور مسکراتے ہوئے پوچھا: ‘چھوٹے انس! کیا تم وہ کام کر آئے جس کا کہا تھا؟’ میں نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کے رسول! میں جا رہا ہوں۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا
أَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا أَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ، قَالَ: فَسَلَّمَ عَلَيْنَا، فَبَعَثَنِي إِلَى حَاجَةٍ، فَأَبْطَأْتُ عَلَى أُمِّي، فَلَمَّا جِئْتُ قَالَتْ: مَا حَبَسَكَ؟ قُلْتُ بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ، قَالَتْ: مَا حَاجَتُهُ؟ قُلْتُ: إِنَّهَا سِرٌّ، قَالَتْ: لَا تُحَدِّثَنَّ بِسِرِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا قَالَ أَنَسٌ: وَاللهِ لَوْ حَدَّثْتُ بِهِ أَحَدًا لَحَدَّثْتُكَ يَا ثَابِتُ
نبی کریمﷺ میرے پاس تشریف لائے، اس وقت میں لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، کہا: آپ نے ہم سب کو سلام کیا اور مجھے کسی کام کے لیے بھیج دیا تو میں اپنی والدہ کے پاس تاخیر سے پہنچا، جب میں آیا تو والدہ نے پوچھا: تمہیں دیر کیوں ہوئی؟ میں نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کام سے بھیجا تھا۔ انہوں نے پوچھا: آپ کا وہ کام کیا تھا؟ میں نے کہا: وہ ایک راز ہے۔ میری والدہ نے کہا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز کسی پر افشا نہ کرنا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! ثابت! اگر میں وہ راز کسی کو بتاتا تو تمہیں (جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے طلبگار ہو) ضرور بتاتا۔
( صحیح مسلم 2482)
نبی کریم ﷺکے خدمت گاروں کے ساتھ محبت اور شفقت سے بھرپور رویے ہمیں یہ پیغام دیتے ہیں کہ حقیقی عظمت صرف بڑے عہدوں یا کارناموں میں نہیں، بلکہ روزمرہ زندگی کے چھوٹے چھوٹے معاملات میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ آپ ﷺَم کا طرزِ عمل ہمیں سکھاتا ہے کہ خدمت گزاروں کو عزت دی جائے، ان کے ساتھ نرمی اور محبت کا رویہ اپنایا جائے اور انہیں اپنے قریب رکھ کر اعتماد بخشا جائے۔ آج کے دور میں، جب انسانی اقدار زوال پذیر ہیں اور طبقاتی فرق بڑھ رہا ہے، ہمیں آپ ﷺ کی سیرتِ طیبہ سے سبق لیتے ہوئے اپنی زندگیوں کو سنوارنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں نبی کریم ﷺکی سیرتِ طیبہ کو اپنی زندگیوں میں نافذ کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم اپنی دنیا کو بہتر بناتے ہوئے آخرت میں کامیابی حاصل کر سکیں۔ آمین




