جب ہم نبوت کے اثبات کی بات کرتے ہیں تو دل صرف دلیل سے نہیں، بلکہ حقیقت کی چمک سے روشن ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کے معجزات محض ایمان کا تقاضا نہیں بلکہ شعورِ انسانی کو جھنجھوڑ دینے والے شواہد ہیں۔ یہ وہ روشن نشانیاں ہیں جو صدیوں سے تاریخ کے صفحات پر نقش ہیں. ایسی گواہیاں جو صرف اقوال نہیں بلکہ عینی مشاہدات، اجتماعی روایتوں اور قلبی اثرات کا مجموعہ ہیں۔ جن کی صداقت کو نہ صرف ہزاروں صحابہؓ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، بلکہ دنیا کے کونے کونے میں لاکھوں انسانوں نے اپنے دلوں سے محسوس کیا۔ یہ محض عقیدہ نہیں، ایک زندہ حقیقت ہےجو ہر اہلِ فکر و بصیرت کو جھکا دینے کے لیے کافی ہے۔
معجزات ان امور میں سے ہیں جنہیں عقل بھی ممکن تصور کرتی ہے اور وحی ان کی تصدیق کرتی ہے۔ نبوت کی سچائی کے دلائل میں سب سے نمایاں نشانی انہی معجزات کو شمار کیا جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کے معجزات کی کثرت اور ان کی تواتر کے ساتھ روایت ہونا اس حقیقت کو یقینی بنا دیتا ہے کہ یہ واقعات صرف ایمان کی بنیاد پر نہیں بلکہ قطعی ثبوتوں پر قائم ہیں۔
متواتر معجزات: قطعی علم کا ذریعہ
نبی کریم ﷺ کے معجزات کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو متواتر روایتوں سے منقول ہے۔ متواتر کا مطلب ہے کہ ایک ایسا واقعہ جسے اتنے زیادہ لوگوں نے ہر طبقے میں نقل کیا ہو کہ ان کے جھوٹ پر متفق ہونے کا امکان ہی نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ان معجزات پر یقین رکھنا صرف دینی تقاضا نہیں بلکہ ایک علمی اور معقول فیصلہ ہے۔
آحاد روایتوں کی حیثیت: عقل و تجربہ کی روشنی میں
کچھ افراد یہ خیال کرتے ہیں کہ جب تک کسی خبر کی تواتر سے تصدیق نہ ہو اس پر یقین نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن یہ رویہ علمی احتیاط نہیں بلکہ حد سے بڑھی ہوئی تشکیک ہے۔ ہم روزمرہ زندگی میں اکثر آحاد ذرائع سے علم حاصل کرتے ہیں، جیسے کسی کتاب کا مطالعہ یا کسی فرد کی خبر۔ اگر ہم صرف متواتر علم پر یقین رکھیں تو نہ کسی خبر پر اعتماد ممکن ہو گا اور نہ ہی کسی تجربے پر۔
فَتح الباری میں ابن حجر رحمہ اللہ کی بصیرت افروز وضاحت
مشہور محدث امام ابن حجر عسقلانیؒ نے اپنی کتاب فتح الباری میں نبی ﷺ کے معجزات کی کثرت اور ان کی قطعیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا
أَنَّ مُعْظَمَ مُعْجِزَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُرْآنُ وَمِنْ أَظْهَرِ مُعْجِزَاتِ الْقُرْآنِ إِبْقَاؤُهُ مَعَ اسْتِمْرَارِ الْإِعْجَازِ وَأَشْهَرُ ذَلِكَ تَحَدِّيهِ الْيَهُودَ أَنْ يَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ فَلَمْ يَقَعْ مِمَّنْ سَلَفَ مِنْهُمْ وَلَا خَلَفَ مَنْ تَصَدَّى لِذَلِكَ وَلَا أَقْدَمَ مَعَ شِدَّةِ عَدَاوَتِهِمْ لِهَذَا الدِّينِ وَحِرْصِهِمْ عَلَى إِفْسَادِهِ وَالصَّدِّ عَنْهُ فَكَانَ فِي ذَلِكَ أَوْضَحُ مُعْجِزَةٍ وَأَمَّا مَا عَدَا الْقُرْآنَ مِنْ نَبْعِ الْمَاءِ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ وَتَكْثِيرِ الطَّعَامِ وَانْشِقَاقِ الْقَمَرِ وَنُطْقِ الْجَمَادِ فَمِنْهُ مَا وَقَعَ التَّحَدِّي بِهِ وَمِنْهُ مَا وَقَعَ دَالًّا عَلَى صِدْقِهِ مِنْ غَيْرِ سَبْقِ تَحَدٍّ وَمَجْمُوعُ ذَلِكَ يُفِيدُ الْقَطْعَ بِأَنَّهُ ظَهَرَ عَلَى يَدِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَوَارِقِ الْعَادَاتِ شَيْءٌ كَثِيرٌ كَمَا يُقْطَعُ بِوُجُودِ جُودِ حَاتِمٍ وَشَجَاعَةِ عَلِيٍّ وَإِنْ كَانَتْ أَفْرَادُ ذَلِكَ ظَنِّيَّةً وَرَدَتْ مَوْرِدَ الْآحَادِ مَعَ أَنَّ كَثِيرًا مِنَ الْمُعْجِزَاتِ النَّبَوِيَّةِ قَدِ اشْتَهَرَ وَانْتَشَرَ وَرَوَاهُ الْعَدَدُ الْكَثِيرُ وَالْجَمُّ الْغَفِيرُ وَأَفَادَ الْكَثِيرُ مِنْهُ الْقَطْعَ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْآثَارِ وَالْعِنَايَةِ بِالسِّيَرِ وَالْأَخْبَارِ وَإِنْ لَمْ يَصِلْ عِنْدَ غَيْرِهِمْ إِلَى هَذِهِ الرُّتْبَةِ لِعَدَمِ عِنَايَتِهِمْ بِذَلِكَ بَلْ لَوِ ادَّعَى مُدَّعٍ أَنَّ غَالِبَ هَذِهِ الْوَقَائِعِ مُفِيدَةٌ لِلْقَطْعِ بِطَرِيقٍ نَظَرِيٍّ لِمَا كَانَ مُسْتَبْعَدًا وَهُوَ أَنه لامرية
یہ سب واقعات مل کر اس قدر قوی علم پیدا کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے ہاتھوں غیرمعمولی امور کے وقوع پذیر ہونے پر یقین پیدا ہو جاتا ہے، جس طرح کوئی شخص حاتم طائی کی سخاوت یا حضرت علیؓ کی شجاعت کا یقین رکھتا ہے، اگرچہ ان پر آنے والی روایات آحاد ہوں۔ لیکن نبی ﷺ کے کئی معجزات ایسے بھی ہیں جو اس قدر مشہور و معروف ہو گئے کہ ہر زمانے کے محدثین، سیرت نگاروں، اور راویوں نے ان کی صحت پر اتفاق کیا۔ یہاں تک کہ ان میں سے بعض پر شک کرنے والے کو علم و تحقیق سے ناآشنا تصور کیا گیا۔
(فتح الباری لابن حجر 6/ 582)
صحابہ کرامؓ کی خاموش تائید: دلیلِ صداقت
صحابہ کرامؓ اور بعد کے تابعینؒ سے کسی بھی معجزاتی روایت پر اختلاف یا تردید کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ اس خاموشی کو جمہور علماء نے “اقرار باللسان“ کی ایک قسم سمجھا ہے، کیونکہ اگر ان معجزات میں کوئی جھوٹ یا مبالغہ ہوتا تو صحابہ جیسی حق گو امت لازمی طور پر اس کی تردید کرتی۔
معجزہ شق القمر: ایک متواتر حقیقت
قرآن کریم میں ذکر اور واقعے کی ابتدا
قرآن مجید کی سورۃ القمر میں اللہ تعالیٰ نے شق القمر کا صریح ذکر فرمایا
اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ وَ اِنْ یَّرَوْا اٰیَةً یُّعْرِضُوْا وَ یَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ
قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔ اور اگر کفار کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو منہ پھیرلیتے ہیں اور کہتے ہیں : یہ تو کوئی دائمی جادو ہے۔
(سورۃ القمر1، 2)
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب قریش کے کفار نے نبی کریم ﷺ سے ایک ناقابلِ تردید معجزہ طلب کیا۔ نبی ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اللہ نے چاند کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا۔
نبیکریم ﷺ نے فرمایا
اشْهَدُوا
گواہ رہو۔
(صحیح البخاری 3636)
واقعے کی تصدیق اور قریش کی انکار پسندی
قریش کے سرداروں نے جب یہ منظر دیکھا، تو اسے جادو قرار دیا۔ مگر جب ان کو خیال آیا کہ نبی ﷺ تو پورے شہر پر جادو نہیں کر سکتے، تو انہوں نے اردگرد کے دیہاتوں اور مسافروں سے دریافت کیا کہ آیا انہوں نے بھی یہی منظر دیکھا؟ جواب ہاں میں آیا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی شخصی یا مقامی فریبِ نظر نہیں تھا بلکہ ایک حقیقت تھی۔
جیساکہ ایک روایت میں ہے
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: ” انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ قُرَيْشٌ: هَذَا سِحْرُ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ قَالَ: فَقَالَ: انْظُرُوا مَا يَأْتِيكُمْ بِهِ السُّفَّارُ فَإِنَّ مُحَمَّدًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْحَرَ النَّاسَ كُلَّهُمْ قَالَ: فَجَاءَ السُّفَّارُ فَقَالُوا كَذَلِكَ
رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں چاند شق (دو ٹکڑے) ہو گیا۔ قریش نے کہا: یہ ابنِ ابی کبشہ (یعنی محمد ﷺ) کا جادو ہے۔ پھر انہوں نے کہا: دیکھو، مسافر (جو باہر سے آ رہے ہیں) تمہیں کیا خبر دیتے ہیں، کیونکہ محمد ﷺ تمام لوگوں پر جادو نہیں کر سکتے۔ چنانچہ جب مسافر آئے تو انہوں نے بھییہی خبر دی (کہ چاند واقعی شق ہوا تھا)
(دلائل النبوۃ لابی نعیم211، 212، دلائل النبوۃ للبیہقی2/ 266)
محدثین اور مفسرین کی توثیق
اس معجزے کی روایت متواتر درجہ رکھتی ہے۔ مختلف صدیوں کے محدثین اور علماء نے اس واقعے کو اس قدر کثرت سے بیان کیا کہ اس کے جھوٹ ہونے کا احتمال ختم ہو جاتا ہے۔ اس کی تصدیق درج ذیل علماء نے کی ہے۔
امام سبکی: شرح مختصر ابن الحاجب
ابن حجر عسقلانی: الامالی
امام قرطبی: المفہم
امام ابن کثیر: البدایہ والنہایہ
امام مناوی: شرح الفیہ العراقی
ابن عبدالبرؒ: م 1071ھ
محمد الکتانی، نظم المتناثر من الحدیث المتواتر، حدیث 264)
ابن کثیر کی تفصیل اور عینی مشاہدہ
ابن کثیرؒ نے اس واقعے کی وضاحت کرتے ہوئے بیان کیا کہ چاند افق سے غائب نہیں ہوا، بلکہ نبی ﷺ کے اشارے سے دو حصوں میں تقسیم ہوا۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ انہوں نے خود دیکھا کہ ایک ٹکڑا جبلِ حراء کے پیچھے چلا گیا، اور دوسرا دوسری سمت رہا۔
(البدایہ والنہایہ3/ 159، 6/ 82، 85، 309 التراث)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا
جَاءَتْ أَحْبَارُ الْيَهُودِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: أَرِنَا آيَةً حَتَّى نُؤْمِنَ فَسَأَلَ النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُرِيَهُمْ آيَةً فَأَرَاهُمُ الْقَمَرَ قَدِ انْشَقَّ فَصَارَ قَمَرَيْنِ أَحَدُهُمَا عَلَى الصَّفَا وَالْآخَرُ عَلَى الْمَرْوَةِ قَدْرَ مَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلَى اللَّيْلِ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِمَا ثُمَّ غَابَ الْقَمَرُ فَقَالُوا: هَذَا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ
یہود کے علماء رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: ‘ہمیں کوئی نشانی (معجزہ) دکھائیے تاکہ ہم ایمان لے آئیں۔’ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے اپنے رب عزوجل سے دعا کی کہ انہیں کوئی نشانی دکھا دے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں چاند کا شق ہونا دکھا دیا۔ چاند دو ٹکڑے ہو گیا، ایک ٹکڑا صفا پہاڑی کے اوپر اور دوسرا مروہ پہاڑی کے اوپر نظر آ رہا تھا۔ لوگ عصر کے وقت سے رات ہونے تک ان دونوں کو دیکھتے رہے۔ پھر چاند غائب ہو گیا۔
(دلائل النبوۃ لابی نعیم210)
امام خطابی کی بصیرت انگیز تشریح
وَقَالَ الْخَطَّابِيُّ انْشِقَاقُ الْقَمَرِ آيَةٌ عَظِيمَةٌ لَا يَكَادُ يَعْدِلُهَا شَيْءٌ مِنْ آيَاتِ الْأَنْبِيَاءِ
امام خطابیؒ (م 388ھ) اس معجزے کی عظمت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ آسمان میں واقع ایسا معجزہ ہے جو قدرتی قوانین کے برخلاف ہے۔ لہٰذا اس کا جادو یا مکروفریب ہونا ممکن نہیں۔ یہ ایک ایسا معجزہ ہے جو دوسرے انبیاء کے معجزات سے بڑھ کر نمایاں ہے۔
فتح الباری لابن حجر7/ 185
سائنسی اعتراضات کی تردید
بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اگر چاند واقعی دو ٹکڑے ہوا ہوتا تو اس کے سائنسی اثرات، جیسے کششی تبدیلیاں یا سطحی خراشیں، ضرور موجود ہوتیں۔ مگر یہ اعتراض اس حقیقت کو نظر انداز کرتا ہے کہ معجزہ ایک “خارقِ عادت” عمل ہوتا ہے، جو طبعی قوانین سے بالا تر ہوتا ہے۔ خدائے قادر مطلق کسی بھی مخلوق کو اس کی فطری خصوصیات کو معطل کر کے تصرف دے سکتا ہے۔
عالمگیر مشاہدے سے متعلق اعتراض اور اس کا ردّ
ایک اور اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اگر چاند واقعی شق ہوا ہوتا، تو دنیا کے دوسرے حصوں کے لوگ بھی اس کا مشاہدہ کرتے۔ اس کا جواب علماء نے مختلف پہلوؤں سے دیا ہے
ممکن ہے دوسرے علاقوں میں دن کا وقت ہو یا لوگ سو رہے ہوں۔ کچھ نے دیکھا ہو لیکن اسے خواب یا وہم سمجھا ہو۔ یا بیان کیا ہو مگر کسی نے یقین نہ کیا ہو۔
واقعہ معراج: ایک عظیم معجزہ
قرآن مجید میں معراج کا بیان
اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کے معجزہ معراج کو قرآن کریم میں ان الفاظ میں بیان فرمایا
سُبْحَانَ الَّذِي اَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا اِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ
(سورۃ الاسراء1)
یہ آیت کریمہ اس حقیقت کی غمازی کرتی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو رات کے ایک مختصر حصے میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ لے جایا گیا تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی نشانیاں دکھائیں۔
کفار کا ردعمل اور نبی ﷺ کی کرامت
فَتَجَهَّزَ نَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالُوا لَهُ: هَلْ لَكَ فِي صَاحِبِكَ يَزْعُمُ أَنَّهُ قَدْ جَاءَ بَيْتَ الْمَقْدِسِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مَكَّةَ فِي لَيْلَةٍ وَاحِدَةٍ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أو قال ذَلِكَ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ فَأَشْهَدُ، لَئِنْ كَانَ قَالَ ذَلِكَ لَقَدْ صَدَقَ. قَالُوا: فَتُصَدِّقُهُ بِأَنْ يَأْتِيَ الشَّامَ فِي لَيْلَةٍ وَاحِدَةٍ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى مَكَّةَ قَبْلَ أَنْ يُصْبِحَ؟ قَالَ: نَعَمْ إِنِّي أُصَدِّقُهُ بِأَبْعَدِ مِنْ ذَلِكَ:
أُصَدِّقُهُ بِخَبَرِ السَّمَاءِ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: فَبِهَا سُمِّيَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
جب نبی ﷺ نے اگلی صبح اس واقعے کا ذکر فرمایا تو قریش نے اس پر تمسخر اڑایا۔ ان کا خیال تھا کہ یہ ایک “بے سروپا” دعویٰ ہے جو نبی ﷺ کے خلاف دلیل بنے گا۔ مگر جب نبی ﷺ نے مسجد اقصیٰ کی تفصیل بیان کرنا شروع کی، جیسا کہ وہ اس وقت بھی اس میں موجود ہوں، تو کفار حیرت زدہ رہ گئے۔ اہلِ مکہ کے تاجر، جو بیت المقدس جا چکے تھے، نبی ﷺ کے بیان کی تصدیق پر مجبور ہو گئے۔
(دلائل النبوۃ للبیہقی2/ 360)
حضرت ابو بکر صدیقؓ کا موقف: سچائی کا علمبردار
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ کچھ مسلمان بھی اس معجزے پر شک میں مبتلا ہوئے اور کچھ نے ارتداد اختیار کیا۔ جب نبی ﷺ کا یہ دعویٰ حضرت ابوبکرؓ کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے فرمایا
اگر محمد ﷺ نے یہ کہا ہے تو وہ یقیناً سچ کہتے ہیں۔
پھر فرمایا
نَعَمْ إِنِّي أُصَدِّقُهُ بِأَبْعَدِ مِنْ ذَلِكَ:أُصَدِّقُهُ بِخَبَرِ السَّمَاءِ فَلِذَلِكَ سُمِّيَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقَ
میں تو اس سے زیادہ عجیب بات پر بھی یقین رکھتا ہوں کہ وہ آسمان سے وحی پاتے ہیں۔
اسی دن سے آپ کو“صدیق”کا لقب ملا۔
دلائل النبوۃ للبیہقی2/ 360، 361
معراج کے بارے میں جدید اعتراضات اور ان کا رد
آج کے دور کے نام نہاد عقلی مفکرین، جیسے رچرڈ ڈاکنز اور سیم ہیرس، معراج جیسے معجزات پر تنقید کرتے ہیں کہ یہ سائنسی منطق کے خلاف ہیں۔ مگر ان کے اعتراضات محض یعنی “جو ناقابلِ یقین لگے، وہ جھوٹ ہو گا” پر مبنی ہیں۔ یہ دلیل نہ صرف ناقص ہے بلکہ سائنسی تحقیق کے اصولوں سے بھی متصادم ہے۔ سائنس تو انہی چیزوں کو دریافت کرتی ہے جو پہلے ناقابلِ تصور سمجھی جاتی تھیں، جیسے کوانٹم فزکس یا کائنات کے متعدد جہات ۔
براق: افسانہ یا حقیقت؟
بعض معترضین براق کو “پر والا گھوڑا” کہہ کر مذاق اڑاتے ہیں، حالانکہ نبی ﷺ نے براق کو ایسا کبھی نہیں کہا۔ صحیح احادیث کے مطابق براق ایک سفید جانور تھا جو خچر سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا تھا، اور اس کی رفتار اتنی تیز تھی کہ اس کا قدم حدِ نظر پر پڑتا۔
سیدناانس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جس رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج حاصل ہوئی
أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِالبُرَاقِ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ مُلْجَمًا مُسْرَجًا، فَاسْتَصْعَبَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ: أَبِمُحَمَّدٍ تَفْعَلُ هَذَا؟ فَمَا رَكِبَكَ أَحَدٌ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ مِنْهُ
آپ کی سواری کے لیے براق لایا گیا۔ براق لگام لگایا ہوا تھا اور اس پر کاٹھی کسی ہوئی تھی، آپ نے اس پر سوار ہوتے وقت دقت محسوس کی تو جبرائیل علیہ السلام نے اسے یہ کہہ کر جھڑکا: تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسا کر رہا ہے، تجھ پر اب تک ان سے زیادہ اللہ کے نزدیک کوئی معزز شخص سوار نہیں ہوا ہے، یہ سن کر براق پسینے پسینے ہو گیا۔
( جامع ترمذی 3131)
معراج: ایک دو حصوں پر مشتمل سفر
احادیث کے مطابق، براق کے ذریعے نبی ﷺ کو مسجد اقصیٰ تک پہنچایا گیا، جہاں سے آپ ﷺ نے آسمانوں کی طرف معراج کیا۔ یہ معراج ایک “آسمانی دروازہ” کے ذریعے ہوا۔
أَنْ يَكُونَ سَيْرُهُ عَلَى الْبُرَاقِ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ، ثُمَّ إِسْرَاؤُهُ إِلَى السَّمَاءِ بِالْمِعْرَاجِ الَّذِي هُوَ السُّلَّمُ
آپ ﷺ کا براق پر سوار ہو کر بیت المقدس تک سفر کرنا، پھر اُس معراج (یعنی سیڑھی) کے ذریعے آسمانوں کی طرف عروج فرمانا۔
(مرقاة المفاتیح9/ 3758، فتح الباری7/ 208)
چالیس سے زائد صحابہ کرام کی روایت
امام محمد الکتانیؒ نے اپنی کتاب نظم المتناثر میں لکھا کہ چالیس سے زائد صحابہ کرامؓ نے معراج کے اس واقعے کی تصدیق کی ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ واقعہ متواتر روایات سے ثابت شدہ ہے۔
(قصة الإسراء) .
– أورده فيها أيضاً من حديث (1) أنس (2) ومالك بن صعصعة (3) وأبي ذر (4) وجابر بن عبد الله (5) وبريدة (6) وحذيفة بن اليمان (7) وابن عباس (8) وأبي بن كعب (9) وأبي سعيد الخدري (10) وشداد بن أوس (11) وأبي هريرة (12) وعائشة (13) وابن مسعود (14) وعلي ابن أبي طالب (15) وعمر بن الخطاب (16) وأبي حبة الأنصاري (17) وأبي ليلى الأنصاري (18) وأبي الحمراء (19) وأبي أيوب (20) وأبي أمامة (21) وسمرة بن جندب (22) وابن عمرو (23) وصهيب بن سنان (24) وأسماء بنت أبي بكر (25) وعبد الرحمان بن قرط (26) وأم هانئ (27) وأم سلمة سبعة وعشرين نفساً.
(قلت) عد الحافظ الشامي في معراجه الذين رووا قصة الإسراء والمعراج عنه صلى الله عليه وسلم فبلغوا تسعة وثلاثين وعد منهم ممن لم يذكره السيوطي هنا (28) أسامة بن زيد (29) وبلال بن حمامة (30) وبلال بن سعد (31) وسهل ابن سعد (32) وابن عمر (33) وابن الزبير (34) وابن أبي أوفى (35) وعبد الله بن أسعج بن زرارة (36) وعبد الرحمان بن عابس (37) والعباس بن عبد المطلب (38) وأبا بكر (39) وعثمان (40) وأبا الدرداء (41) وأبا سفيان بن حرب (42) وأبا سلمة (43) وأبا سلمى الراعي (44) وأم كلثوم بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم وزاد في شرح المواهب نقلاً عن ابن دحية (45) عياض.
(نظم المتناثر 258)
معراج اور دیگر قرآنی معجزات میں مطابقت
قرآن مجید میں دیگر معجزات بھی موجود ہیں جو وقت اور طبعی قوانین کے خلاف ہیں، جیسے ایک شخص کا سو سال تک سونا اور اس کا گدھا سڑ جانا۔
اَوۡ کَالَّذِیۡ مَرَّ عَلٰی قَرۡیَۃٍ وَّ ہِیَ خَاوِیَۃٌ عَلٰی عُرُوۡشِہَا ۚ قَالَ اَنّٰی یُحۡیٖ ہٰذِہِ اللّٰہُ بَعۡدَ مَوۡتِہَا ۚ فَاَمَاتَہُ اللّٰہُ مِائَۃَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَہٗ ؕ قَالَ کَمۡ لَبِثۡتَ ؕ قَالَ لَبِثۡتُ یَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ یَوۡمٍ ؕ قَالَ بَلۡ لَّبِثۡتَ مِائَۃَ عَامٍ فَانۡظُرۡ اِلٰی طَعَامِکَ وَ شَرَابِکَ لَمۡ یَتَسَنَّہۡ ۚ وَ انۡظُرۡ اِلٰی حِمَارِکَ وَ لِنَجۡعَلَکَ اٰیَۃً لِّلنَّاسِ وَ انۡظُرۡ اِلَی الۡعِظَامِ کَیۡفَ نُنۡشِزُہَا ثُمَّ نَکۡسُوۡہَا لَحۡمًا ؕ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗ ۙ قَالَ اَعۡلَمُ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۲۵۹﴾
یا اسی طرح اس شخص کو (نہیں دیکھا) جو ایک بستی پر سے گزرا جو اپنی چھتوں پر گری پڑی تھی تو اس نے کہا کہ اللہ اس کی موت کے بعد اسے کیسے زندہ فرمائے گا، سو (اپنی قدرت کا مشاہدہ کرانے کے لئے) اللہ نے اسے سو برس تک مُردہ رکھا پھر اُسے زندہ کیا، (بعد ازاں) پوچھا: تُو یہاں (مرنے کے بعد) کتنی دیر ٹھہرا رہا (ہے)؟ اس نے کہا: میں ایک دن یا ایک دن کا (بھی) کچھ حصہ ٹھہرا ہوں، فرمایا: (نہیں) بلکہ تُو سو برس پڑا رہا (ہے) پس (اب) تُو اپنے کھانے اور پینے (کی چیزوں) کو دیکھ (وہ) متغیّر (باسی) بھی نہیں ہوئیں اور (اب) اپنے گدھے کی طرف نظر کر (جس کی ہڈیاں بھی سلامت نہیں رہیں) اور یہ اس لئے کہ ہم تجھے لوگوں کے لئے (اپنی قدرت کی) نشانی بنا دیں اور (اب ان) ہڈیوں کی طرف دیکھ ہم انہیں کیسے جُنبش دیتے (اور اٹھاتے) ہیں پھر انہیں گوشت (کا لباس) پہناتے ہیں، جب یہ (معاملہ) اس پر خوب آشکار ہو گیا تو بول اٹھا: میں (مشاہداتی یقین سے) جان گیا ہوں کہ بیشک اللہ ہر چیز پر خوب قادر ہے۔
(سورۃ البقرہ 259)
اصحابِ کہف کا 309 سال تک نیند میں رہنا۔
وَ لَبِثُوۡا فِیۡ کَہۡفِہِمۡ ثَلٰثَ مِائَۃٍ سِنِیۡنَ وَ ازۡدَادُوۡا تِسۡعًا
اور وہ (اصحابِ کہف) اپنی غار میں تین سو برس ٹھہرے رہے اور انہوں نے (اس پر) نو (سال) اور بڑھا دیئے۔
(سورۃ الکہف25)
رونے والا درخت: ایک زندہ معجزہ
منبر کی تعمیر اور عجب واقعہ
حضرت عبداللہ بن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ خطبہ دیا کرتے تھے تو ایک کھجور کے درخت کے تنے کے ساتھ کھڑے ہوتے۔ ایک انصاری خاتون کی درخواست پر تین سیڑھیوں والا ایک منبر تیار کیا گیا تاکہ آپ ﷺ بلند ہو کر لوگوں کو بہتر انداز میں خطبہ دے سکیں۔ جب آپ ﷺ نے پہلی مرتبہ نئے منبر پر قدم رکھا تو وہ کھجور کا تنا رونے لگا ایسا رونا کہ سننے والوں کے دل دہل گئے۔
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما کَانَ النَّبِيُّ ﷺ یَخْطُبُ إِلَی جِذْعٍ۔ فَلَمَّا اتَّخَذَ الْمِنْبَرَ تَحَوَّلَ إِلَيْهِ فَحَنَّ الْجِذْعُ۔ فَأَتَاهُ فَمَسَحَ یَدَهُ عَلَيْهِ
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں : حضورنبی اکرم ﷺ ایک درخت کے تنے کے ساتھ ٹیک لگا کر خطاب فرمایا کرتے تھے۔ جب منبر بنا اور آپ ﷺ اس پر جلوہ افروز ہوئے تو لکڑی کا وہ ستون (آپ ﷺ کے ہجر و فراق میں) گریہ و زاری کرنے لگا۔ آپ ﷺ اس کے پاس تشریف لائے او راس پر اپنا دستِ شفقت پھیرا (تو وہ پرسکون ہو گا)۔
أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : المناقب، باب : علامات النبوۃ في الإسلام، 3 / 1313، الرقم : 3390، وابن حبان في الصحیح، 14 / 435، الرقم : 6506، واللالکائي في اعتقاد أھل السنۃ، 4 / 797، الرقم : 1469۔
نبی ﷺ کی شفقت اور درخت کا قرار
حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ اس درخت کے رونے سے مسجد ہلنے لگی اور حضرت سہل بن سعدؓ کے مطابق، اس منظر کو دیکھ کر کئی افراد خود بھی زاروقطار رونے لگے۔ نبی اکرم ﷺ منبر سے اترے اور درخت کے پاس جا کر اس پر ہاتھ پھیرنے لگے، جیسے کوئی ماں اپنے بچے کو چپ کراتی ہے۔
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ خَطَبَ إِلَی لِزْقِ جِذْعٍ وَاتَّخَذُوْا لَهُ مِنْبَرًا۔ فَخَطَبَ عَلَيْهِ فَحَنَّ الْجِذْعُ حَنِيْنَ النَّاقَةِ۔ فَنَزَلَ النَّبِيُّ ﷺ فَمَسَّهُ فَسَکَنَ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ کجھور کے ایک تنے کے ساتھ کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ ﷺ کے لئے منبر بنوا دیا۔ آپ ﷺ جب اس پر تشریف فرما ہو کر خطبہ دینے لگے تو وہ تنا اس طرح رونے لگا جس طرح اُونٹنی اپنے بچے کی خاطر روتی ہے۔ حضورنبی اکرم ﷺ منبر سے نیچے تشریف لائے اور اس پر ہاتھ پھیرا تو وہ خاموش ہوگیا۔
أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : المناقب، باب : فيآیات إثبات نبوۃ النبي ﷺ وما قد خصه الله عزوجل به، 5 / 594، الرقم : 3627۔
حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اسے گلے سے لگایا یہاں تک کہ وہ خاموش ہو گیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا اگر میں اسے گلے نہ لگاتا، تو یہ قیامت تک روتا رہتا۔
عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ کَانَ یَخْطُبُ إِلَی جِذْعٍ۔ فَلَمَّا اتَّخَذَ الْمِنْبَرَ ذَھَبَ إِلَی الْمِنْبَرِ۔ فَحَنَّ الْجِذْعُ، فَأَتَاهُ، فَاحْتَضَنَهُ، فَسَکَنَ۔ فَقَالَ : لَوْ لَمْ أَحْتَضِنْهُ لَحَنَّ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَةِ
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ حضورنبی اکرم ﷺ ایک ستون سے ٹیک لگا کر خطبہ دیتے تھے۔ پھر جب آپ ﷺ کے لئے منبر تیار ہوگیا تو آپ ﷺ منبر کی طرف تشریف لے گئے تو وہ ستون رونے لگا۔ آپ ﷺ اس کے پاس تشریف لائے اور اسے سینہ سے لگایا تو وہ پر سکون ہوگیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اگرمیں اسے سینہ سے نہ لگاتا تو یہ قیامت تک روتا رہتا۔
وفي روایۃ عن جابر رضی الله عنه : حَتَّی سَمِعَهُ أَھْلُ الْمَسْجِدِ حَتَّی أَتَاهُ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ فَمَسَحَهُ فَسَکَنَ۔ فَقَالَ بَعْضُھُمْ : لَوْ لَمْ یَأْتِهِ، لَحَنَّ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَةِ
’حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ایک اور روایت میں ہے کہ (ستون کے رونے کی) آواز تمام اہلِ مسجد نے سنی۔ (اس کا رونا سن کر) حضورنبی اکرم ﷺ اس کے پاس تشریف لائے اور اس پر اپنا دستِ شفقت پھیرا تو وہ پرسکون ہو گیا۔ بعض صحابہ کہنے لگے : اگر حضورنبی اکرم ﷺ اس کے پاس تشریف نہ لاتے تو یہ قیامت تک روتا رہتا۔
أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب : إقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیھا، باب : ما جاء في بدء شأن المنبر، 1 / 454، الرقم : 1415، والبخاري في التاریخ الکبیر،7 / 26، الرقم : 108، وأبو یعلی في المسند، 6 / 114، الرقم : 3384، وعبد بن حمید في المسند، 1 / 396، الرقم : 1336، والمقدسي في الأحادیث المختارۃ، 5 / 37، الرقم : 1643۔
صحابہ کرام کی متفقہ گواہی
حضرت جابرؓ کے مطابق، اس درخت کا رونا اس وجہ سے تھا کہ وہ وحی کی تلاوت کو قریب سے سنتا تھا، اور اب وہ قرب چھننے پر غم زدہ تھا۔ اگرچہ اس واقعے کو براہ راست صرف پانچ صحابہؓ نے نقل کیا ہے، لیکن محدثین کے مطابق قریب بیس صحابہؓ اس وقت موجود تھے۔
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضي الله عنهما أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَتْ لِرَسُوْلِ اللهِ ﷺ : یَا رَسُوْلَ اللهِ، أَ لَا أَجْعَلُ لَکَ شَيْئًا تَقْعُدُ عَلَيْهِ، فَإِنَّ لِي غُـلَامًا نَجَّارًا۔ قَالَ : إِنْ شِئْتِ قَالَ : فَعَمِلَتْ لَهُ الْمِنْبَرَ، فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ الْجُمُعَةِ، قَعَدَ النَّبِيُّ ﷺ عَلَی الْمِنْبَرِ الَّذِي صُنِعَ فَصَاحَتِ النَّخْلَةُ الَّتِي کَانَ یَخْطُبُ عِنْدَھَا، حَتَّی کَادَتْ أَنْ تَنْشَقَّ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ ﷺ حَتَّی أَخَذَھَا فَضَمَّھَا إِلَيْهِ، فَجَعَلَتْ تَئِنُّ أَنِيْنَ الصَّبِيِّ الَّذِي یُسَکَّتُ، حَتَّی اسْتَقَرَّتْ
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک انصاری عورت نے حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کیا : یا رسول اللہ! کیا میں آپ کے تشریف فرما ہونے کے لئے کوئی چیز نہ بنوا دوں؟ کیونکہ میرا غلام بڑھئی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اگر تم چاہو (تو بنوا دو)۔ اس عورت نے آپ ﷺ کے لئے ایک منبر بنوا دیا۔ جمعہ کا دن آیا تو حضور نبی اکرم ﷺ اسی منبر پر تشریف فرما ہوئے جو تیار کیا گیا تھا لیکن (حضور نبی اکرم ﷺ کے منبر پر تشریف رکھنے کی وجہ سے) کھجور کا وہ تنا جس سے ٹیک لگا کر آپ ﷺ خطبہ ارشاد فرماتے تھے (ہجر و فراق رسول ﷺ میں) چِلاَّ (کر رو) پڑا یہاں تک کہ پھٹنے کے قریب ہو گیا۔ یہ دیکھ کر حضور نبی اکرم ﷺ منبر سے اُتر آئے اور کھجور کے ستون کو گلے سے لگا لیا۔ ستون اس بچہ کی طرح رونے لگا، جسے تھپکی دے کر چپ کرایا جاتا ہے، یہاں تک کہ اسے سکون آ گیا۔
أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : البیوع، باب : النجار، 2 / 378، الرقم : 1989، وأیضا في کتاب : المناقب، باب : علامات النبوۃ في الإسلام، 3 / 1314، الرقم : 3391۔3392، وأیضا في کتاب : المساجد، باب : الاستعانۃ بالنجار والصناع في أعواد المنبر والمسجد، 1 / 172، الرقم : 438، والترمذي في السنن، کتاب : المناقب، باب : 6، 5 / 594، الرقم : 3627، والنسائی في السنن، کتاب : الجمعۃ، باب : مقام الإمام في الخطبۃ، 3 / 102، الرقم : 1396، وابن ماجه في السنن، کتاب : إقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیھا، باب : ما جاء في بدء شأن المنبر، 1 / 454، الرقم : 1414۔1417، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 226، والدارمی نحوه في السنن، 1 / 23، الرقم : 42۔
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رضی الله عنه قَالَ : حَنَّتِ الْخَشَبَةُ الَّتِي کَانَ یَقُوْمُ عِنْدَهَا، فَقَامَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ إِلَيْهَا : فَوَضَعَ یَدَهُ عَلَيْهَا فَسَکَنَتْ
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ (کھجور کے تنے کی خشک) لکڑی جس کے پاس کھڑے ہو کر حضور نبی اکرم ﷺ خطاب فرمایا کرتے تھے، آپ ﷺ کی محبت میں چیخ چیخ کر رونے لگی تو حضور نبی اکرم ﷺ اس کے پاس تشریف لے گئے اور اپنا دستِ اقدس اس پر رکھا تو وہ خاموش ہو گئی۔
أخرجه الدارمي في السنن، 1 / 32، 442، الرقم : 40، 1565، وابن أبي شیبۃ في المصنف، 6 / 319، الرقم : 31747، وأبو یعلی في المسند، 2 / 328، الرقم : 1067، 4 / 128، الرقم : 2177، 5 / 142، الرقم : 2756، وابن خزیمۃ في الصحیح، 3 / 139، الرقم : 1776، وابن حبان في الصحیح، 14 / 436، الرقم : 6507، والطبراني في المعجم الأوسط، 2 / 108، الرقم : 1408، وابن الجعد في المسند، 1 / 466، الرقم : 3219، والهیثمي في مجمع الزوائد، 2 / 180۔181۔
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضي الله عنهما قَالَ : حَنَّتِ الْخَشَبَةُ حَنِيْنَ النَّاقَةِ الْخَلُوْجِ
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ کھجور کا خشک تنا حضور نبی اکرم ﷺ کے فراق میں اس طرح تڑپا جس طرح وہ اونٹنی تڑپتی اور بے چین ہوتی ہے جس کا (چھوٹا سا) بچہ اس سے جدا کر دیا جائے۔
أخرجه الدارمي في السنن، 1 / 30، الرقم : 35، وأبو یعلی في المسند، 2 / 329، الرقم : 1068، والأصبهاني في دلائل النبوۃ، 1 / 155، الرقم : 173، والعسقلاني في فتح الباري، 6 / 603، وابن الأثیر في النهایۃ في غریب الحدیث والأثر، 2 / 60، والخطابي في غریب الحدیث، 1 / 418، وابن الجوزي في غریب الحدیث، 1 / 295۔
محدثین کا فیصلہ: یہ متواتر روایت ہے
امام ابن حجرؒ فرماتے ہیں
درخت کے رونے اور چاند کے پھٹنے کا واقعہ ایسے کثیر طرق سے منقول ہے جو محدثین کے نزدیک یقینی علم فراہم کرتے ہیں۔
أَنَّ انْشِقَاقَ الْقَمَرِ وَتَسْبِيحَ الْحَصَى وَحَنِينَ الْجِذْعِ وَتَسْلِيمَ الْغَزَالَةِ مِمَّا نُقِلَ آحَادًا مَعَ تَوَفُّرِ الدَّوَاعِي عَلَى نَقْلِهِ وَمَعَ ذَلِكَ لَمْ يُكَذَّبْ رُوَاتُهَا وَأَجَابَ بِأَنَّهُ اسْتغنى عَن نقلهَا تَوَاتر بِالْقُرْآنِ وَأَجَابَ غَيْرُهُ بِمَنْعِ نَقْلِهَا آحَادًا
(فتح الباری6/ 592)
اسی طرح امام مناویؒ نے اس حدیث کو مختلف صحیح سندوں سے روایت کیا ہے اور کہا کہ یہ واقعہ متواتر درجے پر پہنچ چکا ہے۔
أورده في الأزهار من حديث (1) سهل بن سعد (2) وجابر بن عبد الله (3) وابن عمر (4) وأبي بن كعب (5) وبريدة (6) وابن عباس (7) وأبي سعيد الخدري (8) وأنس (9) وأم سلمة (10) والمطلب بن أبي وداعة السمهي عشرة أنفس.
(قلت) قال عياض في الشفا أمره مشهور منتشر والخبر به متواتر أخرجه أهل الصحيح ورواه من الصحابة بضعة عشر ثم ذكر منهم العشرة المذكورين وقال الحافظ بن حجر في أماليه طرقه كثيرة قال البيهقي أمره ظاهر نقله الخلف عن السلف وإيراد الأحاديث فيه كالتكلف يعني لشدة شهرته وهو كما قال فقد وقع لنا من حديث
(نظم المتناثر 263)
پتھروں کا تسبیح کہنا: نبی ﷺ کے معجزات میں سے ایک عجیب منظر
حضرت داؤد علیہ السلام کا معجزہ اور اس کی جھلک نبی ﷺ میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں حضرت داؤد علیہ السلام کو ایک عظیم نعمت عطا کی تھی کہ پہاڑ اور پرندے اُن کے ساتھ اللہ کی تسبیح کیا کرتے تھے
وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ مِنَّا فَضْلًا ۖ يَا جِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ ۖ وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ
سورۃ سبأ، 34:10
یہی نشانی نبی کریم ﷺ کو بھی عطا ہوئی، مگر ایک مزید عجیب انداز میں ایسے کہ بےجان اشیاء آپ ﷺ کی موجودگی میں تسبیح کیا کرتی تھیں۔
کھانے کی تسبیح: حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی روایت
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں ک
وَلَقَدْ كُنَّا نَسْمَعُ تَسْبِيحَ الطَّعَامِ وَهُوَ يُؤْكَلُ
ہم نے خود سنا کہ نبی ﷺ کے سامنے رکھا گیا کھانا اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتا تھا۔
(صحیح البخاری 3579)
کنکریوں کی آوازدار تسبیح: حضرت ابوذرؓ کی گواہی
حضرت ابوذرؓ روایت کرتے ہیں کہ
إِنِّي لَشَاهِدٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَلْقَةٍ، وَفِي يَدِهِ حَصًى، فَسَبَّحْنَ فِي يَدِهِ، وَفِينَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ، فسَمِعَ تَسْبِيحَهُنَّ مَنْ فِي الْحَلْقَةِ، ثُمَّ دَفَعَهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَسَبَّحْنَ مَعَ أَبِي بَكْرٍ، سَمِعَ تَسَبِيحَهُنَّ مَنْ فِي الْحَلْقَةِ، ثُمَّ دَفَعَهُنَّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبَّحْنَ فِي يَدِهِ، ثُمَّ دَفَعَهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُمَرَ، فَسَبَّحْنَ فِي يَدِهِ، وَسَمِعَ تَسَبِيحَهُنَّ مَنِ في الْحَلْقَةِ، ثُمَّ دَفَعَهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَسَبَّحْنَ فِي يَدِهِ، ثُمَّ دَفَعَهُنَّ إِلَيْنَا، فَلَمْ يُسَبِّحْنَ مَعَ أَحَدٍ مِنَّا
نبی ﷺ کے ہاتھوں میں کنکریاں تھیں اور وہ اللہ کی تسبیح کر رہی تھیں، جسے حلقے میں موجود سب صحابہؓ سن رہے تھے۔ پھر آپ ﷺ نے وہ کنکریاں حضرت ابوبکرؓ کو دیں، اُن کے ہاتھ میں بھی وہ تسبیح کرتی رہیں، پھر حضرت عمرؓ کو دیں، پھر حضرت عثمانؓ کو دی گئیں اور ہر بار تسبیح کی آواز سنی گئی۔ مگر جب یہ کنکریاں عام صحابہ کو دی گئیں تو وہ خاموش ہو گئیں۔
(المعجم الاوسط 1244، السنہ لابن أبی عاصم 1146؛ صحیح الترغیب، حدیث 1209
بعثت سے قبل کے معجزات: مکہ کے پتھروں کی سلامی
نبی کریم ﷺ نے فرمایا
إِنِّي لَأَعْرِفُ حَجَرًا بِمَكَّةَ كَانَ يُسَلِّمُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُبْعَثَ إِنِّي لَأَعْرِفُهُ الْآنَ
میں مکہ میں کچھ پتھروں کو جانتا ہوں جو میری بعثت سے پہلے مجھے سلام کرتے تھے اور میں آج بھی انہیں پہچانتا ہوں۔
(صحیح مسلم 2277)
درخت اور پہاڑ بھی سلام کرتے تھے: حضرت علیؓ کی شہادت
سیدناحضرت علی بن ابی طالبؓ فرماتے ہیں کہ
كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ فَخَرَجْنَا فِي بَعْضِ نَوَاحِيهَا فَمَا اسْتَقْبَلَهُ جَبَلٌ وَلَا شَجَرٌ إِلَّا وَهُوَ يَقُولُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ
ہم مکہ میں نبی ﷺ کے ساتھ تھے اور کوئی درخت یا پہاڑ ایسا نہ تھا جو یہ نہ کہتا ہو
“السلام علیک یا رسول اللہ!”
( جامع ترمذی 3626)
پانی کا بڑھ جانا: نبی کریم ﷺ کا نمایاں معجزہ
امام نوویؒ کی تصریح: متواتر معجزات
مام نوویؒ بیان کرتے ہیں
پانی کا انگلیوں کے درمیان سے بہنا اور اس میں اضافہ ہونا، نیز کھانے میں برکت کا بڑھ جانا، یہ سب نبی کریم ﷺ کے روشن معجزات میں شامل ہیں جو مختلف مواقع پر مختلف حالات میں پیش آئے اور محدثین کے نزدیک یہ متواتر درجے کو پہنچ چکے ہیں۔
شرح صحیح مسلم للنووی
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا مشاہدہ
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں
نَّا نَعُدُّ الآيَاتِ بَرَكَةً، وَأَنْتُمْ تَعُدُّونَهَا تَخْوِيفًا، كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَقَلَّ المَاءُ، فَقَالَ: «اطْلُبُوا فَضْلَةً مِنْ مَاءٍ» فَجَاءُوا بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ قَلِيلٌ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ، ثُمَّ قَالَ: «حَيَّ عَلَى الطَّهُورِ المُبَارَكِ، وَالبَرَكَةُ مِنَ اللَّهِ» فَلَقَدْ رَأَيْتُ المَاءَ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَقَدْ كُنَّا نَسْمَعُ تَسْبِيحَ الطَّعَامِ وَهُوَ يُؤْكَلُ
ہم ان معجزات کو اللہ کی نعمت سمجھتے تھے، لیکن آج کل کے لوگ ان کو خطرہ سمجھتے ہیں۔ ہم ایک سفر میں نبی ﷺ کے ساتھ تھے کہ پانی کم پڑ گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ‘باقی پانی لے آؤ’۔ لوگوں نے برتن پیش کیا، آپ ﷺ نے ہاتھ اس میں رکھا اور فرمایا: ‘آؤ، برکت والا وضو کا پانی لے لو، ساری برکت اللہ کی طرف سے ہے۔’ میں نے خود دیکھا کہ آپ ﷺ کی انگلیوں کے درمیان سے پانی بہہ رہا تھا۔
(صحیح البخاری 3579)
واقعہ حدیبیہ: پانی کا چشمے بن کر نکلنا
حضرت جابر بن عبداللہؓ فرماتے ہیں کہ حدیبیہ کے دن لوگوں کو شدید پیاس لگی۔ نبی ﷺ کے سامنے ایک برتن میں تھوڑا سا پانی تھا، جس سے آپ ﷺ وضو فرما رہے تھے۔ لوگ پانی کے لیے دوڑ پڑے۔ آپ ﷺ نے پوچھا
“کیا ماجرا ہے؟
صحابہ نے کہا
ہمارے پاس نہ پینے کو پانی ہے نہ وضو کے لیے۔
آپ ﷺ نے اپنا دست مبارک پانی کے برتن میں رکھا اور انگلیوں کے درمیان سے پانی ایسے بہنے لگا جیسے چشمے پھوٹ پڑے ہوں۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا
آؤ، وضو کرو، برکت اللہ کی طرف سے ہے۔
جابرؓ فرماتے ہیں
ہم سب نے پیا اور وضو کیا، اور میں نے کتنا بھی پیا، مجھے پروا نہ تھی کیونکہ وہ پانی برکت والا تھا۔پوچھا گیا
کتنے افراد تھے؟
فرمایا
لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا، كُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً
اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو کافی ہو جاتا، مگر ہم پندرہ سو تھے۔
(صحیح البخاری 3576)
حضرت انس بن مالکؓ کے دیگر مشاہدات
حضرت انس بن مالکؓ بھی اس جیسے کئی واقعات بیان کرتے ہیں جن میں نبی ﷺ کے ہاتھوں سے پانی جاری ہوتا۔ ان تمام روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پانی نبی کریم ﷺ کی انگلیوں سے یا ان کے درمیان سے براہِ راست جاری ہوتا تھا۔
محدثین کی توجیہ: پانی کا براہِ راست بہنا
امام بغویؒ اور امام سیوطیؒ سمیت اکثر مفسرین اور شارحین نے اس رائے کو ترجیح دی ہے کہ پانی خود آپ ﷺ کی انگلیوں سے بہا، نہ کہ صرف ان کے درمیان سے۔ یہی رائے اس معجزے کی عظمت کو مزید نمایاں کرتی ہے۔
کھانے کا بڑھ جانا: نبی کریم ﷺ کا غیر معمولی معجزہ
غزوہ کے دوران نبی ﷺ کا برکت والا کھانا
حضرت سلمہ بن اکوعؓ روایت کرتے ہیں کہ
خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ، فَأَصَابَنَا جَهْدٌ حَتَّى هَمَمْنَا أَنْ نَنْحَرَ بَعْضَ ظَهْرِنَا، فَأَمَرَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَمَعْنَا مَزَاوِدَنَا، فَبَسَطْنَا لَهُ نِطَعًا، فَاجْتَمَعَ زَادُ الْقَوْمِ عَلَى النِّطَعِ، قَالَ: فَتَطَاوَلْتُ لِأَحْزِرَهُ كَمْ هُوَ؟ فَحَزَرْتُهُ كَرَبْضَةِ الْعَنْزِ [ص:1355]، وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً، قَالَ: فَأَكَلْنَا حَتَّى شَبِعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ حَشَوْنَا جُرُبَنَا، فَقَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَهَلْ مِنْ وَضُوءٍ؟» قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ بِإِدَاوَةٍ لَهُ فِيهَا نُطْفَةٌ، فَأَفْرَغَهَا فِي قَدَحٍ، فَتَوَضَّأْنَا كُلُّنَا نُدَغْفِقُهُ دَغْفَقَةً أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً، قَالَ: ثُمَّ جَاءَ بَعْدَ ذَلِكَ ثَمَانِيَةٌ، فَقَالُوا: هَلْ مِنْ طَهُورٍ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَرِغَ الْوَضُوءُ»
ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک غزوہ پر تھے اور شدید بھوک کا سامنا تھا۔ لوگوں نے سواریاں ذبح کرنے کا ارادہ کیا، مگر نبی ﷺ نے حکم دیا کہ سب اپنا موجودہ کھانا جمع کریں۔ ایک چادر بچھائی گئی، جس پر سب کے راشن رکھے گئے۔ وہ مقدار اتنی تھوڑی تھی کہ ایک بکری کا بچہ ہی اس پر بیٹھ سکتا۔ ہم چودہ سو افراد تھے اور سب نے خوب سیر ہو کر کھایا، حتیٰ کہ اپنے تھیلے بھی بھر لیے۔
اس کے بعد نبی ﷺ نے وضو کے لیے پانی مانگا۔ ایک شخص نے تھوڑا سا پانی دیا، آپ ﷺ نے اسے بڑے برتن میں ڈال کر سب کو وضو کے لیے بلایا۔ سب نے وضو کیا، یہاں تک کہ آٹھ اور افراد آئے اور پوچھا، “کیا پانی باقی ہے؟” تو آپ ﷺ نے فرمایا:
وضو کا پانی ختم ہو گیا۔
(صحیح مسلم 1729)
حضرت جابرؓ کا واقعہ: قرض کی ادائیگی میں برکت
حضرت جابر بن عبداللہؓ فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت عبداللہؓ ایک بڑی مقدار میں قرض چھوڑ کر فوت ہوئے۔ نبی ﷺ نے قرض خواہوں سے نرمی کی درخواست کی، مگر وہ نہ مانے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
کھجوریں الگ الگ کر لو؛ اجوہ الگ، عذق ابن زید الگ۔ پھر مجھے بلاؤ۔
نبی ﷺ تشریف لائے، بیٹھے اور فرمایا
لوگوں کو ماپ کر دے دو۔
سب کو ان کا پورا حق دے دیا گیا اور کھجوریں یوں باقی رہیں جیسے کچھ کم ہی نہ ہوا ہو۔ حضرت عمرؓ نے یہ سنا تو فرمای
جب رسول اللہ ﷺ کسی باغ میں داخل ہوتے تو وہ ضرور بابرکت ہو جاتا۔
(صحیح البخاری 2709)
بکری اور تھوڑا سا کھانا
حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکرؓ روایت کرتے ہیں کہ
نَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثِينَ وَمِائَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ مَعَ أَحَدٍ مِنْكُمْ طَعَامٌ؟» فَإِذَا مَعَ رَجُلٍ صَاعٌ مِنْ طَعَامٍ أَوْ نَحْوُهُ، فَعُجِنَ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ مُشْرِكٌ مُشْعَانٌّ طَوِيلٌ بِغَنَمٍ يَسُوقُهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبَيْعٌ أَمْ عَطِيَّةٌ؟» أَوْ قَالَ: «أَمْ هِبَةٌ؟»، فَقَالَ: لَا بَلْ بَيْعٌ، فَاشْتَرَى مِنْهُ شَاةً، فَصُنِعَتْ وَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَوَادِ الْبَطْنِ أَنْ يُشْوَى
ہم 130 افراد نبی ﷺ کے ساتھ تھے۔ ایک شخص کے پاس تھوڑا سا کھانا تھا، اتنے میں ایک مشرک شخص کچھ بکریاں لایا۔ نبی ﷺ نے ایک بکری خریدی، اسے پکایا گیا اور کلیجی بھی بھونی گئی۔ نبی ﷺ نے ہر شخص کو کلیجی کا ٹکڑا دیا، حتیٰ کہ غیر موجود افراد کے لیے بھی بچا کر رکھا۔ دو برتن بھرے گئے، سب نے کھایا، سیر ہو گئے اور وہ برتن پھر بھی بچے رہے، حتیٰ کہ اونٹ پر رکھ دیے گئے۔
(صحیح مسلم 2056)
خندق کے دن کا معجزہ: ہزار افراد کی دعوت
حضرت جابر بن عبداللہؓ فرماتے ہیں کہ ہم خندق کھود رہے تھے جب ایک سخت پتھر سامنے آیا۔ نبی ﷺ کو بلایا، آپ ﷺ نے خود پتھر توڑا حالانکہ تین دن سے کچھ نہ کھایا تھا۔ جابرؓ نے گھر جا کر بیوی سے پوچھا، “کیا کچھ کھانے کو ہے؟”
بیوی نے کہا، “تھوڑا آٹا اور ایک بکری کا بچہ ہے۔
پکایا گیا، نبی ﷺ کو بلایا گیا۔ بیوی نے کہا
بس شرمندہ نہ کرنا!
جابرؓ نے چپکے سے نبی ﷺ سے کہا، بس آپ اور ایک دو افراد آئیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا
یہ تو بہت ہے!
پھر بلند آواز میں فرمایا
اے خندق والو! جابر نے دعوت دی ہے!
آپ ﷺ نے فرمایا
جب تک میں نہ آؤں، دیگ نہ اٹھانا، نہ روٹیاں نکالنا۔
آپ ﷺ نے آ کر برکت کی دعا فرمائی، روٹیاں پھاڑی، گوشت میں ڈالا، سب کو کھلایا—ایک ہزار افراد نے سیر ہو کر کھایا، پھر بھی دیگ اور روٹیاں باقی تھیں۔
(صحیح البخاری 4101–4102؛ صحیح مسلم 2039)
حضرت انسؓ کا واقعہ: ستر افراد کا کھانا تھوڑے سے نان سے
حضرت ابو طلحہؓ نے ام سلیمؓ سے کہا، “نبی ﷺ کمزوری سے بول رہے ہیں، لگتا ہے بھوکے ہیں۔” ام سلیمؓ نے چند روٹیاں کپڑے میں لپیٹ کر حضرت انسؓ کے ساتھ بھیجیں۔ نبی ﷺ نے پوچھا: ابو طلحہ نے بھیجا؟ کھانے کے ساتھ؟
پھر سب صحابہ سے فرمایا:چلو
جب گھر پہنچے، ام سلیمؓ نے وہی نان پیش کیے، نبی ﷺ نے دعا فرمائی، اور فرمایا
دس آدمیوں کو اندر آنے دو۔
ہر دس کا گروہ کھاتا رہا، حتیٰ کہ ستر یا اسی افراد نے پیٹ بھر کر کھایا۔
(صحیح البخاری صحیح مسلم 2040)
نبی کریم ﷺ کی دعاؤں کا قبول ہونا: ایک ناقابلِ تردید معجزہ
قاضی عیاضؒ کی رائے: دعاؤں کی قبولیت ایک متواتر حقیقت
امام قاضی عیاضؒ لکھتے ہیں
نبی کریم ﷺ کی وہ دعائیں جو آپ نے کسی کے لیے یا کسی کے خلاف کیں، ان کا قبول ہونا اصولی طور پر متواتر اور بدیہی علم میں شامل ہے۔
الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ1/ 325
یعنی یہ واقعات اتنی بار اور اتنے افراد نے بیان کیے ہیں کہ ان پر شک کرنا غیر معقول ہے۔
خطبہ جمعہ کے دوران بارش کی دعا
حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ خطبہ دے رہے تھے، ایک شخص نے عرض کیا:
یا رسول اللہ! مویشی ہلاک ہو رہے ہیں، بارش کے لیے دعا کریں۔
نبی ﷺ نے آسمان کی طرف ہاتھ بلند کیے جبکہ آسمان بالکل صاف تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں بادل جمع ہو گئے اور تیز بارش شروع ہو گئی، حتیٰ کہ ہم گھر واپسی پر پانی میں چلتے ہوئے گئے۔ اگلے جمعہ دوبارہ وہی شخص یا دوسرا شخص کھڑا ہوا اور کہا
“یا رسول اللہ! اب تو مکان گرنے لگے ہیں، دعا کریں کہ بارش رک جائے۔
آپ ﷺ نے تبسم فرمایا اور فرمایا:
اے اللہ! ہمارے اردگرد برسا، ہم پر نہیں۔
حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ میں نے بادلوں کو مدینہ کے اردگرد گھومتے دیکھا۔
(صحیح البخاری 1013، 3582)
حضرت ابوہریرہؓ کی والدہ کے لیے دعا
حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ وہ ایک دن روتے ہوئے نبی ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا
یا رسول اللہ! میں اپنی ماں کو اسلام کی دعوت دیتا ہوں مگر وہ انکار کرتی ہیں، اور آج انہوں نے آپ ﷺ کے بارے میں سخت بات کہی۔
آپ ﷺ نے دعا کی
اے اللہ! ابوہریرہ کی ماں کو ہدایت عطا فرما۔
ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ میں خوشی سے گھر گیا تو ماں نے کہا:
ٹھہرو! ابھی کپڑے پہنتی ہوں۔
پھر کہا
میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔
(صحیح مسلم 2491)
نبی کریم ﷺ کے معجزات صرف تاریخ کا حصہ نہیں، بلکہ وہ ایمان کے چراغ ہیں جو ہر شک کی تاریکی کو چیر کر روشنی بکھیرتے ہیں۔ ان معجزات کی تواتر سے منقول روایتیں محض کہانیاں نہیں بلکہ حجت ہیں. ایسی حجتیں جنہیں جھٹلانا، صرف محمد ﷺ کی نبوت کا انکار نہیں بلکہ ہر نبی کے معجزات، ہر مستند علم اور خود عقل کی بنیادوں کو رد کرنا ہے۔
جدید سائنسی یا فلسفیانہ اعتراضات جب تعصب اور گروہی سوچ سے بھرے ہوں، تو وہ سچائی کو چھو ہی نہیں سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن بار بار تدبر کی دعوت دیتا ہے—کیونکہ غوروفکر وہ روشنی ہے جو انسان کو تقلید کی زنجیروں سے آزاد کر کے ایمان کے مقامِ یقین تک پہنچاتی ہے۔
اور جب انسان دل سے غور کرے، تو اُسے یہ ماننا پڑتا ہے کہ محمد ﷺ صرف ایک پیغمبر نہیں، بلکہ وہ آخری چراغِ ہدایت ہیں، جن کی روشنی قیامت تک بکھرتی رہے گی۔




